1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

شفاعت........... لَا إِلٰهَ إِلاَّ اﷲُ کی گواہی۔۔۔!!!!!

'سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم' میں موضوعات آغاز کردہ از دُعا, ‏14 ستمبر 2015۔

  1. دُعا
    آف لائن

    دُعا ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مارچ 2015
    پیغامات:
    5,102
    موصول پسندیدگیاں:
    4,604
    ملک کا جھنڈا:
    [​IMG]
    ’’حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم کسی غزوہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر پر تھے۔ فرماتے ہیں : حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے آخری حصہ میں ہمارے ساتھ آرام کے لیے اترے، پس میں رات کے ایک حصے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھونڈتا ہوا آپ کی آرام گاہ کی طرف گیا تو میں نے آپ کو وہاں نہ پایا۔
    میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھونڈتا ہوا میدان کی طرف نکل گیا تو ایک اور صحابی کو دیکھا کہ وہ بھی میری طرح آپ کی تلاش میں ہے۔ فرماتے ہیں : ہم اسی حالت میں تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی طرف تشریف لاتے دیکھ کر ہم نے عرض کیا : یارسول اﷲ! آپ دارالحرب میں ہیں اور ہمیں آپ کی فکر ہے لہذا اگر آپ کو کوئی حاجت پیش آئی تو کیوں نہ آپ نے کسی غلام کو فرمایا کہ وہ آپ کے ساتھ جاتا؟ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے ہوا کی سرسراہٹ یا شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسی آواز سنی اس اثناء میں میرے رب کی طرف سے آنے والا (جبرائیل وحی لے کر) آیا۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے مجھے میری تہائی امت (بغير حساب کے) جنت میں داخل کرنے اور شفاعت کے درمیان اختیار دیا؟ تو میں نے ان کے لیے شفاعت کو اختیار فرما ليا اس لئے کہ مجھے معلوم ہے کہ وہ ان کے لیے زیادہ وسیع ہے۔ پھر اس نے مجھے (دوبارہ) میری آدھی امت جنت میں داخل فرمانے اور شفاعت کے درمیان اختیار دیا؟ تو میں نے ان کے لیے اپنی شفاعت کو اختیار کر ليا اور میں جانتا ہوں کہ وہ ان کے لیے زیادہ وسعت کی حامل ہے۔ ان دونوں نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! آپ اﷲ تعالیٰ سے دعاکیجئے کہ وہ ہمیں آپ کی شفاعت کا اہل بنائے۔ آپ نے ان دونوں کے لیے دعا فرمائی پھر انہوں نے (دیگر) صحابہ کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کے بارے میں آگاہ کیا تو وہ آپ کے پاس آنا شروع ہوگئے اور عرض کرنے لگے :
    یا رسول اﷲ! آپ اﷲتعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں آپ کی شفاعت سے نوازے تو آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ جب آپ کے پاس لوگوں کا کثیر جھرمٹ ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یقیناً وہ شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس حال میں فوت ہوا کہ لَا إِلٰهَ إِلاَّ اﷲُ کی گواہی دیتا ہو۔‘‘

    اسے امام احمد اور رویانی نے روایت کیا ہے۔
    أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 415، الرقم : 19724، والروياني في المسند، 1 / 330، الرقم : 501، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 368

     
    ھارون رشید اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    جزاک اللہ
     
    دُعا نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,673
    موصول پسندیدگیاں:
    16,910
    ملک کا جھنڈا:
    حق لاالہ الاللہ محمد الرسول اللہ
     
    دُعا اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. دُعا
    آف لائن

    دُعا ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مارچ 2015
    پیغامات:
    5,102
    موصول پسندیدگیاں:
    4,604
    ملک کا جھنڈا:
    [​IMG]
     
    پاکستانی55 اور ھارون رشید .نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. نظام الدین
    آف لائن

    نظام الدین ممبر

    شمولیت:
    ‏17 فروری 2015
    پیغامات:
    1,981
    موصول پسندیدگیاں:
    2,049
    ملک کا جھنڈا:
    سید نا معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :‘‘ من شھد ان لا الہ الا اللہ مخلسا من قلبہ دخل الجنۃ ’’جس شخص نے خلوص دل سے لا الہ الا اللہ کی گواہی دی وہ جنت میں داخل ہو گیا۔( صحیح مسلم کتاب الایمان باب الدلیل علی ان مات علی التوحید دخل الجنۃ قطعا )
    سید نا معاذ ہی بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : من مات و ھو یشھدان لا الہ الا اللہ و ان محمد رسول اللہ صادقا من قلبہ دخل الجنۃ ۔ ( صحیح ابن حبان :ص:366 ج : 1)۔ سید نا عثمان سے مروی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ‘‘من مات وھو یعلم انہ لاالہ الا اللہ دخل الجنۃ ’’جو آدمی اس حال میں مرگیا کہ وہ لا الہ الا اللہ کو جانتا تھا وہ جنت میں داخل ہو گیا۔
    ایک آدمی فوت ہوا اس کے ننانوے ر جسٹر گناہوں سے بھرے ہوئے رجسٹر بھی تا حد نگا ہ طویل قامت والے ہوں گے حتی کہ وہ شخص اتنے زیادہ گناہوں کی بنا پر نا امید ہو گا ۔ اسے کہا جائے گا ہمارے پاس تیری ایک نیکی ( لا الہ الا اللہ ) ہے۔ وہ کہے گا اتنے برے رجسٹروں کے مقابلےمیں ایک نیکی کیا حثیت رکھتی ہے ،تو ایک پلڑے میں ننانوے رجسٹر اور دوسرے پلڑے میں کلمہ ( لا الہ الا اللہ ) والی ایک پرچی رکھ دی جائیگی تو وہ کلمہ والا پلڑا بھاری ہو جائیگا ۔ (حدیث بطاقہ)
    مستدرک حاکم وغیرہ میں حدیث سے سید نا حذیفہ بن یمان بیان کرتے ہیں لوگوں پر ایک ایسا وقت آجائے کہ وہ نماز ، روزہ ، کو بھی نہیں جانتے ہوں گے اور کہیں گے ہم نے اپنے آباء و اجداد کو سنا وہ یہ کلمہ پڑھتے تھے لا الہ الا اللہ سید نا حذیفہ بن یمان کے شاگرد صلہ بن زمر نے کہا یہ کلمہ ان کو کیا فائدہ دے گا سیدنا حذیفہ بن یمان فرمایا : ‘‘تنجیھم من النار ’’‘‘یہ کلمہ ان کو آگ ( جہنم ) سے نجات دے گا ۔
     
    پاکستانی55 اور ھارون رشید .نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,673
    موصول پسندیدگیاں:
    16,910
    ملک کا جھنڈا:
    جزاک اللہ
     
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں