1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

فلسفہِ معراج اوررویت باری تعالیٰ

'سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم' میں موضوعات آغاز کردہ از عاصم محمود, ‏25 جون 2012۔

  1. عاصم محمود
    آف لائن

    عاصم محمود ممبر

    شمولیت:
    ‏25 دسمبر 2011
    پیغامات:
    108
    موصول پسندیدگیاں:
    45
    ملک کا جھنڈا:
    معراج کا اصطلاحی معنی۔
    معراج کا معنی ہے آقا علیہ سلام کا آسمانوں پر جانا اور آسمانوں کی آپکو سیر کرانا۔

    معراج جسانی تھا

    آپ علیہ سلام کا معراج جسمانی تھا۔
    حضرت عائشہ نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم معراج کی رات گم نہیں ہوا
    اور قرآن میں ارشاد ہے"وما جعلنا الرویا التی اریناک الا فتنۃ"
    "اور ہم نے جو جلوہ آپکو شب معراج آپکو دکھایا وہ صرف لوگوں کے کے لیے آزمائش تھا۔۔۔۔۔۔۔۔بنی اسرائیل:60
    اب اس دلیل کا مطلب یہ ہے کہ "الرویا " سے مراد خواب نہیں ہے بلکہ آنکھ سے دیکھنا مراد ہے اور عائشہ رضی اللہ کا مطلب ہے کہ آپکا جسم روح سے الگ نہیں ہوا تھا۔بلکہ مطلب ہے کہ جسمانی معراج تھا جسم اور روح ساتھ تھی۔اگر روحانی یعنی خواب کا ہوتا تو اس پر کفار کواعتراض کیا تھا انہوں نے تو انکار ہی جسم کا کیا تھا۔۔۔اور معراج کومسجد العرام سے مسجد اقسیٰ اور پھر زمیں سے آسماں تک جانا ہے۔
    علامہ سعید الدین مسعود بن عمر تفازافی ؛ شرع عقائد نسفی ؛ص 104-105؛
    اگر جسمانی نہ ہوتا تو کفار اس پر اعتراض ہر گز نہ کرتے۔
    حضرت صدیق کبر کا صدیق ہونا بھی اس بات پر تھا کہ سفر جسمانی تھا،
    سورۃ بنی اسرائیل ذکر معراج اور۔۔۔۔۔۔۔اسراء
    بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۔۔۔"سبخٰن الذی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔السمیع البصیر"
    "پاک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بیندے کو رات کے تھوڑے سے حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک جس کے ارد گرد ہم نے بہت سئ نشانیاں دکھائیں بے شک وہی سننے والا وہی دیکھنے والا ہے
    بنی اسرائیل؛1
    اس آیت میں جو سفر نامہ ہے اس میں 7 سات چیزوں کا زکر ہے
    1-سفر کس نے کرایا۔۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے
    2-کس نے سفر کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔آقا علیہ سلام نے
    3-سفر کہاں سے کیا۔۔۔۔۔۔مسجد حرام سے
    4-سفر کہاں تک کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک
    5-سفر دن میں ہوا یا رات میں۔۔۔۔رات میں
    6-سفر کتنی دیر میں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرمایا "لیلا" رات کے تھوڑے سے حصے میں
    7-سفر کس لیئے کیا۔۔۔۔۔۔۔تاکہ ہم ن کو اپنی نشانیاں دکھائیں

    لفظ اسرا کے اسرار
    اسراء سے مراد ہے "رات کو بیداری میں لے جانا" اور یہ عربی زبان کا اصول اور قائدہ ہے

    سبخٰن الزی اسراء۔۔۔۔۔۔کائنات کی ہر چیز الذی ہے۔مگر اللہ نے یہاں لفظ سبخان بیان فرما کر بتا دیا کہ پاک ہے وہ زات جو لے گئی اپنے بندے کو اب یہاں آقا کوفرمایا اپنا بندہ یعنی ہر بندے سے جدا یعنی میرا بندہ۔۔۔تو معلوم ہوا کہ حالت بشریت میں معراج ہوا۔۔۔۔کیونکہ خود اللہ نے فرمایا کہ "پاک ہے وہ زات جو لے گئی اپنے بندے کو۔۔۔
    اب اگر کہا جاۓ کہ آقا علیہ سلام نہیں گئے اپنےجسم کے ساتھ تو اعتراض اللہ پر کیا جاۓ کہ وہ لے کر جا نہیں سکتا۔۔۔۔۔ وہی خود رہا ہے کہ میں لے کر گیا ہوں۔۔۔
    یہاں لفظ عبد بیان کر کہ اللہ نے فرما دیا ہے کہ معراج جسمانی تھی اور لفظ اسراء کے معنی بھی اس پر دلالت کرتے ہیں۔

    لفظ عبدہ کے اسرار

    اس آیت میں اللہ نے فرمایا پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو لے گیا۔یعنی غور طلب بات یہ ہے کہ یہاں یہ کیاں نہیں کہا جو اپنے رسول کو لے گیا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول وہ ہے جو اللہ کی طرف سے بندوں کی طرف آۓ اور بندہ وہ ہے جو بندوں کی طرف سے اللہ کی طرف جاۓ۔اللہ نے حضرت یحیٰ کے لیے فرمایا:
    ان اللہ یبشراک یحیٰ مصدقا بکلمۃ من اللہ وسیدا و خصورا(اٰل عمران 39)
    اللہ نے آپکو یحیٰ کی بشارت دیتا ہےجو ( عیسیٰ) کلمۃ اللہ کے مصدق ہوں گے اورسردار ہوں گے اور عورتوں سے بہت بچنے والے ہوں گے۔
    یحیٰ کو سید کہا اور آپ کو بندہ کہا اسکی کیا وجہ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سلطنت ، سیادت اور مالکیت حقیقت میں تو اللہ کی ہیں اگر بندے کو مالک کہا جاۓ تو یہ مجازی ہوگا۔مگر بندہ اسی لیےکہا کہ اللہ اپنے حبیب کا ذکر حقیقی وصف کے ساتھ کرے مجاز اور مستعار کے ساتھ نہ کرے فضیلت حقیقی وصف میں ہے مجاز میں نہیں۔
    تو فرمایا کہ میرا بندہ ، اب یہاں میرا بندہ فرما کر سب سے جدا اور حقیقی معنی میں اپنے حبیب کو بیان کر دیا کہ بندہ تو ہے مگر ویسا نہیں ہے جیسے تم ہو۔خبر دار اس کو اپنے جیسا نہ سمجھنا۔

    ثم دنا فتدلیٰ کے اسرار

    علامہ آلوسی لکھتے ہیں:
    حضرت حسن بصری نے "ثم دنا فتدلیٰ" کی ضمیر اللہ کی طرف لوٹائی ہیں۔اسی طرح "ولقد راہ نزلۃ اخریٰ" میں ضمیریں اللہ کی طرف لو ٹائی ہیں۔
    اور امام حسن بصری نے قسم کھا کر فرمایا کہ آقا علیہ سلام نے اللہ کو دیکھا۔اور ثم دنا کا معنی فرماتے ہیں کہ آقا علیہ سلام اللہ کے قریب ہوۓ اور آپکا مرتبہ بلند ہو گیا۔اور فتدلیٰ کا معنی یہ ہے کہ اللہ نے آپکوبالکیہ جانب قدس کی طرف کھینچ کیا۔اسی مقام کو فنا فی اللہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔(سید محمود الوسی ؛ روح المعانی؛ جلد 27 ص 45)

    امام بخاری حضرت انس بن مالک سے روایت لاۓ ہیں ثم دنا فتدلیٰ کی تفسیر میں۔۔۔۔۔۔
    ختیٰ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتٰی پر آۓ اور اللہ آپکے قریب ہوا پھر اور قریب ہوا حتیٰ کہ وہ آپ سے دو کمانوں کی مقدار کے قریب رہ گیا یا اس سے بھی قریب۔پھر اللہ نے آپ پر وحی کی جو بھی وحی کی۔۔۔۔۔(بخاری صحیح؛ ج 2؛ ص 1120)

    امام مکی اور اما م ا وری نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ اللہ اپنے حبیب کے قریب ہوا اور آپ پر اپنا حکم اور امر نازل فرمایااور نقاش نے امام حسن بصری سے روایت کیا ہے کہ رب العزت اپنے بندے سیدنا مخمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ہوا پھر اور قریب ہوا اور پھر اللہ نے جو چاہا آپکو اپنئ قدرت اور عظمت سے دکھایا۔۔۔۔(قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی' الشفاۃ؛ج 1؛ ص 126)

    سورۃ نجم میں جبرائیل کا دیدار نہیں

    امام رازی لکھتے ہیں کہ" اگر یہ اعتراض کیا جاۓ کہ تم نے ان آیات کی تفسیر میں جو ضمیریں اللہ ک طرف لو ٹائی ہیں اور یہ معنی کیا ہے کہ اللہ رسول اللہ کے قریب ہوا ہے اور آپ نے اللہ کو دیکھا ،یہ احادیث کے خلاف ہےکیونکہ حدیث میں ہے جبرائیل نے آپکو اپنی ذات دکھائی اور مشرق بھر لیا، اس کا جواب یہ ہے کہ (امام رازی فرماتے ہیں)ہم نے یہ نہیں کہا کہ ایسا نہیں ہوا لیکن آیت میں یہ نہیں ہے کہ اللہ نے اس آیت سے اس واقعہ کی حکایت کا رادہ کیا۔حتیٰ کہ اس حدیث کی مخالفت لازم آۓ۔ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ جبرائیل نے آقا کو اپنی ذات دو مرتبہ دکھائی۔اپنے پر پھیلاۓ۔ اور مشرق کو بھر لیا۔لیکن سورۃ نجم اس واقعہ کی حکایت کے لیے نہیں۔۔۔۔۔(امام رازی؛ تفسیر کبیر؛ ج7؛ ص 703)
     
  2. عاصم محمود
    آف لائن

    عاصم محمود ممبر

    شمولیت:
    ‏25 دسمبر 2011
    پیغامات:
    108
    موصول پسندیدگیاں:
    45
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: فلسفہِ معراج اوررویت باری تعالیٰ

    رویت باری تعالیٰ پر چار مذاہب کے نظریات

    1-مالکیہ کا نظریہ:


    قاضی عیاض لکتے ہیں:
    علماء کا اس میں اختلاف ہے حضرت عائشہ اس کا انکار کرتی ہیں۔مسروق بیان کرتے ہیں کہ جب عائشہ رضی اللہ سے پوچھا گیا تو فرمایا تمھاری اس بات سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئےاور فرمایا جس نے کہا کہ آقا نے اللہ کو دیکھا تو اس نے جھوٹ بولا پھر یہ آیت پڑھی " لا تدکہ الابصار" (انعام 103)

    پھر حضرت عباس فرماتے ہیں کہ اللہ نے ابراہیم علیہ سلام کو اپنا خلیل، موسیٰ کو کلام اور اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیدرا عطا فرمایا، ان کی دلیل یہ آیت ہے " ماکذب۔۔۔۔۔۔۔اخریٰ"
    ترجمعہ: ان کے دل نے اس کے خلاف نہیں جانا جو ان کی آنکھ نے دیکھاکیا تم اس پر جھگڑتے ہو ؟ بے شک انہوں نے اسے دوسری بار دیکھا(نجم 11-13)

    امام ماوردی فرماتے ہیں اللہ نے اپنی رویت اور کلام کو موسیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مابیں تقسیم کر دیا موسیٰ کو 2 بار کلام عطا کی اور آقا کو دو بار دیدار۔۔
    نقاش نے روایت کیا ہے کہ امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس کی حدیث کا قائل ہوں۔آپ نے اللہ کو اپنی سر کی آنکھوں سے دیکھا۔امام احمد ان کو اتنی بار دہراتی کہ انکی سانس منقطع ہو جاتی۔
    ابن عطا نے " الم نشرخ لک صدرک" کی تفسیر میں کہا ہے کہ آپکا سینہ رویت کے لئے کھول دیا اور موسیٰ کو سینہ کلام کے لئے کھول دیا۔ابو الحسن علی بن اسمٰعیل اشعری رضی اللہ اور ان کے اصحاب کی جماعت نے کہا کہ آپ علیہ سلام نے اللہ کو اپنی سر کی آنکھ سے دیکھا اور فرمایا جس نبی کو جو بھی معجزہ دیا گیا اس کی مثل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی اور رویت ے آپکو تمام انبیاء پر فضیلت دی گئی(قاضی عیاض: الشفاء:ص:119- 121)

    اس مسئلہ میں چار اقوال ہیں حضرت مسعود اور حضرت عائشہ رویت کی نفی جبکہ ابن عباس اور انس بن مالک اس کا اثبات کرتے ہیں۔کہ آپ نے اللہ کو سر کی آنکھ سے دیکھا۔امام ابو الحسن اشعری کا بھی یہی مذہب ہے۔تابعین میں سے سعید بن جبیر کی یہی راۓ ہے۔ ان میں ذیادہ قول صحیح یہ ہے کہ آپ نے اللہ کو سر کی آنکھ سے دیکھا۔۔ اور دنا فتدلیٰ کا معاملہ اللہ اور اس کے رسول کے مابیں ہوا۔اور اس سے قرب مجازی مراد ہے۔(علامہ مخمد بن سنوسی مالکی: مکمل اکمال المعلم: ج1: ص 327)

    نقاش نے حدیث معراج میں ثم دنا کی تفسیر میں بیاں کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا جبرائیل مجھ سے علیحدہ ہو گئےاور آوازیں منقطع ہو گئیں۔اس وقت میں نے اپنے رب کا کلام سنا: اے محمد!تمھارے دل کو مبارک ہوقریب آؤ قریب آؤ(ابو عبدللہ محمد بن خلفہ و شتانی ابی مالکی: اکمال اکمال امعلم ج1 ص: 327)

    ابن خزیمہ روایت کرتے ہیں حضرت انس بن مالک نے فرمایا سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سر کی آنکھوں سے اللہ کو دیکھا،امام احمد بن حنبل سے پو چھا گیا کہ حضرت عائشہ اس کا انکار کرتی ہیں تو تو آپ ان کے اس انکار کو کس دلیل سے رد کرتے ہیں ۔امام احمد نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد حضرت عائشہ کے اقوال پر مقدم ہے ، نقاش نے امام احمد حنبل سے روایت کیا ہے کہ میں حضرت ابن عباس کی اس حدیث کا قائل ہوں کہ آپ نے اپنے رب کو سر کی آنکھوں سے دیکھا۔ امام احمد بار بار کہتے رہے آپنے اپنے رب کو دیکھا حتیٰ کہ آپکی سانس ٹوٹ گئی(امام زرقانی : شعح امواہب الدنیہ :ج 6: ص114-120)
     
  3. عاصم محمود
    آف لائن

    عاصم محمود ممبر

    شمولیت:
    ‏25 دسمبر 2011
    پیغامات:
    108
    موصول پسندیدگیاں:
    45
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: فلسفہِ معراج اوررویت باری تعالیٰ

    2-حنابلہ کا نظریہ
    ابن کثیر لکھتے ہیں : امام ترمذی اپنی سند کے ساتھ لکھتے ہیں کہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔عکرمہ نے کہا کیا اللہ یہ نہیں فرماتا
    لا تدرکہ الابصار وھو یدرک(انعام 103)
    ابن عباس نے فرمایا تم پر افسوس ہے یہ اس وقت ہے جب وہ اس نور کے ساتھ تجلی فرماۓجو اس کا نور ہے وہ غیر متناہی نور ہے۔اور بے شک آپ نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا۔نیز امام ترمزی نے روایت کیا ہے کہ کعب کی ابن عباس سے میدان عرفات میں ملاقات ہوئی انہون نے کسی چیز کے متعلق ابن عباس سے سوال کیا پھر اتنے زور سے اللہ اکبر کہا کہ پہاڑ گونج اٹھے۔اور پھر ابن عبا س نے فرمایا۔ ہم بنو ہاشم ہیں۔تو کعب نے فرمایا کہ اللہ نے اپنی رویت اور اپنے کلام کو موسیٰ اور آقا کے مابین تقسیم کر دیا۔موسیٰ کو کلام اور آقا علیہ سلام کو رویت عطا کی۔
    ۔مسروق بیان کرتے ہیں کہ جب عائشہ رضی اللہ سے پوچھا گیا تو فرمایا تمھاری اس بات سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے فرمایا جس نے کہا کہ آقا نے اللہ کو دیکھا تو اس نے جھوٹ بولا پھر یہ آیت پڑھی " لا تدکہ الابصار" (انعام 103)

    حضرت عائشہ نے فرمایا اس نے مراد جبرائیل ہیں۔ جبرائیل نے آقا کو اپنی ذات دو مرتبہ دکھائی۔اپنے پر پھیلاۓ۔ اور مشرق کو بھر لیا۔
    ۔پھر حضرت عباس فرماتے ہیں کہ اللہ نے ابراہیم علیہ سلام کو اپنا خلیل، موسیٰ کو کلام اور اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیدرا عطا فرمایا۔صحیح مسلم میں ابو زر رضی اللہ سے روایت ہے کہ میں نے آقا علیہ سلام سے پوچھا کیا آپنے اللہ کو دیکھا ہے تو فرمایا " وہ نور ہے میں نے اس کو جہاں سے بھی دیکھا نور ہی نور ہے"۔مسلم کی ایک اور روایت ہے میں نے نور کو دیکھا۔ابن جریر فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا آپنے اللہ کو دیکھا تو فرمایا میں نے اللہ کو دل سے دیکھا۔ پھر آپنے ثم دنا فتدلیٰ آیت پڑھی(ابن کثیر : تفسیر ابن کثیر:ج 6:ص 447-448)۔

    ابن کثیر بھی دل سے دیکھنے کے قائل ہیں ۔۔جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ سے اس واقعہ پر کوئی حدیث روایت نہیں ہے۔ جس وجہ سے تمام آئمہ نے انکی اس بات کو رد کیا ہے۔اس پر بھی آگے بحث آے گی۔ شافعی مزہب میں۔

    حنابلہ میں امام احمد بن حنبل بھی رویت کے قائل ہیں اور انہاں نے بھی حضرت عائشہ کے اجتہاد کو رد کیا ہے۔وہ بھی ابن عباس کے قائل ہیں کیونکہ ابن عباس نے خود آقا علیہ سلام سے روایت لی ہے جبکہ حضرت عائشہ سے کوئی روایت نہیں موجود جو انہوں نے آقا سے لی ہو

    ،امام احمد بن حنبل سے پو چھا گیا کہ حضرت عائشہ اس کا انکار کرتی ہیں تو تو آپ ان کے اس انکار کو کس دلیل سے رد کرتے ہیں ۔امام احمد نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد حضرت عائشہ کے اقوال پر مقدم ہے ، نقاش نے امام احمد حنبل سے روایت کیا ہے کہ میں حضرت ابن عباس کی اس حدیث کا قائل ہوں کہ آپ نے اپنے رب کو سر کی آنکھوں سے دیکھا۔ امام احمد بار بار کہتے رہے آپنے اپنے رب کو دیکھا حتیٰ کہ آپکی سانس ٹوٹ گئی(امام زرقانی : شعح امواہب الدنیہ :ج 6: ص114-120)
     
  4. عاصم محمود
    آف لائن

    عاصم محمود ممبر

    شمولیت:
    ‏25 دسمبر 2011
    پیغامات:
    108
    موصول پسندیدگیاں:
    45
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: فلسفہِ معراج اوررویت باری تعالیٰ

    3-احناف کا نظریہ

    علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہین
    :اگر یہ اعتراض کیا جاۓ کہ حضرت عائشہ رویت کی نفی کرتی ہیں اور حضرت ابن عباس رویت کا اثبات کرتے ہیں ان میں کیسے موافقت ہو گی اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عائشہ رویت بصری کا انکار کرتی ہیں اور حضرت عباس قلبی کا اثبات کرتے ہیں۔امام ابن خزیمہ نے کتاب التوحیدمیں بہت تفصیل سے اس مو ضوع پر بحث کی ہے۔ اور رویت کو ثابت کیا ہے اور فرمایا ابن عباس فرماتے ہیں آقا نے ایک مرتبہ دل کی آنکھ سے اور ایک مرتبہ سر کی آنکھ سے دیکھا۔(بدر الدین عینی : عمدۃ القاری ج19:ص 199)

    علامہ شہاب الدین فرماتے ہیں:
    حضرت ابن عباس کی مشہور روایت یہ ہے کہ آپ نے اپنے رب کو سر کی آنکھوں سے دیکھایہ حدیث ان سے کئی اثانید کے ساتھ مروی ہے اور یہ اس کے بھی منافی نہیں کہ آپ نے اپنے رب کو دل سے دیکھا جیسا کہ قرآن میں ہے:
    ما کزب اکفواد ما راٰی، ما زاغ البصر وما طغیٰ(نجم 11،17)
    آپکی آنکھ نے جو جلوہ دیکھا دل نے اس کی تکزیب نہیں کی، آپکی نظر ایک طرف مائل ہوئی نہ حد سے بڑھی۔
    امام حاکم ، امام نسائی اور امام طبرانی نے روایت کیا ہے کہ ابن عباس نے فرمایا اللہ نے موسیٰ کو کلام، ابراھیم کو خلیل اور اپنے حبیب کو دیدار عطا کیا۔اس سے مراد رویت بصری ہے نہ کہ رویت قلبی کیونکہ ، کیونکہ رویت قلبی آقا علیہ سلام کے ساتھ خاص نہیں۔قلبی ہر نبی کو عطا ہوئی اور ہمارے نبی ان سے ہر لحاظ میں اعلیٰ ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ اللہ موسیٰ علیہ سلام کے ساتھ زمیں پر ہم کلام ہوا اور آقا علیہ سلام کے ساتھ عرش پر ہوا۔۔(علامہ شہاب الدین نسیم الریاض :جلد 2 ص 287-288)

    ملا علی قاری بھی یہی روایت کرتے ہیں(ملا علی قاری شرح شفاء علی ہامش نسیم الریاض ج 2:ص 288-287)

    شاہ عبد الحق محدث دہلوی لکھتے ہیں :
    صحابہ کا اس میں اختلاف تھا کہ آیا شب معراج آپ نے اللہ کو دیکھا کہ نہیں؟ حضرت عائشہ اس کی نفی کرتی ہیں جبکہ ابن عباس اسکا اثبات کرتے ہیں ان میں سے ہر اک کے ساتھ صحابہ کرام کی جماعتیں متفق ہو گئیں۔ اسی طرح تابعین سے بھی بعض حضرت عائشہ کے نظریے کے قائل تھے۔اور بعض نے اس مسئلہ میں توقف کیا ہےلیکن جمہور حضرت ابن عباس کے نظریے کے قائل تھے۔اور علامہ محی الدین نووی نے لکھا کہ اکثر علماء کا قول ہے کہ آپ علیہ سلام نے رویت سر کی آنکھوں سے کی ہےاور حضرت ابن عباس کی یہ روایت خود آقا سے سماع پر محمول ہے۔اور حضرت عائشہ نے محض اپنے اجتہاد سے انکار کیا۔
    بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ اس مسئلہ میں حضرت ابن عباس کا قول متعین ہے کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سماع کے بغیر نہیں کہہ سکتے اور نہ یہ ان کے لیے جائز ہے۔کیونکہ اجتہاد سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اللہ کو دیکھا ہے۔ حضرت ابن عمیر نے حضرت ابن عباس سے پو چھا کہ کیا سید نا صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کو دیکھا تو تو ابن عباس نے فرمایا ! ہاں دیکھا ہے۔
    اکثر مشائخ صوفیہ کو بھی قول ہے کہ اللہ کو دیکھا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کما ل عطا ہوا جو عقلوں سے ماورا ہے۔اور جو آپکو معراج کی رات کمال ملا وہ سب سے بڑھ کر تھا۔(شاہ عبدلحق محدث دہلوی۔ شعتہ اللمات ج: 4: ص 431)

    اسما عیل حقی لکتھے ہیں:
    علماء نے کہا کہ آپ نے اپنے رب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا اور مجھے دیدار عطا کیا۔اور بعض نے کہا آپ نے اپنے رب کو دل سے دیکھا۔یہ قول سنت کے خلاف ہےاور مزہب صحیح یہ ہے کہ آپ نے رب کو سر کی آنکھوں سے دیکھا۔(علامہ اسماعیل حقی، روح البیان :ج 9: ص 222)

    علامہ آلوسی لکھتے ہیں:
    امام جعفر صادق بیان کرتے ہیں جب محبوب اپنے رب سے انتہائی قریب ہوۓ تو آپ پر ہیبت طاری ہو گئی تب اللہ آپ کے ساتھ نہایت لطف سے پیش آیا پھر اللہ نے اپنے حبیب سے وہی کہا جو حبیب حبیب سے کہتا ہےاور ان کے مابین وہی راز و نیاز ہوۓجو حبیب اور حبیب کے مابین ہوتے ہیں۔
    صافیا کرام کہتے ہیں اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے قریب ہوۓ جیسے ان کی شان کے لائق ہے اور ما زاغ البصر کی تفسیر میں یہ کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر اللہ کے جلوے سے نہیں ہٹی۔آپ جنت اور اس کی زینت کی طرف ملتفت ہوۓ نہ کہ جہنم اور اس کے شعلوں کی طرف۔بلکہ زات باری تعالیٰ کو محویت سے دیکھتے رہے۔ما طغیٰ کی تفسیر میں کہا آپ صراط مستقیم سے نہیں ہٹے۔ ابو حفض سہروردی نے کہا آپکی بصیرت میں کمی نہیں ہوئی۔اور بصر نے بصیرت سے تجاوز نہیں کیا۔ اور سہل بن عبد اللہ تعتری نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اپنی زات کو دیکھا نہ کسی اور شے کو وہ صرف زات جمال کو ہی دیکھتے رہے۔اور صفات الٰہی کو مطالعہ کرتے رہے۔میں یہ کہتا ہوں کہ نبی علیہ سلام نے اللہ کو دیکھا اور ایسے قریب ہوۓ جیسے ان کی شان کے لائق ہے۔(علامہ سید محمود الوسی۔ روح المعانی۔ ج:27، ص 54)
     
  5. عاصم محمود
    آف لائن

    عاصم محمود ممبر

    شمولیت:
    ‏25 دسمبر 2011
    پیغامات:
    108
    موصول پسندیدگیاں:
    45
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: فلسفہِ معراج اوررویت باری تعالیٰ

    4- شافیعہ کا نظریہ

    علامہ شرف نووی فرماتے ہیں:
    اس بحث میں اصل چیز حضرت ابن عباس کی حدیث ہے۔حضرت عمر فاروق نے ایک شخص کو حضرت ابن عباس کے ہاں بھیجا اور پوچھا کیا آقا علیہ سلام نے اللہ کو دیکھا تو آپ نے فرمایا ہاں دیکھا ہے۔ حضرت عائشہ کے انکار سے اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ حضرت عائشہ نے یہ نہیں کہا کہ میں نے آقا علیہ سلام سے سنا" کہ میں نے اپنے رب کو نہیں دیکھا"حضرت عائشہ نے اپنے طور پر قرآن سے استدلال کر کہ یہ نتیجہ نکالا ہے۔اور جب صحابی کوئی قول بیان کرے اور دوسرا اس کی مخالفت کرے تو اس کا قول حجت نہیں ہوتا اور جب صحیح روایت کے ساتھ ابن عباس سے ثابت ہے کہ آقا نے اللہ کو دیکھا تو ان کی بات ماننا واجب ہے۔کیونکہ اللہ کو دیکھنے کا واقعہ ان مسائل میں سے نہیں ہے جن کو عقل سے مستنبط کیا جاسکے یا ان کو ظن سے بیان کیا جا سکے یہ صرف اسی صورت پر بیان کیا جا سکتا ہے کہ کسی نے خود آقا علیہ سلام سے سنا ہو۔اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ابن عباس نے اپنی حجت سے کہا کہ آقا نے اللہ کع دیکھا۔علامہ معمر بن راشد نے کہا کہ اس مسئلہ میں حضرت ابن عباس اور حضرت عائشہ کا اختلاف ہے۔ اور حضرت عائشہ حضرت ابن عباس سے زیادہ عالم نہیں۔حضرت عباس کی روایات رویت کا اثبات کرتی ہیں جبکہ حضرت عائشہ کی روایات رویت کی نفی کرتی ہیں۔جب منفی اور مثبت روایات میں متعارض ہو تو مثبت کو منفی پر ترجیع دی جاتی ہے۔حاصل بحث یہ ہے کہ اکثر کہ نزدیک یہ ہے کہ آپ نے اپنی سر کی آنکھوں سے اپنے رب کو دیکھا اور حضرت عائشہ اس کا انکار کرتی ہیں اور اگر ان کے پاس اس پر کوئی حدیث ہوتی تو وہ اس کو بیان کرتیں۔ انہوں نے اس مسئلہ کا قرآن سے استنباط کیا ہے اب اس کے جواب کو ہم واضع کرتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    لا تد کہ الابصار وھو ید رک الابصار(انعام:103)
    نگایہں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں او سب کا احاطہ کیۓ ہوۓ ہے۔
    اس کا جواب یہ ہے کہ احاطہ کی نفی ہیاں مراد ہے رویت کی نہیں مراد احاطہ اور چیز ہے رویت اور ہے
    ان کا دوسر استدلال اس آیت سے ہے
    اور اللہ سے کلام کرنا کسی بشر کے لائق نہیں مگر وحی سے یا پردے کے پیچھے سے(شوریٰ :51)

    اس آیت سے استدلال کے درج زیل جوابات ہیں

    1-اس آیت میں رویت کے وقت کلام کی نفی کی گئی ہے تو جائز ہے جس وقت آپ نے اللہ کو دیدار کیا ہو اس وقت کلام نہ کیا ہو۔
    2-یہ آیت عام مخصوص عنہ البعض ہےاور اس کا مخصص وہ دلاہل ہیں جن سے رویت ثابت ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ عام قائدہ یہی ہے مگر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مستثنیٰ ہیں۔
    3-مشاہدہ کے وقت جس وحی کی نفی کی گئی ہے وہ بلا واسطہ وحی ہے اور ہو سکتا ہے کہ دیدار کے وقت آپ پر کسی واسطہ سے وحی کی گئی ہو۔
    جمہور مفسرین کا یہ مختار ہے کہ اللہ کا دیدار آقا علیہ سلام نے کیا۔پھر اس پر ہے کہ دل سے کیا کہ سر کی آنکھ سے۔بعض سر کی آنکھ کا قول مانتے ہیں اور بعض دل کا کہ دل میں اللہ نے آنکھ رکھ دی اور آپ نے دل سے اس رب کا دیدار کیا (شرف نووی شافعی، شرح صحیح مسلم، ج 1، ص:97)

    امام عسقلانی نے بھی یہی بحث کی ہے کہ نگاہوں کا احاطہ اور چیز ہے جبکہ دیدار اور چیز ہے۔اور فرماتے ہیں کہ رویت جائز ہے تو دنیا میں بھی جائز ہے اور دونوں وقتوں میں بہ حثیت کوئی فرق نہیں۔اور فرمایا کہ حضرت عائشہ کے قول کو الام احمد بن حنبل کے مطابق مسترد کار دیا جاۓ گا کیانکہ ابن عباس کا قول ان پر مقدم ہے کیونکہ انہوں نے خود آقا سے سنا جبکہ حضرت عائشہ سے کوئی حدیث روایت نہیں ہے جو انہاں نے خود سنی ہو (اور مزید انہوں نے اوپر والی روایات لائی ہیں امام احمد سے ، ابن عباس سے، اور دیگر صحابہ سے اور آہمہ سے)۔(امام عسقلانی، فتح الباری، ج:8،ص:407 تا 409)

    علامہ سیوطی فرماتے ہیں:
    اکثر علما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کو سر کی آنکھ سے دیکھا۔جیسا کہ ابن عباس کی روایات ہیں۔اور یہ آقا سے سماع کے بغیر ممکن نہیں ۔حضرت عائشہ سے کوئی حدیث روایت نہیں ہے جو انہاں نے خود سنی ہو کہ جس میں نبی علیہ سلام نی اپنی رویت کی نفی کی ہو۔اور انہاں نے اس کا استدراک قرآن سے کیا ہے اور قرآن میں ادراک کی نفی ہے رویت کی نہیںلہٰذااس سے نفی لازم نہیں آتی(جلال الدین سیوطی۔۔ فتح الباری، ج:8،ص:247)
     
  6. عاصم محمود
    آف لائن

    عاصم محمود ممبر

    شمولیت:
    ‏25 دسمبر 2011
    پیغامات:
    108
    موصول پسندیدگیاں:
    45
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: فلسفہِ معراج اوررویت باری تعالیٰ

    رویت باری تعالیٰ پر احادیث

    امام بخاری انس بن مالک سے صحیح میں روایت کرتے ہیں "ختیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ پر آۓ اور روب العزت آپ کے قریب ہوا۔ پھر آپکے اور قریب ہوا، حتیٰ کہ وہ آپ سے دو کمانوں کی مقدار رہ گیا یا اس سے بھی کم۔(صحیح بخاری۔ج2: ص1120)

    امام مسلم روایت کرتے ہیں" عبد اللہ بن شفیق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو زر رضی اللہ سے کہا اگر میں رسول اللہ کو دیکھتا تو آپ سے سوال کرتا ، انہوں نے کہا تم کس چیز کے متعلق سوال کرتے ہو ؟ کہا میں یہ سوال کرتا ہوں کیا آقا نے اللہ کو دیکھا۔؟ ابوزر نے کہا میں نے بھی آپ سے اسی متعلق سوال کیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے دیکھا وہ نور ہی نور تھا۔(صحیح مسلم، ج2، ص:99)

    حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ان آیات کی تفسیر میں" بے شک انہوں نے اس کو دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا۔تو اللہ نے اپنے خاص بندے پر وہی کی جو بھی کی۔پھر وہ دو کمانوں جتنا قریب ہوا یا اس سے زیادہ۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ آپ نے اللہ کو دیکھا۔(امام ترمزی، جامع ترمزی ص: 471 تا 472)

    امام احمد بن حنبل فرماتے ہی کہ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ آپ نے اللہ کو دیکھا(مسند، ج1، ص:
    285-290)
    دنی الجبار رب العزة فتدلی حتی کان منه قاب قوسين او ادنی
    1. صحيح البخاری، 2 : 1120، کتاب التوحيد، رقم : 7079
    اللہ رب العزت اتنا قریب ہوا کہ دو کمانوں کے درمیان جتنا یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا

    رايت نورا
    میں نے نور کو دیکھا۔
    (الصحيح لمسلم، 1 : 99، کتاب الايمان، رقم : 292)

    حدیث طبرانی میں ہے کہ
    ان محمدا رای ربه مرتين مرة بعينه و مرة بفواده.
    حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا۔ ایک مرتبہ آنکھ سے اور ایک مرتبہ دل سے۔
    1. المعجم الکبير، 12 : 71، رقم : 12564
    2. المعجم الاوسط، 6 : 356، رقم : 5757
    3. المواهب اللدنيه، 2 : 37
    4. نشر الطيب : 55

    حضرت سہل بن عبداللہ التستری رحمۃ اللہ علیہ اسی مشاہدہ کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں۔
    شاهد نفسه والی مشاهدتها و انما کان مشاهدا ربه تعالی بشاهد ما يظهر عليه من الصفات التی اوجبت الثبوت فی ذلک المحل
    (روح المعانی، 27 : 54)
    اس طرح مستغرق ہوئے کہ سوائے ذات باری اور صفات الہٰیہ کے کسی طرف متوجہ نہ ہوئے

    حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ کیا تم کو اس پر تعجب ہے کہ ابراہیم کے لئے خلیل ، موسیٰ کے لیے کلام اور آقا کے لیے رویت ہو۔
    یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے۔مسلم اور بخاری نے اسکی تخریج نہیں کی۔
    حاکم نیشا پرری، المستدرک، ج:1، ص:65

    حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب کو دیکھا۔
    اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے بھی سند صحیح کے ساتھ روایت کیا ہے۔
    حافظ نور الدین علی بن ابی بکر، مجمع الزوائد ، ج:1، ص 78

    ابن عساکر حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ، حضور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :لان اللہ اعطی موسی الکلام واعطانی الرؤیۃ لوجہہ وفضلنی بالمقام المحمود والحوض المورود۲؂۔
    بیشک اللہ تعالٰی نے موسٰی کو دولت کلام بخشی اورمجھے اپنا دیدار عطافرمایا مجھ کو شفاعت کبرٰی وحوض کوثر سے فضیلت بخشی ۔
    (۲؂کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن جابر حدیث ۳۹۲۰۶مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۴ /۴۴۷ )

    امام احمد اپنی مسند میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی :قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رأیت ربی عزوجل۱؂
    ۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا۔
    (۱؂مسند احمد بن حنبل عن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۸۵)

    عبد الرحمٰن بن عائش فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"میں نے اپنے رب کو بہترین صورت دیکھا۔میرے رب نے مجھ سے پوچھا ملائکہ مقربین کس بات پر جھگڑا کرتے ہیں؟ میں نے عرض کی مولا تو ہی خوب جانتا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیںپھر اللہ نے اپنا دست قدرت میرے دونوںشانوں کے درمیان رکھا میں اس کی ٹھنڈک اپنےسینے میں محسوس کی۔پس مجھے ان تمام چیزوں کا علم ہو گیا جو زمین اور آسمان میں تھی۔
    سنن الدارمی۔،ج2 ص:51 کتاب الرویا رقم: 2155

    حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ آقا علیہ سلام فرماتے ہیں کہ میں نے دو مرتبہ اپنے رب کو دیکھا۔ایک مرتبہ سر کی آنکھ سے اور ایک بار دل کی آنکھ سے۔
    الخصائص الکبری ،ج:1، ص 121

    امام نووی فرماتے ہیں "بلا شبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات سر کی آنکھوں سے دیکھا۔
    زرقانی علی المواہب، 1: 232
     
  7. الکرم
    آف لائن

    الکرم ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏25 جون 2011
    پیغامات:
    3,090
    موصول پسندیدگیاں:
    1,180
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: فلسفہِ معراج اوررویت باری تعالیٰ

    بُہت خوب عاصم محمود جی
    بے انتہا شکریہ آپ کا اس خوبصورت مضمون کے لیے ۔ اللہ اپنے حبیبِ پاک کے صدقے آپ
    کو ضرور اجر عطاء فرمائے گا
     
  8. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,275
    موصول پسندیدگیاں:
    11,533
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: فلسفہِ معراج اوررویت باری تعالیٰ

    حضرات یہ ویڈیو بھی ملاحظہ فرمائیں اور اپنی رائے سے مطلع فرمائیں:

    http://www.youtube.com/watch?v=DzNx7FWdsa0
     
  9. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,106
    موصول پسندیدگیاں:
    11,152
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: فلسفہِ معراج اوررویت باری تعالیٰ

    جزاک اللہ عاصم بھائی
    آپ نے بہت تحقیقی مراسلہ جات ارسال فرمائے ہیں جس سے نفسِ مضمون عمدگی سے واضح ہوجاتا ہے۔
     
    عاصم محمود نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. عاصم محمود
    آف لائن

    عاصم محمود ممبر

    شمولیت:
    ‏25 دسمبر 2011
    پیغامات:
    108
    موصول پسندیدگیاں:
    45
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: فلسفہِ معراج اوررویت باری تعالیٰ

    آپ سب کا بت شکریہ۔۔۔۔بس دعا کیا کریں۔۔۔۔اللہ اس نوکری کو قبول فرمائے۔آمیں
     

اس صفحے کو مشتہر کریں