1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

صحت بخش تیل

'میڈیکل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏11 نومبر 2019 at 12:33 AM۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    1,773
    موصول پسندیدگیاں:
    208
    ملک کا جھنڈا:
    صحت بخش تیل
    upload_2019-11-11_0-32-27.jpeg
    محمد اقبال
    برصغیر پاک و ہند میں کھانوں کی تیاری کے لیے تیل کا استعمال کم و بیش لازمی سمجھا جاتا ہے۔اس سلسلے میں چند اقسام کے تیل رائج رہے۔ ان میں سرسوں، مونگ پھلی، تل، کرڑ اور ناریل کا تیل قابلِ ذکر ہیں۔ کرڑ (Saffola) کا تیل زیتون سے قریب تر شمار ہوتا تھا۔ آج یہاں زیتون کے علاوہ سویابین، پام، بنولا، مکئی اور کینولا کا تیل بھی میسر ہے۔ بحیرۂ روم کی آب و ہوا کے ملکوں میں زیتون کا تیل عوام کی اچھی صحت کا سبب قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ یہ خون میں کولیسٹرول کی سطح کم رکھتا ہے۔ ان تیلوں کے علاوہ اور بھی تیل ہیں جو صحت کے لیے مفید ہونے کے علاوہ کھانوں میں اپنی مخصوص مہک بھی پیدا کرتے ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں۔ گریپ سیڈ آئل: گریپ فروٹ کے بیجوں سے حاصل ہونے والا تیل ذہنی دباؤ سے معدے پر پڑنے والے اثرات کا تدارک کرتا ہے۔ یہ تیل مختلف طرح کے بیکٹیریا کے خلاف مؤثر ہے۔ اس میں طاقت ور اینٹی اوکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔ ہلکی چکنائی کا یہ تیل پتلا ہوتا ہے، اسے گرم کرنے پر اس سے دھواں جلدی نکلنے لگتا ہے، گویا اسے گرم کیے بغیر سلاد وغیرہ میں شامل کرنا مفید ہے۔ زیادہ درجہ حرارت پر اسے پکانا نہیں چاہیے۔ یہ تیل خون میں کولیسٹرول کم کرتا ہے۔ السی کا تیل: اس کی اپنی مہک ہوتی ہے۔ دوسرے تیلوں کے مقابلے میں کسی قدر گاڑھا ہونے کے باوجود اس کا شمار ایک اہم محافظِ صحت روغن کے طور پر ہوتا ہے۔ یہ بھوک کم کر کے وزن گھٹانے میں مدد کرتا ہے۔ اس کی افادیت کا اہم سبب اس میں پائی جانے والی اومیگا3 چکنائی ہے جو جسم میں ورم اور سوجن نہیں ہونے دیتی۔ السی کا تیل رگوں کو نرم اور کھلا رکھتا ہے لیکن اسے گرم کرنے پر اس کا مفید اومیگا3 جزو ختم ہو سکتا ہے، اس لیے اسے سلاد وغیرہ میں بغیر گرم کیے شامل کرنا چاہیے۔ السی کا تیل اومیگا کی حامل مچھلیوں کے روغن کا نباتی نعم البدل ہے۔ اس تیل کے کیپسول دل کو صحت مند رکھنے میںمعاون ہیں، فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہونے کی وجہ سے یہ شریانوں کے افعال کو بہتر بناتے ہیں۔ یہ دل سے جڑے مسائل جیسے دل کا دورہ اور فالج وغیرہ کی روک تھام کرتے ہیں۔ یہ تیل اینٹی اوکسیڈنٹس سے بھرپور ہونے کی وجہ سے صحت مند خلیات کو کینسر زدہ ہونے سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔ ورم کش خصوصیات ہونے کی وجہ سے یہ تیل مختلف اقسام کے کینسر میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم کرتے ہیں۔ کدو کے بیجوں کا تیل: جی ہاں، روغن کدو کا استعمال مفید قلب ہوتا ہے، اس میں بھی اومیگا3 پایا جاتا ہے۔ خود یہ بیج مزے دار ہوتے ہیں، جن کا استعمال مثانے اور اس کے غدود کی تکلیف کے لیے بہت مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ اسے گرم نہ کرنا مناسب ہے۔ تِل کا تیل: اس مفید تیل میں حیاتین ’’ھ‘‘ (وٹامن ای) خوب ہوتا ہے، جس سے رگیں صاف اور بلڈ پریشر معمول پر رہتا ہے۔ اخروٹ کا تیل: اس میں مانع تکسید (اینٹی اوکسیڈنٹ) خاصیت کے علاوہ اومیگا3بھی خوب ہوتا ہے۔ اخروٹ میں وٹا من بی کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ یہ جسم میں نفسیاتی دبائو کم کرنے اور چہرے پر جھریاں پڑنے کو مؤخر کرنے میںمعاون ہے۔ اس طرح اخروٹ بڑھاپے کی فوری آمد کو روکتا ہے۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں