1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

صدمے یوں غیر پر نہیں آتے

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏21 اکتوبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    1,722
    موصول پسندیدگیاں:
    206
    ملک کا جھنڈا:


    صدمے یوں غیر پر نہیں آتے

    تمھیں جور اس قدر نہیں آتے

    پھر تسلی کی کون سی صورت

    خواب میں بھی نظر نہیں آتے

    آتے ہیں جب کہ نااُمید ہوں ہم

    کبھی وہ وعدے پر نہیں آتے

    روز کے انتظار نے مارا

    صاف کہہ دو اگر نہیں آتے

    اور تم کس کے گھر نہیں جاتے

    ایک میرے ہی گھر نہیں آتے

    سچ ہے حیلے مجھی کو آتے ہیں

    اور تمھیں کس قدر نہیں آتے

    ان کو میں کس طرح بھلائوں نظامؔ

    یاد کس بات پر نہیں آتے


    نظام رام پوری​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں