1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

غزوۂ احد

'تاریخِ اسلام : ماضی ، حال اور مستقبل' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏19 جنوری 2019۔

  1. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,118
    موصول پسندیدگیاں:
    9,332
    ملک کا جھنڈا:
    ٧ شوال بروز دو شنبہ ٣ / ہجری میں اُحد پہاڑی کے پاس وہ مشہور جنگ ہوئی، جس کو ”غزوہ ٔ اُحد ”کہتے ہیں۔ جنگ کی قیادت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمائی اور مدینہ منورہ میں اپناخلیفہ حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو منتخب فرمایا۔ اسلام کا جھنڈا حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔جب کہ کفار کی کمانڈ ابوسفیان کے پاس تھی۔

    اس جنگ کی وجہ یہ تھی کہ کفارِ مکہ نے تین ہزار فوج کی جمعیت لے کر غزوۂ بدر کا بدلہ لینے کے لیے مدینہ پر حملہ کیا تھا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی اطلاع سے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی، تو مشورے کے بعد اللہ کے نام پر سات سو مسلمان مقابلے کے لیے نکلے۔ اول اول منافقین کا سردارعبداللہ بن ابیّ بھی تین سو کی فوج لیکر مسلمانوں کے ساتھ چلا، مگر پھر غداری کی اور راستے ہی سے واپس ہوگیا۔ مسلمان بے سروسامانی میں تھے اور کافروں کے پاس سات سو زرہیں، دو سو گھوڑے، تین ہزار اونٹ تھے اور ان کے جوشِ جنگ کی یہ حالت تھی کہ چودہ عورتیں بھی جنگی ترانہ پڑھنے اور لڑنے والوں کو جوش دلانے کے لیے ساتھ آئی تھیں۔ چناں چہ فوجیں ترتیب دی گئیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ پچاس آدمیوں کا اسلامی فوج کی پشت کی طرف اُحد پہاڑی پر بٹھادیا،تا کہ اس طرف سے حملہ نہ ہوسکے۔ آپ نے انھیں وصیت بھی فرمائی تھی کہ جنگ کا جو بھی نتیجہ اور میدان کا جو بھی نقشہ ہو،وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں۔ اول اول مسلمانوں کو فتح ہوئی اور غنیمت کا ما لینا بھی شروع کردیا، جب گھاٹی پر مامور تیر اندازوں نے یہ صورت حال دیکھی تو ان میں اختلاف ِ رائے ہوگیا۔ بعض نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم حالت ِجنگ کے ساتھ خاص تھا۔اب جب فتح ہوچکی، تو ہمیں بھی نئی خدمت یعنی مال غنیمت جمع کرنے میں حصہ لینا چاہیے۔ جب کہ امیر لشکر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ اور بعض دوسرے حضرات کا کہنا تھا کہ نہیں، ہمیں یہی رہنا چاہیے۔ پہلے والے لوگوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی۔کفار نے جب گھاٹی خالی دیکھی تو پلٹ کر حملہ کردیا،امیر سمیت وہاں موجود صحابہ کو شہید کرکے میدان میں پہنچ گئے۔ مسلمانوں کے لیے یہ افتاد غیر متوقع تھی۔ ان کے سنبھلنے تک جنگ کا نقشہ بدل گیا۔ فتح شکست میں تبدیل ہوئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوگئے، آپ کا دندان مبارک شہید ہوگیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک کافر عبداللہ بن قمیہ نے موقع پاکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر تلوار سے حملہ کردیا، جس کی وجہ سے چہرۂ انور میں خَود کی دو کڑیاں گھس گئیں، جن کو ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے اپنے دانتوں سے نکالا، ان کے دو دانت بھی شہید ہوگئے۔ کفار تیر برسا رہے تھے جن کو صحابہ کا ہجوم اپنے اوپر لے رہا تھا۔ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ حملوں کے سامنے کمر کیے ہوئے تھے۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بازوؤں پر تیروں اور تلواروں کے حملے لے رہے تھے۔ آپ کا بازو شل ہوگیا اور ستر زخم بدن مبارک پر آئے۔ یہ سب کچھ ہورہا تھا مگر رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر اب بھی یہی تھا:

    اے اللہ !میری قوم کو ہدایت فرما، وہ مجھے پہچانتے نہیں۔

    اس جنگ میں ستّرمسلمان شہید ہوئے، جن میں علم بردار حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، ان کے بعد جھنڈا حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے سنبھالا۔ بائیس یا تیئیس کفار قتل ہوئے۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں