1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ضمنی انتخاب میں الطاف حسین کی کامیابی

'کالم اور تبصرے' میں موضوعات آغاز کردہ از سید انور محمود, ‏12 جولائی 2017۔

  1. سید انور محمود
    آف لائن

    سید انور محمود ممبر

    شمولیت:
    ‏2 اگست 2013
    پیغامات:
    470
    موصول پسندیدگیاں:
    525
    ملک کا جھنڈا:
    تاریخ: 12 جولائی، 2017

    [​IMG]
    ضمنی انتخاب میں الطاف حسین کی کامیابی
    تحریر: سید انور محمود

    لندن جہاں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین 25 سال سے زیادہ عرصہ سے مقیم ہیں اور اب پاکستان میں اردو بولنے والوں (مہاجروں) کے دشمن بنے ہوئے ہیں، 22 اگست 2016 کو وہ پاکستان، پاکستانی اداروں اور اداروں کے سربراہوں کے خلاف زہر اگل چکے ہیں، الطاف حسین ہوں یا کوئی اور جو بھی پاکستان مردہ باد کے نعرئے لگائے گا وہ غدار کہلائے گا، اس لیے الطاف حسین ایک پاکستانی ہونے کا حق کھو چکے ہیں، ویسے بھی ایک عرصے سے وہ برطانوی شہری ہیں۔ میرئے والدین نے پاکستان مردہ باد کہنے کے لیے پاکستان بنانے کی جدوجہد نہیں کی تھی اور نہ ہی اس لیےہجرت کی تھی کہ وہ پاکستان کو ایک ناسور کہیں۔ یقیناً الطاف حسین کے والدین نے بھی ایسا ہی کیا ہوگا، یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اگر ان کو پاکستان مردہ باد ہی کہنا ہوتا تو وہ پاکستان نہ آتے۔9 جولائی 2017 کو کراچی کے ایک صوبائی حلقےپی ایس 114 کی نشست کے ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سینیٹر سعید غنی کی کامیابی اور ایم کیو ایم (پاکستان) کے امیدوار کامران ٹسوری کی ہار الطاف حسین کو بہت بہت مبارک ہو۔ میں الطاف حسین کو مبارکباد اس لیے دئے رہا ہوں کہ 3 جولائی 2017کو ایم کیو ایم(لندن) نے پی ایس 114 کراچی کے ضمنی انتخابات کیلئے پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان ایم کیو ایم لندن نے الطاف حسین کی ہدایت پر جاری کیا تھا۔ انتخابات سے ایک روز پہلے ایم کیو ایم (پاکستان) کے امیدوار کی بہتر پوزیشن دیکھتے ہوئے ایم کیوایم (لندن) کے کنوینر ندیم نصرت نے ایک بیان میں کراچی کےعوام سے کہا کہ وہ پی ایس 114کےضمنی انتخاب کامکمل بائیکاٹ کریں، شاید اس بیان کے لیے بھی الطاف حسین نے حکم دیا ہو۔ کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں الطاف حسین ایم کیو ایم (پاکستان) کے سربراہ فاروق ستار اور سابق ناظم کراچی مصطفی کمال کو گالیوں سے نواز رہے تھے اور ساتھ ہی اپنے احسانات کا ذکر بھی کررہے تھے، ایسا پہلی بار نہیں ہوا ، الطاف حسین اس سے پہلے عظیم طارق اور ڈاکٹر عمران فاروق کے علاوہ اپنے بہت سے ساتھیوں کے ساتھ ایسا سلوک کرچکے ہیں۔

    حلقہ پی ایس 114سے 2013 کے انتخابات میں جلدہی جلدہی سیاسی وفاداریاں بدلنے والے عرفان اللہ مروت مسلم لیگ(ن) کے امیدوار تھے جنہوں نے 37ہزار 130ووٹ حاصل کئے تھےاورکامیاب قرار پائے تھے،دوسرے نمبر پر ایم کیو ایم کے روف صدیقی نے 32 ہزار ووٹ حاصل کیے تھے۔عرفان اللہ مروت کی کامیابی کو روف صدیقی نے چیلنج کیا تھا، الیکشن ٹربیونل نے روف صدیقی کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے پی ایس 114 میں دوبارہ انتخابات کرانے کا احکامات دیئے تھے۔9 جولائی 2017کو اس حلقہ میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 93ہزار 806 تھی، 58 ہزار 134 ووٹ ڈالے گئے، جن میں سے 413 ووٹ مسترد ہو گئے، یعنی 33.33 فیصد ووٹرز نے اپنا حق راے دہی استمال کیا ۔ اس مرتبہ کل ستائیس امیدواروں نے اس ضمنی انتخاب میں حصہ لیا تھا لیکن بنیادی مقابلہ شروع سے ہی پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم (پاکستان) کے درمیان تھا۔ اس مرتبہ اس نشست پر کامیابی پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سینیٹر سعید غنی کے حصے میں آئی انہوں نے 23 ہزار 797 ووٹ حاصل کئے، ان کے مدمقابل ایم کیو ایم (پاکستان) کے امیدوار کامران ٹیسوری 18ہزار 106 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار علی اکبر گجر تیسرئے نمبر پر رہےجبکہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے امیدواروں کے علاوہ دیگر امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہو گئیں۔

    پاکستان پیپلز پارٹی نے پہلی بار پی ایس 114 کی نشست جیتی ہے، 2013 کے انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار سجاد احمد کو اس نشست سے صرف 3827 ووٹ ملے تھے۔ ایم کیو ایم (پاکستان) کا اس نشست پرہارنے کی وجہ اس کا اپنا اندرونی خلفشار ہے، جس کے زمہ دار بانی ایم کیو ایم الطاف حسین ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ ان انتخابات کی طرف دیکھتی کیونکہ اس وقت پاناما پیپرز لیکس کے الزامات سے بچنا ان کا اولین مقصد ہے، لہذا پی ایس 114 کی نشست کی جیت یا ہار سے ان کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ پوری انتخابی مہم مسلم لیگ (ن) کی مقامی قیادت نے چلائی جن کی صورتوں سے بھی کراچی کے لوگ نا واقف ہیں۔ 2013 کے انتخابات میں کراچی سے 8 لاکھ ووٹ حاصل کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو بھی کراچی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، 2013 میں اس جماعت کو جو مقبولیت حاصل تھی وہ اب نہیں ہے ، 2013کے انتخاب میں دھاندلی سے کامیاب ہونے والا عرفان اللہ مروت اب تحریک انصاف میں شامل ہوچکا ہے۔ حسب دستور جماعت اسلامی اپنی ضمانت ضبط کرواکر پانچویں نمبر پر آئی ہے، مذہب کا چورن بیچنے والی جماعت اسلامی کی یہ تاریخ رہی ہے کہ یہ عام انتخابات میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوئی ہے، البتہ ڈکٹیٹروں کی حکومتوں میں ضرورشامل رہی ہے۔ کراچی کے عوام کی اکثریت لبرل ہے، لہذا اس جماعت کےامیدوار صرف ہارتے ہی نہیں ہیں بلکہ ان کی ضمانتیں بھی ضبط ہوجاتی ہیں۔ دوسری طرف ایم کیوایم (لندن) کے کنوینر ندیم نصرت کی آنکھوں اور دماغ کا علاج ہونا بھی بہت ضروری ہے جو یہ کہہ رہے ہیں کہ ایم کیو ایم (پاکستان) کو ملنے والے 18ہزار ووٹ فراڈ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ایس 114 کے ضمنی انتخاب میں ٹرن آؤٹ انتہائی کم رہا، لوگ گھروں سے ووٹ ڈالنے کے لیے نہیں نکلے۔

    پیپلز پارٹی سندھ میں 2008 سے مستقل حکومت کررہی ہے، پارٹی کے دونوں ادوار میں کرپشن اور ناقص کارکردگی کی وجہ سےسندھ بہت پیچھے چلاگیا جبکہ کراچی کھنڈرات میں بدل رہا ہے ، کراچی کے عوام یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں لیکن چونکہ ایم کیو ایم چار گروپ میں بٹنے کے بعد اپنی اصل طاقت کھوچکی ہے اور ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کا انتخابات میں پیپلز پارٹی کی حمایت کرنا پیپلز پارٹی کو بھرپور سیاسی آکسیجن مہیا کرنا تھا ، جوپیپلز پارٹی کی کامیابی کا سبب بنا، کہا جاسکتا ہے کہ یہ کامیابی الطاف حسین کی بھی ہے۔ ایم کیو ایم کے بانی نے 22 اگست 2016 کو پاکستان پر حملہ کیا تھا، اس کے بعد وہ مستقل ایم کیو ایم (پاکستان) پر حملہ کررہے ہیں۔ وقتی طور پر لوگ انتشار کا شکار ہوگئے تھے لیکن آہستہ آہستہ ایم کیو ایم کے حامیوں نے لندن میں موجود الطاف حسین سے ایم کیو ایم (پاکستان) کی علیحدگی کے اقدام کو درست تسلیم کرلیا ہے۔ ایم کیو ایم (لندن) نے جو بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، اس کا کوئی خاص اثر نہ پڑا اور پی ایس 114 کے حلقہ کے اردو بولنے والوں نے انتخاب میں بھرپور شرکت کی۔

    الطاف حسین کی22 اگست 2016کی تقریر سے جو سیاسی خلا پیدا ہونے کا خدشہ تھا، وہ پیدا نہیں ہوا اور ایم کیو ایم فاروق ستار کی قیادت میں متحد ہے۔امید ہے ایم کیو ایم (پاکستان) کے سربراہ فاروق ستار ان غلطیوں کو نہیں دہرایں گے جو الطاف حسین کرتے رہے ہیں اور2018 کے انتخابات میں ایم کیو ایم (پاکستان) ان کی قیادت میں ویسے ہی کامیابی حاصل کرئے گئی جیسے وہ ماضی میں کرتی رہی ہے۔
     
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,962
    موصول پسندیدگیاں:
    744
    ملک کا جھنڈا:
    2013 میں جب اس حلقے میں الیکشن ہوئے تھے تو پی ایم ایل نے 37 ہزار ووٹ لیے جب کے ایم کیو ایم نے 30 ہزار تحریک انصاف نے 13 ہزار اور پی پی نے 3 ہزار ووٹ لیے جبکہ جماعت اسلامی نے مسلم لیگ انتخابی اتحاد کرکے صوبائی نشست سے اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا
    یعنی ایم کیو ایم کے 30 ہزار کے مقابلے میں تقریبا 53 ہزار ووٹ پڑے
    جبکہ اس دفعہ پی پی نے 23 ہزار پی آئی بی نے 18 ہزار اور مسلم لیگ اور تحریک انصاف نے 5 ، 5 ہزار اور جماعت نے 1 ہزار ووٹ لیے ان کی کل تعداد 51 ہزار بنتی ہے
    اس بات کا مطلب ہے الحمدللہ مہاجروں اور ایم کیو ایم کا ووٹ نہیں بلکہ الطاف مخالف ووٹ تقسیم ہوا اور آپس میں بنٹ گیا
    ایک بات یاد رکھیے گا کہ یہ ضمنی انتخاب اسٹیبلشمنٹ نے اتوار والے دن رکھا تھا جو کہ آج تک نہیں ہوا تھا اور پوری سپورٹ کی تھی پی آئی بی کو جتوانے کی ، مگر کسی کام نہیں آئی اور لندن والوں کا بائیکاٹ جیت گیا ۔ کیونکہ ٹوٹل ٹرن آؤٹ 26 فیصد تھا
    ایک بات اور پی ایس 114 کے حلقے میں مہاجروں سے زیادہ دوسری قومیتیں بستی ہیں جن میں پنجابی اور بلوچ قوم کی اکثریت ہے
    مہاجر علاقوں میں ووٹنگ کی شرح 10 سے 12 فیصد تھی جبکہ دوسرے علاقوں میں مثلا چنیسر گوٹھ وغیرہ میں 33 فیصد تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    الطاف حسین یا ایم کیو ایم نے پی پی کی حمایت کبھی نہیں کی بلکہ صرف بائیکاٹ کیا تھا اگر آپ کے پاس حمایت کی خبر کوئی لنک یا ذرائع ہوں تو ہمیں بھی بتائیے گا ۔ ۔ ۔ کیونکہ ہم نہیں سمجھتے کہ اس معاملے میں آپ ہم سے زیادہ باخبر ہونگے
     
    سید انور محمود اور ھارون رشید .نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. سید انور محمود
    آف لائن

    سید انور محمود ممبر

    شمولیت:
    ‏2 اگست 2013
    پیغامات:
    470
    موصول پسندیدگیاں:
    525
    ملک کا جھنڈا:
    طویل معلومات دینے کا شکریہ، الطاف حسین نے حمایت کی تھی کے دو لنک حاضر ہیں
    https://daily.urdupoint.com/livenews/2017-07-03/news-1103529.html
    http://dailyqudrat.com/sindh/03-Jul-2017/134035
    خوش رہیں
     
  4. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,962
    موصول پسندیدگیاں:
    744
    ملک کا جھنڈا:
    ڈیلی قدرت اور اردو پوائنٹ ، بھائی رحم کریں ہم تو آپ کو قومی سطح کا تجزیہ نگار اور کالم نگار سمجھتے ہیں اور آپ ایسے چھوٹے چھوٹے پیجز کا حوالہ دے رہے ہیں ، اس سے اچھا تھا آپ ایم کیو ایم کی آفیشل ویب سائیٹ کا ہی ایک چکر لگا لیتے تو آپ کو اپنی خبر کنفرم کرنے میں آسانی ہوجاتی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    http://www.mqm.org/urdunews/39719
    لندن ۔۔۔ 3 جولائی 2017ء
    متحدہ قومی موومنٹ کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں واضح اوردوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ محمود آباد میں سندھ اسمبلی کی نشست PS - 114 پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں ایم کیوایم نے کسی بھی جماعت کی حمایت نہیں کی ہے ، نہ وہ حمایت کرے گی ، ایم کیوایم الیکشن کے بائیکاٹ کے فیصلے پر قائم ہے اور تحریک کے تمام سچے اورباوفا کارکنان وعوام سے کہتی ہے کہ وہ اس حوالے سے کسی بھی افواہ یا گمراہ کن پروپیگنڈے کا ہرگز شکار نہ ہوں اورایسے الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کریں جس کامقصد قوم کے اجتماعی مفادات کا تحفظ نہیں بلکہ چند لوگوں کوفائدہ پہنچانا ہو ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس کے علاوہ بھائی نے دو جولائی کو فیسبک پر لائیو خطاب کیا تھا آپ کہیں تو ( اور انتظامیہ کی اجازت ) وہ ویڈیو بھی شئیر کردوں ، آڈیو نہیں ویڈیو میں ہے اس میں بھائی کی زبانی بھی پی ایس 114 کے متعلق پارٹی پالیسی موجود ہے
     
  5. سید انور محمود
    آف لائن

    سید انور محمود ممبر

    شمولیت:
    ‏2 اگست 2013
    پیغامات:
    470
    موصول پسندیدگیاں:
    525
    ملک کا جھنڈا:
    بہت شکریہ ۔۔۔۔ نہیں جناب کوئی قومی، مقامی سطح کا ہم سے دور دور واسطہ نہیں بس شوق ہے لکھنے کا اور کچھ نہیں۔آپ کے دیے ہوئے لنک کو کھولنے کی کوشش کی لیکن کھلا نہیں، برحال اوپر جو ایم کیو ایم کے پریس ریلیز کا آپنے ذکر کیا ہے اس کا نقصان کسے ہوا اور فائدہ کسے یہ ضرورسوچیے گا، لندن ایم کیو ایم ’نا کھلیں گے اور نہ کھیلنے دینگے‘ کے فارمولے پر عمل پیرا ہے جو مہاجر کمیونیٹی کےلیے نقصان دہ ہے لیکن آپ ابھی اس سے اتفاق نہیں کرینگے۔ دو جولائی کی ویڈیو ضرور لوڈ کریں یقیناً 22 اگست سے زیادہ خطرناک نہیں ہوگی۔۔۔
    ہمیشہ خوش رہیں۔۔۔۔۔
     
  6. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,962
    موصول پسندیدگیاں:
    744
    ملک کا جھنڈا:
    آپ کی دعاؤں کا شکریہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ویڈیو پھر کبھی
     
  7. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,572
    ملک کا جھنڈا:
    mqm چبھتی ہے سب کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح ،،
     
  8. چھٹا انسان
    آف لائن

    چھٹا انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2016
    پیغامات:
    1,962
    موصول پسندیدگیاں:
    744
    ملک کا جھنڈا:
    کسی کے آنکھوں میں کھٹکتی ہے اور کسی کے دلوں میں دھڑکتی ہے
     
    حنا شیخ نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں