1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

شیدایانِ شہادت و فدایانِ اسلام

'عظیم بندگانِ الہی' میں موضوعات آغاز کردہ از نعیم, ‏26 جولائی 2012۔

  1. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,107
    موصول پسندیدگیاں:
    11,154
    ملک کا جھنڈا:
    شیدایانِ شہادت و فدایانِ اسلام

    جو معزز تھے زمانے میں مسلماں‌ہوکر

    مدینہ منورہ میں ایک مجاہد اور بزرگ ابو قدامہ شامی (رح) تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں رومیوں کے خلاف جہاد کرنے کا شوق اور ولولہ کوٹ کوٹ کر بھردیا تھا ایک بار وہ مسجد نبوی شریف میں بیٹھے ہوئے اپنے ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے ان کے ساتھیوں نے کہا اے ابو قدامہ آج آپ اپنے جہاد کا کوئی عجیب و غریب واقعہ سنایئے ۔ ابو قدامہ نے فرمایا ایک بار میں رقہ نامی شہر میں اونٹ خریدنے گیا تاکہ اس پر اسلحہ لاد سکوں ۔ ایک دن میں وہاں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی ۔ اے ابو قدامہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ لوگوں کو جہاد کی دعوت اور ترغیب دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسے بال عطا فرمائے ہیں جو میرے علاوہ کسی عورت کو عطا نہیں فرمائے میں نے ان بالوں کو کاٹ کر رسی بنالی ہے اس پر اچھی طرح مٹی مل دی ہے تاکہ ان بالوں کو کوئی دیکھ نہ سکے میری تمنا ہے کہ آپ میرے بالوں کی اس رسی کو اپنے ساتھ لے جائیں۔ دشمنوں کے ساتھ جہاد کے وقت آپ یا کوئی اور ضرورت مند مجاہد اس رسی کو گھوڑے کی لگام وغیرہ میں استعمال کر لے تاکہ اسے اللہ تعالیٰ کے راستے کا غبار نصیب ہو جائے ۔ میں ایک بیوہ عورت ہوں میرا خاوند اور خاندان سب اللہ کے راستے میں شہید ہو چکے ہیں اگر مجھے جہاد کرنے کی اجازت ہوتی تو میں بھی شریک ہوتی ۔ اس نے وہ رسی مجھے دے دی اور کہنے لگی ۔ اے ابو قدامہ میرے شہید خاوند نے اپنے پیچھے ایک لڑکا (میرا بیٹا)بھی چھوڑا ہے جو قرآن کا عالم ، گھڑ سواری اور تیر اندازی کا مشاق ماہر خوبصورت نوجوان ہے وہ راتوں کو قیام کرتاہے اور دن کو روزے رکھتا ہے اس کی عمر پندرہ سال ہے ۔ ابھی وہ اپنے والد کی چھوڑی ہوئی زمین پر گیا ہوا ہے ۔ ممکن ہے کہ وہ آپ کی روانگی سے پہلے آجائے تو میں اسے اللہ تعالیٰ کے حضوربطور ہدیہ آپ کے ساتھ میدان جہاد میں بھیج دوں گی ۔ میں آپ کو اسلام کی حرمت کا واسطہ دیتی ہوں کہ میری اجر وثواب حاصل کرنے کی تمنا ضرور پوری کرو ۔
    میں [ ابو قدامہ ] نے وہ رسی لے لی اور اسے اپنے سامان میں رکھ لیا اس کے بعد میں اپنے رفقاء سمیت رقہ سے روانہ ہوگیا ابھی ہم مسلمہ بن عبدلمالک کے قلعہ کے پاس پہنچے تھے کہ ایک گھڑ سوار نے مجھے پیچھے سے آوازدی۔ ہم رک گئے ۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم چلتے رہو ۔ میں اس گھڑ سوار کو دیکھتا ہوں ۔ تھوڑی دیر میں وہ گھڑ سوار آپہنچا ۔ اور اس نے ملاقات کے بعد کہا اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے مجھے آپ کی ہمراہی سے محروم نہیں فرمایا اور مجھے ناکام نہیں لوٹایا۔ میں نے کہا اے عزیز اپنے چہرے سے کپڑا ہٹاؤ تاکہ میں تمہں دیکھ کر فیصلہ کر سکوں کہ تم پر جہاد لازم ہوتا ہے یا نہیں ۔ اگر لازم ہوگا تو ساتھ لے جاؤں گا ورنہ واپس لوٹا دوں گا ۔ اس نے چہرہ کھولا تو وہ چودھویں کے چاند کی طرح ایک خوبصورت لڑکا تھا اور اس کے چہرے پر نازو نعم کے آثار چمک رہے تھے ۔ میں نے کہا بیٹا تمہارے والد زندہ ہیں ۔ اس کہا وہ اللہ کے راستے میں شہید ہو چکے ہیں ۔ امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان کی طرح قبول فرما لے ۔ میں نے پوچھا ۔ اے بیٹے کیا تمہاری والدہ نہیں ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں میں نے کہا جاؤ اپنی والدہ سے اجازت لے کر آؤ اگر اجازت دیں تو آجاؤ ورنہ ان کی خدمت کرو کیونکہ جنت تلواروں کے سائے اور ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے نوجوان نے کہا اے ابو قدامہ آپ نے مجھے نہیں پہچانا ۔ میں اس خاتون کا بیٹا ہوں جس نے آپ کو اپنے بالوں کی رسی دی ہے ۔ میں انشاء اللہ شہید ابن شہید ہوں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ مجھے جہاد سے محروم نہ رکھیں ۔ میں نے قرآن حفظ کر لیا ہے اور حضور اکرم ﷺکی سنت کا علم بھی حاصل کرلیا ہے ۔ گھڑ سواری اور تیر اندازی بھی سیکھ چکا ہوں بلکہ میں نے اپنے علاقے میں اپنے پیچھے اپنے جیسا کوئی گھڑ سوار نہیں چھوڑا آپ میری عمر کو نہ دیکھیں ۔ میری والدہ نے مجھے قسم دی ہے کہ میں واپس لوٹ کر ان کے پاس نہ جاؤ ں اور انہوں نے مجھے کہا ہے کہ اے پیارے بیٹے کافروں سے ڈٹ کر ثابت قدمی سے لڑنا اور اپنی جان اللہ تعالیٰ کو پیش کرنا اور اللہ کے قرب کی جستجو کرنا ۔ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں شہادت کی نعمت نصیب فرما دے تو پھر قیامت کے دن میری شفاعت کرنا کیونکہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ شہید قیامت کے دن اپنے ستر اہل خانہ اور ستر پڑوسیوں کی شفاعت کرے گا ۔ پھرمیری ماں نے مجھے سینے سے لگا کر بھینچا اور اپنا رخ آسمان کی طرف کر کے کہا۔اے میرے اللہ ! اے میرے آقا ! اے میرے مولا ! یہ میرا بچہ ہے ۔ میرے دل کا پھول اور کلیجے کا ٹکڑا ہے ۔ میں اسے تیرے سپرد کررہی ہوں ۔ اسے اپنے والد کے قریب کردے ۔
    ابو قدامہ کہتے ہیں کہ میں نے جب یہ باتیں سنیں تو میں رونے لگا لڑکے نے کہا اے چچا جان آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ اگر آپ کو میرا بچپن دیکھ کر رونا آرہا ہے تو اگر مجھ سے بھی چھوٹی عمر والا کوئی شخص اللہ کی نافرمانی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے بھی عذاب دے گا ۔ میں نے کہا میں تمہاری چھوٹی عمر پر نہیں رورہا لیکن میں تمہاری والدہ کے دل کا سوچ کر رورہا ہوں اور اس بات پر بھی کہ تمہاری شہادت کے بعد اس پر کیا گزرے گی ۔
    بہرحال ہمارا لشکر روانہ ہوگیا ۔ میں (ابوقدامہ ) نےاس لڑکے کے معمولات کو غور سے دیکھا جو اللہ کے ذکر سے بالکل غافل نہیں ہوتا تھا ۔ جب ہمارا لشکر چلتا تو وہ ہم میں بہترین گھڑ سوار تھا اور جب ہم کسی منزل پر رکتے تو وہ ہمارا خدمتگار بن جاتا تھا ۔ وہ مسلسل اپنے عزم کو مضبو ط اوراپنی چستی کو دوبالا اور اپنے دل کو صاف ستھرا کرنے میں لگا رہتا تھا اور خو شی کے آثار اس کے چہرے سے پھوٹتے نظر آتے تھے ۔ ایک دن غروب آفتاب کے وقت ہم نے دشمن کے علاقے کے بالکل قریب پہنچ کر پڑاؤ ڈالا چونکہ ہم روزے دار تھے اس لئے وہ نوجوان ہمارے افطار کے لئے کھانا بنانے لگا اچانک اسے اونگھ آگئی اور وہ سو گیا ۔نیند کے دوران وہ مسکرانے لگا ۔ جب وہ بیدار ہوا تو میں نے کہا بیٹے آپ نیند میں ہنس رہے تھے ۔ اس نے کہا میں نے ایک ایسا عجیب خواب دیکھا جس نے مجھے خوشی سے ہنسادیا میں نےپوچھا تم نے کیا دیکھا خواب میں ؟ کہنے لگا میں نے دیکھا کہ میں عجیب وغریب سبز باغ میں ہوں میں اس میں گھوم پھر رہا تھا کہ میں نے چاندی کا ایک محل دیکھا جس پر موتی جواہرات جڑے ہوئے تھے اس کے سونے کے دروازے پر پردے لٹکے ہوئے تھے اچانک میں نے دیکھا کہ نوجوان لڑکیوں نے پردے ہٹائے ان لڑکیوں کے چہرے چاند کی طرح خوبصورت تھے ۔ انہوں نے مجھے دیکھا توخوش آمدید کہنے لگیں میں نے ان میں سے ایک کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہاتو اس نے کہا جلدی نہ کروابھی اس کا وقت نہیں آیا پھر میں نے سنا کہ وہ ایک دوسرے سے کہہ رہی تھیں کہ یہ مرضیہ کا خاوند ہے ۔ پھر وہ مجھ سے کہنے لگیں تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو آگے بڑھو ۔ میں آگے بڑھا تو محل کے اوپر والے حصے پر سرخ سونے کا کمرہ تھا جس میں سبز زمرد کی ایک مسہری تھی جس کے پائے چاندی کے تھے اس پر ایک لڑکی بیٹھی تھی جس کا چہرہ سورج کی طرح تابناک تھا اگر اللہ تعالیٰ میری نظروں کو مضبوط نہ فرماتے تو کمرے کا حسن اور لڑکی کی خوبصورتی دیکھ کر میری عقل زائل ہو جاتی اور میری آنکھیں دیکھنے کے قابل نہ رہتیں جب اس لڑکی نے مجھے دیکھا تو کہنے لگی خوش آمدید خوش آمدید ۔ اے اللہ کے ولی او ر اس کے محبوب تم میرے ہو اور میں تمہاری ہوں میں نے چاہا کہ اسے سینے سے لگا لوں تو کہنے لگی ابھی رکو جلدی نہ کرومیری اور تمہاری ملاقات کل ظہر کی نماز کے وقت ہوگی ۔
    ابو قدامہ کہتے ہیں کہ خواب سن کر میں نے کہا بیٹے تم نے بڑی خیر کی بات دیکھی ۔ اب خیر ہی ہوگی (انشاء اللہ)-
    صبح کے وقت اعلان جنگ ہو گیا ۔ ہر طرف آوازیں لگنے لگیں ۔ اے اللہ کے سپاہیو! سوار ہو جاؤ اور جنت کی بشارت پاؤ ۔ اسی اثناء میں دشمن کا ٹڈی دل لشکر سامنے آگیا ہم میں سب سے پہلے اسی نوجوان نے حملہ کیا اوردشمنوں کو خوب قتل کیا اور ان کے جتھے کو اس نے توڑ دیا اور ان کی صفوں میں قلب تک گھستا چلا گیا ۔ میں نے اسے اس طرح لڑتے دیکھا تو اس کے قریب آکر میں نے اس کے گھوڑے کی لگام پکڑلی اور کہا اے بیٹے تم ابھی بچے ہو اور لڑائی کے گروں سے واقف نہیں ہو اس لئے پیچھے واپس چلو ۔ اور اس طرح سے دشمنوںکے درمیان نہ گھسواس کہا کہ چچا جان کیا آپ نے قرآن مجید کی آیت نہیں سنی ۔
    ترجمہ :۔ اے یمان والو جب تم کافروں سے میدان جنگ میں لڑو تو پیٹھ نہ پھیرو تو کیا چچا جان آپ چاہتے ہیں کہ میں پیچھے ہٹ کر دوزخ والوں میں سے ہوں جاؤں ؟
    ہم دونوں باتیں کر رہے تھے کہ دشمن نے یک بارگی حملہ کر دیا اور وہ ہم دونوں کے درمیان حائل ہوگئے اور ہرشخص اپنے طور پر لڑائی میں لگ گیا اس دن بہت سارے مسلمان شہید ہوگئے جب لڑائی تھمی تومقتولوں کی تعداد گننے میں نہیں آرہی تھی میں اپنے گھوڑے پر مقتولین کے درمیان گھومنے لگا ان کا خون زمین پر بہہ رہا تھا اور خون اور غبار کی کثرت کی وجہ سے ان کے چہرے پہچانے نہیں جاتے تھے ابھی میں گھوم رہا تھا کہ میں نے اسی نوجوان لڑکے کو گھوڑوں کے سموں کے درمیان مٹی اور خون میں تڑپتے دیکھا وہ زخمی حالت میں کہہ رہا تھا ۔ اے مسلمانو ! میرے چچا ابو قدامہ کو میرے پاس بھیجو میں آگے بڑھا اور اس کے پاس پہنچ گیا خون غبار اور سموں کے نیچے روندے جانے کی وجہ سے اس کا چہرہ پہچانا نہیں جا رہا تھا میں نے کہا میں ابو قدامہ ہوں ۔ اس نے کہا اے چچا جان !رب کعبہ کی قسم ! میرا خواب سچا نکلا میں اسی رسی والی خاتون کا بیٹا ہوں ۔ ابو قدامہ کہتے ہیں میں نے اسے گود میں لے لیا اور اس کی پیشانی کا بوسہ لے کر اس کے چہرے سے خون اور غبار صاف کرنے لگا ۔ میں نے کہا پیارے بیٹے قیامت کے دن شفاعت کے وقت اپنے چچا ابو قدامہ کو بھول نہ جانا اس نے کہا آپ جیسوں کو نہیں بھلایاجا سکتا آپ تو اپنے کپڑوں سے میر ا چہرہ صاف کر ہے ہیں۔حالانکہ میرے کپڑے اس خون اورخاک کے زیاہ مستحق ہیں چچا جان اسے اس طرح چھوڑ دیجئے تاکہ میں اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کروں ۔ چچاجان وہ حور جس کامیں نے رات کو آپ سے تذکرہ کیا تھا میرے سرہانے کھڑی ہے اور مجھے کہہ رہی ہے جلدی کیجئے میں بہت مشتاق ہوں چچا جان اگر آپ واپس چلے گئے تو میری غمگین اور بے چین ماں کو میرے یہ خون آلود کپڑے دے دیجئے گا تاکہ اسے معلوم ہو جائے کہ میں نے اس کی وصیت کو پورا کیا ہے اور دشمنوں کے ساتھ مقابلے میں میں نے بزدلی نہیں دکھائی اور میری طرف سے اسے سلام بھی کہہ دیجئے گا کہیےگا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا تحفہ قبول کر لیا ہے ۔ اے چچا جان ! میری ایک چھوٹی سی بہن ہے وہ ابھی دس سال کی ہے میں جب گھر آتا تھا وہ سلام کر کے میرا استقبال کرتی تھی اور جب میں گھر سے نکلتا تھا وہی سب سے آخر میں مجھ سے جداء ہوتی تھی ۔ ابھی جب میں آرہا تھا تو اسنے مجھے رخصت کرتے وقت کہا تھا کہ بھائی جان اللہ کے واسطے واپس آنے میں زیادہ دیر نہ کرنا جب آپ کی اس سے ملاقات ہوتو اسے میرا سلام کہئے گااور کہئے گا کہ تمہارے بھائی نے کہا ہے ۔ اے پیاری بہن ! اب قیامت تک اللہ تمہارا نگہبان ہے پھر وہ مسکرایا اور اس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ یہ وہ وقت ہے جس کا ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے وعدہ فرمایا ہے ۔ اور اللہ اور اس کے رسول سچے ہیں یہ الفاظ کہتے ہوئے اس کی روح پرواز کر گئی ۔ ہم نے اسے دفن کر دیا ۔ اللہ اس سے اور ہم سے راضی ہو جائے ۔
    ہم جب اس لڑائی سے واپس لوٹے تو رقہ شہر میں بھی آئے میں فوراًاس نوجوان کے گھرکی طرف روانہ ہوا ۔ میں نے دیکھا کہ ایک خوبصورت بچی جو شکل و خوبصورتی میں اس نوجوان جیسی تھی دروازے پر کھڑی ہے اور ہر گزرنے والے سے پوچھتی ہے چچاجان آپ کہاں سے آرہے ہیں وہ جواب دیتا جہاد سے ۔ تو پھر پوچھتی کیا میرا بھائی آپ کے ساتھ واپس نہیں آیا وہ کہتا میں تمہارے بھائی کو نہیں پہچانتا ۔ ابو قدامہ کہتے ہیں کہ میں نے جب یہ سنا تو میں اس کے پاس پہنچا ۔ مجھ سے بھی اس نے وہی پوچھا کہ چچا جان !آپ کہاں سے آرہے ہیں میں نے کہاجہاد سے -کہنے لگی کیا میرا بھائی آپ کے ساتھ نہیں آیا ؟۔ یہ کہہ کر وہ رونے لگی اور کہنے لگی کیا ہو گیا سارے لوگ آرہے ہیں ۔ میرا بھائی ابھی تک نہیں آیا ۔ اس کی یہ بات سن کر مجھے بہت رونا آیا ۔ مگر میں نے اس بچی کی خاطر خود کو سنبھال لیا میں نے کہا بیٹی اس گھر کی مالکن کو بتاؤ کہ ابو قدامہ سے بات کر لے۔
    میری آواز سن کر وہ خاتون نکل آئیں میں نے سلام کیا انہوں نے جواب دیا اور کہنے لگی ابو قدامہ خوشخبری دینے آئے ہو کہ یا تعزیت کرنے ۔ میں نے کہا مجھے اپنی بات کا مطلب سمجھایئے کہنے لگیں اگر میرا بیٹا واپس آگیا ہے تو پھر تم تعزیت کرو اور اگر شہید ہو گیا ہے ۔ تو پھر تم خوشخبری سنانے والے ہو میں نے کہا خوش ہوجاؤ ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارا تحفہ قبول فرمالیا ہے ۔ وہ رونے لگی اور کہنے لگی کیا واقعی قبول فرمالیا ہے میں نے کہا ہاں وہ کہنے لگی تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے اسے میرے لئے آخرت میں ذخیرہ بنادیا پھر میں بچی کی طرف بڑھا اور میں نے کہا بیٹی تمہارے بھائی نے تمہیں سلام کہا ہے اور اس نے کہا ہے کہ میرے بعد اللہ تمہارا نگہبان ہے یہ سن کر بچی نے چیخ ماری اور بے ہوش ہو کر گر گئی تھوڑی دیر بعد میں نے اسے ہلایا تو اس کی روح بھی پرواز کر چکی تھی ۔ میں نے نوجوان کے کپڑے اس کی والدہ کے سپرد کئے اور میں نوجوان اور بچی کے انتقال پر صدمے اور اس عورت کے صبرواستقالال پر تعجب کے ساتھ واپس آگیا ۔

    ( احمد بن الجوزی الدمشقی فی کتابہ المسمی بسوق العروس وانس النفوس)
     

اس صفحے کو مشتہر کریں