1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

غیرجمہوری انتخاب نہیں ۔ ایک آئینی انقلاب

'حالاتِ حاضرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از برادر, ‏19 دسمبر 2012۔

  1. برادر
    آف لائن

    برادر ممبر

    شمولیت:
    ‏21 اپریل 2007
    پیغامات:
    1,227
    موصول پسندیدگیاں:
    78
    غیر جمہوری انتخاب نہیں ۔۔ آئینی انقلاب
    [​IMG]
    ڈاکٹر اجمل خان نیازی ​

    باتیں تو ٹھیک کر رہے ہیں ڈاکٹر طاہر القادری، اللہ نے بات کرنے کا ہنر فراوانی سے عطا کیا ہے۔ یہ باتیں اصولی طور پر صحیح ہیں اور دل کو لگتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں۔
    سیاست نہیں ریاست بچاؤ،
    تو وہی لوگ اس کے مخالف ہیں جو اپنی سیاست کے لئے ریاست کو قربان کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں انتخاب کے بعد انقلاب ہو گا۔ ڈاکٹر صاحب انتخاب سے پہلے کوئی انقلاب چاہتے ہیں اس کے بعد جو انتخاب آئے گا وہ سچی جمہوریت لائے گا؟۔ سیاستدانوں نے سیاست اور ریاست کو گڈمڈکیا جس نے ان کی سیاست پر تنقید کی تو اسے ریاست کا غدار کہہ کر جیل بھجوا دیا۔ پھر سیاست اور جمہوریت کی رلا ملا دیا۔ انہوں نے اپنے مخالفین کو جمہوریت کا دشمن قرار دے کر بدنام کیا اور خاموش کرا دیا۔ سیاست سے مراد حکومت ہے۔ کچھ سیاستدان اپنی حکومت بچانا چاہتے ہیں اور کچھ حکومت حاصل کرنا چاہتے ہیں، دونوں ایک جیسے ہیں۔ انہوں نے باریاں مقرر کی ہوئی ہیں۔ پیپلزپارٹی کے بعد مسلم لیگ اور پھر پیپلزپارٹی، دونوں پانچویں چھٹی بار حکمرانی کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں ایک دوسرے پر ایک جیسے بلکہ ایک ہی الزام لگاتے ہیں۔ الزام کرپشن، لوٹ مار، غیرآئینی اقدامات اور نااہلی کے ہوتے ہیں۔ دونوں چھوٹے ہیں، دونوں بچے ہیں، دونوں اندرسے ایک ہیں، ایک ساتھ ہیں، باہر سے بظاہر ایکدوسرے کے دوبدو ہیں، ہوتے ایکدوسرے کے روبرو ہیں۔
    وچوں وچوں کھائی جا
    اُتوں رولا پائی جا​
    وہ انتخاب کے خلاف نہیں، مگر یہاں کتنے انتخاب ہوئے اور کچھ بھی نہیں ہوا۔ نہ خیالات بدلے، انتخاب کے ذریعے زندگی نہیں بدلی، انتخابات نہ ہوں۔ تو کیا ہو، جو کچھ ڈاکٹر قادری کہہ رہے ہیں وہ ٹھیک ہے مگر اس کے بعد کون معاملات کو ٹھیک کرے گا۔ کس طرح کرے گا، کتنے عرصے میں کرے گا، یہ بات وہ 23دسمبر کو مینار پاکستان کے بے مثال اجتماع میں بتائیں گے۔
    یہ الیکشن نہیں سلیکشن ہے،
    وہی لوگ پچھلے ساٹھ پینسٹھ برسوں سے اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں۔
    باپ کے بعد بیٹے، بھتیجے، بھانجے، اسمبلیوں میں آ بیٹھتے ہیں اور بیٹھے رہتے ہیں۔
    90فیصد سے زیادہ ارکان پورے سیشن میں ایک بات نہیں کرتے ایک سوال نہیں اٹھاتے۔
    کوئی قانون سازی نہیں ہوتی نہ قوم کی کردار سازی ہوتی ہے۔
    وہی ووٹرز اور وہی ممبران۔ تو یہ کیا انتخاب ہیں؟ یہ جمہوری انتخابات نہیں ہیں۔ حکومتی انتخابات ہیں، یہ نظام جمہوری نہیں، یہ جمہوری بدنظمی بھی نہیں۔ کبھی کوئی اہل پڑھا لکھا سچا پاکستانی جینوئن آدمی اسمبلیوں میں نہیں پہنچا۔ وہ تو الیکشن میں کھڑا ہی نہیں ہو سکتا۔
    یہ ممبران ہیں جو اول درجے کے ............ ہیں۔ انہوں نے غنڈوں کی فوج پال رکھی ہوتی ہے۔ ایس پی سے لیکر ایس ایچ او تک اور ڈی سی او سے لیکر پٹواری تک اور اس کے علاوہ بھی سب اہلکار اور انتظامیہ کے آدمی ان کی مرضی سے لگتے ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں۔ یہ انتخاب سیاستدانوں کو حکومت کرنے کا حق دینے کا ایک دھوکہ ہے جو مسلسل عوام کو دیا جا رہا ہے اور وہ دھوکہ کھاتے جا رہے ہیں۔ ایک بھی وعدہ منتخب ہونے والے لوگوں نے پورا نہیں کیا۔ الیکشن ظالمانہ تاریخ لئے ہوئے ہیں۔ 1971ءکے الیکشن کے لئے کہتے ہیں کہ وہ فیئر ہوئے مگر اس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا دیا گیا۔ پیپلزپارٹی کے لیڈر بھٹو صاحب کے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کا کیا ہوا۔
    پیپلزپارٹی کی ایک خاتون جو مخصوص نشستوں پر ممبر رہی ہے تو بتایا جائے کہ یہ الیکشن کی کونسی قسم ہے۔ ایک بارودی جرنیل نے یہ روایت ڈالی اور ہمارے سیاستدان اس پر عمل کر رہے ہیں۔ ان عورتوں کی کوئی کوالیفیکیشن نہیں، ان کی خوبیاں سب جانتے ہیں۔ ایم این اے مہرین انور راجہ کہتی ہیں کہ یہ الیکشن نے فیصلہ کرنا ہے کہ کون حکومت کرے گا۔ پیپلزپارٹی کی حکومت نے کچھ نہیں کیا مگر ہم ہی جیتیں گے۔ نوازشریف اور عمران خان وزیراعظم بننے کا اعلان کر چکے ہیں۔ انتخاب سے پہلے نتائج آ رہے ہیں تو یہ کیا انتخاب ہے۔ ہمارے ہاں انتخاب جمہوریت کے ترجمان نہیں۔ یہاں جمہوریت ہے ہی نہیں۔ یہاں جرنیلوں نے سیاستدان بننے کی کوشش کی اور سیاستدانوں نے جرنیل بننے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجے میں سچی جمہوریت آئی کہ پکی آمریت۔ یہاں جمہوری آمریت رہی اور آمرانہ جمہوریت رہی۔ جمہوریت حکمرانوں کو تبدیل کرنے کا نام نہیں، حکمرانوں کو کنٹرول کرنے کا نام ہے اور انتخاب ایک احتساب ہے اور ہمارے کسی منتخب سیاسدان کا احتساب نہیں ہوا۔ ہمارے ہاں جو نظام جمہوریت کے نام پر موجود ہے، وہ نہ جمہوری ہے نہ عادلانہ نہ عددی نہ فلاحی اور نہ ہی قومی ہے۔ ہلاکت خیز صورتحال ہے۔ کرپشن عروج پر ہے، لوٹ مار جاری ہے یہ استحصالی نظام کی ظالمانہ کارروائی ہے، ہر انتخاب کے بعد صورتحال پہلے سے بُری ہوتی ہے۔ کسی طرح کی اچھائی کی کوئی امید بھی محسوس نہیں ہوتی۔ اشرافیہ کے ساتھ بدمعاشیہ کا لفظ اب لازم ہو گیا ہے، کہتے ہیں انتخاب میں حکام اور عوام لازم و ملزوم ہیں، یہ اصل میں ظالم و مظلوم ہیں۔
    جب کوئی منتخب ہو کے آتا ہے تو اس کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں ہوتا، اُسے پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ وہ قانون سے ماورا ہو جاتا ہے جن کے ووٹ سے ممبر بنتے ہیں۔ انتخاب کے بعد انہیں غلام بنا لیا جاتا ہے۔ اپنی انتخابی طاقت کو ووٹ بینک کہتے ہیں۔ اپنے بینک بھرنے کا یہی طریقہ ہے۔ کبھی کسی ووٹر نے اتنا قرضہ معاف کرایا ہو، اسے تو کوئی قرضہ دیتا ہی نہیں۔ انہوں نے کروڑوں اربوں کے قرضے ہڑپ کر لئے ہیں، اپنی گاڑی کی نمبر پلیٹ پر ایم این اے، ایم پی اے لکھوانے کا کیا جواز ہے۔ خاندان کے سب لوگ اپنی گاڑیوں پر یہ ”عہدہ“ لکھوا لیتے ہیں۔
    موروثی جمہوریت اصل میں خاندانی جمہوریت ہے، حکمران بدلنے کی بات تو انتخاب میں ہوتی ہے مگر پارٹی کا ”حکمران“ بدلنے کی بات کوئی نہیں کرتا۔ اور من مانیاں کرتے ہیں اس کی اصلاح کی کوئی تو صورت ہو گی یہ پروگرام اور پیغام لے کے ڈاکٹر طاہر القادری آ رہے ہیں۔ اللہ کرے یہ بات لوگوں کے حق میں نئی زندگی لے کے آئے۔
    میرا یہ کالم ڈاکٹر طاہر القادری کی گفتگو اور آرزو سے مستعار لیا ہوا ہے۔ انہوں نے بامعنی اور معنی خیز جملے کہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ہاں رول آف لا نہیں۔ رول آف رولر ہے۔ ہم نے غلط سمجھ رکھا ہے کہ جمہوریت کا مطلب چار پانچ سال کے بعد انتخاب ہیں۔ بات تو انتخاب کے بعد شروع ہوتی ہے جو ہمارے ہاں اب تک شروع نہیں ہو سکی، حکمرانوں کو تبدیل کرنا مقصد نہیں اصل مقصد حکمرانوں کو کنٹرول کرنا ہے۔ حکمران تبدیل نہیں ہوتے اپنی باری پر پھر آ جاتے ہیں۔ کیا یہی انتخاب ہے کہ بار بار ایک آدمی آ جائے۔ کس ملک میں صرف ایک ہی خاندان کے لوگ منتخب ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری 23دسمبر کو آ رہے ہیں ان کا جلسہ عام پاکستان کی تاریخ میں بے مثال ہونا ہے۔ سب سے بڑا ہونا ہے تو پھر ان لوگوں کے پاس کیا جواز ہے کہ وہ روایتی استحصالی انتخاب پر زور دیں۔ مجھے صرف یہ سوال کرنا ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ہو گا کون کرے گا اور اس میں کتنا عرصہ لگے گا، ممبران اسمبلی وزرا اور حکمرانوں کا شجرہ نسب اٹھا کر دیکھ لیں، پوری بات سامنے آ جائے گی۔


    روزنامہ نوائے وقت 19دسمبر2012
     
  2. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,106
    موصول پسندیدگیاں:
    11,152
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: غیرجمہوری انتخاب نہیں ۔ ایک آئینی انقلاب

    طویل عرصہ بعد ڈاکٹر اجمل نیازی کی مخصوص انداز میں بامقصد تحریر پڑھنے کو ملی ۔
    بہت شکریہ برادر بھائی ۔
     
  3. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: غیرجمہوری انتخاب نہیں ۔ ایک آئینی انقلاب

    اچھی شئیرنگ کا شکریہ
     
  4. تور خان
    آف لائن

    تور خان ممبر

    شمولیت:
    ‏21 دسمبر 2012
    پیغامات:
    27
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: غیرجمہوری انتخاب نہیں ۔ ایک آئینی انقلاب

    ڈاکٹر اجمل نیازی کو طاہر القادری کی وہ ویڈیو بھیجنی پڑے گی جس میں طاہر القادری نے ڈینش میڈیاکو توہین رسالت قانون سے متعلق بیان دیا تھا۔ بھلا اس بیان سے کوئی واقف ہے؟ دروغ گو را حافظہ ۔۔۔۔
     
  5. ایم اے رضا
    آف لائن

    ایم اے رضا ممبر

    شمولیت:
    ‏26 ستمبر 2006
    پیغامات:
    882
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    جواب: غیرجمہوری انتخاب نہیں ۔ ایک آئینی انقلاب

    وقت اور بہترین اور معتدل قیادت اس ملک کے تمام مسائل کا حل ہے اب ہمیں تعصب سے بالا تر ہو کر اور پاک ہو کر اس آواز پر لبیک کہنا چاہیے
     

اس صفحے کو مشتہر کریں