1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

غزوہ بنی قینقاع ...غیرت دینی کا شاہکار

'سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم' میں موضوعات آغاز کردہ از احمداسد, ‏16 اپریل 2012۔

  1. احمداسد
    آف لائن

    احمداسد ممبر

    شمولیت:
    ‏22 جنوری 2011
    پیغامات:
    110
    موصول پسندیدگیاں:
    4
    ملک کا جھنڈا:
    بنی قینقاع﴿یہ لفظ قینُقاع ’’ن ‘‘کے پیش کے ساتھ ہے مگر ایک قول کے مطابق زیر کے ساتھ اور ایک قول کے مطابق زبر کیساتھ بھی پڑھا جاتا ہے لیکن مشہور قول یہی ہے کہ اس میں’’ ن‘‘ پر پیش ہے﴾ حضرت عبداللہ بن سلام(رض) کے برادری کے لوگ تھے نہایت شجاع اور بہادر تھے،زرگری کا کام کرتے تھے۔جب غزوۂ بدر میں حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو شاندار فتح عطا فرمائی تو ان لوگوں کی سرکشی کھل کر سامنے آگئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور مسلمانوں سے ان کا حسد ظاہر ہوگیا،اپنی اس جلن اور بغض کی وجہ سے انہوں نے اپنے معاہدہ کو عملاً ختم کردیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بنی قینقاع ،بنی قریظہ اور بنی نضیر کے یہودی قبیلوں کے ساتھ ایک معاہدہ فرمایا تھا کہ یہ لوگ نہ کبھی آنحضرت کے مقابلے پرآئیں گے اور نہ آپ کے دشمنوں کو مدد دیں گے،یہودیوں کے یہ تینوں خاندان مدینے میں ہی رہتے تھے اور ان کے محلے الگ الگ تھے۔
    ایک قول کے مطابق معاہدہ یہ تھا کہ جنگ وغیرہ کی صورت میں یہ لوگ نہ آنحضرت کے طرف دار ہوں گے اور نہ آپ کے مخالف ہوں گے یعنی آپ کے دشمن کا ساتھ بھی نہیں دیں گے بلکہ ایسے موقعوں پر غیر جانبدار رہا کریں گے ،اور ایک قول کے مطابق معاہدہ یہ تھا کہ اگر آنحضرت کا کوئی دشمن آپ پر حملہ آور ہوگا تو یہ لوگ آنحضرت کا ساتھ دیں گے اور آپ کی پوری پوری مدد کریں گے جیسا کہ بیان ہوا۔
    یہود کی طرف سے معاہدہ کی خلاف ورزی.
    غرض یہودیوں کے ان تینوں قبیلوں میں جنہوں نے سب سے پہلے معاہدہ کی خلاف ورزی اور غداری کی وہ بنی قینقاع کے یہودی تھے،اس کی ابتدائ یوں ہوئی کہ ایک عرب عورت اپنا تجارتی سامان لے کر وہاں آئی جس میں اونٹ اور بکریاں وغیرہ تھیں تاکہ یہ مال فروخت کرکے نفع حاصل کرے،یہ مال اس نے بنی قینقاع کے بازار میں فروخت کیا اور اس کے بعد وہیں ایک یہودی جوہری کے پاس بیٹھ گئی۔
    مسلمان عورت کے ساتھ یہود کی چھڑخانی.
    غرض وہ عورت جوہری کی دکان پر بیٹھی ہوئی تھی اور مسلمان ہونے کی وجہ سے اپنا بدن اور چہرہ چھپائے ہوئے تھی کہ کچھ یہودی اوباشوں نے اس پر چہرہ کھولنے کیلئے اصرار کرنا شروع کیامگر اس نے انکار کردیا،اسی وقت اس دکان دار جوہری نے اٹھ کر اس کے نقاب کا ایک کونہ چپکے سے اس کی پشت کی طرف کسی چیز سے باندھ دیا۔
    ایک روایت میں یوں ہے کہ اس نے خاموشی سے اس کی چادر کا ایک سراایک کانٹے یا کیل میں الجھا دیا،عورت کو اس کا پتہ ہی نہیں ہوا،اس کے بعد وہ عورت جانے کے لئے کھڑی ہوئی تو کپڑا الجھا ہواہونے کی وجہ سے وہیں رہ گیا اور چہرہ اچانک کھل گیا اس پر یہودیوں نے قہقہے لگائے ،عورت نے ان کی اس بیہودگی پر چیخنا شروع کردیا۔
    مسلمانوں اور یہود میں اشتعال.
    وہیں ایک مسلمان گزررہا تھا اس نے جیسے ہی یہودیوں کی یہ شرارت دیکھی وہ جوہری کی طرف جھپٹا اور تلوار بلند کرکے اس کو قتل کردیا یہ دیکھ کر یہودیوں نے اس مسلمان پر حملہ کیا اور اس کو قتل کر ڈالا اس واقعہ پر دوسرے مسلمانوں نے چیخ چیخ کر مسلمانوں کو جمع کرلیا اور مسلمان غضب ناک ہو کر یہودیوں پر چڑھ دوڑے۔
    معاہدہ سے برأت کا اعلان.
    مسلمانوں میں بنی قینقاع کے یہودیوں کے خلاف سخت غم وغصہ پیدا ہوگیا﴿بنی قینقاع سے مسلمانوں کا امن اور دوستی کا جو معاہدہ تھا وہ حضرت عبادہ بن صامت کی معرفت ہوا تھا﴾یہودیوں کی اس حرکت کو دیکھ کر آنحضرت نے فرمایا۔
    ’’اس قسم کی حرکتوں کے لئے ہمارا ان کا سمجھوتہ نہیں ہوا تھا ،اب عبادہ بن صامت اس معاہدے سے بری ہوگئے‘‘
    ادھر خود حضرت عبادہ(رض) نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا:
    یارسول اللہ اتبرأ الی اللہ والی رسولہ واتولی اللہ ورسولہ والمؤمنین وابرامن حلف الکفار ولایتھم
    یا رسول اللہ میں آپ کے دشمنوں سے بری اور بیزار ہو کر اللہ، اس کے رسول کی طرف آتا ہوں اور اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا دوست اور حلیف بتاتا ہوں اور کافروں کی دوستی اور عہد سے بالکلیہ بری اور علیحدہ ہوتا ہوں۔
    فائدہ علمیہ :اس حدیث سے ظاہر ہے کہ ایمان کے لئے جیسے اللہ اور اُس کے رسول اور عباد مؤمنین کی محبت ضروری ہے۔اسی طرح اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے عداوت ونفرت ،بیزاری اور برأت کا اعلان بھی ضروری ہے۔
    مسلمانوں کے ساتھ یہودیوں کے اس معاہدہ کا دوسرا رکن عبداللہ ابن ابی سلول تھا جس نے مسلمانوں کی طرف سے یہودیوں کے ساتھ یہ معاملہ کیا تھا یہ شخص ظاہری طور پر مسلمان ہو چکا تھا مگر حقیقت میں اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کا بدترین دشمن تھا اور منافقوں کا سردار تھا۔یہ شخص اس واقعہ کے بعد بھی اس معاہدہ سے چمٹا رہا اس نے عبادہ بن صامت کی طرح اس وقت معاہدہ سے بری ہونے کا اعلان نہیں کیا چنانچہ اسی سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی:
    یاایھا الذین امنوالاتتخذواالیھود والنصریٰ اولیاء بعضھم اولیاء بعضٍ﴿ تا﴾ فان حزب اللہ ھم الغلبون۔﴿الآیات پ6 سورۂ مائدہ ع8 آیت51تا56﴾
    ترجمہ:اے ایمان والو !تم یہودونصاریٰ کو دوست مت بنانا وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ آخر آیات تک۔
    بنی قینقاع کی کھلی دھمکی.
    غرض اس کے بعد شوال کی پندرہ سولہ تاریخ کو بروز شنبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ان کے بازار میں تشریف لے گئے اور سب کو جمع کرکے وعظ فرمایا:
    یامعشریھوداحذروامن اللہ مثل مانزل بقریش من النقمۃ واسلموا فانکم قد عرفتم انی نبی مرسل تجدون ذلک فی کتابکم وعہد اللہ الیکم
    اے گروہ یہود! اللہ سے ڈرو جیسے بدر میں قریش پر خدا کا عذاب نازل ہوا کہیں اسی طرح تم پر نازل نہ ہو۔ اسلام لے آئو اور اس لئے کہ تحقیق تم خوب پہچانتے ہو کہ میں بالیقین اللہ کا نبی اور اُس کا رسول ہوں جس کو تم اپنی کتابوں میں لکھا ہوا پاتے ہوئے اور اللہ نے تم سے اس کا عہد لیا ہے۔
    اس موقعہ پر حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
    قل للذین کفرواستغلبون وتحشرون الی جھنم وبئس المھاد۔﴿۳آل عمران ع۲ آیت۲۱﴾
    ترجمہ:آپ ان کفر کرنے والوں سے فرما دیجئے کہ عنقریب تم مسلمانوں کے ہاتھ سے مغلوب کئے جائو گے اور آخرت میں جہنم کی طرف جمع کرکے لے جائے جائو گے اور وہ جہنم ہے براٹھکانہ۔
    دوسری آیت حق تعالیٰ نے یہ نازل فرمائی۔
    واماتخافن من قومٍ خیانۃ فانبذ الیھم علی سوآئ ان اللہ لایحب الخائنین﴿الآیہ پ 10 سورۂ انفال ع 7 آیت 57﴾
    ترجمہ:اور اگر آپ کو کسی قوم سے خیانت یعنی عہد شکنی کا اندیشہ ہو تو آپ ان کو وہ عہد اس طرح واپس کر دیجئے کہ آپ اور وہ اس اطلاع میں برابر ہو جائیں،بلاشبہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔
    یہودیہ سنتے ہی مشتعل ہوگئے اور یہ جواب دیا کہ آپ اس غرّہ میں ہرگز نہ رہنا کہ ایک ناواقف اور ناتجربہ کار قوم یعنی قریش سے مقابلہ میں آپ غالب آگئے ۔ واللہ اگر ہم سے مقابلہ ہوتو خوب معلوم ہو جائے گا کہ ہم مرد ہیں۔
    اس پر حق جل وعلانے یہ آیت نازل فرمائی:
    قد کان لکم اٰیۃ فی فئتین التقتا فئۃ تقاتل فی سبیل اللہ وآخری کافرۃ یرونھم مثلیھم رای العین واللہ یؤید بنصرہ من یشائ ان فی ذلک لعبرۃ لاولی الابصار
    تحقیق تمہارے لئے نشانی ہے ان دو جماعتوں میں کہ باہم ایک دوسرے سے لڑی ایک جماعت تو خدا کی راہ میں قتال کرتی تھی اور دوسری جماعت کافروں کی تھی کہ مسلمانوں کو اپنے سے دوچنددیکھتی تھی کھلی آنکھوں سے اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے اپنی امداد سے قوت دیتے ہیں تحقیق اس میں عبرت ہے اہل بصیرت کے لئے۔
    یہود کا محاصرہ۔
    غرض اس دھمکی کے بعد بنی قینقاع کے یہودی وہاں سے جا کر اپنے محلے میں اپنی حویلیوں کے اندر قلعہ بند ہوگئے ،آنحضرت مجاہدین کے ساتھ ان کی سرکوبی کے لئے روانہ ہوئے ،آپ کا پرچم سفید تھا آپ کے چچا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب(رضی اللہ عنہ) کے ہاتھ میں تھا۔
    یہودی علاقے کی طرف کوچ کرتے وقت آنحضرت نے حضرت ابولبابہ(رضی اللہ عنہ) کو مدینے میں اپنا قائم مقام بنایا اور پندرہ دن تک بنی قینقاع کے یہودیوں کا بے انتہا شدید محاصرہ کیا ،کیونکہ آنحضرت نے اس غزوہ کے لئے شوال کی پندرہ تاریخ کو کوچ فرمایا تھا اور ذی قعدہ کے چاند تک وہیں رہے۔
    جلا وطن ہونے کی پیشکش.
    اس شدید محاصرہ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں مسلمانوں کا خوف اور رعب پیدا فرما دیا،بنی قینقاع کے ان یہودیوں میں چار سو جنگ جو تو قلعہ کی حفاظت پر تھے اور تین سو زرہ پوش جاں باز تھے۔
    آخر محاصرہ سے تنگ آکر یہودیوں نے آنحضرت سے درخواست کی کہ اگر آپ ہمارا راستہ چھوڑ دیں تو ہم جلا وطن ہو کر مدینہ سے ہمیشہ کیلئے چلے جانے کو تیار ہیں ،اس کے ساتھ ہی انہوں نے آنحضرت کو پیشکش کی کہ صرف ہماری عورتوں اور بچوں کو ہمارے لئے چھوڑ دیجئے جنہیں ہم اپنے ساتھ لے جائیں اور ہمارا مال ودولت آپ لے لیجئے،یعنی مال میں ہتھیار وغیرہ بھی شامل ہوں گے جو وہ مسلمانوں کو دے جائیں گے۔
    ان کی اس پیشکش سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس باغات اور کھیتی کی زمینیں نہیں تھیں بلکہ ان کا یہ تمام مال ودولت تجارت کے ذریعہ تھایا سودی کاروبار کے ذریعہ تھا جو آج تک یہودیوں کا خاص مشغلہ ہے۔
    یہود کے لئے ابن اُبی کی سفارش. غرض جب بنی قینقاع اپنی حویلیوں سے نکلے تو ایک قول ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ ان لوگوں کی مشکیں باندھ دو،چنانچہ ان کی مشکیں کس دی گئیں اور آنحضرت نے ان لوگوں کو قتل کرنے کا ارادہ فرمایا مگر اسی وقت سردار منافقین عبداللہ ابن ابی ابن سلول جو یہودیوں کا حلیف اور حمایتی تھا آنحضرت کے پاس آیا اور ان لوگوں کی سفارش کرنے لگا اس نے گڑ گڑاتے ہوئے آپ سے عرض کیا:
    اے محمد! میرے ان غلاموں یعنی بے بس دوستوں کے ساتھ اچھا معاملہ کیجئے!۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر بیجا اصرار.
    آنحضرت نے عبداللہ ابن ابی کی بات اَن سنی کرتے ہوئے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا،آنحضرت اس وقت اپنی وہی زرہ پہنے ہوئے تھے جس کا نام ذات الفضول تھا،عبداللہ ابن ابی آنحضرت کی پشت کی طرف سے آیا اور آپ کی زرہ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر یعنی آپ کو پشت کی طرف سے اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر کھڑا ہوگیااور اصرار کرنے لگا ،آپ نے اس کو ڈانٹ کر فرمایا:
    ’’تیرا برا ہو،مجھے چھوڑ دے!‘‘
    اس وقت آنحضرت کو اتنا سخت غصہ آیا کہ اس کی وجہ سے آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا آپ نے پھر فرمایا:تیرا برا ہو مجھے چھوڑ دے۔ اس نے کہا:
    ’’خدا کی قسم اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک آپ میرے غلاموں کیساتھ احسان کرنے کا وعدہ نہیں کرلیں گے،یہ لوگ میرے کنبے والے ہیں اور میں مصیبتوں اور تباہیوں سے بہت ڈرتا ہوں‘‘۔
    یہود کی جان بخشی.
    آخر آنحضرت نے مسلمانوں سے فرمایا:
    ’’ان لوگوں کو چھوڑ دو۔ان لوگوں پر اور ان کے ساتھ اس پر بھی اللہ کی لعنت ہو‘‘۔
    اس طرح آپ نے بنی قینقاع کے یہودیوں کوقتل کرنے کا ارادہ ترک کردیا،پھر آپ نے عبداللہ ابن ابی سے فرمایا:
    ’’انہیں لے جائو۔ اللہ تمہیں ان کے ذریعہ کوئی برکت نہ دے‘‘۔
    بنی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی دعاکا نتیجہ.
    پھر آپ نے حکم دیا کہ ان یہودیوں کو مدینہ سے ہمیشہ کے لئے نکال کر جلا وطن کردیا جائے ان کو جلا وطن کرنے کی ذمہ داری آپ نے حضرت عبادہ(رض) بن صامت کے سپرد فرمائی اور یہودیوں کو مدینے سے نکل جانے کیلئے تین دن کی مہلت دی،چنانچہ یہودی تین دن بعد مدینے کو خیر باد کہہ کر چلے گئے ،اس سے پہلے یہودیوں نے عبادہ بن صامت سے درخواست کی تھی کہ ان کو تین دن کی جو مہلت دی گئی ہے اس میں کچھ اضافہ کردیا جائے،مگر حضرت عبادہ نے کہا کہ نہیں ایک گھنٹے کی مہلت بھی نہیں بڑھائی جا سکتی،پھر عبادہ بن صامت نے اپنی نگرانی میں ان کو جلاوطن کیا یہ لوگ یہاں سے نکل کر ملک شام کی ایک بستی کے میدانوں میں جا بسے۔مگر ایک سال کی مدت بھی نہیں گزری تھی کہ وہ سب کے سب وہیں ہلاک ہوگئے جو آنحضرت کی اس دعا کا اثر تھا جو آپ نے عبداللہ بن ابی کے سامنے کی تھی کہ اللہ تمہیں ان کے ذریعہ کوئی برکت نہ دے۔
    منافقین اور یہود کی باہمی محبت.
    یہودیوں کے مدینے سے جانے سے پہلے ابن ابی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آپ کے مکان پر یہ درخواست لیکر آیا کہ یہودیوں کو معاف کرکے مدینے میں رہنے کی اجازت دی جائے مگر آنحضرت اس سے ملنے کے بجائے اندر تشریف لے گئے ابن ابی نے اندر جانا چاہامگر ایک صحابی نے ہاتھ مارکر اس کو پیچھے دھکیل دیا جس کے نتیجہ میں اس کا منہ دیوار سے ٹکرایا اور زخمی ہوگیا ابن ابی انتہائی غضب ناک ہو کر واپس ہوا،بنی قینقاع کے یہودیوں کوا س کا واقعہ کا پتہ چلا تو وہ بولے۔
    ’’ہم اس شہر میں ہرگز نہیں رہیں گے جس میں ابو حباب یعنی ابن ابی کے ساتھ یہ معاملہ کیا گیا ہے نہ ہی ہم اب اس سے کوئی مدد لیں گے‘‘۔
    اس کے بعد یہودیوں نے مدینہ سے نکلنے کی تیاری شروع کردی۔
    مال فیٔ اور مال غنیمت.
    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے یہودیوں کے مال ودولت پر قبضہ کرکے ان کو مدینے سے نکل جانے کا راستہ دے دیا مال غنیمت میں سے آپ کے لئے پانچواں حصہ نکالا گیا حالانکہ آنحضرت کے لئے اس میں فیٔ کا حق تھا کیونکہ یہ مال جنگ کے بعد حاصل نہیں ہو اتھا نہ ہی لشکروں کا ٹکرائو اور مقابلہ ہوا تھا،بہر حال آپ کو اس میں سے پانچواں حصہ ملا اور باقی چار عدد پانچویں حصے صحابہ میں تقسیم کردیئے گئے اور مال غنیمت لے کر مدینہ منورہ واپس ہوئے۔بدر کے بعد یہ پہلا خمس تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے دست مبارک سے لیا۔
    یہودیوں کے جانے کے بعد آنحضرت کو ان کے مکانوں میں سے بے شمار ہتھیار ملے کیونکہ جیسا کہ بیان ہوابنی قینقاع کے یہودی دوسرے یہودیوں میں سب سے زیادہ مالدار اور سب سے زیادہ بہادر اور جنگ جو لوگ تھے۔
    غنیمت میں سے آنحضرت کا انتخاب.آنحضرت نے ان ہتھیاروں میں سے تین کمانیں لیں،ان کمانوں میں سے ایک کمان کو کتوم یعنی خاموش کہا جاتا تھا کیونکہ جب اس کمان سے تیر چلایا جاتا تھا تو بالکل آواز نہیں پیدا ہوتی تھی ،یہی وہ کمان ہے جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے غزوہ اُحد میں تیر اندازی فرمائی اور جس میں سے تیر اندازی کے وقت چنگاریاں سی نکلتی تھیں۔
    ان میں سے دوسری کمان کا نام روحائ تھا اور تیسری کو بیضائ کہا جاتا تھا ان کے علاوہ آپ نے دوزرہیں لیں جن میں سے ایک زرہ کانام سعدیہ تھا اس زرہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ حضرت دائود علیہ السلام کی تھی اور جب جالوت کو قتل کیا گیا تو اس وقت دائود علیہ السلام یہی زرہ پہنے ہوئے تھے ،دوسری زرہ کانام فضہ تھا جو آپ نے یہودیوں کے ہتھیاروں میں سے اپنے لئے منتخب فرمائی۔
    اس کے علاوہ آپ نے تین نیزے اور تین تلواریں بھی اپنے لئے منتخب فرمائیں ان میں سے ایک تلوار کو قلعی کہا جاتا تھا،دوسری کو بتار کہا جاتا اور تیسری کا کوئی نام نہیں تھا اس تلوار کا نام خود آپ نے صیف رکھا نیز ان میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک زرہ حضرت محمد بن مسلمہ کو اور دوسری حضرت سعد بن معاذ کو ہدیہ فرمائی۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

    تحریروترتیب: مولانا مدثرجمال تونسوی ، فاضل جامعہ دارالعلوم کراچی
    ماخذ:سیرت حلبیہ
     
  2. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: غزوہ بنی قینقاع ...غیرت دینی کا شاہکار

    سبق آموز تحریر کے لیے شکریہ بھائی ۔ جزاک اللہ خیر
     

اس صفحے کو مشتہر کریں