1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔
  1. کاکا سپاہی
    آف لائن

    کاکا سپاہی ممبر

    شمولیت:
    ‏24 مئی 2007
    پیغامات:
    3,796
    موصول پسندیدگیاں:
    596
    ملک کا جھنڈا:
    عشق رسول

    اس لڑی میں عشق رسول پر مبنی واقعات شیئر کریں


    [​IMG][/IMG]
     
  2. کاکا سپاہی
    آف لائن

    کاکا سپاہی ممبر

    شمولیت:
    ‏24 مئی 2007
    پیغامات:
    3,796
    موصول پسندیدگیاں:
    596
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عشق رسول

    مثلِ بو قید ہے غنچے میں ، پریشاں ہو جا
    رخت بردوش ہے ہوائے چمنستاں ہو جا
    ہے تنک مایہ ، توذری سے بیاباں ہو جا
    نغمہ موج سے ہنگامہ طوفاں ہو جا
    قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
    دہر میں اسم ِ محمد سے اجالا کر دے


    عشق وہ والہانہ جذبہ ہے جو حضرت انسان کو دوسرے اقوام سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ جذبہ بناوٹ، عیاری، امید ( معشوق سے کچھ حاصل کرنے کی) ۔ لالچ سے ماورا ہوتی ہے۔ یہ جذبہ انسان کو ایک جست میں اس بلندی اور آفاقیت تک لے جاتی ہے۔جس کا ہم خیال بھی نہیں کر سکتے ۔ اس قوت سے یقین و ایمان میں پختگی آتی ہے۔ اور اسی جذبہ کے تحت ایمان بل غیب پر یقین آجاتا ہے۔حضرت سید محمد ذوقی شاہ اپنی کتاب ” سر ِ دلبراں “ میں لکھتے ہیں،

    ” عشق ایک مقناطیسی کشش ہے جو کسی کو کسی کی جانب سے ایذا پانا، وصال سے سیر ہونا ، اس کی ہستی میں اپنی ہستی کو گم کر دینا یہ سب عشق و محبت کے کرشمے ہیں۔“

    عاشقی چیست؟ بگو بندہ جاناں بودن
    دل بدست دگرے دا دن و حیراں بودن

    اور جب یہ تعلق یا کشش سیدنا محمد مصطفی سے ہو تو پھر کیا کہنا ۔ ان کی ہستی تو ایک بحر ذخار کے مانند ہے جس کی موجوجیں آسمان کو چھوتی ہیں۔ جس کی تعلیمات محبت ، اخوت، مساوات اور رواداری کا درس دیتی ہیں ۔ جو لوگوں کو حیات نو عطا کرتی ہیں۔ اُس کے اخلاق کے بارے میں خود اللہ فرماتے ہیں کہ،

    ”’ اے حبیب بے شک تو اخلاق کے بلند درجے پر ہے۔“

    جن کو نبوت سے پہلے امین اور صادق کے خطاب دئیے گئے رشک کی بات ہے کہ اقبال کو اس عظیم بندے سے عشق تھا اور اس آفتاب کے نور سے اقبال کی شاعری منور ہے۔

    می ندانی عشق و مستی از کجا ست؟
    ایں شعاع افتاب مصطفی ست

    مولانا عبدالسلام ندوی ”اقبال کامل “ میں لکھتے ہیں،

    ” ڈاکٹر صاحب کی شاعری محبت ِ وطن اور محبت قوم سے شروع ہوتی ہے اور محبت الہٰی اور محبت رسول پر اس کا خاتمہ ہوا۔“
    اقبال کو حضور سے جو والہانہ عشق ہے اس کا اظہار اس کی اردو اور فارسی کے ہر دور میں ہوتا رہا ہے۔ اقبال کی انفرادیت ہے کہ انہوں نے اردو فارسی دونوں زبانوں میں مدح رسول اکرم کو ایک نئے اسلوب اور نئے آہنگ کے ساتھ اختیار کیا۔

    خوشا وہ وقت کہ یثرب مقام تھا اس کا
    خو شا وہ دور کہ دیدار عام تھا اس کا

    اقبال سردار دو عالم کی سیرت پاک کا غائر مطالعہ کرنے کے اور مطالب قرانی پر عبور حاصل کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ آنحضرت کی ذات ِ بابرکات جامع الحثیات ہے ۔ تمام کما لات ظاہر و باطن کی ، اور سرچشمہ ہے تمام مظاہر حقیقت و مجاز کا۔ کلام اقبال اٹھا کر دیکھ لیں تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پیغام ِ اقبال اصل میں حُب رسول ہے۔ کیونکہ انہی کی ذات گرامی سرچشمہ دیں ہے۔

    بہ مصطفی برساں خویش را کہ دین ہمہ اوست
    اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است
    والہانہ عشق
     
  3. کاکا سپاہی
    آف لائن

    کاکا سپاہی ممبر

    شمولیت:
    ‏24 مئی 2007
    پیغامات:
    3,796
    موصول پسندیدگیاں:
    596
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عشق رسول

    آج مجھے علم دین شہید کے مزار شریف پر حاضری کا شرف حاصل ہوا



    برصغیر کے مسلمانوں کے لیے وہ وقت بہت کڑا تھا جب ایک طرف انگریز اپنی حکمرانی کے نشے میں مست ان پر ہر طرح کے ظلم ڈھارہا تھا تو دوسری طرف ہندو بنیا سیکڑوں برس کی غلامی کا بدلہ چکانے کے لیے تیار بیٹھا تھا۔ جب ہندوﺅں اور انگریزوں نے یہ سمجھ لیا کہ اب مسلمان تھک چکا ہے اور اس بے بس و بے کس مخلوق سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں تو انہوں نے اپنی خباثت ِباطنی کا آخری مظاہرہ شروع کردیا۔ ہر سمت سے شانِ رسول میں ہر روز نت نئی شکل میں گستاخی کی خبروں نے مسلمانوں کو ہلاکر رکھ دیا۔ کسی کو کیا معلوم تھا کہ بجھی ہوئی راکھ تلے عشق و وفا کی وہ چنگاریاں ابھی سلگ رہی ہیں جو بھڑکیں گی تو سب گستاخوں کو اپنے ساتھ بھسم کردیں گی۔
    پھر دنیا نے دیکھا کہ عشقِ رسالت مآب ﷺ کی راہ میں ان غیور اہلِ ایمان نے نہ تو گھربار کو آڑے آنے دیا نہ ان کی بے بسی ان کا راستہ روک سکی، نہ یہ وقت کی عدالتوں، جیلوں اور ہتھکڑیوں سے گھبرائے۔ ایسے ہی خوش قسمت افراد میں ایک نام ’’غازی علم دین شہید ‘‘ کا بھی ہے جنہوں نے گستاخِ رسول کو جہنم رسید کرکے وہ کارنامہ انجام دیا جس پر رہتی دنیا کے مسلمان اُن پر نازکرتے رہیں گے۔ علامہ اقبال کو جب معلوم ہوا کہ ایک اکیس سالہ اَن پڑھ‘ مزدور پیشہ نوجوان نے گستاخِ رسول راجپال کو جرأت وبہادری کے ساتھ قتل کردیا ہے تو انہوں نے کہا تھا: ”اَسی گَلاں اِی کردے رہ گئے تےتَرکھاناں دَا مُنڈا بازی لے گیا‘‘(ہم باتیں ہی بناتے رہے اور بڑھئی کا بیٹا بازی لے گیا۔) غازی علم دین 8 ذیقعدہ 1366ءبمطابق 4 دسمبر 1908ءکو لاہور میں متوسط طبقے کے ایک فرد طالع مند کے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ نجاری (بڑھئی) ان کا پیشہ تھا۔ طالع مند اعلیٰ پائے کے ہنرمند تھے۔ وہ علم دین کوگاہے گاہے اپنے ساتھ کام پرلاہور سے باہر بھی لے جاتے۔ بڑا بیٹا محمد دین تو پڑھ لکھ کر سرکاری نوکر ہوگیا لیکن علم دین نے موروثی ہنر ہی سیکھا۔ علم دین نے بچپن ہی میں بعض ایسے واقعات دیکھے جن کے نقوش ان کے دماغ پر ثبت ہوئے اور ان کی کردار سازی میں کام آئے۔ ماموں کی بیٹی سے منگنی تک علم دین کوگھر اورکام سے سروکار تھا۔ باہر جو طوفان برپا تھا اس کی خبر نہ تھی۔ اُس وقت انہیں یہ بھی علم نہ تھا کہ گندی ذہنیت کے شیطان صفت راجپال نامی بدبخت نے نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان کے خلاف ایک دل آزارکتاب ”رنگیلا رسول“ شائع کرکے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ حکومت کو راجپال کے خلاف مقدمہ چلانے کو کہا گیا، لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ عبدالعزیز اور اللہ بخش کو الجھاکر سزا دی گئی۔ الٹا چور سرخرو ہوا اور کوتوال کے ساتھ مل گیا۔ اخبارات چیختے‘ چلاّتے راجپال کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے۔ جلسے ہوتے‘ جلوس نکلتے لیکن حکومت اور عدل وانصاف کے کان پر جوں نہ رینگی۔ مسلمان دلبرداشتہ تو ہوئے لیکن سرگرم عمل رہے۔ دلّی دروازہ سیاسی سرگرمیوں کا گڑھ تھا۔ یہاں سے جو آواز اٹھتی پورے ہندوستان میں گونج جاتی۔ علم دین ایک روز حسب معمول کام پر سے واپس آتے ہوئے دلّی دروازے پر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر رک گئے۔ انہوں نے لوگوں سے دریافت کیا تو پتا چلا کہ راجپال نے نبی کریم ﷺکے خلاف کتاب چھاپی ہے اس کے خلاف تقریریں ہورہی ہیں۔ کچھ دیر بعد ایک اور مقررآئے جو پنجابی زبان میں تقریر کرنے لگے۔ یہ علم دین کی اپنی زبان تھی۔ تقریر کا ماحصل یہ تھا کہ راجپال نے ہمارے پیارے رسول کی شان میں گستاخی کی ہے، وہ واجب القتل ہے، اسے اس شرانگیزی کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔ علم دین گھر پہنچے تو والد سے تقریرکا ذکر کیا۔ انہوں نے بھی تائید کی کہ رسول کی ذات پر حملہ کرنے والے بداندیش کو واصلِ جہنم کرنا چاہیے۔ وہ اپنے دوست شیدے سے ملتے اور راجپال اور اس کی کتاب کا ذکرکرتے۔ لیکن پتا نہیں چل رہا تھا کہ راجپال کون ہے؟ کہاں ہے اُس کی دکان؟ اورکیا ہے اس کا حلیہ؟ شیدے کے ایک دوست کے ذریعے معلوم ہوا کہ شاتمِ رسول ہسپتال روڈ پر کتابوں کی دکان کرتا ہے۔ بیرون دہلی دروازہ درگاہ شاہ محمود غوثؒ کے احاطہ میں مسلمانوں کا ایک فقیدالمثال اجتماع ہوا، جس میں عاشقِ رسول، امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری ؒنے بڑی رقت انگیز تقریر کی۔ علم دین اپنے والد کے ہمراہ اس میں موجود تھے۔ اس تقریر نے بھی اُن کے دل پر بہت اثرکیا۔ اُس رات انہیں خواب میں ایک بزرگ ملے، انہوں نے کہا: ”تمہارے نبیﷺ کی شان میں گستاخی ہورہی ہے اور تم ابھی تک سورہے ہو! اٹھو جلدی کرو۔“ علم دین ہڑبڑا کر اٹھے اور سیدھے شیدے کے گھر پہنچے۔ پتا چلا کہ شیدے کو بھی ویسا ہی خواب نظرآیا تھا۔ دونوں ہی کو بزرگ نے راجپال کا صفایا کرنے کو کہا۔ دونوں میں یہ بحث چلتی رہی کہ کون یہ کام کرے، کیونکہ دونوں ہی یہ کام کرنا چاہتے تھے۔ پھر قرعہ اندازی کے ذریعے دونوں نے فیصلہ کیا۔ تین مرتبہ علم دین کے نام کی پرچی نکلی تو شیدے کو ہار ماننی پڑی۔ علم دین ہی شاتمِ رسول کا فیصلہ کرنے پر مامور ہوئے۔ انارکلی میں ہسپتال روڈ پر عشرت پبلشنگ ہاﺅس کے سامنے ہی راجپال کا دفتر تھا۔ معلوم ہوا کہ راجپال ابھی نہیں آیا۔ آتا ہے تو پولیس اس کی حفاظت کے لیے آجاتی ہے۔ اتنے میں راجپال کار پر آیا۔ کار سے نکلنے والے کے بارے میں کھوکھے والے نے بتایاکہ یہی راجپال ہے، اسی نے کتاب چھاپی ہے۔ راجپال ہردوار سے واپس آیا تھا، وہ دفتر میں جاکر اپنی کرسی پر بیٹھا اور پولیس کو اپنی آمد کی خبر دینے کے لیے ٹیلی فون کرنے ہی والا تھا کہ علم دین دفترکے اندر داخل ہوئے۔ راجپال نے درمیانے قدکے گندمی رنگ والے جوان کو اندر داخل ہوتے دیکھ لیا لیکن وہ سوچ بھی نہ سکا کہ موت اس کے اتنے قریب آچکی ہے۔ پلک جھپکتے میں چھری نکالی، ہاتھ فضا میں بلند ہوا اور راجپال کے جگر پر جالگا۔ چھری کا پھل سینے میں اترچکا تھا۔ ایک ہی وار اتنا کارگر ثابت ہوا کہ راجپال کے منہ سے صرف ہائے کی آواز نکلی اور وہ اوندھے منہ زمین پر جاپڑا۔ علم دین الٹے قدموں باہر دوڑے۔ راجپال کے ملازمین نے باہر نکل کر شور مچایا: پکڑو پکڑو۔ مارگیا مارگیا۔ علم دین کے گھر والوں کو علم ہوا تو وہ حیران ضرور ہوئے لیکن انہیں پتا چل گیا کہ ان کے نورِچشم نے کیا زبردست کارنامہ سرانجام دیا ہے اور ان کا سر فخرسے بلندکردیا ہے۔ اس قتل کی سزا کے طور پر 7 جولائی 1929ءکو غازی علم دین کو سزائے موت سنادی گئی جس پر 31 اکتوبر1929ءکو عمل درآمد ہوا۔ ان کے جسدِ خاکی کو مثالی اور غیرمعمولی اعزاز واکرام کے ساتھ میانی صاحب قبرستان لاہور میں سپرد ِ خاک کردیا گیا، لیکن مسلمانوں کی تاریخ میں ان کا نام ناموس رسالت پرکٹ مرنے کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔


    فَمِنْھُمْ مَنْ قَضَیٰ نَحْبَہُ وَمِنْھُمْ مَنْ یَّنْتَظِرْ
    باریابی جو ہو حضور مالک تو کہنا کہ کچھ سوختہ جاں اور بھی ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔ ایسےتمغوں کے طلب گار وہاں اور بھی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
     
  4. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,146
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عشق رسول

    سبحان اللہ ۔ بہت خوب منور چشتی بھائی ۔ آپ نے ایمان افروز سلسلہ شروع کیا ہے۔
    جزاک اللہ خیر۔
     
  5. کاکا سپاہی
    آف لائن

    کاکا سپاہی ممبر

    شمولیت:
    ‏24 مئی 2007
    پیغامات:
    3,796
    موصول پسندیدگیاں:
    596
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عشق رسول

    علامہ ریاض الد ین سہروردی

    علامہ سید محمد ریاض الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کا اسم گرامی کسی تعارف کا محتاج نہیں آپ سچے عاشق رسول اور عالم باعمل تھے آپ نے نعمت گوئی اور نعت خوانی کے حوالے سے جو شاندار خدمات سرانجام دی ہیں وہ تاریخ کے اوراق پر ہمیشہ رقم رہیں گی۔ علامہ سید محمد ریاض الدین سہروردی 4اپریل 1919ء میں جے پور (انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ آپ اعلیٰ علمی، مذہبی اور روحانی خاندان سے تعلق رکھتے تھے تقریباً ساڑھے پانچ سو سال پیشتر آپ کے آباؤاجداد میں سے تبلیغ دین سے سرشار ایک خدارسیدہ بزرگ بہاؤالدین زریانی جو قطب الاقطاب کے منصب جلیلہ پر فائز تھے ایران کے صوبہ اصفہان کے شہر زریں سے نقل مکانی فرماکر کشمیر آئے اسی بابرکت خاندان سے سیدمحمدشاہ ایک جامع صفات بزرگ گزرے۔ جنہوں نے تبلیغ دین میں بے مثل کارہائے نمایاں سرانجام دیئے آپ کے دست حق پرست پر بے شمار لوگ مسلمان ہوکر دامن رسالت مآب ﷺ سے وابستہ ہوئے۔ علامہ سید محمد ریاض الدین سہروری کے والد علامہ مفتی سید محمد جلال الدین چشتی امرتسر (انڈیا) میں اپنے وقت کے بہت بڑے عالم دین، فاضل بے بدل، مفتی وقت، فقیہ، مفکر و خطیب، نعت گو اور نعت خواں تھے ایسے علمی اور روحانی گھرانے میں جب علامہ سہروردی نے آنکھ کھولی تو اپنے گھر کو علم معرفت سے منور پایا آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی بعدازاں آپ نے اسلامیہ ہائی اسکول (امرتسر) میں داخلہ لیا اللہ تعالٰیٰ نے اپنا خصوصی فضل و کرم کرتے ہوئے حضرت علامہ سہروری کو اپنے محبوب آقائے دوجہاں محمد مصطفی کے عشق کی لازوال دولت سے نوازا ہوا تھا آپ بلند اخلاق کے مالک، نہایت پاکیزہ شیریں زبان اور عادات صالحہ کا سرچشمہ تھے۔ اللہ تعالٰیٰ نے نعت گوئی اور نعمت خوانی علامہ سہروردی کو ورثہ میں عطا فرمائی تھی اوائل عمری میں نعمت خوانی کے ساتھ ساتھ جب نعت گوئی کا آغاز کیا تو ابتداء میں اپنے والد مفتی سید جلال الدین چشتی سے اصلاح لیتے رہے بعدازاں اپنے استاد ماسٹر روشن دین روشن اپنے ماموں محمد حسین اور مولانا غلام محد ترنم سے اصلاح لی۔ علامہ سہروری نے باطنی علوم کی تکمیل کیلئے قیام پاکستان سے قبل سلسلہ عالیہ سہروردیہ کے عظیم بزرگ شیخ الاسلام، امیر السالکین، خواجہ خواجگان ابوالفیض سید قلندر علی شاہ سہروردی کے دست حق پرست پر سہروردی سلسلہ میں بیعت کی۔ آپ اپنے پیر و مرشد کے محبوب و منظور نظر تھے۔ نعت گوئی اور نعت خوانی کی وجہ سے آپ کے پیرومرشد سید قلندر علی شاہ سہروردی نے آپ کو لسان حسان کا خطاب عطا کیا۔ علامہ سہروردی اپنے پیرومرشد اور والد محترم سے بے پناہ محبت کرتے تھے آپ کو قادری اور چشتی نسبت محمد نبی قادری فخری جہاں پوری سے عطا ہوئی تھی۔ علامہ سہروری نعت گوئی میں سب سے زیادہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی سے متاثر تھے آپ کے پیرومرشد سید قلندر علی شاہ سہروردی کا شمار آپ کے محبوب ترین شاگردوں میں ہوتا ہے۔ علامہ سہروردی نعت گوئی اور نعت خوانی کے ذریعے عشق رسول کی شمع ہر دل میں روشن دیکھنا چاہتے تھے اسی خواب کی تکمیل کیلئے آپ نے دن رات محنت کی۔ علامہ سہروردی نے جب بھی سرکاردوعالم کی تعریف و توصیف میں قلم اٹھایا تو عشق رسول سے سرشار ہوکر اور جب کبھی زبان کھولی تو آقائے نامدار کی محبت میں ڈوب کر آپ اللہ تعالٰیٰ کے ان مقبول بندوں میں سے ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ سے والہانہ محبت ہے اسی شرف کی بدولت نعت گوئی اور نعت خوانی میں آپ کا ایک معتبر نام ہے۔ علامہ سہروردی نے نعت کے فروغ اور ترویج و اشاعت کیلئے قابل قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ آپ نے قیام پاکستان سے قبل فروغ نعت کیلئے بزم جلال اور بزم ریاض قائم کی۔ قیام پاکستان کے بعد آپ امرتسر سے لاہور تشریف لائے اور جامع مسجد غوثیہ مزنگ لاہور میں خطیب و امام مقرر ہوئے یہاں آپ نے فروغ حمد و نعت کیلئے 1950ء میں جمعیت حسان کی بنیاد رکھی اور پاکستان میں نعتیہ محافل کے انعقاد کی روایت ڈالی۔ الحمدللہ آج پورے پاکستان میں گلی گلی محافل نعت کا انعقاد ہوتا ہے جس میں ہزاروں افراد شرکت کرتے ہیں اور سرکارِ مدینہ کے ذکر خیر سے اپنے قلوب و اذہان کو منور کرتے ہیں۔ یہ سب علامہ سہروردی کی دن رات محنت کا نتیجہ ہے۔ 1955ء میں آپ اپنے پیر و مرشد سید قلندر علی شاہ سہروردی کے حکم پر جامع مسجد بغدادی مارٹن کوارٹرز تین ہٹی کراچی منتقل ہوئے اور اسی مسجد میں تاحیات خطیب و امام کے فریضے کو احسن طریقے سے ادا کرتے رہے یہاں بھی آپ نے آقائے نامدارکے ذکر کو عام کرنے کیلئے دن رات محنت کی۔ 1970ء میں آپ نے کراچی میں مرکزی انجمن عندلیبان ریاض رسول کے نام سے فروغ حمد و نعت کی عالمگیر تحریک کی بنیاد رکھی اس انجمن کے زیراہتمام پہلی کل پاکستان محفل نعت نشترپارک کراچی میں ہوئی اس کے بعد ہر سال بغدادی مسجد مارٹن روڈ کے میدان میں کل پاکستان محفل نعت منعقد ہوتی ہے۔ جو الحمدللہ اب تک جاری و ساری ہے۔ انجمن عندلیبان ریاض رسول کی شاخیں ناصرف پورے پاکستان بلکہ بیرون ممالک تک پھیلی ہوئی ہیں۔ نعت خوانی کے حوالے سے علامہ سہروردی کا ایک اور بہت بڑا کارنامہ یہ بھی ہے کہ آپ نے نعت خوانوں کی تربیت و اصلاح کیلئے انجمن عندلیبان ریاض رسول کے زیراہتمام پہلا نعت کالج قائم کیا جہاں سے ہر سال بے شمار نعت خواں فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ علامہ سہروردی نے اردو، پنجابی، فارسی اور انگریزی زبانوں میں بڑے احسن انداز سے آقائے نامدار کے حضور گلہائے عقیدت پیش کیے ہیں۔ اللہ تعالٰیٰ نے نعت خوانی میں جو لب و لہجہ آپ کو عطا کیا۔ وہ دوسروں سے بہت مختلف متاثر کن اور دل کی دنیا میں ہلچل پیدا کرنے والا تھا۔ آپ کا کلام ایک عاشق صادق کا کلام ہے۔ جس کا ہر شعر اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ آپ سرکاردوعالم سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ عام فہم اور قرآن و سنت کی روشنی میں ہونے کی وجہ سے آپ کا کلام مقبولیت کے مقام پر فائز ہے۔ علامہ سہروردی نے سرکاردوعالم کی تعریف و توصیف کے ساتھ ساتھ پنتجن پاک، اہل بیت اطہار، صحابہ کرام، سرکار غوث پاک، آئمہ کرام اور اولیائے عظام کی شان میں بھی مناقب لکھیں جو عوام الناس میں بے حد مقبول ہیں۔ یہی نہیں آپ نے آقائے نامدارکی محبت کا پیغام گھر گھر عام کرنے کیلئے نثری میدان میں بھی گراں قدر کتابیں تحریر کیں۔ جس سے آپ کا عالمانہ پہلو اُجاگر ہوتا ہے۔ آپ کی زیادہ تر تصانیف تصوف، عقائد، دور جدید کے سوال و مسائل پر مبنی ہیں۔ خاص طور پر تصوف کے موضوع پر آپ کی مایہ ناز تصنیف، ”علم لدنی“ مشعل راہ ہے۔ دیگر تصانیف میں دعائے خلیل نوید مسیحا، اہل کتاب کون، حسین بن علی اور یزید بن معاویہ، دین میں اختلاف کیونکر، حزب اللہ اور حزب الشیطن، اسلام اور سوشلزم، کتاب و سنت اور خاندانی منصوبہ بندی، دیوان ریاض، ریاض رسول (حصہ اول، دوم، سوم) گلدستہ نعت، (Eulogizing The Prophet) انگریزی نعتیہ کلام وغیرہ شامل ہیں۔ علامہ سہروردی کی نعتیہ شاعری کو الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے آپ کے صاحبزادے عالمی شہرت یافتہ نعت خواں سید محمد فصیح الدین سہروردی نے پنتجن پاک کے خصوصی فضل و کرم سے دنیا بھر میں پھیلایا ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ میری لکھی ہوئی نعتوں کو پڑھنے کا حق میرے بیٹے سید فصیح الدین سہروردی نے صحیح معنوں میں ادا کیا ہے۔ علامہ سہروردی کے دست حق پرست پر ہزاروں افراد نے بیعت کی اور سلوک کی راہ پر گامزن ہوئے۔ آپ کے مریدین دنیا بھر میں آپ کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ علامہ سید محمد ریاض الدین سہروردی کی اولاد میں سے آپ کے بڑے صاحبزادے سید محمد بدیع الدین سہروردی کینیڈا میں انجینئر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بڑے مذہبی اسکالر بھی ہیں اور دنیا کے مختلف ممالک میں دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ بدیع الدین سہروردی صاحب کے صاحبزادے حسان سہروردی خوش الحان نعت خواں ہیں۔علامہ سہروردی کے دوسرے صاحبزادے عالمی شہرت یافتہ نعت خواہ سیدمحمد فصیح الدین سہروردی ہیں۔ جنہوں نے اپنے والد محترم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نعت خوانی کی دنیا میں انقلاب پیدا کردیا ہے۔ فصیح الدین سہروردی پوری دنیا میں فروغ نعت کے ساتھ ساتھ سلسلہ عالیہ سہروردیہ کی ترقی و ترویج کیلئے ہمہ تن مصروف ہیں۔ فصیح سہروردی کے صاحبزاے سید محمد زین العابدین سہروردی خوش الحان نعت خواں ہونے کے ساتھ ساتھ نعت گو بھی ہیں آپ نے اپنے والد محترم سید فصیح الدین سہروردی کے ساتھ مختلف ممالک کے دورے بھی کیے۔ علامہ سہروردی کے تیسرے صاحبزادے سید محمد اعجاز الدین سہروردی ہیں۔ جو عمدہ قاری و نعت خواں ہیں اورجامع مسجد بغدادی میں خطیب و امام کے فریضے کوبھی احسن طور پر ادا کررہے ہیں۔ آپ کے صاحبزادے سید محمد نجم الدین سہروردی اور سید شہاب الدین سہروردی بھی خوش الحان نعت خواں ہیں۔ علامہ سہروردی نے زندگی کا لمحہ لمحہ سرکارِ مدینہ کی تعریف و توصیف کو عام کرنے میں گزارا ہے۔ آپ نے نعت خوانی کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں عشق مصطفی کے چراغ روشن کیے۔ آپ کی نعتیہ شاعری انشاء اللہ قیامت تک اہل ایماں کے دلوں میں محبت رسول کا جذبہ پیدا کرتی رہے گی۔ علامہ سہروردی 28فروری 2001ء بمطابق 14ذی الحجہ 1421ہجری ہم سے جدا ہوکر اس دارِفانی سے دارِبقا کی طرف تشریف لے گئے۔ سرکارِ دوعالم کا ذکر خیر آخری سانس تک آپ کے لبوں پر تھا۔ آپ کا مزار جامع مسجد بغدادی مارٹن روڈ تین ہٹی کراچی میں مرجع خاص و عام ہے۔ آپ کے وصال سے نعت خوانی کی دنیا میں جو خلا پیدا ہوا ہے۔ اس کا پُر ہونا بہت مشکل ہے۔ اللہ تعالٰیٰ علامہ سہروردی کی خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے اور اپنے حبیب رحمة اللعالمین کے صدقے آپ کے اخروی درجات بلند فرمائے اور آپ کے مشن کو جاری رکھنے کی ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔ آمین
     
    شہباز حسین رضوی نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عشق رسول

    جزاک اللہ
    -----------------
     
  7. کاکا سپاہی
    آف لائن

    کاکا سپاہی ممبر

    شمولیت:
    ‏24 مئی 2007
    پیغامات:
    3,796
    موصول پسندیدگیاں:
    596
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: عشق رسول

    [​IMG]
     
    شہباز حسین رضوی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں