1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

شکریہ

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از کنول, ‏16 جون 2007۔

  1. کنول
    آف لائن

    کنول ممبر

    شمولیت:
    ‏4 اگست 2006
    پیغامات:
    161
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    [​IMG]

    نظم - - - شکریہ

    سن میری تصور ِ جاناں
    تو میری حیات ہے
    حیات کیا تو میری ذات ہے
    میری ہر سانس میں تیری چاہت رچی ہے
    ایسی چاہت جو کبھی
    موت کے آنے پر کی جائے
    تیری آنکھ کا اک آنسو بھی
    تیزاب کی طرح میری روح تڑپاتا ہے
    دیکھ تو میری تصور ِ جاناں
    تیرے آنے میری ویراں زندگی میں بہار ہے
    خود سے بھی بڑھ کے مجھے تجھ سے پیار ہے
    میرے دل کے دشت میں
    تو برکھا بن کے برسی ہے
    میری ادھورے جیون میں
    دل کے اس ویرانے میں
    آنکھوں کی ان جھیلوں میں
    کنول کی طرح تو مہکتی ہے

    مگر مجھے اب جانا ہے
    کہ تیرا میرا سفر یہیں تک رہا
    بھول جانا تو جو بھی میں نے کہا
    بس جاتے جاتے
    اے میری تصور ِ جاناں
    شکریہ مجھے تجھ سے کہنا ہے
    شکریہ تری ہر بات کا
    تری چاہت ، تری ہر سوغات کا
    بخشے تیرے آنسو، ہر مسکان کا
    تیرے سپنوں کا اور تیرے دھیان کا
    کہ یہ چند پل ہی میری زندگی کا حاصل ہیں
    مگر اے تصور ِ جاناں
    کےا کروں کہ مجھے اب جانا ہے
    چھوڑ کے تجھے اب جانا ہے
     
  2. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب

    کنول جی
    بہت ھی خوبصورت نطم ھے، کیا تصورجاناں کا احساس آپ نے پیش کیا ھے، واہ !!!!!!
     
  3. فیصل سادات
    آف لائن

    فیصل سادات ممبر

    شمولیت:
    ‏20 نومبر 2006
    پیغامات:
    1,713
    موصول پسندیدگیاں:
    156
    ملک کا جھنڈا:
    ماشاءاللہ بہت ہی خوبصورت نظم ہے
    اور نہایت ہی منظم انداز میں خیالات کو الفاظ کی شکل دی ہے آپ نے کنول ،
    مگر ایک بات ذرا حیران کیے دیتی ہے کہ یہ نظم کافی حد تک مردانہ معلوم ہوتی ہے ،نمونے کے طور پر یہ شعر دیکھیں:
    میرے دل کے دشت میں
    تو برکھا بن کے برسی ہے

    اور یہ بھی
    آنکھوں کی ان جھیلوں میں
    کنول کی طرح تو مہکتی ہے

    ہاں اگر کسی سہیلی کے لیے لکھی ہے تو علیحدہ بات ہے !
     
  4. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    کنول جی ۔ بہت عمدہ نظم ہے۔ بہت بہت داد قبول فرمائیے۔
     
  5. کنول
    آف لائن

    کنول ممبر

    شمولیت:
    ‏4 اگست 2006
    پیغامات:
    161
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    Re: بہت خوب


    بہت بہت شکریہ عبد الرحمن جی ،۔ ۔ ۔

    آپ کی حوصلہ افزا ئی کے واسطے بندی شکر گذار ہے ، ۔ ۔ ۔​

    :)
    [​IMG]
     
  6. کنول
    آف لائن

    کنول ممبر

    شمولیت:
    ‏4 اگست 2006
    پیغامات:
    161
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    سلام فیصل جی ،۔ ۔ ۔

    آپ نے صحیح پہچانا یہ نظم ایک محبوب کی طرف سے ہی لکھی گئی ہے، جس میں اس کے جانے کا جواز پیش کیا گیا ہے۔ جو ایک
    طرح سے طنزیہ انداز بھی لئے ہوئے ہے۔ کہ مصنف اپنے محبوب کے
    جانے کی ادا یاد کر رہا ہے۔

    پسند فرمانے کے لئے شکریہ جناب ،۔ ۔ ۔

    [​IMG]
     
  7. کنول
    آف لائن

    کنول ممبر

    شمولیت:
    ‏4 اگست 2006
    پیغامات:
    161
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    نعیم جی شکریہ ،۔ ۔ ۔ :)
    [​IMG]
     
  8. فیضان الحسن
    آف لائن

    فیضان الحسن ممبر

    شمولیت:
    ‏12 جون 2007
    پیغامات:
    25
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    مگر مجھے اب جانا ہے
    کہ تیرا میرا سفر یہیں تک رہا
    بھول جانا تو جو بھی میں نے کہا
    بس جاتے جاتے
    اے میری تصور ِ جاناں​


    کنول جی واہ کیا بات ہے کیا اندازے بیاں ہے " اے تصور جاناں" وہ یعنی کے وہ بڑی بڑی انچ انچ بھر پلکیں وہ گیسوئے دراز وہ ڈبڈباتی آنکھیں ـ ایک دوسرے کو دیکھنا اور دل کی دھڑکن سے الوداع کہنا " مگر مجھے اب جانا ہے ـــــــــــــــــــــــ"


    "جب سمندر میں سفر کے سارے رستے بند ہوں
    کشتیوں کو چھوڑ دینا اور کنارہ باندھنا"​
     
  9. کنول
    آف لائن

    کنول ممبر

    شمولیت:
    ‏4 اگست 2006
    پیغامات:
    161
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    فیضان جی آپ کے اس خوبصورت سے انداز کے لئے شکریہ ،۔ ۔ ۔ اپنے تصور میں آپ نے تصور ِ جاناں کی بڑی دلفریب سی شبیح بنائی ہے،
     

اس صفحے کو مشتہر کریں