1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

عید الاضحی اور فلسفہ قربانی ، تحریر : ڈاکٹر محمد طاہر القادری

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏12 اگست 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    418
    موصول پسندیدگیاں:
    114
    ملک کا جھنڈا:
    عید الاضحی اور فلسفہ قربانی ، تحریر : ڈاکٹر محمد طاہر القادری

    اس دن قربانی ادا کی جاتی ہے اور مسلمانانِ عالم کو قربانی کا فریضہ سرانجام دے کر اتنی خوشی نصیب ہوتی ہے کہ سارے سال میں کسی اور دن نہیں ہوتی۔

    بنیادی اہمیت عمل قربانی میں چھپے ہوئے تقویٰ اور حسن نیت کو حاصل ہے

    قربانی عربی زبان کا لفظ ہے۔ جو ’’قرب‘‘ سے مشتق ہے۔ ’’قرب‘‘ کسی چیز کے نزدیک ہونے کو کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس دوری ہے۔ قرب اور دوری دونوں یکجا نہیں ہوسکتے۔ قرب سے قربانی کا لفظ مبالغے کے طور پر واقع ہوا ہے۔

    اس تصور کو کچھ مثالوں سے سمجھا جاسکتا ہے۔ مثلاً ’’قرأت‘‘ کے معنی فقط ’’پڑھنا‘‘ ہے اور قرآن کے معنی اس کتاب کے ہیں جسے بار بار، تواتر اور کثرت سے پڑھا جائے اور اتنا پڑھا جائے کہ قیامت تک اس کا پڑھنا ختم ہی نہ ہو۔ باری تعالیٰ نے کتاب الہٰی کا نام انہیں وجوہ کی بنیاد پر قرآن رکھا ہے کہ کثرت قرات کے اعتبار سے دنیا کی کوئی کتاب اس کے برابر نہیں۔

    دنیا میں دیگر الہامی کتابیں بھی نازل ہوئی ہیں جن میں انجیل، تورات اور دیگر الہامی صحیفے ہیں جو انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوئے مگر کوئی الہامی کتاب، کتاب الہٰی کے طور پر قرآن مجید کا بدل نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود اس کا نام قرآن رکھا ہے تو یہ ممکن ہی نہ تھا کہ کتب سماویہ میں سے کوئی اور کتاب اس سے زیادہ پڑھی جاتی۔

    اسی طرح پیاسے کے لئے عربی زبان میں لفظ ’’عطش‘‘ استعمال ہوتا ہے۔ ’’عطش‘‘ سے عطشان مبالغے کے طور پر واقع ہوا ہے، جس کا مطلب ہے حد سے زیادہ پیاسا۔

    ان مثالوں سے یہ بات واضح کرنا مقصود ہے کہ جب کوئی لفظ ’’فُعْلَان‘‘ (مبالغہ) کے وزن پر آئے تو یہ کثرت کے معنی دینے لگتا ہے۔

    قربانی اور حضرت آدمؑ کے بیٹوں کا ذکر

    نماز میں نیت اور اخلاص کی طرح یہی حال قربانی کے عمل کا ہے قرآن مجید نے اس تناظر میں حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا ذکر کیا ہے۔ اس زمانے میں قربانی کی قبولیت کا ایک طریقہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیا گیا تھا، جس سے فوراً پتہ چل جاتا کہ آیا پیش کردہ قربانی قبول ہوئی ہے یا نہیں۔ وہ یوں کہ قربانی کرکے جانور کو ایک جگہ رکھ دیتے ہیں۔ جس کی قربانی قبول ہونا ہوتی اسے آسمان سے آگ آکر جلادیتی اور جس کی قربانی کو آگ آکر نہ جلاتی اس کے بارے میں یہ سمجھ لیا جاتا تھا کہ وہ قبول نہیں ہوئی۔ یہ ایک معیار تھا جس سے قربانی کی قبولیت یا عدم قبولیت کا پتہ چل جاتا تھا۔ ایک جگہ قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام کے حوالے سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ ان کے پیغام کی حقانیت و صداقت کی یہ دلیل ہوگی کہ وہ قربانی کریں گے اور جس کی قربانی کو آسمانی آگ آکر جلادے گی وہ اللہ کا مقبول بندہ ہوگا اور جو نافرمان ہوگا اس کی قربانی کو آگ نہیں جلائے گی۔

    چنانچہ جب حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل نے قربانی پیش کی تو ایک کی قربانی قبول ہوگئی اور دوسرے کی رہ گئی، جس کی قربانی قبول نہ ہوئی وہ اپنے بھائی سے کہنے لگا۔ لاقتلک کہ ’’میں تجھے قتل کئے بغیر نہ رہوں گا‘‘۔ اس ارادہ قتل کے اظہار کے پیچھے وہ نیت کارفرما تھی جس کی بناء پر ایک بھائی کی قربانی قبول نہ ہوئی تھی۔ حالانکہ کسی کا عمل قربانی قبول ہوگیا اور کسی کا نہ ہوا اس پر کسی کو تعارض کرنے کا کوئی حق نہیں کہ قبول کرنا یا نہ کرنا اللہ کا کام ہے اور اگر کوئی اس بناء پر کسی کے قتل کے درپے ہوتا ہے تو اس قتل کا مطلب یہ ہے کہ اس کے عمل قربانی کے پیچھے اللہ کی رضا اور خوشنودی کا کوئی جذبہ کارفرما نہ تھا بلکہ اس کا محرک ہی کچھ اور تھا جس نے اسے حسد میں مبتلا کردیا تھا۔ وہ جس کی قربانی قبول ہوگئی تھی اپنے بھائی کے منہ سے یہ بات سن کر کہتا ہے تو مجھے کیوں قتل کرنے کے درپے ہوگیا ہے اس میں میرا کیا قصور ہے قربانی کی قبولیت تو من جانب اللہ ہے۔

    ’’اللہ تو صرف ان کی قربانی قبول کرتے ہیں جو متقی ہوتے ہیں‘‘۔(المائدہ،۵:۲۷)

    جن کے دل میں ذاتی ہوس و مفاد، ریاکاری اور نمود و نمائش کا کوئی خیال نہیں ہوتا اور جن کی زندگیاں تقویٰ اور پرہیزگاری کے حسن سے مزین ہوتی ہیں۔ اللہ انہی کی قربانی کو شرفِ قبولیت عطا فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نظر کسی کے ظاہر پر نہیں بلکہ اس کے دل میں چھپی ہوئی نیت پر ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی نظر نہ تو بندوں کی صورتوں کو دیکھتی ہے اور نہ ان کے مال و اموال کو بلکہ ان کے دلوں میں چھپی ہوئی نیتوں کو دیکھتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ کوئی دیکھنے میں خوش شکل اور بھلا لگے، اس کے اعمال بھی دیکھنے میں اچھے لگیں لیکن ان کے اعمال کے پیچھے اچھی نیت کارفرما نہ ہو اور اس کے مقابلے میں ایک شخص بھدا، بدنما، ناقص اور کم تر دکھائی دے لیکن اس کی نیت اور اخلاص کا یہ عالم ہو کہ اس کے اعمال کو قبولیت کے اعلیٰ درجے پر فائز کردیا جائے۔ چنانچہ اس معیار قبولیت کو مد نظر رکھتے ہوئے آدمؑ کے اس بیٹے نے جس کی قربانی قبول ہوئی تھی اپنے بھائی سے کہا

    ’’کہ اگر تم مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ میری طرف بڑھائے پھر بھی جواب میں تیری طرف ارادہ قتل سے ہاتھ نہیں اٹھائوں گا‘‘۔ (المائدہ،۵:۲۸)

    قرآن حسن عمل اور تقویٰ کی تلقین کرتا ہے اور اگر کوئی زیادتی کرتا ہے اور وہ اس زیادتی کا جواب زیادتی سے دینے کی بجائے تحمل، ضبط اور درگزر سے کام لیتا ہے تو اس کے پیچھے یہ جذبہ محرک ہوتا ہے کہ کہیں میرا مولا مجھ سے ناراض نہ ہوجائے تو اس کا یہ عمل اسے تقویٰ کے اعلیٰ درجے پر فائز کردیتا ہے۔ اس سے یہ بات مترشح ہوئی کہ انسانی اعمال میں سے اللہ تعالیٰ انسان کے تقویٰ اور خشیت الہٰی کی کیفیت کو قبول فرماتا ہے اور وہ اعمال محض دکھاوے کے لئے کئے جائیں انہیں شرف قبولیت نہیں بخشتا۔

    اللہ تعالیٰ دل کے تقویٰ کو دیکھتا ہے نہ

    کہ قربانی کی مالیت و جسامت کو

    اللہ تعالیٰ کی بابرکت ذات یہ نہیں دیکھتی کہ وہ جانور جو قربانی کے لئے پیش کئے گئے ان کی مالیت اور جسامت کیا ہے بلکہ وہ قربانی کرنے والے دلوں کی کیفیت پر نگاہ رکھتا ہے۔ کیا یہ تو نہیں کہ قربانی کرنے والے کی نیت کوئی مادی منفعت یا محض نمود و نمائش کا اظہار ہے، اللہ رب العزت کو ایسی قربانی کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ اس قربانی کو قبول کرتا ہے جس کی اساس تقویٰ پر رکھی گئی ہو۔ اسی لئے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا گیا۔

    ’’اللہ کو ہر گز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون مگر اسے تمھاری طرف سے تقویٰ پہنچتا ہے‘‘۔(الحج، ۲۲:۳۷)

    اللہ تعالیٰ کو قربانی کے جانور کے گوشت پوست اور جسامت سے کوئی غرض نہیں اس تک تو صرف وہ تقویٰ پہنچتا ہے جو قربانی کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ وہ تو یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ قربانی کرنے والے میں خوف خدا اورپرہیزگاری کی کیا کیفیت ہے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ

    ’’صدق و اخلاص سے قربان کئے جانے والے جانور کے خون کا پہلا قطرہ جونہی زمین پر گرتا ہے اس قربانی کو بارگاہ الوہیت میں قبول کرلیا جاتا ہے‘‘۔

    وہ تو بندے کی نیت کو دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قربانی سے مقصود گوشت نہیں بلکہ قربانی کے جانور کے حلقوم پر بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر چھری چلادینے کا نام قربانی ہے۔

    قربانی کے گوشت کی تقسیم کا

    طریقہ اور اس میں کارفرما حکمت

    گوشت کی تقسیم کے معاملہ میں اس تقسیم کو ملحوظ رکھنا لازم ہے کہ

    اس کا ایک حصہ غرباء، مساکین میں صدقہ کردیا جاتا ہے۔

    ایک حصہ عزیزوں، رشتہ داروں میں تقسیم کردیا جاتا ہے۔

    تیسرا حصہ ذاتی استعمال کے لئے رکھا جاتا ہے۔

    اگر قربانی خالصتاً صدقہ ہوتا تو اسے سارا کا سارا غریبوں میں تقسیم کرنے کا حکم ہوتا لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے بلکہ یہاں تک اجازت ہے کہ کنبہ کے افراد زیادہ ہوں تو سارے کا سارا گوشت گھر میں رکھا جاسکتا ہے۔ اس لئے قربانی سے مقصود محض گوشت کی تقسیم نہیں بلکہ اس کے پیچھے کارفرما حکمت قربانی کے جانور کا اللہ کے لئے خون بہانا ہے۔ اس طرح عیدالاضحٰی یا عید قربان کا بنیادی فلسفہ اللہ کی رضا کا حصول ہے جس کے لئے قربانی کی جاتی ہے اور اس میں حسن نیت اور اخلاص کا ہونا بنیادی شرط ہے۔

    حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ قربانی کا عمل اگرچہ قلیل تر ہی کیوں نہ ہو۔ صدق و اخلاص سے کیا جائے تو قبولیت کو پہنچتا ہے اور اگر یہ عمل صدق و اخلاص اور للھیت سے خالی ہو تو قربانی کے چاہے پہاڑ کی طرح انبار لگادیئے جائیں بارگاہ الہٰی میں ان کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔

    قربانی میں تقویٰ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے اس بات کی طرف بندے کی توجہ مبذول کرائی گئی ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ قربانی کے عمل کو اعزہ و اقرباء اور محلہ داروں میں اپنی حیثیت کا رعب جمانے اور اپنی بڑائی کا تاثر قائم کرنے کے لئے بروئے کار لاسکتا ہے۔ اللہ کے ہاں کوئی بڑا نہیں، سب انسان برابری کی سطح پر ہیں۔ عین ممکن ہے خدا کے ہاں کوئی خرقہ پوش فقیر زیادہ قدر ومنزلت کا حامل ہو۔ ایسے بھی اللہ کے بندے ہیں جو نان شبینہ کے محتاج ہیں لیکن ان کا دل چاہتا ہے کہ کاش ہمارے پاس اتنے وسائل ہوتے تو ہم اللہ کی راہ میں قربانیوں پر قربانیاں کرتے چلے جاتے۔ ممکن ہے کہ انہیں قربانی نہ کرنے کے باوجود محض حسن نیت کا اتنا ثواب مل جائے جو ریاکاری کی قربانی والے کو کبھی میسر نہ ہو۔

    قرآن میں شعائر اللہ کی تعظیم کا بیان

    حسن نیت اور تقویٰ و اخلاص کے باب میں قرآن حکیم نے یوں ارشاد فرمایا:

    ’’اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے‘‘۔ (الحج، ۲۲:۳۲)

    اس آیہ کریمہ میں تقویٰ کو دل کی کیفیت قرار دیا گیا ہے۔ قربانی کرنا تو دور کی بات ہے اللہ تبارک و تعالیٰ نے قربانی کے جانوروں کو بھی شعائر اللہ یعنی اللہ کی نشانیوں سے تعبیر کیا ہے۔ کیونکہ ان کو ذبح کرنے سے ان کی نسبت اللہ کی طرف ہوجاتی ہے۔ یہ اونٹ اور دوسرے جانور جنہیں قربانی کے لئے ذبح کیا جاتا ہے، اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں اور اس سے پہلے والی آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ ان کی تعظیم کرنے والوں کا شمار اللہ کی بارگاہ میںان لوگوں میں ہوگا جن کے دل تقویٰ سے بہرہ مند ہوچکے ہیں۔

    قربانی کے آداب اور سنت محمدیہ ﷺ

    تمام احکام اللہ جو قرآن مجید میں قربانی کے ذیل میں بیان ہوئے ہیں ان میں بنیادی اہمیت عمل قربانی میں چھپے ہوئے تقویٰ اور حسن نیت کو حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ نے اس بارے میں جو سنت اختیار فرمائی ہے اس کے مطابق قربانی کا عمل اس وقت تقویٰ قلوب کے کمال کو نہیںپہنچ سکتا جب تک قربانی کو اپنے ہاتھ سے نہ کیا جائے۔ اپنے ہاتھ سے جانور کو ذبح کرنے سے خون گرانے کا عمل جو قربانی کی روح ہے پورا ہوسکے گا۔ اس لئے حضور ﷺ کی سنت مبارکہ یہی رہی کہ جانور کی قربانی اپنے ہاتھ سے کرتے اور یہ آپ کا زندگی بھر معمول رہا۔ آپ رحمۃ للعالمینﷺ تھے اور جانور کو ادنیٰ سی تکلیف بھی برداشت نہ کرتے تھے لیکن قربانی ہمیشہ اپنے ہاتھ سے کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔

    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضورؐ نے قربانی کا بکرا منگوایا اور مجھے فرمایا کہ عائشہ (رضی اللہ عنہا) چھری لے آئیں،آپ ﷺنے چھری کو دیکھ کر فرمایا کہ اسے پتھر پر اچھی طرح تیز کرکے لے آئو۔ میں نے آپ ﷺکے ارشاد کی تعمیل میں ایسے ہی کیا تو آپﷺ نے اس چھری سے قربانی کا جانور ذبح فرمایا، حضور ﷺ کے اس عمل میں قصابوں اور دیگر قربانی کرنے والوں کے لئے انتباہ​
     
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    418
    موصول پسندیدگیاں:
    114
    ملک کا جھنڈا:
    ہے کہ وہ قربانی کے جانور کو تیز چھری سے ذبح کریں تاکہ اسے حتی المقدور کم سے کم تکلیف ہو۔

    حضرت عائشہؓ حضور ﷺ کا طریقہ قربانی بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ آپ نے قربانی کا جانور خود زمین پر گرایا اور اسے قبلہ رو کرکے چھری سے ذبح کیا تاکہ جب اس کا خون نکلے تو خون کے دھار کا رخ جانب قبلہ ہو۔ حضور ﷺ نے اپنا قدم مبارک جانور کے پہلو پر رکھا اور ذبح کرتے ہوئے بسم اللہ اللہ اکبر کہا اور یہ کلمات ادا فرمائے۔

    ’’اے اللہ قبول کر محمد(ﷺ) کی طرف سے، آل محمد (ﷺ)کی طرف سے، امت محمدی (ﷺ)کی طرف سے پھر آپ نے قربانی کی‘‘۔(صحیح مسلم، ۲:۱۵۶ کتاب الاضاحی)

    اس پر محدثین کرام اور فقیہان دین کا کہنا ہے کہ اس طرح حضورؐ نے اپنی پوری امت کو قربانی کے ثواب میں شامل کرلیا۔ آپؐ وہ سراپا رحمت نبی ؐہیں کہ عمل قربانی کے دائرے میں بھی چاہتے ہیں کہ ان کے سارے امتی شریک ہوجائیں۔ ایک حدیث مبارکہ میں ذبح کرتے وقت آپؐ سے یہ الفاظ منسوب فرمائے گئے ہیں۔

    ’’یہ میری طرف سے، میری آل کی طرف سے اور میری امت کی طرف سے ہے‘‘۔(حاشیہ صحیح مسلم ۲:۱۵۶)

    آپ ﷺ نے فرمایا باری تعالیٰ یہ قربانی میری طرف سے ہے اور یہ قربانی میرے ان امتیوں کی طرف سے ہے جو افلاس کی وجہ سے قربانی نہیں کرسکتے۔ہمیں بھی قربانی کرتے وقت نبی کریمؐ کو اس میں شریک کرنا چاہئے اور یہ محبت کا تقاضا بھی ہے۔​
     
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    130,530
    موصول پسندیدگیاں:
    16,540
    ملک کا جھنڈا:
    :jazakallah:
     
    intelligent086 نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    418
    موصول پسندیدگیاں:
    114
    ملک کا جھنڈا:
    پسند ، رائے اور حوصلہ افزائی کا شکریہ
    جزاک اللہ خیراً کثیرا​
     
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    130,530
    موصول پسندیدگیاں:
    16,540
    ملک کا جھنڈا:
    سلامت رہیں آپ کے تمام مضامین عمدہ اور معلومات سے مزین ہیں
     
    intelligent086 نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں