1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

مثت سوچ

'حالاتِ حاضرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد اجمل خان, ‏6 اپریل 2020۔

  1. محمد اجمل خان
    آف لائن

    محمد اجمل خان ممبر

    شمولیت:
    ‏25 اکتوبر 2014
    پیغامات:
    175
    موصول پسندیدگیاں:
    163
    ملک کا جھنڈا:
    مثت سوچ

    مثبت اور منفی سوچ کے بارے میں آپ نے بہت سنا ہوگا۔ ایک ہی بات کو سمجھنے اور سمجھانے کا انداز کسی کا منفی ہوتا ہے اور کسی کا مثبت۔ لیکن منفی سوچ اور مثبت سوچ میں فرق کیا ہے۔

    آئیے ایک چھوٹی سی کہانی سے اس فرق کو سمجھتے ہیں۔ یہ کہانی بہت پرانی ہے اور آپ نے شاید اسے سنی بھی ہو۔

    سالوں پہلے ایک برطانوی جوتا ساز کمپنی اپنے دو سیلز مین کو افریقہ بھیجتے ہیں تاکہ وہاں جوتے کی مارکیٹ کے بارے میں تحقیقات کرکے اپنی رپورٹ پیش کرے۔

    سیلزمین-1: اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے: "افریقہ میں جوتوں کی اچھی سیلز ممکن نہیں کیونک یہاں ’’کوئی جوتا نہیں پہنتا"۔
    سیلزمین-2: اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے: "افریقہ میں جوتوں کی اچھی سیلز ممکن ہے کیونکہ یہاں ’’کوئی جوتا نہیں پہنتا‘‘۔


    یہ مختصر سی کہانی منفی اور مثبت سوچ کی ایک بہترین مثال پیش کرتی ہے کہ کس طرح ایک ہی صورت حال کو دو بالکل مختلف زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے: منفی یا مثبت۔

    دونوں سیلزمین نے ایک ہی چیز دیکھا اور ایک ہی بات پر زور دیا کہ ’’کوئی جوتا نہیں پہنتا‘‘، لیکن ایک نے منفی سوچ اپنایا اور رپورٹ دیا کہ ’’سیلز ممکن نہیں‘‘ جبکہ دوسرے نے اپنی مثبت سوچ کے مطابق رپورٹ دیا کہ ’’سیلز ممکن ہے‘‘۔

    آپ کیا کہتے ہیں ان دونوں سیلزمین میں سے کسے کامیابی ملے گی؟
    کسے افریقہ میں مارکیٹنگ کیلئے رکھا جائے گا؟
    بے شک سیلزمین 2 کو جس نے مثبت سوچ اپنایا اور ’’ افریقہ میں جوتوں کی اچھی سیلز ممکن ہے‘‘ کی رپورٹ دی۔


    ہم روزمرہ کی زندگی میں روزانہ کتنے چھوٹے بڑے واقعات کو ان ہی دو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں یعنی منفی اور مثبت اور اسی کے مطابق اپنا کردار ادا کرتے ہیں، اسی کے مطابق ترقی یا تنزلی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔

    منفی سوچ ہمیں ناکامیابی کی طرف جبکہ مثبت سوچ ہمیں کامیابی کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔

    میں اپنے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی کا جتنا بھی مطالعہ کرتا ہوں مجھے آپ ﷺ کی زندگی کے کسی بھی معاملے میں منفی سوچ کے غالب آنے کا شائبہ بھی نظر نہیں آتا۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ زندگی کے مشکل سے مشکل حالات میں بھی مثبت سوچا اور مثبت اقدام اپنایا اور ہمیشہ مثبت سوچ اپنے ماننے والوں کو دیا۔

    یہی دیکھئے کہ آج کل ساری دنیا میں جو کورونا وائرس کی وبا پھیلی ہوئی ہے تو ایسے میں مغربی اقوام کے لوگ جو دین اسلام سے دور ہیں اس وبا کی خوف سے ذہنی مریض بنتے جارہے ہیں اور بعض نے خودکشی بھی کرلیا ہے۔ لیکن ایسے بُرے حالات میں بھی پیارے نبی ﷺ نے ہم مسلمانوں کو صبر کرنے کی تلقین کی اور مثبت سوچنے اپنانے کا درس دیا۔

    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’اگر کسی شخص کی بستی میں وبا پھیل جائے اور وہ صبر کے ساتھ اللہ کی رحمت سے امید لگائے ہوئے وہیں ٹھہرا رہے کہ ہو گا وہی جو اللہ تعالیٰ نے قسمت میں لکھا ہے تو اسے شہید کے برابر ثواب ملے گا‘‘۔ (صحيح البخاري، حدیث نمبر: 3474)

    ایک اور موقعے پر آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ ’’وبائی امراض میں مر جانے والا شہید ہے‘‘۔ (سنن ابی داود، حدیث نمبر:3111)

    دیکھئے! غور کیجئے!

    اور قربان جائیے اپنے پیارے نبی ﷺ پر، خطرناک جان لیوا وبا کے وقت بھی اپنے ماننے والوں کو مثبت سوچ دے رہے ہیں۔ کورونا وائرس جیسی وبا میں گھرے انسانیت کیلئے یہ جملے کتنے تسلی، تشفی اور اطمینان و سکون دلانے والے ہیں۔ یہ آخرت پر یقین رکھنے والوں کے اذہان سے منفی سوچ اور خوف نکالنے کا تریاق ہے۔ ان باتوں سے انسان کے اذہان میں مثبت اور تعمیری سوچ پیدا ہوتی ہیں جن کے سہارے وبا میں گھِرا انسان اپنی سارے دکھ درد بھول کر اور ڈپریسن یا ذہنی دباؤ سے نکل کر اپنی زندگی سنوارنے میں لگ جاتا ہے اور نارمل زندگی گزارتا ہے۔

    دنیا کا کوئی نظام کوئی مذہب اپنے ماننے والوں کو ایسی پریشانی کے وقت ایسی مثبت سوچ دینے سے قاصر ہے۔ لہذا زندگی کے ہر معاملے میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کیجئے اور دونوں جہانوں کی کامیابی سے سرفراز ہوجائیے۔

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ﴿٧٠﴾ يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا ﴿٧١﴾ سورة الأحزاب
    ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرا کرو اور سیدھی سچی بات کہا کرو۔ وہ تمہارے (سارے) اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرامنبرداری کرے گا تو بیشک وہ بڑی کامیابی سے سرفراز ہوگا‘‘۔ (سورة الأحز، آیت 70-71)


    اللہ تعالیٰ ہمیں ہر حال میں مثبت سوچنے کی اور مثبت اور تعمیری کردار اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمارے ملک سے کورونا وائرس کی وبا کو ختم کرکے ہمیں اس لاک ڈاؤن سے نکالے اور ہمیں اپنی اور اپنے رسول ﷺ اطاعت و فرمانبرداری میں نارمل زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔اپنی دعاؤں میں اپنے بھائی محمد اجمل کان کو اور میرے گھرانے کو ضرور یاد رکھیں۔ مثبت سوچیں خوش رہیں۔
    تحریر: محمد اجمل خان


    ۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں