1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

عورت کی آزادی کس قیمت پر

'گوشہء خواتین' میں موضوعات آغاز کردہ از مسلم پاور, ‏20 اپریل 2009۔

  1. مسلم پاور
    آف لائن

    مسلم پاور ممبر

    شمولیت:
    ‏3 اپریل 2009
    پیغامات:
    19
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    عورت کی آزادی مگر کس قیمت پر؟

    1792 میں انگلستان کی ایک خاتون " میری واس اسٹون کرافٹ" نے ایک کتاب لکھی جس میں آزادیء نسوان کے نام پر مطالبہ کیا گیا کہ عورتوں کو بھی مردوں کی طرح آزادی دی جاۓ، انہیں گھر میں قید کرنے کے بجاۓ مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کی اجازت دی جاۓ۔ اس سے قبل یورپ میں بھی حیا موجود تھی، بہرحال مردوں پر مشتمل حکومت نے اسٹون کرافٹ کےمطالبے کو دل و جان سے تسلیم کرتے ھوۓ عورتوں کو زیادہ سے زیادہ آزادی دینا شروع کر دی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وھاں پر خاندانی نظام ختم ھوگیا، اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا۔

    آج مادی وسائل کے اعتبار سے اہل مغرب دنیا میں پہلے نمبر پر ھونے کے باوجودسکون جیسی دولت سے محروم مشینی انسان بن چکے ھیں ۔ جس کا مقصد ہفتہ بھر پیسے کمانا اور ویک اینڈ پر اسے بھر پور عاشی میں صرف کر دینا ھے۔ وھی بریطانیہ جہاں 1792 میں آزادی نسواں کی تحریک چلی تھی ۔ وھاں کی عورتیں آج اس آزادی سے تنگ آچکی ھیں۔ چند سال قبل ایک سروے کیا گیا جس میں عورتوں سے پوچھا گیا کہ آپ واپس گھر جانا چاھتی ھیں یا سی طرح "آزاد" رہ کر کام کرنا چاھتی ھیں تو 98 فیصد عورتوں نے جواب دیا کہ ھم واپس "گھر" جانا چاھتے ھیں ، لیکن ھمیں خاندان نھیں ملتے۔ باپ نھیں ملتے، بھائی نھیں ملتے جو ھماری حفاظت کر سکیں۔ لہذا آج یورپ کی عورت چاہنے کے باوجود گھر واپس نھیں جاسکتی۔ حیرت انگیز بات ھے مغرب کی عورت کے انجام سے عبرت حاصل کے کے بجاۓ مشرق کی عورت گھر سے باہر نکلنے کے لۓ بے چین ھے۔

    ایک جماعت تبلیغ کے لۓ انگلینڈ گئی۔۔۔ ایک انگریز لڑکی نے مسجد میں مغرب کی نماز پڑھ کر نکلنے والے ایک نوجوان سے پوچھا۔
    "انگلش آتی ھے؟۔"
    اس نے کہا " ہاں آتی ھے"
    لڑکی نے پوچھا " یہ تم نے کیا کیا ہے؟"
    اس نے جواب دیا " ہم نے اپنی عبادت کی ہے"
    لڑکی نے کہا " آج تو اتوار نہیں ہے؟"
    نماز پڑھنے والے نے کہا " ہم دن میں پانچ مرتبہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔"
    وہ کہنے لگی " یہ تو بہت زیادہ ہے"
    پھر نوجوان نے اسے دین کے حوالے سے بات سمجھائی ۔ کہنے لگی " اچھا ٹھیک ہے" پھر ہاتھ ملانے کے لۓ آگے بڑھایا تو اس نوجوان نے کہا " میں اپنا ہاتھ آپ کو نہیں لگا سکتا" اس نے حیرت سے پوچھا " کیوں؟" تو نوجوان نے جواب دیا " یہ ہاتھ میری بیوی کی امانت ہے، صرف اسے چھوسکتا ہے۔ اس کے سوا کسی اور کو نہی چھو سکتا"۔ اس لڑکی کی چیخ نکل گئ اور روتی ہوئی زمین پر گر گئی، کہنے لگی " کتنی خوش نصیب ہے وہ عورت جس کے آپ شوہر ہیں ۔۔ کاش یورپ کے مرد بھی ایسے ہوتے!"۔۔
    آج دنیا بھر میں آزادی نسوان کا فریب دے کر عورت کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ اس پر ہر زمہ داری ڈال دی گئی ہے۔ ملازمت بھی کرے، کام بھی کرے ۔ وہ اپنے گھر کی جن ذمہ داریوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی تھی ان سے تو جان نہ چھوٹ سکی البتہ ذمہ داریاں مزید بڑھ گئیں۔ گھر میں کچن کے کاموں سے تنگ تھی، باہر نکلی تو جہازوں، ہوٹلوں میں ایئر ہوسٹس ، ویٹرس بن گئی۔ شوہر کی تابعدار رہنا اپنی شان کے خلاف سمجھتی تھی اب دفتر میں اپنے باس کو یس سر ، یس سر کہتے تھکتی نہیں ۔ اپنے بچے پالنے ، ان کے پتڑے دھونے کو دقیانوسیت سمجھتی تھی اب بے بی ڈے کیئر سینٹر میں صبح و شام یہی کام کرتی ہے۔ شوہر کی خدمت کرنے اور اس کے لۓ لبوں پر تبسم سجانے میں توہین محسوس کرتی تھی ۔ اب شاپ پر سیلز گرل بن کر ہر لمحہ مسکراہٹیں بکھیرتی رہتی ہیں ۔ گھر میں شوہر کی ڈانٹ ڈبٹ کو عورت کی توہین سمجھتی تھی اب دفتر میں بلا قصور ڈانٹ کھا کر بھی سوری کہہ کر خاموش ہوجاتی ہے۔ اور ان سب " قربانیوں" کے باوجود اس کی معاشرے میں حیثیت کیا ہے؟۔۔۔ فقط ایک کھلونا، ایک شو پیس۔۔ خالق کائنات نے مرد وعورت کو جسمانی ساخت ، قوت اور عقل سمیت ہر لحاظ سے انفرادیت بخشی ہے، عورت کو نرم و نازک اور کمزور بنایا کیوں کہ اس نے بڑی بڑی مشینیں ، جہاز اور ٹرینیں نہیں چلانی، اس نے عمارتیں تعمیر نہیں کرنی ۔ اللہ تعالی نے عورت کو عقل اس کی ضرورت کے مطابق دی ، کیوں کہ اس سے کاروبار نہی کرنا ، حکومت نہیں چلانی ۔ دشمن کے خلاف جنگی تدابیر نہیں اختیار کرنی۔ اس کے فرائض گھر تک محدود ہیں ۔ اس نے گھر پر کھانا پکانا اور گھر کے تمام کام کرنا ہے۔ اس نے بچوں کی پرورش و تربیت کرنی ہے۔ لہذا اللہ نے اسے اتنی عقل سے نوازا ہے کہ وہ بچے کے رونے سے سمجھ جاتی ہے کہ وہ بھوکا ہے، اسے سردی یا گرمی لگ رہی ہے، اس کے پیٹ میں درد ہے۔ اسی طرح وہ یہ بھی یاد رکھے ھوۓ ہے کہ کھانے میں کونسے مصالحے کتنی مقدار میں ڈالنے ہیں، کتنی دیر تک پکانا ہے اور کتنے لوگوں کے لۓ کس قدر کھانا کافی ہوگا ۔ الغرض گھر کا نظام چلانے کے لۓ جتنی عقل ، طاقت ، ہمت ، تحمل اور صلاحیت کی ضرورت ہے وہ رب کائنات نے اسے عطا فرما دی ہے ۔ جس میں مرد اس کی برابری نہیں کر سکتا،

    آج باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت ہمارے ذہنوں میں یہ بٹھایا جارہا ہے کہ جب تک یہاں کی عورتیں باہر نہیں نکلیں گی ، انہیں ہر طرح کی آزادی نہی دی جاۓ گی، اس وقت تک یہ معاشرہ " ترقی یافتہ " نہیں بن سکتا ۔ عورتوں کو بھی ورغلایا جاہا ہے کہ کب تک گاۓ بکری کی طرح ایک کھونٹنے سے بندھی گھر میں میں قید رہوگی۔ کب تک مرد کی محکوم رہوگیَ؟ اس پسماندہ طرز زندگی سے نجات ھاصل کر کے اس دنیا کے ساتھ چلو۔ مرد کے شانہ بشانہ چلو، ہر میدان میں ترقی کر کے یہ ثابت کر دو کہ عورتیں کسی طور پر بھی مردوں سے کم نہیں ہیں ۔۔۔

    آپ کیا سوچتے ہیں اس تحریر کو پڑھ کر ۔ اپنی سنہری راۓ کو ضرور دیجۓ گا تاکہ اوروں کو آپ کی راۓ پڑھ کر فائدہ ہو۔
     
  2. زاہرا
    آف لائن

    زاہرا ---------------

    شمولیت:
    ‏17 نومبر 2006
    پیغامات:
    4,208
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    السلام علیکم۔ مسلم پاور بھائی ۔
    بہت اچھی اور اثر آفرین تحریر ہے۔ :mashallah:
     
  3. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    37
    اس خوبصورت شئیرنگ کا شکریہ

    میرے خیال میں خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا چاہیئے اگر ان کی گھریلو زندگی اس سے متاثر نہ ہو ، اور بچوں پہ اس کا برا اثر نہ پڑ رہا ہو کہ وہ ماں کی کمی محسوس کریں اس کے کام کرنے کی وجہ سے
     
  4. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,088
    موصول پسندیدگیاں:
    11,128
    ملک کا جھنڈا:
    السلام علیکم۔ مسلم پاور بھائی ۔
    اچھی تحریر ہے۔
    البتہ میں ذاتی طور پر باصلاحیت عورت کو معاشرے کی ترقی میں اپنا بھرپور متوازن کردار ادا کرنے کا حامی ہوں۔
     
  5. مسلم پاور
    آف لائن

    مسلم پاور ممبر

    شمولیت:
    ‏3 اپریل 2009
    پیغامات:
    19
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    مگر مڈل کلاس عورت کے کام کرنے کو برا سمجھتی ہے،
    جہاں تک میرا ذاتی کیال ہے
    میں عورت کو باہر کام کرنے کو برا سمجھتا ہون،اللہ نے مجھے اتنی طاقت دی ہے کہ میں اپنی بہن
    اپنی بیٹی اپنی بیوی ماں کو گھر بیٹھا کر کھلا سکتا ہون۔عورت کو باہر نکالنے سے سوایے فتنہ سے کچھ نی ملتا
    ہر انسان کی اپنی اپنی راے ہوتی ہے
     
  6. مسز مرزا
    آف لائن

    مسز مرزا ممبر

    شمولیت:
    ‏11 مارچ 2007
    پیغامات:
    5,466
    موصول پسندیدگیاں:
    22
    ایک حد تک شائد یہ تحریر صحیح ہو لیکن یقین جانیئے آپ جس معاشرے کا ذکر کر رہے ہیں میں اسی کا ایک حصہ ہوں اور پچھلے دنوں کچھ بچوں کو میں نے اپنی کیئر میں رکھ کے دیکھا کہ ان کی مایئں انہیں صبح میرے پاس چھوڑنے سے پہلے کتنی دیر تک اپنے سینے کے ساتھ لگائے رکھتی تھیں۔میں نے ان کی آنکھوں میں وہ سب آنسو دیکھے اور محسوس کیئے ہیں جب بچوں کو لینے آتی تھیں تو مزید آدھا گھنٹہ رک کر مجھ سے بہانے بہانے سے سارے دن کی تفصیلات پوچھتی تھیں۔ روتے ہوئے مجھے کہتی تھیں کہ ہم وہ سارا وقت مس کر دیتے ہیں جو ہمارا بچہ تمھارے پاس گزارتا ہے۔ کاش ہم وہ وقت واپس لا سکیں!!!
    میں نے یہاں ہر قسم کی عورت اور ماں دیکھی ہے۔۔۔۔میں نے یہاں کی ماں اور ایک پاکستانی ماں کے درمیان موازنہ کر کے دیکھا تو مجھے ان کی اپنے بچوں کے لیئے محبت میں ذرا سا بھی فرق نظر نہیں آیا۔۔۔۔۔۔یہاں کے اصول اور قاعدے ہی ایسے ہیں کہ زیادہ تر دونوں ماں باپ کو بچوں کا خرچہ اٹھانے کے لیئے کام کرنا پڑتا ہے۔
    میں نے کچھ مایئں دیکھی ہیں جنہیں اپنے بچوں کی پرواہ نہیں لیکن پاکستان میں بھی ایسی کئی مایئں ہیں جو اپنے بچوں کو کوڑے کے ڈھیر پہ پھینک آتی ہیں!!!
    غور سے دیکھا جائے تو ایک ماں بس ماں ہوتی ہے!!!
    ایک بیوی اگر زبردستی اسے شادی کے بندھن میں نہیں باندھا گیا تو شوہر کے لیئے ہر قربانی دیتی ہے!!! :happy:
     
  7. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,088
    موصول پسندیدگیاں:
    11,128
    ملک کا جھنڈا:
    مگر مڈل کلاس عورت کے کام کرنے کو برا سمجھتی ہے،
    جہاں تک میرا ذاتی کیال ہے
    میں عورت کو باہر کام کرنے کو برا سمجھتا ہون،اللہ نے مجھے اتنی طاقت دی ہے کہ میں اپنی بہن
    اپنی بیٹی اپنی بیوی ماں کو گھر بیٹھا کر کھلا سکتا ہون۔عورت کو باہر نکالنے سے سوایے فتنہ سے کچھ نی ملتا
    ہر انسان کی اپنی اپنی راے ہوتی ہے[/quote:21b01y2q]
    السلام علیکم۔
    درست فرمایا مسلم پاور بھائی ۔ ہر انسان کی اپنی رائے ہوتی ہے۔
    لیکن بطور مسلمان ہمیں آقا کریم :saw: کے اسوہء حسنہ سے روشنی حاصل کرنے کو اپنی رائے پر مقدم بھی تو قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے جہاں اسلام کی واضح راہنمائی اور گنجائش موجود ہو وہاں کم از کم میری رائے تو ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔

    والسلام
     
  8. بےباک
    آف لائن

    بےباک ممبر

    شمولیت:
    ‏19 فروری 2009
    پیغامات:
    2,484
    موصول پسندیدگیاں:
    17
    ٹھیک کہا نعیم بھائی
     
  9. بےلگام
    آف لائن

    بےلگام مہمان

    بےلگام جی یہ مسلم چیکو ہے یاد رکھنا اس کو آپ کا دوست :201: :201: :201: :201: :201: :201:
     
  10. مسز مرزا
    آف لائن

    مسز مرزا ممبر

    شمولیت:
    ‏11 مارچ 2007
    پیغامات:
    5,466
    موصول پسندیدگیاں:
    22
    مرزا عادل کو اتنی خراب اردو لکھنے کی آزادی کہاں سے ملی ہے؟ :nose:
     
  11. بےلگام
    آف لائن

    بےلگام مہمان

    مرزا عادل کو اتنی خراب اردو لکھنے کی آزادی کہاں سے ملی ہے؟ :nose:[/quote:3mq73fx1]


    اس میں کیا خراب ہیں مسز جی
     
  12. مسز مرزا
    آف لائن

    مسز مرزا ممبر

    شمولیت:
    ‏11 مارچ 2007
    پیغامات:
    5,466
    موصول پسندیدگیاں:
    22
    خرابییییییییییییی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ :soch: آپ نے کھڑے کھڑے بھولے بھالے سے بے باک بھیا کو بے لگام بنا دیا ۔۔۔۔یہ تو سراسر زیادتی ہے :hathora:
     
  13. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    37
    کوئی عورت شوق سے گھر سے باہر نہیں نکلتی پاکستان کی عورت تو خاص طور پہ نہیں بلکہ کئی خواتین تو ایسی ہوتی ھیں جنہیں مجبورا نوکری کرنی پڑتی ھے اور جاب کرنے والی عورت آزاد ہوتی ھے یہ سمجھنا سب سے بڑی جہالت ھے
     
  14. بےلگام
    آف لائن

    بےلگام مہمان


    بہت خوب جواب تو بڑا ہے لیکن میں ہی چپ رہتا ہوں
    :pagal: :pagal: :pagal:
    وہ بےلگام ہی ہیں مسز جی ان سے پتہ کرلو
     
  15. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    37
    چپ رہنے کا شکریہ
     
  16. بےلگام
    آف لائن

    بےلگام مہمان

    کس کا جی
     
  17. بےلگام
    آف لائن

    بےلگام مہمان

    عورت اقبال کی نظر مین

    علامہ اقبال کا نظریہ


    عورت کے بارے میں اقبال کا نظریہ بالکل اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے وہ عورت کے لئے وہی طرز زندگی پسند کرتے ہیں جو اسلام کے ابتدائی دور میں تھا کہ مروجہ برقعے کے بغیر بھی وہ شرعی پردے کے اہتمام اور شرم و حیا اور عفت و عصمت کے پورے احساس کے ساتھ زندگی کی تما م سرگرمیوں میں پوری طرح حصہ لیتی ہیں۔ اس لئے طرابلس کی جنگ میں ایک لڑکی فاطمہ بنت عبداللہ غازیوں کو پانی پلاتے ہوئے شہید ہوگئی تو اس واقعہ سے وہ اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اسی لڑکی کے نام کوہی عنوان بنا کر اپنی مشہو ر نظم لکھی ۔




    فاطمہ! تو آبرو ئے ملت مرحوم ہے

    ذرہ ذرہ تیری مشتِ خاک کا معصوم ہے

    یہ جہاد اللہ کے رستے میں بے تیغ و سپر!

    ہے جسارت آفریں شوق شہادت کس قدر!

    یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی



    ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھیاقبال کی نظر میں عورت کا ایک مخصوص دائرہ کار ہے۔ اور اسی کے باہر نکل کر اگر وہ ٹائپسٹ ، کلرک اور اسی قسم کے کاموں میں مصروف ہو گی تو اپنے فرائض کو ادا نہیں کرسکے گی۔ اور اسی طرح انسانی معاشرہ درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ البتہ اپنے دائرہ کار میں اسے شرعی پردہ کے اہتمام کے ساتھ بھی اسی طریقہ سے زندگی گزارنی چاہیے کہ معاشرہ پر اس کے نیک اثرات مرتب ہوں اور اس کے پرتو سے حریم ِ کائنات اس طرح روشن ہو جس طرح ذاتِ باری تعالی کی تجلی حجاب کے باوجود کائنات پر پڑ رہی ہے



    مرد کی برتری


    اس سلسلہ میں ڈاکٹر یوسف حسین خان”روح اقبال “ میں لکھتے ہیں ۔ ” اقبال کہتا ہے کہ عورت کو بھی وہی انسانی حقوق حاصل ہیں جو مرد کو لیکن دونوں کا دائرہ عمل الگ الگ ہے دونوں اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ تعاون عمل کرکے تمدن کی خدمت انجام دے سکتے ہیں۔ وہ (اقبال ) مرد اور عورت کی مکمل مساوات کا قائل نہ تھا۔“


    عورت پر مرد کی برتری کی وجہ اقبال کی نظر میں وہی ہے جو اسلام نے بتائی ہے کہ عورت کا دائرہ کار مرد کی نسبت مختلف ہے اس لحاظ سے ان کے درمیان مکمل مساوات کا نظریہ درست نہیں۔ اس عدم مساوات کا فائدہ بھی بالواسطہ طور پر عورت کو ہی پہنچتا ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری مرد پر آتی ہے۔



    اک زندہ حقیقت مرے سینے میں ہے مستور

    کیا سمجھے گا وہ جس کی رگو ں میں ہے لہو سرد

    نے پردہ ، نہ تعلیم ، نئی ہو کہ پرانی

    نسوانیت زن کا نگہبان ہے فقط مرد

    جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا

    اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد



    یہی احتیاج اور کمزوری و ہ نکتہ ہے جس کے باعث مر د کو عورت پر کسی قدر برتری حاصل ہے اور یہ تقاضائے فطرت ہے۔ اس کے خلاف عمل کرنے سے معاشرے میں انتشار لازم آتا ہے۔



    پردہ

    اقبال عورت کے لئے پردہ کے حامی ہیں کیونکہ شرعی پردہ عورت کے کسی سرگرمی میں حائل نہیں ہوتا۔ بلکہ اس میں ایک عورت زندگی کی ہر سرگرمی میں حصہ لے سکتی ہے اور لیتی رہی ہے اسلام میں پردہ کا معیار مروجہ برقعہ ہر گز نہیں ہے اسی برقعہ کے بارے میں کسی شاعر نے بڑ ا اچھا شعر کہا ہے۔



    بے حجابی یہ کہ ہر شے سے ہے جلوہ آشکار

    اس پہ پردہ یہ کہ صورت آج تک نادید ہے



    بلکہ اصل پردہ وہ بے حجابی اور نمود و نمائش سے پرہیز اور شرم و حیا کے مکمل احساس کا نام ہے اور یہ پردہ عورت کے لئے اپنے دائرہ کا ر میں کسی سرگرمی کی رکاوٹ نہیں بنتا ۔ اقبال کی نظر میں اصل بات یہ ہے کہ آدمی کی شخصیت اور حقیقت ذات پر پردہ نہ پڑا ہو اور اس کی خودی آشکار ہو چکی ہو۔



    بہت رنگ بدلے سپہر بریں نے

    خُدایا یہ دنیا جہاں تھی وہیں ہے

    تفاوت نہ دیکھا زن و شو میں ، میں نے

    وہ خلوت نشیں ہے! یہ خلوت نشیں ہے!

    ابھی تک ہے پردے میں اولاد آدم

    کسی کی خودی آشکارا نہیں ہے



    اس بارے میں پروفیسر عزیز احمد اپنی کتاب ”اقبال نئی تشکیل “ میں لکھتے ہیں۔ ” اقبال کے نزدیک عورت اور مرد دونوں مل کر کائنات عشق کی تخلیق کرتے ہیں عورت زندگی کی آگ کی خازن ہے وہ انسانیت کی آگ میں اپنے آپ کو جھونکتی ہے۔ اور اس آگ کی تپش سے ارتقاءپزیر انسان پیدا ہوتے ہیں۔۔۔۔ اقبال کے نزدیک عورت کو خلوت کی ضرورت ہے اور مرد کو جلوت کی۔“



    یہی وجہ ہے کہ اقبال ، عورت کی بے پردگی کے خلاف ہیں ان کے خیال میں پرد ہ میں رہ کر ہی عورت کو اپنی ذات کے امکانات کو سمجھنے کا موقعہ ملتا ہے۔ گھر کے ماحول میں وہ سماجی خرابیوں سے محفوظ رہ کر خاندان کی تعمیر کا فرض ادا کرتی ہے ۔ جو معاشرہ کی بنیادی اکائی ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ اپنے گھر میں وہ یکسوئی کے ساتھ آئند ہ نسل کی تربیت کا اہم فریضہ انجام دیتی ہے اس کے برخلاف جب پردے سے باہر آجاتی ہے تو زیب و زینت ، نمائش ، بے باکی، بے حیائی اور ذہنی پراگندگی کا شکار ہو جاتی ہے چنانچہ یہ فطری اصول ہے کہ عورت کے ذاتی جوہر خلوت میں کھلتے ہیں جلوت میں نہیں۔ ”خلوت“ کے عنوان سے ایک نظم میں اقبال نے کہا ہے۔



    رسوا کیا اس دور کو جلوت کی ہوس نے

    روشن ہے نگہ آئنہ دل ہے مکدر

    بڑھ جاتا ہے جب ذوق نظر اپنی حدوں سے

    ہو جاتے ہیں افکار پراگندہ و ابتر

    آغوش صدف جس کے نصیبوں میں نہیں ہے

    وہ قطرہ نیساں کبھی بنتا نہیں گوہر

    خلوت میں خودی ہوتی ہے خود گیر و لیکن

    خلوت نہیں اب دیر و حرم میں بھی میسر!



    عورتوں کی تعلیم


    اقبال عورت کے لئے تعلیم کو ضروری سمجھتے ہیں لیکن اس تعلیم کا نصاب ایسا ہونا چاہیے جو عورت کو اس کے فرائض اور اس کی صلاحیتوں سے آگاہ کرے اور اس کی بنیاد دین کے عالمگیر اُصولوں پر ہونی چاہیے۔ صرف دنیاوی تعلیم اور اسی قسم کی تعلیم جو عورت کو نام نہاد آزادی کی جانب راغت کرتی ہو۔ بھیانک نتائج کی حامل ہوگی۔


    تہذیب فرنگی ہے اگر مرگ امومت

    ہے حضرت انسان کے لئے اس کا ثمرموت

    جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن

    کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت

    بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسہ زن

    ہے عشق و محبت کے لئے علم و ہنر موت



    اقبال کے خیال میں اگر علم و ہنر کے میدان میں کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکے تو اس کا مرتبہ کم نہیں ہو جاتا ۔ اس کے لئے یہ شرف ہی بہت بڑا ہے کہ زندگی کے ہر میدان میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے مشاہیر اس کی گود میں پروان چڑھتے ہیں اور دنیا کا کوئی انسان نہیں جو اس کا ممنونِ احسان نہ ہو۔



    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز ِ دروں

    شرف میں بڑھ کر ثریا سے مشت خا ک اس کی

    کہ ہر شرف ہے اسی درج کادر مکنوں!

    مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن!

    اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں



    آزادی نسواں



    اقبال اگرچہ عورتوں کے لئے صحیح تعلیم ، ان کی حقیقی آزادی اور ان کی ترقی کے خواہاں ہیں۔ لیکن آزادی نسواں کے مغربی تصور کو قبول کرنے کے لئے وہ تیار نہیں ہیں اس آزادی سے ان کی نظر میں عورتوں کی مشکلات آسان نہیں بلکہ اور پیچیدہ ہو جائیں گی ۔ اور اس طرح یہ تحریک عورت کو آزاد نہیں بلکہ بے شمار مسائل کا غلام بنا دے گی۔ ثبوت کے طور پر مغربی معاشرہ کی مثال کو وہ سامنے رکھتے ہےں جس نے عورت کو بے بنیاد آزادی دے دی تھی تو اب وہ اس کے لئے درد ِ سر کا باعث بنی ہوئی ہے۔ کہ مرد و زن کا رشتہ بھی کٹ کر رہ گیا ہے۔



    ہزار بار حکیموں نے اس کو سلجھایا!

    مگر یہ مسئلہ زن رہا وہیں کا وہیں

    قصور زن کا نہیں ہے کچھ اس خرابی میں

    گواہ اس کی شرافت پہ ہیں مہ پرویں

    فساد کا ہے فرنگی معاشرت میں ظہور!

    کہ مرد سادہ ہے بےچارہ زن شناس نہیں



    اقبال کی نظر میں آزادی نسواں یا آزادی رجال کے نعرے کوئی معنی نہیں رکھتے بلکہ انتہائی گمراہ کن ہیں۔ کیونکہ عورت اور مرد دونوں کو مل کر زندگی کا بوجھ اُٹھانا ہوتا ہے۔ اور زندگی کو آگے بڑھانے اور سنوارنے کے لئے دونوں کے باہمی تعاون ربط اور ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے دونوں کے کامل تعاون کے بغیر زندگی کاکام ادھورا اور اس کی رونق پھیکی رہ جاتی ہے۔ اس لئے ان دونوں کو اپنے فطری حدود میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے زندگی کو بنانے سنوارنے کا کام کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کا ساتھی ثابت ہونا چاہیے۔ نہ کہ مدمقابل چنانچہ آزادی نسواں کے بارے میں وہ فیصلہ عورت پر ہی چھوڑ تے ہیں کہ وہ خود سوچے کہ اس کے لئے بہتر کیا ہے۔



    اس بحث کا کچھ فیصلہ میں کر نہیں کر سکتا

    گو خوب سمجھتا ہوں کہ یہ زہر ہے ، وہ قند

    کیا فائدہ کچھ کہہ کے بنوں اور بھی معتوب

    پہلے ہی خفا مجھ سے ہیں تہذیب کے فرزند

    اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش

    مجبور ہیں ، معذور ہیں، مردان خرد مند

    کیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہ

    آزادی نسواں کہ زمرد کا گلوبند!





    امومیت اور مادری فرائض


    اقبال کی نظر میں عورت کی عظمت کا راز اس کے فرض امومیت اور مادری میں پوشیدہ ہے معاشرتی اور سماجی زندگی میں ماں کو مرکز ی حیثیت حاصل ہے۔ اور خاندانوں کی زندگی اسی جذبہ امومیت سے ہی وابستہ ہے۔ ماں کی گود پہلا دبستان ہے جو انسان کو اخلاق اور شرافت کا سبق سکھاتا ہے۔ جس قوم کی مائیں بلند خیال عالی ہمت اور شائستہ و مہذب ہو گی اس قوم کے بچے یقینا اچھا معاشرہ تعمیر کرنے کے قابل بن سکیں گے۔ گھر سے باہر کی زندگی میں مرد کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن گھر کے اندر کی زندگی میں عورت کو فوقیت حاصل ہے ۔ کیونکہ اس کے ذمہ نئی نسل کی پرورش ہوتی ہے۔ اور اس نئی نسل کی صحیح پرورش و پرداخت پر قوم کے مسقبل کا دارمدار ہوتا ہے۔ اس لئے عورت کا شرف و امتیاز اس کی ماں ہونے کی وجہ سے ہے۔ جس قوم کی عورتیں فرائض ِ امومت ادا کرنے سے کترانے لگتی ہے اس کا معاشرتی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ اس کا عائلی نظام انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ افراد خاندان کے درمیان رشتہ عورت کمزور پڑ جاتا ہے۔ اور اخلاقی خوبیاں دم توڑ دیتی ہیں ۔ مغربی تمد ن کی اقدار عالیہ کو اس لئے زوال آگیاہے کہ وہاں کی عورت آزادی کے نام جذبہ امومت سے بھی محروم ہوتی چلی جا رہی ہے۔


    کوئی پوچھے حکیم یورپ سے

    ہند و یونان ہیں جس کے حلقہ بگوش!

    کیا یہی ہے معاشرت کا کمال

    مرد بےکار و زن تہی آغوش!



    عورتوں کے لئے مغربی تعلیم کی بھی اقبال اسی لئے مخالفت کرتے ہیں کہ اس سے ماں کی مامتا کی روایت کمزور پڑتی ہے اور عورت اپنی فطری خصوصیات سے محروم ہو جاتی ہے۔



    اقبال کی نظر میں دنیا کی تمام سرگرمیوں کی اصل ماں کی ذات ہے ، ماں کی ذات امین ممکنات ہوتی ہے اور دنیا کے انقلابات مائوں کی گود میں ہی پرور ش پاتے ہیں۔ اسی لئے ماں کی ہستی کسی قوم کے لئے سب سے زیادہ قیمتی متاع ہوتی ہے۔ جو قوم اپنی مائوں کی قدر نہیں کرتی اس کا نظام ہستی بہت جلد بکھر جاتا ہے۔



    جہاں رامحکمی از اُمیات ست

    نہاد شان امین ممکنا ت ست

    اگر ایں نکتہ را قومی نداند

    نظام کروبارش بے ثبات ست



    ماں کی ہستی اس قدر بلند مرتبت ہے کہ قوم کہ حال و مسقبل انہی کے فیض سے ترتیب پاتا ہے۔ قوم کی تقدیر بنانے میں ماں کا کردار بنیادی ہے اس لئے عورت کو چاہیے کہ فرض امومیت کی ادائیگی میں اپنی پوری صلاحیتیں صرف کر دی کہ اس کی خودی کا استحکام اسی ذریعہ سے ہوتا ہے۔
     
  18. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,088
    موصول پسندیدگیاں:
    11,128
    ملک کا جھنڈا:
    واہ مرزا عادل نذیر بھائی ۔
    بہت عمدہ تحریر ہے۔ :a180:
     
  19. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    37
    اچھی شئیرنگ ھے عادل جی
     
  20. زین
    آف لائن

    زین ممبر

    شمولیت:
    ‏12 اپریل 2011
    پیغامات:
    2,361
    موصول پسندیدگیاں:
    9
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: Re: عورت کی آزادی کس قیمت پر

    :hathora:
    --------------
    :hathora::hathora::hathora:
     

اس صفحے کو مشتہر کریں