1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

عجلت پسندی اور ہماری جماعتیں

'حالاتِ حاضرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از عرفان, ‏25 مئی 2008۔

  1. عرفان
    آف لائن

    عرفان ممبر

    شمولیت:
    ‏16 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    443
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    آج چونکہ انقلابی اور باطل نظام کے محافظ چونلہ دونوں ہی کلمہ گو ہیں۔ اس لئے صرف انقلابیوں کا خون بہے گا۔
     
  2. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    تو پھر کب بہے گا؟
    آپ اور آپکے مولانا صاحب اب کس وقت کا انتظار فرما رہے ہیں ؟
    میرا خیال ہے انہوں نے سوچا نظام تو بدلنا نہیں۔ چلو گستاخِ علی :rda: بن کر ہی شہرت کما لی جائے
     
  3. فرخ
    آف لائن

    فرخ یک از خاصان

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2008
    پیغامات:
    262
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    السلام علیکم
    میرا خیال ہے محترم عرفان صاحب کی معلومات ڈاکٹر طاہر القادری کی انقلابی جدوجہد کے متعلق کچھ کم ہیں۔ یا پھر اپ-ٹو۔ڈیٹ نہیں ہیں۔

    اصل حقائق کچھ یوں ہیں کہ ۔۔۔۔

    ڈاکٹر طاہرالقادری کی انقلابی جدوجہد صرف پاکستان عوامی تحریک کے کم و بیش 10 -12 سال تک محدود نہیں۔ بلکہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے 80 کی دہائی کے اوائل میں دعوتِ دین سے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا۔ پھر شب بیداریوں ، محافلِ ذکر، اور دیگر روحانی تربیتی مراحل کو جاری رکھتے ہوئے ایک " تنظیم " بن جانے پر سیاسی جدو جہد کا آغاز کیا ۔ (سیاسی جدوجہد کا وقتِ آغاز ہمیشہ ایک سوالیہ نشان رہا ہے) ۔۔خیر کبھی سیاست میں ان کبھی آؤٹ ہوتے رہے۔

    لیکن اس دوران، انکا دعوتِ دین، اصلاحِ احوال اور روحانی و اخلاقی تربیت کا عمل بصورت سلسلہء ہائے شب بیداری، سالانہ اعتکاف اور روحانی اجتماعات کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر طاہر القادری کے آڈیو وڈیو خطابات اور سینکڑوں‌کتب کے ذریعے جاری رہا ۔
    اسی دوران سیرت نبوی علیہ الصلواۃ والتسلیم پر اردو زبان کی سب سے بڑا مجموعہ تیار ہوا۔ انکے دعوتی ، تربیتی اور اصلاحی کام کی وجہ سے منہاج القرآن کی تنظیم دنیا بھر میں‌پھلتی پھولتی رہی۔ عالمی سطح پر دنیا کے تقریباً 80 ممالک میں انکا نیٹ ورک اور اسلامک سنٹرز کام کررہے ہیں۔ اور انکی جماعت کے ممبران دنیا بھر میں پھیلے نظر آتے ہیں

    علاوہ ازیں تعلیمی میدان میں اصلاح کے لیے سینکڑوں سکول، کئی ایک کالجز اور حکومت پاکستان سے چارٹرڈ یونیورسٹی بھی کام کررہی ہے۔
    منہاج القرآن ویلفئیر سوسائٹی سے خدمتِ انسانیت کا کام اعلی سطح پر کیا جارہا ہے۔ اور زلزلہ زدگان سے لے کر سونامی کے متاثرین تک ، اور گاہے بگاہے بیسیوں غریب بچے بچیوں کی باعزت اجتماعی شادیوں کے انتظام و انصرام تک، یتیم خانے سے لیکر شہر شہر فری ڈسپنسریز اور بلڈ بنکس مراکز انکی ویلفئیر سوسائٹی کے زیرانتظام چل رہے ہیں۔

    غالباً 2004 میں سیاست کو کلی طور پر خیر باد کہا۔ اور مکمل توجہ علم و تحقیق کی طرف مرکوز کرتے ہوئے ترجمۃ القرآن "عرفان القرآن" کی اردو اور انگریزی میں تکمیل کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں ترتیب و تدوین حدیث کا کام زیر تکمیل ہے۔ انکے دعوی کے مطابق یہ 20 سے زائد ضخیم جلدوں پر مبنی یہ ذخیرہء احادیث اردو زبان کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا ذخیرہء حدیث ہوگا۔ یاد رہے کہ اسکی پہلے چند والیم چھپ کر بازار میں آچکے ہیں۔

    ڈاکٹر طاہر القادری صاحب تقریباً 1000 (ایک ہزار)‌کتب لکھ چکے ہیں جن میں سے کم و بیش 400 سے زائد کتب چھپ کر مارکیٹ میں‌آچکی ہیں جبکہ بقیہ مسودات طباعت کے مختلف مراحل میں اپنی باری کے انتظار میں ہیں۔

    عرض کرنے کا مقصد یہ کہ محض پاکستان عوامی تحریک کی چند سالہ جد وجہد اور اسکی خاموشی کو پوری منہاج القرآن کی تحریک کی ناکامی تصور نہ کیا جائے نہ ہی منہاج القرآن کے قائد یا کارکن کے اندر ایسا تصور پایا جاتا ہے۔

    عصرِ حاضر میں بڑے بڑے راہنما ہیں ، بڑی بڑی جماعتیں ہیں۔ لیکن ڈاکٹر طاہر القادری وہ واحد راہنما ہیں اور منہاج القرآن وہ واحد تحریک ہے جس نے اصلاحِ امت اور غلبہء دین حق کی جدوجہد میں جزوی نہیں بلکہ کلی طور پر کام کا آغاز کیا ہے اور ہر ہر شعبہء زندگی میں اصلاح پر توجہ دی ہے۔
    جو کام باقی راہنما اور جماعتیں ، جزوی طور پر کر رہی ہیں۔ منہاج القرآن نے وہ سارے کے سارے اصلاحی کام اجتماعی طور پر اپنے دائرہ عمل میں لے لیے ہیں۔

    یہی وجہ سے منہاج القرآن کی تحریک کی وجہ سے جہاں عوام الناس اپنی باطنی اصلاح کرکے دین کی طرف راغب ہورہے ہیں وہاں منہاج یونیورسٹی سے جدید و قدیم علوم سے آراستہ سینکڑوں سکالرز بھی نکل رہے ہیں جو دنیا بھر میں دعوت و تبلیغِ دین کا کام کررہے ہیں۔
    منہاج القرآن جہاں پاکستان کے کونے کونے میں فروغِ تعلیم و بیداریء شعور کے لیے کام کررہی ہے وہاں دنیا کے 80 سے زائد ممالک میں غیر مسلم معاشروں میں بسنے والے پاکستانیوں اور انکی نوجوان نسل کے ایمان کی حفاظت کی اہم ذمہ داری کے ساتھ ساتھ غیر مسلم معاشروں میں اسلام کا "محبت، اخوت اور امن و بھائی چارے " پر مبنی پیغام بھی عام کررہی ہے۔
    منہاج القرآن جہاں قرآن و حدیث پر سینکڑوں کتب عوام الناس کو دے چکی ہے وہیں پر ڈاکٹر طاہراالقادری قرآن و حدیث میں بیان شدہ عقیدہ صحیحہ کی ترویج کے ذریعے حکیمانہ انداز میں خارجیت و رافضیت جیسے فتنوں‌کا قلع قمع بھی کرتے جارہے ہیں۔

    منہاج القرآن نے قرآن و حدیث کی بنیاد پر جدید دور کے تقاضوں‌کے مطابق دعوتِ دین کا ایسا طریقہ کار متعارف کروایا ہے جس میں جدید دور کا متاثر فرد بھی دین کی اپروچ پاک کر مطمئن ہوتا ہے اور قدیم روحانیت کا حسین امتزاج بھی اسی تحریک کے پلیٹ فارم سے دستیاب ہوتا ہے۔ جہاں روحانی شب بیداریاں اور بارگاہ الہی میں گریہ و زاری بھی ملتی ہے۔ جہاں محبت رسول علیہ الصلوۃ والتسلیم کی چاشنی بھی میسر آتی ہے۔ اولیاء اللہ کی عقیدت کا درس بھی ملتا ہے، فرقہ واریت سے بچ کر قرآن و حدیث کی سچی اور سُچی ہدایت کا نور بھی ملتا ہے۔

    تحریک منہاج القرآن کی جامعیت، ہمہ گیریت، عالم گیریت اور عوام الناس میں اثر پذیریت کو دیکھ کر بفضل اللہ تعالی امید کی جاسکتی ہے کہ یہ تحریک مستقبل قریب میں نہ صرف پاکستانی قوم بلکہ امت مسلمہ کی تقدیر بدلنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرنے جا رہی ہے۔ انشاءاللہ العزیز

    نہیں‌مایوس یہ اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
    ذرا نم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی​

    مع السلام[/quote:104fpqnv]

    لگتا ہے برادر بھائی (یعنی بھائی بھائی :hasna: ( کو اچھا موقع ملا منہاج القرآن کی مارکیٹنگ کا

    ویسے مجھے یہ تعارف پڑھ کر اچھا لگا اور کم و بیش ایسے ہی تعارف اور جگہوں پر بھی پڑھنے کو ملے

    لیکن محترم، ایسے تعارف تو تقریبآ ہر جماعت کے ہوتے ہیں۔ اور اسکے علاوہ اور جماعتیں بھی ہیں جو انہی میدانوں میں جدوجہد کر رہی ہیں۔ اور کچھ اسی طرح کی One Man Actionجماعتیں بھی ہیں

    اور مزے کی بات یہ ہوتی ہے، کہ ہر ایک اپنے منہ آپ میاں مٹھو بنتا ہے۔ اور جب اتحاد و یگانگت کی باری آتی ہے اور ہر راھنما یہی کہتا نظر آتا ہے کہ "آئیئے ہمارے پلیٹ فارم پر ہمارے جھنڈے تلے اکٹھے ہو جائیئے" گویا وہی اسوقت حق پر ہے۔

    اور مجھے ایسے پلیٹ فارموں، جماعتوں، سلاسل سے یہی اختلاف ہے کہ انہوں نے ایسی حرکات سے امت کو بڑے بے ہوشی کے انداز میں تقسیم کر رکھا ہے اور لوگ انہی وجوہات کے بنا پر تذبذب کا شکار ہیں

    طنزآ، جس اسلامی دور حکومت کی یہ راہنما مثالیں دے دے کر اور جن صحیح اسلامی تعلیمات کی دہائی اور تقاریر کر کر کے یہ لوگ اپنی مارکیٹ بناتے ہیں اور لوگوں کو اپنے جھنڈے تلے جمع کرکے علیحدہ، گروہ، فرقہ، سلسلہ بنا لیتے ہیں، اسکی کوئی مثال صحابہ اکرام کے ادوار میں نہیں ملتی۔ البتہ ایک چیز جو میں‌شدید طور پر محسوس کرتا ہوں کہ استعمار کی سازشوں میں جو سب سے نمایاں چیز رہی ہے وہ ہے "Divide and Rule" اور جہاں‌تک میں نے نوٹ کیا ہے، یہ جماعتیں اور گروپس استعمار کے اس طریقے کو بھرپور Support کر رہے ہیں۔ اور اس بات کا اندازہ نتائیج سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ امتِ مسلمہ اسوقت کس حال میں ہے جبکہ امت میں موجود جماعتیں اور انکے راہنماؤں کی کیا تعداد ہے اور ہر کوئی اپنے منہ آپ میاں مٹھو بنا ہوا ہے
    اور اس بات سے بھی کہ یہ "Divide and Rule" والا طریقہ جس ملک کا ایجاد کردہ ہے، یہ راہنما وہاں بھاگ بھاگ کر کیا لینے جاتے ہیں۔ شائید اسلامی تعلیم :takar:
     
  4. فرخ
    آف لائن

    فرخ یک از خاصان

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2008
    پیغامات:
    262
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    تو پھر کب بہے گا؟
    آپ اور آپکے مولانا صاحب اب کس وقت کا انتظار فرما رہے ہیں ؟
    میرا خیال ہے انہوں نے سوچا نظام تو بدلنا نہیں۔ چلو گستاخِ علی :rda: بن کر ہی شہرت کما لی جائے[/quote:2lpxd0bc]

    وہ انتظار کر رہے ہیں کہ ایک اور مولانا صاحب جب ناچ گانے سے فارغ ہوں تب :201:
     
  5. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    تو پھر کب بہے گا؟
    آپ اور آپکے مولانا صاحب اب کس وقت کا انتظار فرما رہے ہیں ؟
    میرا خیال ہے انہوں نے سوچا نظام تو بدلنا نہیں۔ چلو گستاخِ علی :rda: بن کر ہی شہرت کما لی جائے[/quote:1836b0qg]
    وہ انتظار کر رہے ہیں کہ ایک اور مولانا صاحب جب ناچ گانے سے فارغ ہوں تب :201:[/quote:1836b0qg]
    کمال ہے۔ مولانا صاحب کو قرآن و حدیث سے صرف یہی انتظار میسر آیا تھا ؟

    ویسے فرخ صاحب۔ اگر آپ کو ڈاکٹر اسرار صاحب کی جماعت کی پالیسی یا آئندہ پروگرام معلوم نہیں تو سنجیدہ بات کو گپ شپ میں مت ڈالیں۔ شکریہ

    جی عرفان بھائی ۔ میں جواب کا منتظر ہوں
     
  6. عرفان
    آف لائن

    عرفان ممبر

    شمولیت:
    ‏16 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    443
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    حضور نبی اکرم :saw: کا کہا جھوٹ نہیں ہو سکتا اسی ملک پر اللہ کا دین غالب ہوگا اور آپ کے :saw: طریقے پر ہو گا ۔ضرور ہوگا۔اگر ہمارے توبہ نہ کرنے پر یہ ملک ٹوٹ گیا تو بچے کھچے پاکستان پر ہوگا۔
     
  7. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    ہمارے توبہ نہ کرنے پر ؟؟؟
    ہم کون ؟
     
  8. عرفان
    آف لائن

    عرفان ممبر

    شمولیت:
    ‏16 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    443
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    کہنے کا مطلب ہے اجتماعی توبہ کا انتظار کر رہے ہیں جس میں عوام کی معتد بہ تعداد اور انٹیلیجنشیا کے بھی مناسب تعداد موجود ہو۔
     
  9. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    السلام علیکم۔ شکریہ برائے جواب !
    لیکن عرفان بھائی !
    عوام کی معتد بہ تعداد کے لیے تو عمل دعوت پہلے ہونا چاہیے نا ؟
    اور پھر جو دعوت قبول کرلیں انکی ذہنی، باطنی و اخلاقی تربیت بھی ہونا چاہیے تاکہ وہ انقلاب کے لیے تیار ہوجائیں۔

    بغیر تربیت کے تو کوئی سپاہی میدانِ جنگ میں نہیں بھیجا جاتا نا ؟
     
  10. عرفان
    آف لائن

    عرفان ممبر

    شمولیت:
    ‏16 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    443
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    بالکل بجا فرمایا آپ نے
     
  11. فرخ
    آف لائن

    فرخ یک از خاصان

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2008
    پیغامات:
    262
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    وعلیکم السلام
    آپ کی بات بہت بجا ہے، لیکن میں‌آپ کے ایک نظریے سے اختلاف رکھتا ہوں اور وہ ہے کہ آپ ہمیشہ پہلے آنے والے کسی Step کی بات کرتے ہیں کہ پہلے وہ ہو، تب باقی کام ہو

    بھائی میرے یہ سب کام اکھٹے بھی ہو سکتے ہیں۔ اور کم از کم ہمارے ملک میں‌لوگوں‌کو دین کا شعور تھوڑا بہت تو ہےہی۔ اور توبہ کی اہمیت سے بھی اکثر لوگ واقف ہیں۔ تو دعوت و عمل کے ساتھ توبہ چل سکتی ہے۔ لیکن اگر پہلے مرحلے کے انتظار میں بیٹھے رہیں تو بات بگڑ بھی سکتی ہے۔
     
  12. فرخ
    آف لائن

    فرخ یک از خاصان

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2008
    پیغامات:
    262
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    ًمحترم،
    یہ گپ شپ نہیں ہے بلکہ آپ نے انکو جو گستاخ علی :rda: کا طنز مارا تھا، اسکے جواب میں ایک بات لکھی تھی جو غالبآ آپ کو سمجھ نہیں آئی۔ خیر اچھی بات ہے

    آپ بھی اگر گفتگو میں طنز و بہتان کے تیر نہ چلائیں تو بات چیت زیادہ اچھی طرح ہو سکتی ہے۔
     
  13. عرفان
    آف لائن

    عرفان ممبر

    شمولیت:
    ‏16 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    443
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    آپ بھی اگر گفتگو میں طنز و بہتان کے تیر نہ چلائیں تو بات چیت زیادہ اچھی طرح ہو سکتی ہے۔
    [/color][/quote]
     
  14. ع س ق
    آف لائن

    ع س ق ممبر

    شمولیت:
    ‏18 مئی 2006
    پیغامات:
    1,333
    موصول پسندیدگیاں:
    25
    نعیم اور عرفان بیٹا جوانی میں گرم خون جلدی غصہ کا باعث ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کی بات کو غور سے پڑھو تاکہ ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملے۔ یہ ضروری تو نہیں آپ کی جو بھی رائے ہے وہی باقی سب کی بھی ہو۔ سب کو آزادی رائے کا حق میسر ہے اور ہماری اردو اور اس جیسے دوسرے فورم بنائے بھی اسی لئے جاتے ہیں کہ مختلف الخیال لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب آنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملے۔

    ایک دوسرے کو طنز مارنے کی بات کرنا زیب نہیں دیتا اور میرے خیال میں اگر اس لڑی میں صرف "عجلت پسندی اور ہماری جماعتیں" ہی زیربحث ہو تو زیادہ بہتر ہو گا۔ کوئی بھی کسی بھی جماعت سے تعلق رکھنے والا ہو وہ آ کر اس لڑی میں اپنی جماعت کی حکمت عملی بیان کر سکتا ہے خواہ وہ تنظیم اسلامی ہو یا جماعت اسلامی۔

    اگر کوئی اپنی جماعت کا تعارف دیتے ہوئے کسی اشکال کی وضاحت کرتا ہے تو اسے بھی سن لینا چاہیئے، فوری مارکیٹنگ کا طعنہ دے کر دوسروں کا دل نہیں توڑنا چاہیئے۔

    یاد رکھو کہ انقلاب لانے سے زیادہ مشکل کام ہے انقلاب کو سنبھالنا، اگر انقلاب کی حامی جماعتوں کے کارکن قبل از انقلاب ایک دوسرے سے یوں گتھم گتھا ہوتے رہے تو بعد میں استحکام کی کیا ضمانت باقی رہ جاتی ہے؟
     
  15. عرفان
    آف لائن

    عرفان ممبر

    شمولیت:
    ‏16 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    443
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    میڈم انقلاب کے اس طریقے جس میں لوگوں کو ایک نظریے پر اکٹھا کر کے ان کی حضورکے طریقہ تلاوت آیات،تزکیہ، تعلیم کتاب و حکمت کے ذریعے تربیت کر کے حکومت کے ساتھ مسلح تصادم کرکے :saw: اور صرف خود مار اور گولیاں کھا کر الیکشن اور چلوں اور اسلحہ سے دور رہ کر غلبہ دین کے لئے جدوجہد کرنے والی کتنی جماعتیں ہیں؟۔
     
  16. ع س ق
    آف لائن

    ع س ق ممبر

    شمولیت:
    ‏18 مئی 2006
    پیغامات:
    1,333
    موصول پسندیدگیاں:
    25
    پہلی تو ہو گئی تنظیم اسلامی

    دوسری آپ بتائیں
     
  17. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    وعلیکم السلام
    آپ کی بات بہت بجا ہے، لیکن میں‌آپ کے ایک نظریے سے اختلاف رکھتا ہوں اور وہ ہے کہ آپ ہمیشہ پہلے آنے والے کسی Step کی بات کرتے ہیں کہ پہلے وہ ہو، تب باقی کام ہو

    بھائی میرے یہ سب کام اکھٹے بھی ہو سکتے ہیں۔ اور کم از کم ہمارے ملک میں‌لوگوں‌کو دین کا شعور تھوڑا بہت تو ہےہی۔ اور توبہ کی اہمیت سے بھی اکثر لوگ واقف ہیں۔ تو دعوت و عمل کے ساتھ توبہ چل سکتی ہے۔ لیکن اگر پہلے مرحلے کے انتظار میں بیٹھے رہیں تو بات بگڑ بھی سکتی ہے۔[/quote:29jpkuod]

    السلام علیکم فرخ صاحب !
    آپ بےشک میری بات سے ہزار بار اختلاف کریں۔ بلکہ مجھ ناقص العلم کا مقام آپ جیسے اہل علم و فن کے سامنے کچھ بھی نہیں ۔

    لیکن چونکہ اسوہء رسول :saw: کی کاملیت و اکملیت پر ہم سب کا الحمد للہ بطور مسلمان ایمان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی یہی تھی ۔ (بے شک کوئی کفار مکہ اور مسلمانانِ پاکستان کے حالات کے فرق گردان کر پھر کوئی بات کردے)‌ لیکن حضور نبی اکرم :saw: کی سنت یہی سکھاتی ہے کہ سب سے پہلے دعوتِ دین کا کام کیا جائے، پھر دارِ ارقم میں‌دعوت قبول کرنے والوں کی تریبیت کی جائے۔
    نزول قرآن کے مراحل کو دیکھ لیں۔ مکی دور میں ذاتی و شخصی تربیت، تعلق باللہ ، تعلق بالرسالت (محبت و ادبِ اور اتباعِ رسول :saw: ) ، باطنی تزکیہ اور صفائے قلب پر بالعموم زور زیادہ دیا گیا ہے۔

    جبکہ ہجرت کے بعد جنگ و قتال، کفر و شرک کے ساتھ براہ راست تصادم وغیرہ کے مراحل انقلاب پر آیات اتری ۔

    اسلامی ریاست " مدینہ" کے قیام کے بعد معاشی و معاشرتی معاملات، اقتصادیات، جرائم و سزاؤں کے احکامات مدنی دور میں نازل ہوئے۔

    میری سمجھ کے مطابق یہ مراحل سنت نبوی :saw: سے ملتے ہیں۔ اور دینِ الہی کو سربلند کرنے والوں کے لیے سنت رسول :saw: پر چلنا کس قدر ناگزیر ہے ۔یہ ہر مسلمان پر بخوبی واضح ہونا چاہیے۔

    والسلام
     
  18. کاشفی
    آف لائن

    کاشفی شمس الخاصان

    شمولیت:
    ‏5 جون 2007
    پیغامات:
    4,774
    موصول پسندیدگیاں:
    16
    مسلمانانِ پاکستان :201:
    ریاست مدینہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :201:
    پاکستان سے کیا مراد بھائی جان۔۔
     
  19. عاطف چوہدری
    آف لائن

    عاطف چوہدری ممبر

    شمولیت:
    ‏17 جولائی 2008
    پیغامات:
    305
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    :201: :201: :201:

    کاشی جی
    بہت کلاس کا جوک مارا ہے
     
  20. کاشفی
    آف لائن

    کاشفی شمس الخاصان

    شمولیت:
    ‏5 جون 2007
    پیغامات:
    4,774
    موصول پسندیدگیاں:
    16
    جوک نہیں ہے پیارے۔۔سوال ہے سچ میں۔۔۔پاکستان سے کیا مراد ہے؟ :dilphool:
     
  21. عرفان
    آف لائن

    عرفان ممبر

    شمولیت:
    ‏16 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    443
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    پہلی تو ہو گئی تنظیم اسلامی

    دوسری آپ بتائیں[/quote:21mhkd8r]


    تنظیم اسلامی کے علاوہ کوئی جماعت نہیں
     
  22. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    پہلی تو ہو گئی تنظیم اسلامی

    دوسری آپ بتائیں[/quote:23krn06c]
    تنظیم اسلامی کے علاوہ کوئی جماعت نہیں[/quote:23krn06c]
    وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصَارَى عَلَى شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصَارَى لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَى شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ كَذَلِكَ قَالَ الَّذِينَ لاَ يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ فَاللّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَO
    اور یہود کہتے ہیں کہ نصرانیوں کی بنیاد کسی شے (یعنی صحیح عقیدے) پر نہیں اور نصرانی کہتے ہیں کہ یہودیوں کی بنیاد کسی شے پر نہیں، حالانکہ وہ (سب اللہ کی نازل کردہ) کتاب پڑھتے ہیں، اسی طرح وہ (مشرک) لوگ جن کے پاس (سرے سے کوئی آسمانی) علم ہی نہیں وہ بھی انہی جیسی بات کرتے ہیں، پس اللہ ان کے درمیان قیامت کے دن اس معاملے میں (خود ہی) فیصلہ فرما دے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہتے ہیںo (الْبَقَرَة ، 2 : 113)
    سبحان اللہ۔
    عرفان صاحب ۔ پتہ نہیں کیوں آپ کا جواب سنتے ہی مجھے فوراً یہ آیت کریمہ ذہن میں آگئی ۔ یہودی و عیسائی بھی یہی کہتے تھے کہ ہمارے سوا کوئی دوسرا (حق پر) نہیں۔ حالانکہ اللہ کی نازل کردہ کتاب سب کے پاس ہے۔

    آپ اپنی گفتگو جاری رکھیے یہ تو جملہ معترضہ تھا :176:

    والسلام
     
  23. عرفان
    آف لائن

    عرفان ممبر

    شمولیت:
    ‏16 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    443
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    نعیم صاحب

    میں تمام اہل سنت والجماعت کو حق پر سمجھتا ہوں ۔ بات انقلابی جدوجہد کے ذریعے غلبہ دین کرنے والی جماعت کی ہورہی ہے۔
     
  24. کاشفی
    آف لائن

    کاشفی شمس الخاصان

    شمولیت:
    ‏5 جون 2007
    پیغامات:
    4,774
    موصول پسندیدگیاں:
    16
    ہم دیکھے گیں ۔۔۔ہم بھی دیکھے گیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دیکھے گیں۔۔۔۔۔ہم بھی دیکھے گیں۔۔۔۔انقلاب ۔۔۔۔ :dilphool:
     
  25. عرفان
    آف لائن

    عرفان ممبر

    شمولیت:
    ‏16 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    443
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    مجھے انید ہے کہ آپ اپنی زندگئ میں ہی دیکھ لیں گے
     

اس صفحے کو مشتہر کریں