1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

طیارے میں سفر کے دوران کان بند کیوں ہوجاتے ہیں؟

'جنرل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏29 دسمبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    4,132
    موصول پسندیدگیاں:
    652
    ملک کا جھنڈا:
    طیارے میں سفر کے دوران کان بند کیوں ہوجاتے ہیں؟
    upload_2019-12-29_3-50-4.jpeg
    اگر آپ نے فضائی سفر کیا ہو تو ایک تجربہ ضرور ہوا ہوگا اور وہ ہے ٹیک آف یا لینڈنگ کے وقت کانوں میں تکلیف، بند ہوجانا یا سیٹیاں سی بجتی ہوئی محسوس ہونا۔

    مگر کیا یہ کسی بیماری کی وجہ سے ہوتا ہے یا اس کے پیچھے کوئی راز چھپا ہے؟

    درحقیقت فضائی سفر کے دوران ایسا ہونا عام معمول کا حصہ ہے، جس کی وجہ طیارے میں ہوا کے دباﺅ میں توازن نہ ہونا ہے۔

    جب ہم زمین پر ہوتے ہیں تو ہمارے ارگرد یعنی کانوں کے پردوں کے اطراف ہوا کا دباﺅ یکساں یا برابر ہوتا ہے، جس سے ہوا آسانی سے کان اور حلق کی درمیانی شریان سے گزر جاتی ہے۔

    مگر جب ہم طیارے میں سفر کرتے ہیں تو وہاں ہوا کا دباﺅ ٹیک آف اور لینڈنگ کے وقت غیرمتوازن ہوجاتا ہے اور اس تبدیلی کو ہمارے کانوں کے پردے محسوس کرلیتے ہیں جو اس سے فوری طور پر مطابقت نہیں کرپاتے۔

    اگر کان اس دباﺅ سے مطابقت میں کچھ دیر لگادیں تو درد محسوس ہونے لگتا ہے۔

    ایسا ہی کچھ غوطہ خوری یا زیر آب جانے پر بھی ہوجاتا ہے جب ہوا کے دباﺅ میں اچانک تبدیلی آتی ہے۔

    ویسے فضائی سفر کے دوران کانوں کو اس تکلیف سے بچانے کا طریقہ بہت آسان ہے اور وہ ہے بس جمائی لینا یا کوئی میٹھی چیز نگلنا، یہ دونوں طریقے ہوا کے گزرنے والی نالی کو کھول کر دباﺅ میں کمی لاتے ہیں۔

    اسی طرح لینڈنگ اور ٹیک آف کے دوران سونے سے گریز کریں، زنلہ زکام کی صورت میں ممکن ہو تو فضائی سفر سے گریز کریں۔
    علامات

    ایسا ایک یا دونوں کانوں میں ہوسکتا ہے جس کی عام علامات کان میں بے چینی یا درد، کان میں اکڑن کا احساس، سننے میں مشکل وغیرہ ہیں، تاہم ان کی شدت زیادہ ہو تو یہ علامات سامنے آتی ہیں، شدید تکلیف، کان کا دباﺅ بڑھ جانا، سننے کی صلاحیت سے محرومی (معتدل یا سنگین حد تک)، کانوں میں گھنٹیاں بجنا، سر چکرانا اور کان سے خون بہنا۔
    کب ڈاکٹر سے رجوع کریں؟

    عام طور پر یہ مسئلہ سنگین نہیں ہوتا اور طویل المعیاد بنیادوں پر پیچیدگیوں کا امکان بہت کم ہوتا ہے اور ایسا اس وقت ہوتا ہے جب علامات کی شدت بڑھ جائے یا طویل عرصے تک برقرار رہے یا کان کے درمیانی یا اندرونی حصے کو نقصان پہنچ جائے۔

    اگر بے چینی اور سننے میں مشکل کا سامنا چند دن سے زیادہ ہو یا علامات کی شدت زیادہ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
     
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں