1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

مثبت سوچ حقیقی خوشیوں‌ کا نقطہ آغاز ۔۔۔۔۔۔ ثمرہ اصغر

'اردو ادب' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏18 ستمبر 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    4,895
    موصول پسندیدگیاں:
    751
    ملک کا جھنڈا:

    مثبت سوچ حقیقی خوشیوں‌ کا نقطہ آغاز ۔۔۔۔۔۔ ثمرہ اصغر

    انسانی ذہن کو اللہ تعالیٰ نے کئ تخلیقی قوتیں عطا فرمائی ہیں جو دنیا سے جُڑنے اور تمام معاملات سے نبرد آزما ہونے کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ تمام مفکرین اور ماہرین ذہن کو روح کی رہائش گاہ کہتے ہیں۔ روح، دل اور ذہن کے متعلق کئی تصورات موجود ہیں جو کہ ایک نقطے پہ متفق ہیں اور وہ یہ کہ ذہن اور روح جیسی چیزوں کو چھوا نہیں جا سکتا۔ ہماری جسمانی صحت کا انحصار ذہنی صحت پر ہے۔ ہماری اپنے بارے میں آگاہی ہمارے دل و دماغ کو قوی و توانا رکھ سکتی ہے۔

    ذہنی صحت کے بارے میں بات کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ذہن کو کونسے عوامل بیمار کر سکتے ہیں۔ ہمارا ذہن منفی سوچوں کی بدولت بیمار ہو جاتا ہے۔ سوچیں قدرتی عوامل کے تحت ذہن میں وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ 24 گھٹوں کے دوران ایک نارمل شخص کے ذہن میں 22 ہزار سوچیں آتی ہیں۔ ان سوچوں کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا البتہ دوسرے انسانوں سے منسلک اپنے احساسات کو اخلاص میں ڈھال کر روح کی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ اچھے احساسات کی بدولت سوچوں کی کھیتی خود ہی ایسی راہ پر گامزن ہو جاتی ہے جو ایک صحت مند ملک و قوم اور معاشرے کے لیے ممد و معاون ثابت ہوتی ہے۔ ایسی سوچوں کا حامل صحت مند فرد قوموں اور ملکوں کے لیے صحت مند ثابت ہوتا ہے اور محنت و لگن سے خود میں محبت، اخوت، احساس ، رواداری اور عفوودرگزر جیسی خصوصیات راسخ کر لیتا ہے۔

    سوچیں بھی قوت کی طرح ہیں۔ یہ بیج جیسی ہوتی ہیں اور مثبت یا منفی سوچوں کی آبیاری سے پودے کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ سوچوں کی منفی یا مثبت آبیاری کرنے والا شخص اس بات سے آگاہ ہوتا ہے کہ اسکے ذہنی پردے پہ کسطرح کا درخت کسطرح کا پھل اُگائے گا۔ ان صحت مندانہ خصوصیات کے برعکس جو قوتیں ہیں وہ حسد، کینہ، بغض اور بلاوجہ دوسروں کے لیے منفی جذبات رکھنا ہیں۔ یہ تمام بُرائیاں روح کو بیمار کر دیتی ہیں۔ ایسا ذہن لاغر اور اپاہج ہو جاتا ہے اور ایسے شخص کا جسم بھی بیمار رہتا ہے۔ اسلام ملت واحدہ کا تصور پیش کرتے ہوئے کہتا ہے:

    المسلم اخو المسلم
    یعنی ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائ ہے۔

    کئی مذاہب کی تعلیمات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ تمام انسان ایک دوسرے سے روح کے رشتے میں مربوط ہیں۔ جس طرح جسم کے ایک حصے پہ چوٹ لگنے سے پورا جسم تکلیف کا شکار ہو جاتا ہے اسی طرح ایک انسان کی تکلیف دوسرے انسان کے لیے معانی رکھتی ہے۔ یوں دوسروں کے لیے منفی خیالات رکھنے والا شخص کبھی بھی پرسکون زندگی نہیں گزار سکتا۔ اس کو اپنی زندگی سے متعلق نظرئیے کو بدلنا ہو گا تا کہ اس کا ذہن مثبت سوچوں کا اپنائے جس سے اس کے جسم پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور وہ معاشرے کا نہ صرف مفید فرد بن جائے گا بلکہ اپنی زندگی کو بھرپور طریقے سے گزارتے ہوئے حقیقی خوشیوں تک رسائی پا لے گا جن کی تلاش میں‌ ہر انسان ابد سے ہے.​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں