1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

عمر گزشتہ سے میرا ہر پل کیوں اُلجھتا ہے

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از آصف احمد بھٹی, ‏30 مارچ 2011۔

  1. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    آصف احمد بھٹی کی شاعری

    السلام و علیکم
    گو کہ مین اِس محفل مین نیا ہوں اِس لیے آپ سب کی خدمت میں پہلی بار اپنی ایک غزل لیکر حاضر ہوا ہوں، اُمید ہے یہ آپ احباب کو پسند آئیگی ۔

    عمر گزشتہ سے میرا ہر پل کیوں اُلجھتا ہے
    میرے آج سے ہر گزرا کل کیوں اُلجھتا ہے
    وہ باتیں تو کچی عمر کی تھی مگر اب بھی
    کچھ بے نام جزبوں سے دل کیوں الجھتا ہے
    کس نے کہا تھا چاند سمندر میں ڈبو دو
    بے ربط ہیں لہریں تو ساحل کیوں اُلجھتا ہے
    چاہت ضرورت ہے اگر دل کی تو پھر کہو
    میرے سینے میں بکھرا جنگل کیوں اُلجھتا ہے
    تم کسی اور ہتھیلی پر سجنا چاہتی ہو تو
    میری نظروں سے ترا آنچل کیوں اُلجھتا ہے
    عشق کا تعلق گر دماغوں سے نہیں آصفؔ
    تو پھر دل عقل سے مسلسل کیوں اُلجھتا ہے
    آصفؔ احمد بھٹی
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے

    دو شعر
    دیکھ کر مجھے بولی ! شایدتمہیں کہیں دیکھا ہے
    بھول گئی وہ پگلی یا جھوٹ کہیں سے سیکھا ہے
    بھول گئی حنا سے ہاتھوں پر میرا نام لکھتی تھی
    اورپھر کہتی تھی آصفؔ تومرے ہاتھوں پہ لکھا ہے
     
  3. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے


    یاد آتی ہو تنہائی میں
    آدھی رات میں اور اس جدائی میں
    تم اکثر مجھے یاد آتی ہو تنہائی میں
    جو مجھ پہ بیتتی ہے تم نہیں جان سکتی
    بہت فرق ہوتا ہے سنی سنائی میں
    چاہتوں کے نئے گوشوارے کیا بناؤں
    تو نفع ہے مری محبت کی کمائی میں
    کیسے جواب دوں میں اب کیا کہوں
    مری تو عمر گزری ہے اپنی صفائی میں
    اے خدا! اگر تو مجھے دل ہی نہ دیتا
    نہ محبت ہوتی نہ عمر کٹتی تنہائی میں
    چاہت اگر دی ہے تو صبر بھی دے
    کیا کمی ہوتی ہے تیری خدائی میں​
     
  4. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے


    مجھے اُجال دیتی ہے
    مرے گلے میں وہ بانہیں ڈال دیتی ہے
    مجھ کو وہ منا لیتی ہے کبھی ٹال دیتی ہے
    اُسکی خوشبو میری سانسوں میں سماتی ہے
    میرے شانے پہ بکھیر اپنے بال دیتی ہے
    مری محبت چاہت اور دیوانگی کی کہانی
    وہ سہیلیوں کو اکثر میری مثال دیتی ہے
    میری تنہائی میں میرے پاس ہوتی ہے
    اُداس ہوتا ہوں تو اپنا خیال دیتی ہے
    میں لکھتا ہوں اُسے اور وہ میرے خط
    اکثر جلا دیتی ہے کچھ سنبھال دیتی ہے
    آصفؔ وہ میرے سینے میں اُتر آتی ہے
    روشنی دیتی ہے وہ مجھے اُجال دیتی ہے​
     
  5. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے


    تم میری بنوگی
    ہر پل مجھے سوچو گی تم مجھے یاد کرو گی
    ہر وقت پھر تم اُداس بے چین رہو گی
    میں سامنے جو آیا تو لب سی لیے تم نے
    میرے بعد دل کی بات کس سے کہو گی
    پاگل سی بنی تم پھرو گی سارے گھر میں
    مجھے سوچتی مجھے کھوجتی تم کیسے جیو گی
    مجھے جانا ہے اِک روز میں چلا جاؤں گا
    پر سوچتا ہوں میرے بعد کیسے رہو گی
    یہ سوچ کر کسی روز چپکے سے آ جاؤنگا
    تم اتنی پیاری ہو میرا دُکھ کیسے سہو گی
    میں جا رہا ہوں پر تم یہ بھی یقین رکھنا
    لوٹ آؤنگا إک روز! تم میری بنوگی​
     
  6. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے


    کہاں گئے
    صدیق ؓو فاروقؓ کہلانے والے کہاں گئے
    وہ حیدرؓ و غنیؓ بن جانے والے کہاں گئے
    اب کوئی بلالؓ پھر اَحد اَحد کیوں نہیں کہتا
    پتھروں کو آذان سنانے والے کہاں گئے
    کوئی فارس سے یثرب کا راہی نہیں رہا
    وہ مصیبتوں پہ مسکرانے والے کہاں گئے
    عجب تھے خود اور عجب تھا خدا پہ بھروسہ
    بحرِ ظلمات میں اُتر جانے والے کہاں گئے
    وہ پراسرار بندے، وہ خودی کے بھیدی
    وہ کشتیاں اپنی جلانے والے کہاں گئے
    کچی عمر کے وہ سرفروش اب کیا ہوئے
    داہری غرور خاک ملانے والے کہاں گئے
    گھوڑے کی پیٹ پر عمر جن کی گزری تھی
    وہ غلاموں کو ایاز بنانے والے کہاں گئے
    دیوی دیوتا جن کے نام سے لرزاں تھے
    سب صنم کدے مٹانے والے کہاں گئے
    لہرا کر اسلام کا جھنڈا ، توڑا سحر کلسیا کا
    القدس آزاد کرانے والے کہاں گئے
    نکیل ڈالی تھی یورپ کے وحشیوں کو
    وہ زنگی و ایوبی کہلانے والے کہاں گئے
    وہ پارسا، وہ سچے میرے چاروں امام
    ماتھے پر محراب سجانے والے کہاں گئے
    حیران ہو کر اُنہیں ڈھونڈتا ہوں آصفؔ
    مجھ کو مسلماں بنانے والے کہاں گئے​
     
  7. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے

    بہت سے
    دیکھنے میں جو ہم لگتے ہیں انجان بہت سے
    چھپائے پھرتے ہیں دل میں طوفان بہت سے
    رواں رکھتے ہیں انسانوں سی تہذیب و تمدن
    پر بستے ہیں میرے شہر میں حیوان بہت سے
    یاں ہم کہ موحد ہی رہے کبھی دوئی نہ جمی
    واں وہ کہ دل میں رکھتے ہیں مہمان بہت سے
    کچھ اُس نے چرالی نظریں کچھ ہم بھی تنہا ہیں
    کہ دل کے بکھرنے کے رہے سامان بہت سے
    آج کچھ دل گرفتہ ہیں تو ہنستے کیوں ہو آصفؔ
    دن کچھ گزرے ہیں ہم پہ بھی آسان بہت سے​
     
  8. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے

    عشق بہانہ گزر گیا
    دل کی کہانی سنتے سنتے ایک زمانہ گزر گیا
    شمع کی چاہ میں تڑپا تھا اور پروانہ گزر گیا
    آنکھوں کی بولی کیا سمجھتا لہجہ کتنا غیر ہوا
    تم نے تو دل لگی کرلی اور دیوانہ گزر گیا
    اِک عمر گزاری لفظ پروتے ورق سجاتے
    تم نے دو حرف کہے کہ سارا فسانہ گزر گیا
    دو پل کا ساتھ رہا،پوری عمر کا عذاب ہوئی
    آنکھ کھلی تاریکی تھی خواب سہانہ گزر گیا
    کچی عمر کا رشتہ آصفؔ سوچ کر ہنستا ہوں
    پل بھر میں سب بکھر گیا عشق بہانہ گزر گیا​
     
  9. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے

    عجب وہ رشتہ تھا اور بہت معتبر پایا
    عجب تھا وہ رشتہ بہت معتبر پایا
    پھر وصل کا ہر لمحہ بہت مختصر پایا
    کہو کیوں حسرتوں کا خون ہوا
    دلِ عدو پایااور بہت پر خطر پایا
    رات بھر تارے حشر مچاتے رہے
    کچھ یہاں گرے کچھ کو اُدھر پایا
    وقت کا کاہن مجھ سے برہم ہے
    مری فکر پہ پہرہ رہا ،رات بھر پایا
    تم پوچھتے ہو بدگماں کیوں ہوں
    جس کو دیکھا یہاں اُسے بد نظر پایا
    اب کس کو دکھاتا میں کٹی انگلیاں
    کہ شہر کا شہر ہی دانشور پایا
    میری پلکوں پہ رتجگے نہیں مہکے
    پر اکثرتیری یاد کا دل سے گزر پایا
    میں خشک مزاج سہی پر یہ بھی تو دیکھ
    جب بھی صحرا کو چلا تجھے ہمسفر پایا
    ترے راستے میرا مستقل ٹھکانہ رہے
    ہر شام خود کو وہیں تیرا منتظر پایا
    بے ربط ہے لہجہ اور سخن وری کا شوق
    تیرا ہر لفظ آصفؔ بہت بے اثر پایا​
     
  10. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے

    میں محترم تورہا لیکن کبھی معتبر نہیں ہوا

    میں محترم تو رہا لیکن کبھی معتبر نہیں ہوا
    کہ اُس کی سوچ سے میرا گزر نہیں ہوا
    اِدھر بس اِک نام سے ہی منسوبیت رہی
    اُدھر جو لفظ کہا وہ پھر مکرر نہیں ہوا
    رات بھر اِک نام کے ہجے کرتا رہا
    گرچہ جانتا ہوں خود کبھی نثر نہیں ہوا
    امیرِ شہر کو مجھ سے یونہی بدگمانی رہی
    کچھ بینا تو رہا ہوں مگر بد نظر نہیں ہوا
    لہجے سے جھانکنے لگی ہے اب دل کی تشنگی
    صحرا کا سفر رہا اور کوئی راہبر نہیں ہوا
    عقل والے اپنی دستاریں بچا لے گئے
    میں سر بھی بچا سکا نہ کہ دانشور نہیں ہوا​
     
  11. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے



    بنجر آنکھ میں ستارے بو گئی ہو

    بنجر آنکھ میں ستارے بو گئی ہو
    تم دل کی کچھ خاص ہو گئی ہو
    رتجگے اب پھر میرا مقدر ٹھہرے
    تم میری پلکوں میں سو گئی ہو
    کچی عمر ہو اور کٹے تنہائی میں
    تم دل کی سب شوخیاں دھو گئی ہو
    روز میری صورت بدلنے لگی ہے
    تم اپنے نقش مجھ میں سمو گئی ہو
    جوان مرگ مری تم قاتل ٹھہری
    وقت کی کاہنہ مجھے رو گئی ہو
    کیا کرے پھر اب آصفؔ دیوانہ
    تم دل جنگل میں کھو گئی ہو​
     
  12. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    130,988
    موصول پسندیدگیاں:
    16,672
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے

    کیا کہوں مگر اتنا ضرو ر ہے کہ بہت ہی اعلیٰ تخیل ہے شاباش پتر
     
  13. صفاء
    آف لائن

    صفاء ممبر

    شمولیت:
    ‏29 اپریل 2011
    پیغامات:
    135
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے

    بہت اچھی اور گہری شاعری ہے ۔۔تھینک یو
     
  14. تانیہ
    آف لائن

    تانیہ ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مارچ 2011
    پیغامات:
    6,324
    موصول پسندیدگیاں:
    2,338
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے

    :a165:
    بہت خوب
     
  15. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,071
    موصول پسندیدگیاں:
    7,334
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے

    بہت خوب آصف بھائی۔ سادہ الفاظ میں جذبات کا بہت خوبصورت پیرائے میں اظہار فرمایا ہے۔ تخیل اچھا ہے الفاظ کا چناو بھی اچھا ہے۔ بے ساختگی بھی ہے ۔ وزن میں کچھ فرق آ جاتا ہے۔ جو وقت کے ساتھ ساتھ بہتر ہو جاے گا۔ لکھتے رہیے گا۔ اچھا لگا آپ کی شاعری پڑھ کر۔
     
  16. بلال خورشید جٹ
    آف لائن

    بلال خورشید جٹ ممبر

    شمولیت:
    ‏4 مئی 2011
    پیغامات:
    498
    موصول پسندیدگیاں:
    9
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے

    :wow: :a165::a180:
     
  17. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے

    السلام علیکم
    آپ سب احباب کا بہت بہت شکریہ ، اور خصوصی طور پر بلال بھائی کا کہ اُنہوں نے نہایت ہی محبت سے میری کچھ اصلاح کی ہے ، ایک بار پھر سب کا شکریہ ۔
     
  18. بزم خیال
    آف لائن

    بزم خیال ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2009
    پیغامات:
    2,736
    موصول پسندیدگیاں:
    312
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے

    واہ جناب آصف صاحب بہت خوب
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
     
  19. عفت
    آف لائن

    عفت ممبر

    شمولیت:
    ‏21 فروری 2011
    پیغامات:
    1,514
    موصول پسندیدگیاں:
    15
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے

    واہ بہت خوب آصف جی
    بہت اچھی شاعری کرتے ہیں آپ تو۔
    ماشاءاللہ
    مزید شیئرنگ کا انتظار رہے گا۔
     
  20. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے


    میں خواب فروش نہیں رہا
    لہجہ تلخ نہ ہو تو کیا ہو میں خواب فروش نہیں رہا
    ابھی بے ضمیر نہیں ہوا خودی فراموش نہیں رہا
    ابھی میری انگلیوں میں اقبالؒ کا ہنر باقی ہے
    ابھی فیضؔ مجھ میں زندہ ہے ہاں مگر جوش ؔنہیں رہا
    جو تشنہ رہ گئے ہیں خود سے وہ سوال کرنے ہیں
    پھر تیار ہونا ہے سب زخم اندومال کرنے ہیں
    کبھی طارق کا ، کبھی ابنِ قاسم کا اسیر رہا ہوں
    کہ کچھ غزنیؒ سے اور کئی ایوبیؒ کمال کرنے ہیں
    ابھی سعدیؒ ہمکلام ہوتا ہے حکایتیں بتاتا ہے
    ایک مورخ مجھے رقم کرتا ہے لکھتا ہے مٹاتا ہے
    ابھی روشن ہیں مرے دل میں کئی نور کے مینارے
    کہ ایک بچہ میرے اندر مقدس آیتیں سناتا ہے
    ابھی کچھ ایمان زندہ ہے کہ وہ تصویر باقی ہے
    مرے سینے پہ لکھی مرے کاتبﷺ کی تحریر باقی ہے
    ابھی میرے کانوں میں بلالیؓ اذانیں گھونجتی ہیں
    ابھی میرے لہومیں کچھ حیدریؓ تاثیر باقی ہے
    جانتا ہوں میں پہلے سا نہیں رہا کچھ اثر کم ہے
    کہ یہی دکھ ہے مجھے اِک اسی بات کا غم ہے
    جہاں دیکھو مرے قدموں کے نشان روشن ہیں
    زمیں کے ہر اِک ذرے پر میرا سجدہ رقم ہے ​
     
  21. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے

    ہم محکوموں میں مردمِ آزاد آجائے
    تاریکی میں جب بھٹکی انسانیت ، راہ دکھاتے رہے
    زمیں جب پیاسی ہوئی ہم اپنا لہو پلاتے رہے
    تم کیا سمجھو گے کہ دیوانگی کا نصاب کچھ الگ ہے
    ہم پرُعزم ہمیشہ رہے ، اپنی کشتیاں جلاتے رہے
    مگر جب سے خودی بھولا ہوں ، دنیا کے اسیر ہوا
    مری سرمدی ؔکا بھرم ٹوٹ گیا ، میں فقط فقیر ہوا
    تو اسے مری انتہا نہ سمجھ کہ میں ہوں عجب دیوانہ
    یہ تو بس گردشِ دوراں ہے کہ میں آج حقیر ہوا
    یہ بھی ممکن ہے مجھے وہ بھولا سبق یاد آجائے
    یا میں نہ رہو مگر کوئی غزنویؒ میرے بعد آجائے
    مثلِ اقبالؒ میں بھی نااُمید نہیں اپنے قبیلے سے
    بہت ممکن ہے ہم محکوموں میں مردمِ آزاد آجائے​
     
  22. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے

    عشق خرافات نہ رہی
    دل بھی پہلے سا نہ رہا کہ عشق خرافات نہ رہی
    نیاز مندی حد کو پہنچی پر عزتِ سادات نہ رہی
    عجب ہوئے ہیں اس نئے دور کے طریق
    دل کی عقل سے دشمنی ،کوئی عدوات نہ رہی
    عرصہ ہوا شناسائی کو پر ہنوز اجنبی ہیں لوگ
    نہ ملنا ملانا رہا اب ویسی کوئی ملاقات نہ رہی
    بے خلوص جذبے ہیں اور بے ثبات لہجے ہیں
    باہم کوئی واسطہ نہ رہا کوئی ربطِ خرابات نہ رہی
    ہاتھ اُٹھے رہے رات بھر مگر کوئی آنکھ نم نہ تھی
    فلک تک پہنچتی اب پاس وہ مناجات نہ رہی
    عشق کے آزار اب بھی کچھ روحوں پہ نقش ہیں
    پر عجب ہے اب چاہتِ مسیحائیِ کمالات نہ رہی
    یہ بڑا عجب لگا کہ فطرت میں دوہی ہنوز ہے
    پہلے سے عشاق نہ رہے کہ جستجوِذات نہ رہی
    اِک کشمکش ہے باقی پر اب کچھ دسترس میں نہیں
    کہ سانسیں توچل رہی ہیں مگر حیات نہ رہی
    آصفؔ قصے گڑھے ہزارہا اور لکھی کئی کہانیاں
    مگرجو سچ کہنی تھی یاد ہمیں وہی بات نہ رہی ​
     
  23. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے


    اپنی انگلیاں کٹنے سے بچا کر رکھنا
    گرچہ یہ باتیں نا گریز ہیں ! تو سنو
    گر اپنی اُنگلیاں عزیز ہیں! تو سنو
    بے سبب فنکار کی رسوائی باقی ہے
    اب بھی شہر میں حکمِ شہنشاہی باقی ہے
    اب بھی معماروں کے ہاتھ قلم ہوتے ہیں
    اب بھی شہکار مٹتے ہیں ، ختم ہوتے ہیں
    اب بھی شہکار کوئی مکرر نہیں ہوتا
    کہ اب بھی فنکار کوئی معتبر نہیں ہوتا
    سلطانوں کے لہجے تلخ دھتورے ہی رہے
    اورکئی شہکار تخیل میں اُدھورے ہی رہے
    ہر تلقید پہ تنقید ضروری ہی رہی
    سو ہر فنکار کی تخلیق ادھوری ہی رہی
    اب بھی لوگ ہر ہنر کو تولتے ہیں
    مگر فنکاروں کے گھر سناٹے بولتے ہیں
    سو تم بھی ہنر اپنا زمانے سے چھپا کر رکھنا
    اپنی انگلیاں کٹنے سے بچا کر رکھنا ​
     
  24. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے

    کیا تم نے محبت کو روتے ہوئے دیکھا ہے؟
    کیا تم نے محبت کو روتے ہوئے دیکھا ہے؟
    کیا کسی سے پیار ہوتے ہوئے دیکھا ہے؟
    آج کی بات کیا ہر دور میں حضرتِ انسان
    ظلم کرتے افلاس ہی بوتے ہوئے دیکھا ہے
    جہاں پر بھوک کی فصلیں اُگتی ہوں جا بجا
    کسی بچے کو وہاں سوتے ہوئے دیکھا ہے؟
    کبھی کسی مزدور کی دہلیز کے پار اُتر کر دیکھو
    پورا کنبہ مجبوریاں ڈھوتے ہوئے دیکھا ہے؟
    باپ کی پلکوں میں چبتے ماں کے طعنے سنتے
    اکثر بیٹی کو جوانی کھوتے ہوئے دیکھا ہے​
     
  25. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے

    تین شعر
    شوق صحرائی ہے اور ذوق سرابی میرا
    مجھ سے نہ ملنا کہ ہے روگ کتابی میرا
    تری نظر میں شوخی ہے ، مرا نام نہیں لکھنا
    پلکیں لہو رنگ ہونگی ، ہر خواب گلابی میرا
    پہلی عمر تیری تو ابھی عشق کی باتیں نہ کر
    کہ تیرا گھڑا کچا ہے اور طریق چنابی میرا
     
  26. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے


    دل پاگل مت سوچا کر
    دل پاگل مت سوچا کر
    ہو کر بیکل مت سوچا کر
    سوچنا اچھا پر ایک ہی بار
    مسلہ اور حل مت سوچا کر
    بھیگی پلکوں کے گہرے ساگر
    تنہا ساحل مت سوچا کر
    رات کو تارے گن گن کر
    اُس کا آنچل مت سوچا کر
    یہ تو ہونا ہی تھا اِک دن
    آج یا کل مت سوچا کر
    آصفؔ پاگل ہو جائے گا
    یوں ہر پل مت سوچا کر​
     
  27. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,071
    موصول پسندیدگیاں:
    7,334
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے

    واہ بہت خوب۔:flor:
    :n_thanks:
     
  28. امجد میانداد
    آف لائن

    امجد میانداد ممبر

    شمولیت:
    ‏15 جون 2011
    پیغامات:
    22
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے

    بہت عمدہ جناب، بہت عمدہ
     
  29. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے

    آپ دونوں کا بہت بہت شکریہ ۔
     
  30. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عمر گزشتہ سے میراہر پل کیوں اُلجھتا ہے

    دو شعر

    میں ٹھہرا تو وہ سمجھی یہ میری انتہا ہے
    جانتی نہ تھی وہ میری محبت کی ابتدا ہے
    اُس نے دیکھا تھا صرف لہجہ ہی میرا
    پڑھا نہ مری آنکھوں میں کیا لکھا ہے

    آصف احمد بھٹی

     

اس صفحے کو مشتہر کریں