1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

عاشقانہ خط کتابت از ظفر اقبال (حجام کا خط )

'ادبی طنز و مزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏19 مئی 2019۔

  1. intelligent086
    آن لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    1,764
    موصول پسندیدگیاں:
    208
    ملک کا جھنڈا:

    حجام کا خط
    جانِ من! تم نے اپنے جانثار کو گویا بالکل ہی بُھلا رکھا ہے، پہلے کبھی کبھی ناخن ترشوانے آ جایا کرتی تھیں۔ اب وہ بھی سلسلہ موقوف ہے۔ ایسا لگتا ہے تم نے نیل کٹر خرید لیا ہے لیکن اس سے بھی ناخن پوری گولائی میں نہیں کٹ سکتے۔ تمہاری یاد آتی ہے تو گویا میرے دل پر اُسترے چل جاتے ہیں۔ بعض اوقات تو مجھ سے بات تک نہیں ہوتی، اور جو زبان قینچی کی طرح چلتی ہے وہ کام کرنا ہی چھوڑ دیتی ہے۔ ہمارے ہاں خضاب لگانے کی سہولت بھی موجود ہے، اپنے والد صاحب سے کہو کہ اس سلسلے میں ہماری خدمات حاصل کریں جو ہمارے لیے ایک سعادت سے کم نہیں ہوگا جبکہ پھٹکری لگانے کا بھی تسلی بخش انتظام ہے۔ جس اوباش نوجوان کی تم نے شکایت کی تھی کہ تمہیں چھیڑتا ہے، اگر میرے ہتھے چڑھ جائے تو اس کی حجامت بنا کر رکھ دوں۔(فقط تمہارا چاہنے والا: زُلف تراش خاں)​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں