1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

غزل : ترے وہ عہد و پیماں اور پھر ان سے مکر جانا

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از ًمحمد سعید سعدی, ‏8 اپریل 2018۔

  1. ًمحمد سعید سعدی
    آف لائن

    ًمحمد سعید سعدی ممبر

    شمولیت:
    ‏19 جون 2016
    پیغامات:
    160
    موصول پسندیدگیاں:
    189
    ملک کا جھنڈا:
    ترے وہ عہد و پیماں اور پھر ان سے مکر جانا
    تری لفاظیوں کو ہم نے پھر بھی معتبر جانا

    جہاں میں آج کب کوئی کسی کے ساتھ چلتا ہے
    چلا جو دو قدم ہمراہ ہم نے ہم سفر جانا

    تمہاری سادہ لوحی سے مجھے بس یہ شکایت ہے
    ملا جو راہ زن اسکو بھی تم نے راہبر جانا

    یہ ویرانی، ادھورے خواب ، ملبہ آرزوؤں کا
    دلِ برباد کو اجڑا ہوا ہم نے کھنڈر جانا

    سلیقہ ہم نے سیکھا ایک پروانے سے جینے کا
    اجل کی لو پہ رقصِ زیست کرنا اور مر جانا
     
    پاکستانی55، نعیم اور زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,207
    موصول پسندیدگیاں:
    8,707
    ملک کا جھنڈا:
    عمدہ جناب
     
    ًمحمد سعید سعدی نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    وواہ کیا کہنے۔ بہت خوب
     
    پاکستانی55 اور ًمحمد سعید سعدی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. ًمحمد سعید سعدی
    آف لائن

    ًمحمد سعید سعدی ممبر

    شمولیت:
    ‏19 جون 2016
    پیغامات:
    160
    موصول پسندیدگیاں:
    189
    ملک کا جھنڈا:
    پسندیدگی کا بہت شکریہ
     

اس صفحے کو مشتہر کریں