1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

مرزا غالب کے لطیفے

'ادبی طنز و مزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از نعیم, ‏2 فروری 2009۔

  1. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    آدھا مسلمان

    غدر کے بعد مرزا غالب بھی قید ہو گئے۔ ان کو جب وہاں کے کمانڈنگ آفیسر کرنل براؤن کے سامنے پیش کیا گیا تو کرنل نے مرزا کی وضع قطع دیکھ کر پوچھا۔

    ویل، ٹم مسلمان ہے۔

    مرزا نے کہا، جناب، آدھا مسلمان ہوں۔

    کرنل بولا۔ کیا مطلب؟

    مرزا نے کہا، جناب شراب پیتا ہوں، سؤر نہیں کھاتا۔

    کرنل یہ جواب سن کر ہنس پڑا اور مرزا کو بے ضرر سمجھ کر چھوڑ دیا۔
     
  2. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    36
    بہت خوب کیسا سچ ھے
     
  3. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    غالب کی نماز

    غالب کی مفلسی کا زمانہ چل رہا تھا، پاس پھوٹی کوڑی تک نہیں تھی اور قرض خواہ مزید قرض دینے سے انکاری۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک شام انکے پاس پینے کیلیے بھی پیسے نہ تھے، مرزا نے سنِ شعور کے بعد شاید ہی کوئی شام مے کے بغیر گزاری ہو، سو وہ شام ان کیلیے عجیب قیامت تھی۔

    مغرب کی اذان کے ساتھ ہی مرزا اٹھے اور مسجد جا پہنچے کہ آج نماز ہی پڑھ لیتے ہیں۔ اتنی دیر میں انکے کے دوست کو خبر ہوگئی کہ مرزا آج "پیاسے" ہیں اس نے جھٹ بوتل کا انتظام کیا اور مسجد کے باہر پہنچ کر وہیں سے مرزا کو بوتل دکھا دی۔

    مرزا، وضو کر چکے تھے، بوتل کا دیکھنا تھا کہ فورا جوتے پہن مسجد سے باہر نکلنے لگے۔ مسجد میں موجود ایک شناسا نے کہا، مرزا ابھی نماز پڑھی نہیں اور واپس جانے لگے ہو۔

    مرزا نے کہا، قبلہ جس مقصد کیلیے نماز پڑھنے آیا تھا وہ تو نماز پڑھنے سے پہلے ہی پورا ہو گیا ہے اب نماز پڑھ کر کیا کروں گا۔
     
  4. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    ذوق سودائی ہیں

    ایک محفل میں لوگ میر تقی میر کی تعریف کر رہے تھے۔ اس محفل میں مرزا غالب بھی موجود تھے۔ اچانک شیخ ابراہیم ذوق بھی آ گئے اور بحث میں حصہ لیتے ہوئے مرزا رفیع سودا کو میر تقی میر پر ترجیح دینے لگے۔

    غالب نے یہ سنا تو بے ساختہ بولے۔

    میرا تو خیال تھا کہ آپ "میِری " ہیں لیکن اب پتہ چلا کہ آپ "سودائی " ہیں۔
     
  5. زاہرا
    آف لائن

    زاہرا ---------------

    شمولیت:
    ‏17 نومبر 2006
    پیغامات:
    4,208
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    :hasna: بہت خوب شئرنگ ہے۔ :hasna:
     
  6. آزاد
    آف لائن

    آزاد ممبر

    شمولیت:
    ‏7 اگست 2008
    پیغامات:
    7,592
    موصول پسندیدگیاں:
    14
    :201: :201: :201: :a180: :a165:
     
  7. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    میڈم زاہرا صاحبہ اور آزاد بھائی ۔ بہت شکریہ :flor:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سپردِ خدا​


    ریاست رام پور کے نواب کلب علی خان انگریز گورنر سے ملاقات کیلئے بریلی گئے تو مرزا اسد اللہ خان غالب بھی انکے ہمراہ تھے، مرزا کو نواب صاحب سے کچھ وظیفہ وغیرہ کی امید بھی تھی ۔ اورانہیں دلی بھی جانا تھا بوقت روانگی نواب صاحب نے مرزا سے کہا۔۔

    مرزا صاحب الوداع ، خدا کے سپرد۔

    مرزا غالب جھٹ بولے۔

    "حضرت خدا نے تو مجھے آپ کے سپرد کیا تھا، اب آپ الٹا مجھے خدا کے سپرد کر رہے ہیں۔ "
     
  8. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    36
    اچھے لطیفے ھیں مجھے بھی ایک لطیفہ یاد آیا مگر نام ٹھیک سے یاد نہیں کہ غالب نے کہا کس کو تھا
     
  9. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب نعیم بھائی،!!!!!!

    دو لطیفے غالب کے کچھ اس طرح کہ ھیں اگر آپکو یاد ھوں تو انہیں بھی اپنی خوبصورت تحاریر کے ذریعے اس محفل کی زینت بنا دیں،!!!!

    1- ایک جگہ مرزا جی آم کھا رھے تھے تو کسی کو انہوں نے آم کھانے کی دعوت دی تو جواب ملا کہ جی، شکریہ میں آم نہیں کھاتا،!!!!!!
    تو مرزا غالب نے برجستہ جواب دیا، کہ، !!!!!! ھاں بھئی گدھے آم نہیں کھاتے،!!!!!!!

    2- کسی نے مرزا جی سے پوچھا کہ یہ شراب کی بوتلیں گھر میں کیوں لے جارھے ھو،!!!! تو جواباً مرزا جی بولے کہ کھانے کا تو وعدہ خدا نے کیا ھے لیکن پینے کا وعدہ نہیں کیا اس لئے میں نے پینے کا خود ھی بندوبست کرلیا ھے،!!!!!!
     
  10. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    السلام علیکم سید بھائی ۔ آپ کے حکم پر یہ لیجئے۔

    گدھے اور آم​


    مرزا صاحب کے دوستوں میں سے حکیم رضی الدین خاں کو آم نہیں بھاتے تھے اور اس مسئلے پر اکثر مرزا میں اور حکیم صاحب میں اختلاف رہتا تھا۔ ایک دن مرزا غالب ، حکیم رضی الدین خان کے ہمراہ برآمدے میں بیٹھے تھے، اتنے میں ایک کمہار اپنے گدھے لے کر گزرا، گلی میں آم کے چھلکے پڑے ہوئے تھے، گدھے نے انہیں سونگھا اور چھوڑ دیا، اس پر حکیم صاحب چہک کر بولے۔

    "مرزا صاحب، دیکھیئے آم ایسی شے ہے جسے گدھا بھی نہیں کھاتا۔"

    مرزا نے جواب دیا۔ "بے شک گدھا آم نہیں کھاتا۔"
     
  11. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    دادا نہیں دلدادہ​


    ایک نو عمر نے غالب کو ایک خط لکھا جس میں انہیں دادا کے لفظ سے مخاطب کیا۔ نو عمر نے اپنی دانست میں غالب کے ادب و احترام کو ملحوظِ خاطر رکھا تھا۔ لیکن غالب نے اس نو عمر کو جوابی خط میں لکھا۔

    " میاں میں تمہارا دادا نہیں بلکہ دلدادہ ہوں " :hpy:
     
  12. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    36
    سید جی اسی لطیفے کی بات میں نے بھی کی تھی شکریہ
     
  13. نور
    آف لائن

    نور ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جون 2007
    پیغامات:
    4,021
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    :hasna: بہت خوب :hasna:
    کیا کہنے غالب کی بذلہ سنجی کے ۔ :a180:
     
  14. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    قید​


    مرزا جب انگریز کی قید سے چھوٹ کر آئے تو میاں محمد نصیرالدین عرف میاں کالے صاحب کے مکان میں‌ آ کر رہے۔

    ایک روز کسی نے آ کر قید سے چھوٹنے کی مبارک باد دی۔

    مرزا نے کہا۔ " کون بھڑوا قید سے چھوٹا ہے؟ پہلے گورے کی قید میں تھا، اب کالے کی قید میں ہوں۔"
     
  15. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    یزید اور بایزید​


    ایک روز مرزا سے ملنے ان کے کچھ دوست آئے ہوئے تھے کہ دوپہر کے کھانے کا وقت ہوگیا۔
    دستر خوان بچھا اور کھانا آ گیا، برتن تو بہت زیادہ تھے لیکن کھانا نہایت قلیل تھا۔ مرزا نے مسکرا کر اپنے دوستوں سے کہا۔۔۔

    "اگر برتنوں کی کثرت پر خیال کیجیے تو میرا دستر خوان یزید (بادشاہ) کا دستر خوان معلوم ہوتا ہے ۔۔
    اور جو کھانے کی مقدار کو دیکھیے تو بایزید کا۔ "

    (یاد رہے ۔ حضرت بایزید بسطامی :ra: صوفی بزرگ تھے جو اکثر روزے سے رہتے تھے)
     
  16. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    تُف بریں وبا​


    ایک دفعہ شہر میں سخت وبا پھیلی، میر مہدی مجروح نے پوچھ بھیجا کہ حضرت، وبا شہر سے دفع ہوئی یا ابھی تک موجود ہے۔

    مرزا نے اس کے جواب میں لکھا

    "بھئی کیسی وبا، جب ایک ستر برس کے بڈھے اور ایک ستر برس کی بڑھیا نہ مار سکے تو تُف بریں وبا۔"
     
  17. عقرب
    آف لائن

    عقرب ممبر

    شمولیت:
    ‏14 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    3,201
    موصول پسندیدگیاں:
    199
    :201: واہ ۔ مزیدار لطیفے ہیں۔ :201:
     
  18. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    دھوکہ دہی​


    ایک روز مرزا غالب نے اپنے شاگردوں کو ہدایت کی۔

    "جوں ہی میری روح جسدِ خاکی کو چھوڑے، تم بھاگ کر کہیں سے پرانا کفن لانا اور مجھے اس میں لپیٹ کر دفنا دینا۔ "

    ایک شاگرد بولا : "استادِ محترم، یہ تو بتائیے، اس سے آپ کو کیا فائدہ پہنچے گا؟"

    غالب نے کہا:
    " کم بخت اتنی سی بات بھی نہیں سمجھے کہ منکر نکیر تشریف لائیں گے تو پرانے کفن کو دیکھتے ہی سمجھیں گے یہ پرانا مردہ ہے۔ غلطی سے دوبارہ یہاں آگئے ہیں۔ چنانچہ وہ سوال جواب کیے بغیر ہی لوٹ جائیں گے "
     
  19. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    روزہ بہلانا​


    اپنے روزوں کے بارے میں ایک دوست کو مرزا لکھتے ہیں۔

    "دھوپ بہت تیز ہے، روزہ رکھتا ہوں مگر روزے کو اکتاہٹ کا شکار نہیں ہونے دیتا۔ اسے بہلاتا رہتا ہوں، کبھی پانی پی لیا، کبھی حقہ پی لیا، کبھی کوئی ٹکڑا روٹی کا بھی کھا لیا، یہاں کے لوگ عجیب فہم رکھتے ہیں، میں تو روزہ بہلاتا ہوں اور یہ صاحب فرماتے ہیں کہ تُو روزہ نہیں رکھتا، یہ نہیں سمجھتے کہ روزہ نہ رکھنا اور چیز ہے اور روزہ بہلانا اور چیز ہے۔"
     
  20. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    برسات​


    ایک خط میں برسات اور اپنے گھر کی خستہ حالی کا کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

    "دیوان خانے کا حال محل سرا سے بد تر ہے، میں مرنے سے نہیں ڈرتا، فقدانِ رحمت سے گھبرا گیا ہوں، چھت چھلنی ہوگئی ہے، ابر دو گھنٹے برسے تو چھت چار گھنٹے برستی ہے۔"
     
  21. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    36
    بہت خوب نعیم جی کمال کی شیرنگ کر رھے ھیں آپ :a180:
     
  22. نور
    آف لائن

    نور ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جون 2007
    پیغامات:
    4,021
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    :hasna: بہت خوب۔ :hasna:
    غالب نے بھی کمال اعلی درجے کی حسِ مزاح پائی تھی ۔

    نعیم صاحب۔ ادبی مراسلات کا شکریہ
     
  23. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    حوصلہ افزائی کا شکریہ نور جی۔
     
  24. کشکول
    آف لائن

    کشکول ممبر

    شمولیت:
    ‏18 ستمبر 2006
    پیغامات:
    615
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    ایک دفعہ مرزا غالب نے اپنے ایک دوست کو اپنے گھر بلایا لیکن خود بھول گیے اور کسی
    کام کے سلسلے میں کہیں چلے گیے
    مرزا غالب کا دوست کچھ دیر تک آن کا انتظار کرتا رہا جب وہ نہ آئے تو دروازے پہ گدا لکھ کر چلا گیا
    اگلے دن وہ مرزا سے ملا اور کہا میں کل آپ کے گھر آیا تھا تو مرزا بولے ہاں میں نے دروازے پے
    تمھارے دستخط دیکھے تھے
     
  25. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    شکریہ کشکول بھائی :happy:
     
  26. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    خط کا جواب

    ایک دوست کو دسمبر 1858 کی آخری تاریخوں میں خط لکھا۔ انہوں نے اس کا جواب جنوری 1859 کی پہلی تاریخ کو دیا۔ اس کے جواب میں مرزا غالب انہیں لکھتے ہیں ۔۔۔

    "دیکھو صاحب ! یہ باتیں ہم کو پسند نہیں، 1858 کے خط کا جواب 1859 میں‌ بھیجتے ہو،
    اور ستم یہ کہ جب تم سے کہا جائے گا تو یہ کہو گے کہ "میں نے تو دوسرے دن ہی جواب لکھ دیا تھا "
     
  27. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    ندامت​



    ایک روز دیوان فضل اللہ خاں بگھی میں سوار مرزا کے مکان کے پاس سے انہیں ملے بغیر گزر گئے، مرزا کو پتہ چلا تو انہوں نے اس مضمون کا رقعہ دیوان جی کو لکھ بھیجا۔

    "آج مجھ کو اس قدر ندامت ہوئی ہے کہ شرم کے مارے زمین میں گڑا جاتا ہوں، اس سے زیادہ اور کیا نالائقی ہو سکتی ہے کہ آپ کبھی کبھی تو اس طرف سے گزریں اور میں سلام کو بھی حاضر نہ ہوں۔"

    جب رقعہ دیوان فضل اللہ خان کے پاس پہنچا تو وہ نہایت شرمندہ ہوا اور اسی وقت بگھی میں سوار ہو کر مرزا صاحب کو ملنے چلا آیا۔
     
  28. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    ولایت کا غرور​


    مرزا نے بہادر شاہ ظفر کے شاہی دربار میں اپنی غزل سنائی اور جب مقطع پڑھا۔۔


    یہ مسائلِ تصوف یہ ترا بیان غالب
    تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا


    تو بہادر شاہ ظفر بولے ۔۔ "بھئی مرزا صاحب ! ہم تو جب بھی آپکو ویسا نہ سمجھتے۔"

    مرزا نے کہا۔ "حضور تو اب بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں، مگر یہ اس لئے ارشاد ہوا ہے کہ میں اپنی ولایت پر کہیں مغرور نہ ہو جاؤں۔"
     
  29. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    36
    ہاہاہاہاہا
    چھے لطیفے ھیں سبھی
     
  30. کشکول
    آف لائن

    کشکول ممبر

    شمولیت:
    ‏18 ستمبر 2006
    پیغامات:
    615
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    :201: :201:
     

اس صفحے کو مشتہر کریں