1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

فاصلہ رکھ کر کووڈ19- کو روکیں ....... تحریر : رضوان عطا

'میڈیکل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏30 اپریل 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    3,911
    موصول پسندیدگیاں:
    571
    ملک کا جھنڈا:
    فاصلہ رکھ کر کووڈ19- کو روکیں ....... تحریر : رضوان عطا

    کورونا وائرس سے پھیلنے والی بیماری کووڈ19- کے تدارک کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپس کی گفتگو میںچہرہ آمنے سامنے نہ رکھیں۔
    سماجی فاصلہ کیا ہے؟
    سماجی فاصلے کو بعض اوقات جسمانی فاصلہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد ہے کہ گھر سے باہر دوسرے لوگوں اور آپ کے درمیان دوری ہونی چاہیے۔ سماجی یا جسمانی فاصلے سے عملاً مراد ہے کہ؛
    ٭: دوسرے افراد سے کم از کم 6 فٹ (2 میٹر) کے فاصلے پر رہیں۔
    ٭: گروہ کی صورت میں اکٹھے نہ ہوں۔
    ٭: بھیڑ والے مقامات اور اجتماعات سے گریز کریں۔
    بعض دیگر اقدامات کی طرح دوسروں سے فاصلہ رکھنا، وائرس میں مبتلا ہونے سے بچنے اور وباء کی رفتار روکنے کا شاندار طریقہ ہے۔ ایسا کرنے کے فوائد نہ صرف علاقے اور ملک کی سطح پر سامنے آتے ہیں بلکہ اس مرض کے خلاف عالمی جدوجہد کو بھی تقویت ملتی ہے۔
    جب کووڈ19- آپ کے علاقے میں پھیل رہا ہو تو ہر ایک کو گھر سے باہر کھلے مقامات یا عمارتوں میں ایک دوسرے سے ملنے جلنے میں کمی لانی چاہیے۔ کووڈ19- میں مبتلا افراد کو بعض مرتبہ اپنے مرض کا پتا نہیں چلتا لیکن اس دوران وہ دوسروں میں اس کا وائرس منتقل کر سکتے ہیں، اس لیے دوسروں سے ہر ممکن حد تک فاصلہ رکھنا ضروری ہے۔ اس طرح امید کی جا سکتی ہے کہ نہ آپ سے کسی کو وائرس منتقل ہو گا اور نہ کسی دوسرے سے آپ متاثر ہوں گے۔
    سماجی فاصلہ رکھنا ان افراد کے لیے مزید اہم ہے جنہیں اس مرض سے زیادہ خطرہ ہے۔ ان میں معمر افراد کے علاوہ ذیابیطس، امراض قلب، دمہ، سرطان اور بلندفشارِ خون کے مریض شامل ہیں۔
    سماجی فاصلہ کیوں ضروری ہے؟
    کووڈ19- عموماً کچھ وقت کے لیے قریب (6 فٹ سے کم) آنے والے افراد میں منتقل ہوتا ہے۔ پھیلاؤ تب ہوتا ہے جب کوئی انفیکٹڈ فرد کھانسی، چھینک یا عام بول چال سے منہ یا ناک سے چھینٹے خارج کرتا ہے جو فضا میں سفر کرتے ہوئے دوسرے فرد کے منہ، ناک یا آنکھ کے اوپر یا چہرے پر ان تینوں کے آس پاس گرتے ہیں۔ یہ چھینٹے سانس کھینچتے ہوئے اندر بھی چلے جاتے ہیں۔
    حال ہی میں ہونے والی تحقیقات سے عندیہ ملتا ہے کہ ایسے انفیکٹڈ افراد بھی اس مرض کو پھیلا سکتے ہیں جن میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔
    ایسی کسی سطح یا چیز سے، جس پر وائرس موجود ہو، یہ منہ، ناک یا آنکھ میں داخل ہو سکتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ فرد اس سطح یا چیز کو ہاتھ سے چھوتا ہے اور پھر ہاتھ منہ، ناک، آنکھ یا چہرے پر لگاتا ہے۔ کووڈ19- کا وائرس گھنٹوں یا دنوں تک کسی سطح پر زندہ رہ سکتا ہے۔ زندہ رہنے کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے جن میں سورج کی روشنی اور نمی شامل ہیں۔ سماجی فاصلے کو اپنانے سے انفیکٹڈ لوگوں اور آلودہ سطحوں سے تعلق محدود ہو جاتا ہے۔
    لوگوں میں اس مرض کی شدت مختلف ہو سکتی ہے لیکن سب مریض اسے پھیلانے کے قابل ہوتے ہیں۔ اس وباء کو روکنے کے لیے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔
    سماجی فاصلے کیلئے ٹپس
    ٭: جہاں آپ رہتے ہیں وہاں حکام کی طرف سے جاری کردہ گائیڈلائنز پر عمل کریں۔
    ٭: اگر خوراک یا دوا کیلئے دکان یا فارمیسی میں جانا لازمی ہو تو دوسروں سے کم از کم 6 فٹ دور رہیں۔
    ٭: کوشش کریں کہ آپ کو گھر سے باہر نہ جانا پڑے، ادویات اوردیگر سامان گھر ہی پر پہنچا دیا جائے۔
    ٭: باہر جاتے ہوئے منہ اور ناک کو کپڑے یا کپڑے کے ماسک سے ڈھانپ کر رکھیں بالخصوص جب آپ کسی دکان میں یا زیادہ لوگوں کے درمیان ہوں۔
    ٭: اگر آپ نے فیس ماسک پہن رکھا ہو تو بھی دوسروں سے 6 فٹ کے فاصلے پر رہیں۔
    نجی اجتماعات، چاہے وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، گھر میں ہوں یا باہر، ان میں شریک نہ ہوں۔ یہ مشورہ ہر عمر کے افراد کے لیے ہے، یعنی نوعمروں اور نوجوانوں کے لیے بھی۔
    ٭: جہاں تک ممکن ہو گھر میں بیٹھ کر کام کریں۔
    ٭: ٹیکسی، رکشہ یا پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال ہر ممکن حد تک کم کریں۔
    ٭: ممکن ہو تو بچوں کی تعلیم کا اہتمام ڈسٹینس؍ڈیجیٹل لرننگ کے ذریعے کریں۔
    ٭: اگر آپ گھر سے دور ہیں تو اپنے دوستوں اور اہل خانہ سے رابطے میں رہنا اچھا ہے۔ اس مقصد کے لیے فون، ویڈیو چیٹ یا سوشل میڈیا کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
    (ماخذ: سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن، امریکا)​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں