1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

صبر بے مثل تھا، ہمت تھی بلا کی میری، .... نجف زاہراتقوی

'اردو ادب' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏13 جنوری 2021۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    6,465
    موصول پسندیدگیاں:
    777
    ملک کا جھنڈا:
    صبر بے مثل تھا، ہمت تھی بلا کی میری، .... نجف زاہراتقوی
    اپنے پیاروں کو کھو دینے والی ماؤں کی عظمت کو سلام

    قرآن کہہ رہا ہے ’’عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں‘‘یعنی ظاہری اور نظر آنے والی چیزوں کو سمجھ کر ان سے نتائج اخذ کرنا شعور کی علامت ہے۔آنکھ میں ظاہر ہونے والا آنسو دُکھ کی علامت،چہرے پر مسکراہٹ بکھر جانا خوشی کو ظاہر کرے۔
    اپنوں کے لیے دل میں پیدا ہونے والی تڑپ پیار کی نشاندہی کرتی ہے،غرض یہ کہ زندگی کا سلیقہ اور قرینہ سمجھنے کیلئے ہمارے آس پاس بے شمار نشانیاں موجود ہیں۔بس ہم با شعور ہو ں تو انہیں سمجھنے میں دیر نہیں لگتی۔یہ نشانیاں خوشی اور غم دونوں صورتوں میں سامنے آ سکتی ہیں، فرق ہوتا ہے تو بس ان سے حاصل ہونے والے نتائج کا،کہتے ہیں نہ کہ آزمائش جتنی کڑی ہوانعام بھی اتنا ہی بڑا ملتا ہے،اور یقینا دُکھوں کے امتحان خوشیوں کے دور سے زیادہ سخت ہوتے ہیں۔رب اپنے بندے کو کبھی دے کر آزماتا ہے تو کبھی دیا ہوا واپس لے کر،ہمیں تلقین کی جاتی ہے تو بس اتنی کہ دونوں صورتوں میں ’’صبر‘‘کیے رہنا۔ کیوں؟کیونکہ صبرکر لینا ہر انسان کے بس کی بات نہیں۔ دل میں پہاڑ جتنا حوصلہ اور اعصاب مضبوط ہوں تب ہی جان سے عزیز تر کوکھو کے بھی زبان پر حرفِ شکایت نہیں آتا۔

    ربِ تعالیٰ نے ہر انسان کی آزمائش دوسرے سے مختلف رکھی ہے۔دلوں کے حال جاننے والا بخوبی واقف ہے کہ کس میں کتنا حوصلہ موجود ہے۔تبھی تو اپنے بندے کو اس کی برداشت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔اس لحاظ سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ شاید اس کائنات میں سب سے زیادہ بڑا ظرف اور حوصلہ ربِ تعالیٰ نے عورت کے اندر رکھا ہے۔عورت بھی اگر ماں کا روپ دھار لے تو سارے جہاں کا صبر اس کے وجود میں سما جاتا ہے۔یہاں ہم کس ،کس ماں کا ذکر کریں؟اے پی ایس کے شہداء کی مائوں کا تذکرہ کریں، سیالکوٹ میں روزے کی حالت میں بے دردی سے قتل کیے جانے والے جوانوں کی مائوں کے نام لکھیں۔انسان نما بھیڑئیے کے ہاتھوں بے رحمی سے ماری جانیوالی زینب کی ماں کا حال بیان کریں یاخون جما دینے والی سردی میں اپنے جوانوں کی لاشیں پر روتی ان مائوں کی خون رُلا دینے والی داستان لکھیں جن کے خاندان میں لاشوں کو کندھا دینے والا بھی کوئی مرد نہیں بچا۔

    یہ واقعات ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ لغت میں جانے کیوں عورت کیلئے ’’صنف ِ نازک‘‘کالفظ استعمال کیا جاتا ہے۔کیا ایسی ہوتی ہے نزاکت؟نازک اعصاب بھلا کہاں ایسے دل دہلا دینے والے صدمات برداشت کر پاتے ہیں۔

    ماں کے ظرف اور حوصلے کی مثال روزِ ازل سے دنیا دے رہی ہے،اور جانتی ہے کہ اولادپیدا ہونے کے بعد عورت کا وجود اسی کے نام ہو جاتا ہے۔بچوں کی خوشی میں اس کا سکون چھپا ہوتا ہے۔اولاد دُکھ میں ہو تو ماں کے دل کوچین نہیں آتا ۔دو الگ جسم ہونے کے باوجود رب نے اولاد کیلئے ماں کے دل میں ایساقُرب پنہاں رکھا ہے جس کی کوئی دوسری مثال نہیں،اور پھر اسی اولاد کے ذریعے آزماتا بھی ہے۔تب دماغ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ جانے مائوں کیلئے قدرت نے کس قدر بڑا امتحان مقرر کر رکھا ہے جو وہ اپنی جان سے بڑھ کر عزیز چیز سے آزمائی جا رہی ہیں اور اس پر صبر بھی کیے ہوئے ہیں۔

    ایسے میں ہمارامقصد ماں کی محبت پر بات کرنانہیں بلکہ صرف اُن مائوں،بہنوں اور بیٹیوں کو سلام پیش کرنا ہے جنہوں نے چند گھنٹے نہیں بلکہ کئی روز اپنے پیاروں کی لاشوں کودیکھا۔ایسے جوان جو بے دردی سے قتل کر دئیے گئے ۔کوئی اپنا دنیا سے چلا جائے تو جب تک جنازہ آنکھوں کے سامنے رہے تب تک ان بند آنکھوں کو دیکھ کر آنسو نہیں رکتے جن میں چند لمحے پہلے زندگی دوڑا کرتی تھی دل چاہتاہے وہ ساکت لب پھر سے حرکت کریں جو بات کرتے تھے۔جس چہرے پر موت کی زردی چھائی ہے اس پہ پھر سے زندگی کے رنگ نظر آئیں، اور دل کبھی نہیں چاہتا کہ مردہ حالت میں ہی سہی لیکن اپنوں کا چہرہ آنکھوں سے دور ہو جائے ،لیکن تب تک دل کو صبربھی نہیں آتا جب تک میت دفنا نہ دی جائے۔ دفن کر دینے کے بعد ایک حد تک دل کرب میں مبتلا رہتا ہے لیکن بالآخرقرار آ ہی جاتا ہے۔تبھی تو قدرت نے زندگی موت کے یہ قانون بنائے ہیں۔ایسے میں کیوں نہ داد دی جائے ان خواتین کے حوصلے کی جنہوں نے کئی دن اپنوں کو مردہ حالت میں اپنے سامنے پڑے دیکھا۔کیا گزر رہی ہو گی ا ن کے دل پر،اور کس طرح ان دنوں کے نقوش دل و دماغ سے ہٹ پائیں گے۔شاید کبھی ہٹ بھی پائیں گے یا نہیں ۔ میلوں دور بیٹھے ہم صبر کرتی ان عورتوں کی تکلیف دیکھ سکتے ہیں یاکسی حد تک محسوس کر سکتے ہیں لیکن جو ان کے دل پر گزر گئی ہے خدا کرے کسی ماں پر ایسی مشکل نہ آئے۔

    زندگی میں آزمائے تو ہم سبھی جائیں لیکن دعا کیا کریں کہ ربِ تعالیٰ بڑی آزمائشوں سے اپنی امان میں رکھے۔

    سہنے کو تو انسا ن ہر دُکھ سہہ جاتا ہے لیکن ماں کیلئے اولادکا دُکھ ایسا ہے جو زندگی کے ساتھ جاتا ہے،ایسی بھی مائیں ہیں جو اولاد کے مر جانے کے بعد دنیا کے سامنے تو کبھی کبھار مسکر ا دیتی ہیں لیکن ان کے دل پر ایسا زخم پڑ جاتا ہے جو مرتے دم تک ان کیساتھ رہتا ہے۔کسی کا نام سنتے ہی اپنے بچے کھو دینے والی مائوں کی آنکھوں سے آنسوئوں کے سمندر بہتے دیکھنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔ ایسی مائیں بھی ہمارے معاشرے میں ہیں جوکسی جوان کا لاشہ دیکھیں تو کرب کی ایسی کیفیت ان پر طاری ہوتی ہے کہ غش کھا کر گر جاتی ہیں۔جیتی تو ہیں لیکن اندر سے مر چکی ہوتی ہیں۔یوں بھی ایسا بڑاصدمہ جھیلنے کے بعد زندہ رہ جانا ہی کسی حوصلے سے کم نہیں۔ماں کا ظرف،صبر اور حوصلہ تو ہم صدیوں سے دیکھتے آ رہے ہیں۔کربلا کی مائیں بھی کب بھولی ہیں ہمیں؟ماں تجھے سلام ۔۔۔ماں تجھے سلام ۔


     

اس صفحے کو مشتہر کریں