1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از ساگراج, ‏4 فروری 2008۔

  1. عائشہ جاوید
    آف لائن

    عائشہ جاوید ممبر

    شمولیت:
    ‏1 جون 2008
    پیغامات:
    176
    موصول پسندیدگیاں:
    4
    لاکھوں ستم اٹھائے ہزاروں ہی غم ہوئے
    تب جاکے آشنائے رموز الم ہوئے

    ہم اہل دل ہیں واقف اسرار کائنات
    جام سفال عشق ہمیں جام جم ہوئے

    ”دنیا ہمارے حال کی جویا ہے کس لئے؟“
    کب اس کی وحشتوں کے طلب گار ہم ہوئے؟

    آتی ہے یاد لذت غم ہائے آرزو
    کہنے کو غم ہزار ہوئے پھر بھی کم ہوئے

    پہلے زمانہ صرف حریف زبان تھا
    پھر یوں ہوا کہ ہاتھ بھی اپنے قلم ہوئے

    اللہ رے اہل دہر کی جادو بیانیاں
    جتنے تھے جرم میرے ہی حق میں رقم ہوئے

    آگاہ خود سے کیا ہوئے آزاد ہوگئے
    یوں بے نیاز قصۂ دیر و حرم ہوئے

    سرور چلو ہے میکدہء عشق سامنے
    مدت ہوئی زیارت اہل حرم ہوئے

    (سرور)
     
  2. این آر بی
    آف لائن

    این آر بی ممبر

    شمولیت:
    ‏13 جنوری 2008
    پیغامات:
    1,495
    موصول پسندیدگیاں:
    108
    :a180:
     
  3. نور
    آف لائن

    نور ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جون 2007
    پیغامات:
    4,021
    موصول پسندیدگیاں:
    22
    بہت خوب کلام ہے۔ لیکن یہ دو اشعار معرفتِ حقیقی کا اشارہ دیتے ہیں
     
  4. ساگراج
    آف لائن

    ساگراج ممبر

    شمولیت:
    ‏31 جنوری 2008
    پیغامات:
    11,702
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    عائشہ جی بڑی خوبصورت غزل ہے :mashallah:
    شئیر کرنے پر بہت شکریہ۔
    آپ کو کافی دنوں کے بعد واپس دیکھ کر اچھا لگا۔ پلیزز اب باقاعدہ لکھتی رہیں۔
    :dilphool:
     
  5. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    37
    بہت اچھے
    :a180:

    آپ سے پہلی بار بات ھو رھی ھے
    بہت شکریہ اچھی شاعر ی کے لئے
    امید ھے اب آپ آتی رھیں گی
     
  6. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب کہا شاعر نے۔ سارا کلام عمدہ ہے۔ لیکن یہ شعر حاصلِ کلام ہے۔
    عائشہ جاوید بہن۔ شئیرنگ کے لیے شکریہ :a180:
     
  7. ساگراج
    آف لائن

    ساگراج ممبر

    شمولیت:
    ‏31 جنوری 2008
    پیغامات:
    11,702
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    مجھے اپنے لفظوں کی خوشبوؤں میں رکھنا
    مجھے ذات کے استعاروں میں رکھنا
    مجھے اپنے آنگن میں جھکتے ہوئے چاند تاروں میں رکھنا
    میرے چن خط ہیں جنہیں‌ میں نے
    اپنے لہو کی صداقت سے لکھا تھا تم کو
    میرے چند لمحے ہیں جن میں
    صداؤں کی پاکیزگی سے پکارا تھا تم کو
    میرے چند لہجے ہیں‌ جن میں
    تمہاری ہی طرزِ تخاطب کا رنگ آ چلا تھا
    میرے چند جملے ہیں جن کی
    سماعت لیئے اب تمہیں ایک مدت ہوئی
    میرے کچھ پسندیدہ باتیں بھی ہیں
    جن کو حاصل تمہاری پسندیدگی تھی
    میری کچھ کتابیں ہیں
    جو تم نے شائید یونہیں مانگ لی تھیں
    میرا ایک ماضی ہے
    جس کو تمہاری رفاقت نے ماضی کا مفہوم بخشا
    میرا ایک آئندہ تھا جس کے آئینہ خانوں میں
    عکس آشنا تھے تمہارے تراشیدہ ابرہ، ہجر سی جبیں اور خوابوں سی آنکھیں
    میری چند خوشیاں تھیں جن پہ تمہاری
    قامت کا سایہءِ آفریں تھا
    وہ اک پھول جس کو کبھی تم نے
    سارے پھولوں سے چن کر رکھ لیا تھا
    انھیں اور کچھ اور باتوں کو بھی
    اپنی یادوں میں رکھنا
    انھیں گفتگو کے کناروں میں رکھنا
    اشاروں میں رکھنا
    انھیں ذات کے استعاروں میں رکھنا :flor:
     
  8. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    37
    واہ بہت خوب
    اچھا کلام شئیر کرتے ھیں‌ آپ
     
  9. ساگراج
    آف لائن

    ساگراج ممبر

    شمولیت:
    ‏31 جنوری 2008
    پیغامات:
    11,702
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    شکریہ :flor:
     
  10. ساگراج
    آف لائن

    ساگراج ممبر

    شمولیت:
    ‏31 جنوری 2008
    پیغامات:
    11,702
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    ایک سزا اور اسیروں کو سنا دی جائے
    یعنی اب جرمِ اسیری کی سزا دی جائے

    اس کی خواہش ہے کہ اب لوگ نہ روئیں نہ ہنسیں
    بےحسی وقت کی آواز بنا دی جائے

    دشتِ نادیدہ کی تحقیق ضروری ہے مگر
    پہلے جو آگ لگی ہے وہ بجها دی جائے

    صرف جلنا ہی نہیں ہم کو بهڑکنا بهی تو ہے
    عشق کی آگ کو لازم ہے ہوا دی جائے

    صرف سورج کا نکلنا ہے اگر صبح تو پهر
    ایک شب اور میری شب سے ملا دی جائے

    اور ایک تازہ ستم اس نے کیا ہے ایجاد
    اس کو اس بار ذرا کهل کی دعا دی جائے
     
  11. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب۔ ظالم حکمرانوں کے ظالمانہ طرزِ فکر پر بہت اچھا شعر ہے۔ بدقسمتی سے ہماری قوم کے ساتھ یہی معاملہ ہورہا ہے اور ہم گہری بےحسی کی نیند سلائے جارہے ہیں۔

    بہت خوب ساگراج بھائی ۔ عمدہ شئیرنگ ہے۔ :a180:
     
  12. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    جینے کی اک امنگ میر ے پاس تو رہی
    کچھ دیر کو سہی یہ خوشی راس تو رہی

    یا دوں کے اثا ثے ہیں میر ے پاس بہت سے
    کچھ وقت گذاری کی مجھے آس تو ر ہی

    یہ کیسا جام تھا جسے پینے کے بعد بھی
    سانسیں ہو ئیں بحال مگر پیا س تو رہی

    جس کی مجھے تلاش تھی وہ ہی نہ مل سکا
    لوگوں کی ورنہ نظر کرم خاص تو رہی

    مانا کہ دل کسی پہ بھی آیا نہیں کبھی
    حالانکہ وصل رت بھی میرے پاس تو رہی

    خو شبو تیری بچھڑ کے بھی تجھ سے میرے حبیب
    بن کر تیرے وجود کا احساس تو رہی


    (شاعر : نامعلوم)
     
  13. ساگراج
    آف لائن

    ساگراج ممبر

    شمولیت:
    ‏31 جنوری 2008
    پیغامات:
    11,702
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    ابھی ضد نہ کر دلِ بےخبر
    کہ پسِ ہجومِ ستم گراں
    ابھی کون تجھ سے وفا کرے
    ابھی کس کو فرصتیں اس قدر
    کہ سمیٹ کر تیری کرچیاں
    تیرے حق میں خود سے دعا کرے
    ابھی ضد نہ کر دلِ بےخبر
    کہ تہہِ غبارِ غمِ جہاں
    کہاں کھو گئے تیرے چارہ گر
    کہ رہ حیات میں رائیگاں
    کہاں سو گئے تیرے ہمسفر
    ابھی غمگساروں کی چوٹ سے
    ابھی کچھ نہ سن۔۔۔۔ ابھی کچھ نہ کہہ
    ابھی ضد نہ کر میرے بے نوا
    ابھی ہو سکتے تو سخی میرے
    سبھی خواب راکھ میں دفن کر
    ابھی ہو سکے تو یہ سوچ لے
    کہ طلوعِ اشک سے پیش تر
    کہیں درد ہے تو ہوا کرے
    کوئی چوٹ ہے تو کھلا کرے
    کبھی یوں بھی ہو کہ سرِ افق
    تیرے دکھ کا چاند دمک اٹھے
    کوئی ٹیس خود سے چمک اٹھے
    کسی شہرِ زخم فروش میں
    کوئی زخم خود سے خرید کر
    سبھی اشک خود سے کھرچ کبھی
    کسی آئینے پہ آ دید کر
    کبھی یوں بھی جشِ طرب منا
    کبھی اس طرح سے بھی عید کر
     
  14. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    37
    ابھی کون تجھ سے وفا کرے
    ابھی کس کو فرصتیں اس قدر
    کہ سمیٹ کر تیری کرچیاں
    تیرے حق میں خود سے دعا کرے


    بہت خوب زبردست :a180: :a165:
     
  15. ساگراج
    آف لائن

    ساگراج ممبر

    شمولیت:
    ‏31 جنوری 2008
    پیغامات:
    11,702
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    پسندیدگی کا شکریہ
    :dilphool:
     
  16. ساگراج
    آف لائن

    ساگراج ممبر

    شمولیت:
    ‏31 جنوری 2008
    پیغامات:
    11,702
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    عمر جلوؤں میں بسر ہو یہ ضروری تو نہیں
    ہر شبِ غم کی سحر ہو یہ ضروری تو نہیں

    چشمِ ساقی سے پیئو یا لبِ ساغر سے پیئو
    بےخودی آٹھوں پہر ہو یہ ضروری تو نہیں

    نیند تو درد کے بستر بھی آ سکتی ہے
    ان کی آغوش میں‌ سر ہو یہ ضروری تو نہیں

    شیخ کرتا تو ہے مسجد میں خدا کو سجدے
    ان کے سجدوں میں اثر ہو یہ ضروری تو نہیں

    سب کی نظروں میں ہو ساقی یہ ضروری ہے مگر
    سب پہ ساقی کی نظر ہو یہ ضروری تو نہیں
     
  17. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    37
    شیخ کرتا تو ہے مسجد میں خدا کو سجدے
    ان کے سجدوں میں اثر ہو یہ ضروری تو نہیں


    واہ بہت خوبصورت شئیر نگ کی ھے ساگراج جی ہمیشہ کی طرح
     
  18. ساگراج
    آف لائن

    ساگراج ممبر

    شمولیت:
    ‏31 جنوری 2008
    پیغامات:
    11,702
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    خوشی بہت شکریہ پسندیدگی کا ۔ یہ آپ کا حسنِ نظر ہے کہ ہمیشہ کلام پسند آ جاتا ہے۔
    :dilphool:
     
  19. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب ساگراج بھائی ۔ عمدہ غزل ہے۔
    مرحوم نصرت فتح علی خان ۔ ان اشعار کے بعد یہ ساغر صدیقی کی یہ غزل گاتے تھے۔ سو عرض ہے

    میں تلخی ء حیات سے گھبرا کے پی گیا
    غم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا

    اتنی دقیق شے کوئی کسے سمجھ سکے
    یزداں کے واقعات سے گھبرا کے پی گیا

    چھلکے ہوئے تھے جام پریشاں تھی زلفِ یار
    کچھ ایسے حادثات سے گھبرا کے پی گیا

    میں آدمی ہوں کوئی فرشتہ نہیں حضور
    میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا

    دنیائے حادثات ہے ایک درد ناک گیت
    دنیائے حادثات سے گھبرا کے پی گیا

    کانٹے تو خیر کانٹے ہیں ان سے گلہ ہی کیا
    پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا

    ساغر وہ کہ رہےتھے کہ پی لیجیے حضور !
    ان کی گزارشات سے گھبرا کے پی گیا


    ساغر صدیقی​
     
  20. مبارز
    آف لائن

    مبارز ممبر

    شمولیت:
    ‏3 اگست 2008
    پیغامات:
    8,835
    موصول پسندیدگیاں:
    25
    بہت خوب۔۔
     
  21. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    37
    ساگراج جی اچھے انتخاب کی تعریف تو میں اپنا فرض سمجھتی ھوں
     
  22. ساگراج
    آف لائن

    ساگراج ممبر

    شمولیت:
    ‏31 جنوری 2008
    پیغامات:
    11,702
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    اسے اپنے فردا کی فکر تھی وہ جو میرا واقفِ حال تھا
    وہ جو اس کی صبح ِ عروج تھی وہی میرا وقتِ زوال تھا

    میرا درد کیسے وہ جانتا میری بات کیسے وہ مانتا
    وہ تو خود فنا کے سفر میں تھا اسے روکنا بھی محال تھا

    کہاں جاؤ گے مجھے چھوڑ کے میں یہ پوچھ پوچھ کے تھک گیا
    وہ جواب مجھ کو نہ دے سکا وہ تو خود سراپا سوال تھا

    وہ جو اس کے سامنے آ گیا وہی روشنی میں نہا گیا
    عجب اس کی ہیبتِ حسن تھی عجب اس کا رنگ و جمال تھا

    دمِ واپسی اسے کیا ہوا نہ وہ روشنی نہ وہ تازگی
    وہ ستارا کیسے بکھر گیا وہ تو آپ اپنی مثال تھا

    وہ ملا تو صدیوں کے بعد بھی میرے لب پہ کوئی گلہ نہ تھا
    اسے میری چپ نے رلا دیا جسے گفتگو میں کمال تھا

    میرے ساتھ لگ کہ وہ رو دیا مجھے فخری اتنا وہ کہہ سکا
    جسے جانتا تھا میں زندگی وہ تو صرف وہم و خیال تھا
     
  23. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    ساگراج جی کے بعد نیچے کسی کا " برا انتخاب " بھی تھا۔
    اسکے لیے کم از کم تھوڑ ی جلی کٹی ہی سنا دیتیں :rona:
     
  24. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    وہ ملا تو صدیوں کے بعد بھی میرے لب پہ کوئی گلہ نہ تھا
    اسے میری چپ نے رلا دیا جسے گفتگو میں کمال تھا​


    ساگراج بھائی ۔ کیا کہنے آپکے ذوقِ‌انتخاب کے۔ ماشاءاللہ ۔
    ہمیشہ کی طرح زبردست :a180:
     
  25. مبارز
    آف لائن

    مبارز ممبر

    شمولیت:
    ‏3 اگست 2008
    پیغامات:
    8,835
    موصول پسندیدگیاں:
    25
    بہت خوب۔۔۔
     
  26. مسز مرزا
    آف لائن

    مسز مرزا ممبر

    شمولیت:
    ‏11 مارچ 2007
    پیغامات:
    5,466
    موصول پسندیدگیاں:
    22
    بہت خوبصورت اشعار ہیں :neu:
     
  27. ساگراج
    آف لائن

    ساگراج ممبر

    شمولیت:
    ‏31 جنوری 2008
    پیغامات:
    11,702
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    نعیم بھائی، کاشفی بھیا، اور بہن جی بہت شکریہ پسندیدگی اور حوصلہ افزائی کا
    :dilphool:
     
  28. این آر بی
    آف لائن

    این آر بی ممبر

    شمولیت:
    ‏13 جنوری 2008
    پیغامات:
    1,495
    موصول پسندیدگیاں:
    108
    ویسے اِس شعر کی کلاس ہی اور ہے۔ :101: :101: :101:
     
  29. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    فقط اتنا کہا تھا نا ہمیں تم سے محبت ہے
    ہماری جان لو گے کیا اب اتنی بات کے پیچھے


    سحر علی​
     
  30. ساگراج
    آف لائن

    ساگراج ممبر

    شمولیت:
    ‏31 جنوری 2008
    پیغامات:
    11,702
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    یہ اکیلےپن کی اداسیاں، یہ فراق لمحے عذاب سے
    کبھی دشتِ دل پہ آ رکیں تیری چاہتوں کے سحاب سے

    میں ہوں تجھ کو جاں سے عزیزتر میں یہ کیسے مان لوں اجنبی
    تیری بات لگتی ہے وہم سی تیرے لفظ لگتے ہیں خواب سے

    یہ جو میرا رنگ و روپ ہے یونہی بے سبب نہیں دوستو
    میرے خوشبوؤں سے ہیں سلسلے میری نسبتیں ہیں گلاب سے

    اسے جیتنا ہے تو ہمنشیں یونہی گفتگو سے نہ کام لے
    کوئی چاند لاکے جبیں پہ رکھ، لا کوئی گہر تہہِ آب سے

    وہی معتبر ہے میرے لئے، وہ جو حاصلِ دل و جان ہے
    وہ جو باب تم نے چرا لیا میری زندگی کی کتاب سے
     

اس صفحے کو مشتہر کریں