1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

مثبت ذہنی رویہ یا مثبت سوچ

'حالاتِ حاضرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد اجمل خان, ‏9 اپریل 2020۔

  1. محمد اجمل خان
    آف لائن

    محمد اجمل خان ممبر

    شمولیت:
    ‏25 اکتوبر 2014
    پیغامات:
    175
    موصول پسندیدگیاں:
    163
    ملک کا جھنڈا:
    مثبت ذہنی رویہ یا مثبت سوچ

    مثبت ذہنی رویہ [Positive mental attitude (PMA)] کا تصور سب سے پہلے 1937 میں نپولین ہل (Napoleon Hill) نے اپنی کتاب تھنک اینڈ گرو رچ (Think and Grow Rich) میں متعارف کرایا تھا۔

    کتاب میں حقیقتاً مثبت ذہنی رویہ ((PMA) کی اصطلاح کا استعمال نہیں کی گئی لیکن زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے ایک اہم عنصر کے طور پر مثبت سوچ کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

    اس کے بعد 1960 میں نپولین ہل (Napoleon Hill) مشترکہ انشورنس (Combined Insurance) کمپنی کے بانی ، ولیم کلیمنٹ اسٹون (William Clement Stone) کے ساتھ مل کر ’’مثبت ذہنی رویہ کے ذریعے کامیابی‘‘ (Success Through a Positive Mental Attitude) نامی کتاب لکھی جس میں مثبت ذہنی رویہ کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا۔

    مثبت ذہنی رویہ وہ فلسفہ ہے جو انسان کو ذہنی اور جسمانی صحت اور کامیابی کیلئے ہر حال میں مثبت سوچ اپنانے کی ترغیب دیتا ہے۔ جو انسان ہر حال میں مثبت ذہنی رویہ اختیار کرتا ہے وہ اپنی اور دوسروں کی زندگی میں خوشگوار تبدیلی اور کامیابی لاتا ہے۔ مثبت سوچنے والے انسان ہر حال میں پر امید اور خوش رہتے ہیں۔ ہر حال میں پرامید رہنا مثبت سوچ کی اساس ہے۔

    مثبت سوچ کی متعضاد منفی سوچ ہے جو شکست، ناکامی، ناامیدی، غصہ، بد مزاجی ، مایوسی ، دوسروں کو ذلیل کرنے کی خواہش وغیرہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔

    ’’ (Positive mental attitude (PMA) ‘‘ بعد میں’’Positive Thinking‘‘ کی نئی اصطلاح سے مشہور ہوئی اور اردومیں ’’مثبت سوچ‘‘ کی اصطلاح متعارف کرائی گئی ہے جو کہ ’’Positive Thinking‘‘ کا بس ترجمہ ہے جبکہ ’’حسن ظن یا نیک گمان‘‘ سے تعبیر کیا جانا زیادہ مناسب ہوتا کیونکہ ’’حسن ظن یا نیک گمان‘‘ کی اصطلاح ہمارے دین اسلام میں پہلے دن سے موجود ہے اور اس بارے میں ہمارے پیارے رسول اللہ ﷺ کی متعدد احادیث بھی موجود ہیں۔

    1960 کے بعد مغربی ممالک میں ’’مثبت سوچ‘‘ کے موضوع پر ایک انقلاب آگیا۔ بے شمار

    موٹیویشنل اسپیکرز (Motivational Speakers) اور لائف کوچز (Life Coaches) وغیرہ نے لوگوں کو ’’مثبت سوچ‘‘ کی تربیت دینے کیلئے ٹریننگ سینٹرزقائم کیں، بے شمار کتابیں لکھیں اور بہت سارے سیمینار اور ٹریننگ وغیرہ کے ذریعے لوگوں کو مثبت سوچنے اور کامیابی کے زینے پر چڑھنے میں مدد دینے کے ساتھ ساتھ خود بھی کامیاب ہوئے۔

    مغربی ممالک کے ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے ورکرز کی پروڈکٹیویٹی (Productivity) بڑھانے کیلئے ’’مثبت سوچ‘‘ کے موضوع پر ٹریننگ کی انعقاد کرواتے رہتے ہیں۔ میں جب دبئی میں تھا تو مجھے بھی اپنی کمپنی کی طرف سے اس طرح کی بعض ٹریننگ میں حصہ لینے کا موقع ملا تھا۔

    پاکستان میں بھی پچھلے چند سالوں سے بعض موٹیویشنل اسپیکرز (Motivational Speakers) نے ’’مثبت سوچ‘‘ کے موضوع کو اپنی ٹریننگ کا حصہ بنایا ہوا ہے لیکن ابھی اس موضوع پر بہت کام ہونا ہے۔

    میں نے بھی سوچا کہ کیوں نہ اس موضوع پر لکھا جائے۔ بعض دوستوں سے مشورہ کیا تو سب نے سراہا۔

    جیسا کہ اوپر بیان کر چکا ہوں کہ جدید دنیا 1960 کے بعد مثبت سوچ اپنانا سیکھا جبکہ اسلام 1400 سال پہلے سے ہی اپنے ماننے والوں میں مثبت سوچ پیدا کرتا چلا آرہاہے۔ مجھے قرآن و سنت کی ہر تعلیم انسان کو مثبت سوچ دینے والی ملی۔

    قرآن وسنت میں کسی بھی مقام پر کوئی ایسا کوئی مواد نہیں ملتا جو انسان کو مثبت کے بجائے منفی سوچ دیتا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے مشکل سے مشکل ترین حالات میں بھی مثبت انداز فکر اپنایا اور مثبت قدم اٹھایا۔ صحابہ کرامؓ نے بھی اسی مثبت سوچ اور مثبت اقدام کے ذریعے ساری دنیا میں اپنی فتوحات سکے جمائے اور دنیا و آخرت کے کامیاب ترین انسان بنے۔

    مغرب میں مثبت سوچ کے موضوع پر جو کچھ ابھی تک کہا یا لکھا گیا ہے ہمارے پاس قرآن و سنت اور سلف صالحین کی تعلیمات میں اس سے کہیں زیادہ مواد موجود ہے۔ لہذا میں نے سوچا کہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے بارے میں میں جو کچھ لکھتا ہوں کیوں نا اسے جدید دنیا کی نئی اصطلاح ’’مثبت سوچ‘‘ کے ساتھ ہم آہنگ کردو۔ میرا علم تو وسیع اتنا نہیں، بس اللہ تعالیٰ کی توفیق سے کچھ لکھ لیتا ہوں۔ اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ میرے اور آپ کے علم میں برکت دے اور اس علم کے مطابق عمل کرنے کی توفیق بھی دے۔ آمین۔

    تحریر: محمد اجمل خان
    ۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں