1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

غزوہ فتح مکہ

'تاریخِ اسلام : ماضی ، حال اور مستقبل' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏19 جنوری 2019۔

  1. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,118
    موصول پسندیدگیاں:
    9,332
    ملک کا جھنڈا:
    صلحِ حدیبیہ کی مدت اگر چہ دس سال رکھی گئی تھی،اس معاہدے میں ایک بات یہ بھی تھی کہ دونوں فریقوں کے حلیف قبائل سے اگر کوئی جنگ کرے، تومخالف فریق کی کسی قسم کی مدد نہ کی جائے گی۔معاہدے کے دوسر ے ہی سال یعنی آٹھ ہجری میں بنو خزاعہ پر بنو بکر نے حملہ کردیا اور قریش نے بنو بکر کی امداد کی،حالاں کہ معاہدے کے مطابق وہ اس کااختیار نہیں رکھتے تھے۔ یوں قریش نے عہد شکنی کرکے اس تمام معاہدے کی دھجیاں اڑادیں۔ بنو خزاعہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں شکایت پیش کی اور امداد کی درخواست کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درندگی کا بدلہ لینے کے لیے تیاری کا حکم فرمایا اور دس ہزار کا لشکرِ جرار لے کر مکہ کے قریب ”مرالظہران ” تک پہنچ گئے۔ سلامی لشکر کی سرداری نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی۔ حضرت ابو رھم کلثوم بن حصین غفاری رضی اللہ عنہ یا حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ کا خلیفہ مقرر کیا گیا۔ جب لشکر مکہ پہنچا، تورسول ِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے اعلان ہوا کہ جو ہتھیار ڈال دے گا وہ قتل نہیں کیا جائے گا، لہٰذا لڑائی کی کوئی صورت نہیں تھی۔حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے قریش پر رحم کھاکر ابو سفیان کو مشورہ دیا کہ باز آجائیں اور توبہ کرلیں، چناں چہ قریش کے سردار ابو سفیان نے اسلام قبول کرلیا۔رضی اللہ عنہ !

    اس کے باوجود کچھ لوگ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے سامنے آگئے، جن سے مجبوراً مقابلہ کیا گیا، اوردومسلمان شہید،جب کہ ستائیس یا اٹھائیس کفار قتل ہوئے۔

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں انتہائی خشوع اور عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے خودمکہ کے نیچے کی جانب داخل ہوئے، جب کہ فوج کو حکم فرمایا کہ مختلف راستوں سے داخل ہوجائے۔ تمام لوگوں کے لیے عام معافی کا اعلان کردیا گیا تھا، اس لیے نہ لڑائی ہوئی نہ قتل و خون خرابہ،چوں کہ چند آدمیوں کے علاوہ کسی سے کوئی بدلہ نہ لیا بلکہ سب کو معاف فرمادیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں موجودبتوں کو گرا دیا،خانہ کعبہ کا اطواف کیا اور پندرہ روز مکہ میں قیام فرمایا۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں