1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

شانی کی کہانی

'اردو ادب' میں موضوعات آغاز کردہ از آصف احمد بھٹی, ‏29 نومبر 2012۔

  1. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:

    السلام علیکم
    دوستوں ! یہ لڑی ایک نئے لکھنے والے کی حوصلہ افزائی اور پزیرائی کے لیے بنائی جا رہی ہے ۔
    اس لڑی میں شانی صاحب اپنی کہانی لکھیں گے ، جو کہ سلسلہ وارہو گی ، آپ سب سے گزارش ہے کہ کہانی کے مکمل ہونے تک اس لڑی میں آتے رہیں‌ اور thanks کے زریعے شانی کی حوصلہ افزائی کرتے رہیے ۔
    برائے مہربانی کہانی کے اختتام تک تبصروں سے گریز کیجئے گا ، کہانی مکمل ہونے کے بعد دل کھول کر شانی کہ رہنمائی اور کہانی پر تبصرے کیجئے گا ۔ شکریہ
     
  2. شانی
    آف لائن

    شانی ممبر

    شمولیت:
    ‏18 فروری 2012
    پیغامات:
    3,129
    موصول پسندیدگیاں:
    241
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: شانی کی کہانی

    اسلام و علیکم
    میں آج ایک چھوٹی سی کوشش کرنے جا رہا ھوں۔ بس آپ سب کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔امید ہے آپ سب میرا بھر پور ساتھ دیں گے


    گمنام عاشق۔ پہلی قسط[/
    COLOR]


    آج صبح سے ہی حویلی میں بہت رونق تھی۔ ہر طرف چہل پہل تھی۔ کیونکہ ہر سال کی طرح اس سال بھی ڈاکٹر جبار اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اپنے گائوں آئے تھے۔اس بار انکے ساتھ انکی بہن ماہم بھی آئی تھی۔ویسے تو یہ سب کراچی شہر میں رہتے تھے۔لیکن سال میں ایک دو بار وہ سب اپنے گائوں ضرور آتے تھے۔ یہ حویلی ڈاکٹر جبار کے دادا جی کی تھی۔ڈاکٹر جبار کے والد اشرف صاحب فوج میں صوبیدار تھے۔وہ اپنی نوکری کے زمانے سے ہی کراچی آگئیے تھے۔انکے دو ہی بچے تھے۔بڑا بیٹا جبار اور بیٹی ماہم۔انکے اچھے مستقبل کے لیے انھوں نے شہر میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔کیونکہ اس وقت گائوں میں پڑھائی کا کوئی خاص رحجان نہیں تھا۔اشرف صاحب کی خوائش تھی کہ ان کے بچے اچھی تعلیم حاصل کریں۔اور اپنا ایک بہترین مستقبل بنائیں۔انکی محنت رائیگاں نہیں گئی تھی۔اسلیئے آج انکا بیٹا جبار ڈاکٹر بن گیا اور بیٹی ماہم نے بھی وکالت پاس کر لی تھی۔اشرف صاحب خود بھی لڑکیوں کے کام کرنے کے خلاف تھے۔اسلیئے انھوں نے ماہم کو صرف پڑھنے پر ہی ترجیح دی۔
    آج اشرف صاحب خود تو اس دنیا میں نہیں رہے،لیکن جبار اور ماہم اپنی فیملیز کے ساتھ کراچی میں ہی رہتے ہیں اور ہر سال گائوں ضرور آتے ہیں۔
    ڈاکٹر جبار صبح ہی اپنے آبائی قبرسات چلا گیا تھا۔جہاں انکے دادا، دادی اور والدیں کی قبریں تھی۔داکٹر جبار نے اپنے بزرگوں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کی۔ اور انکی مغفرت کی دعائیں کیں۔اسکے بعد وہ ایک اور قبر پر گئے۔جس پر کوئی نام نہیں تھا،بس صرف ایسا لگتا تھا کہ کسی کی قبر ہے۔اس قبر کو پکا نہیں کیا گیا تھا۔ صرف چاروں طرف سے اینٹوں کی سنگل دیوار بنائی گئی تھی تاکہ اسکو پانی نہ لگے۔اس قبر پر بھی ڈاکٹر صاحب نے فاتحہ خوانی کی اور دعائیں کیں۔دعا سے فارغ ھو کر وہ وہیں قبر کے پاس بیٹھ گئے۔اور قبر کی مٹی کو برابر کرنے لگے۔فالتو پتھر اور پتے وغیرہ ہٹائے۔پھر وہ واپس جانے کے لیے اٹھ کھڑے ھوئے۔لیکن انکی آنکھیں نم تھی،کچھ آنسو تھے جو انکی آنکھوں سے نکل پڑے۔کوں تھا اس قبر میں ،کیا رشتہ تھا ،اسکا ڈاکٹر جبار سے۔اس گائوں میں یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔
    ناشتے کی ٹیبل پر سب ڈاکٹر جبار کا ہی انتظار کر رہے تھے۔راضیہ جو ڈاکٹر جبار کی بیوی تھی،سب کے لیے ناشتہ لگا رہی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کی ایک ہی بیٹی تھی۔ ماہین نام تھا اسکا۔اسکی عمر 11 سال تھی۔ما ہم بھی ناشتے میں اپنی بھابھی کا ساتھ دے رہی تھی،ماہم کے بھی دو بچے تھے، رافع اور عماد۔رافع چھ سال کا تھا اور عماد 4 سال کا۔سب بچے ناشتے کا انتظار کر رہے تھے۔ویسے تو حویلی میں نوکر تھے،لیکن ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ گھر کے کھانے کا حساب گھر کی عورتیں ہی رکھیں تو اچھا ہے ۔
    ڈاکٹر جبار واپس آگئے تھے اور ناشتے کی ٹیبل پر سب کے ساتھ بیٹھ چکے تھے۔ناشتہ وغیرہ کرنے کے بعد بچے باہر کھیلنے چلے گئے تھے۔اب ڈاکٹر صاحب کے پاس صرف راضیہ اور ماہم ہی بیٹھی تھیں۔ڈاکٹر صاحب جب سے واپس آئے تھے خاموش تھے۔اس بات کا اندازہ راضیہ نے لگا لیا تھا کہ ایسا کیوں ہے۔
    بلآخر راضیہ نے ہی پوچھ لیا کیا بات ہے۔جب سے آئے ہیں خاموش ہیں ۔کچھ نہیں بس ویسے ہی آج قبرستا ن گیا تھا تو کچھ پرانی یادیں تازہ ھو گئیں۔ ماہم سے چپ نہ رہا گیا تو وہ بھی بول پڑی، بھائی جان مجھے بھی ساتھ لے جاتے تو میں بھی امی ابو کی قبروں پر فاتحہ خوانی کر آتی اور ساتھ میہں حاکم کی مغفرت کے لیے بھی دعا کرتی۔ نہیں ماہم عورتوں کا قبرستان جانا جائز نہیں ہے ،اسلیئے میں تم لوگوں کو ساتھ لے کر نہیں گیا۔


    جاری ہے
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. شانی
    آف لائن

    شانی ممبر

    شمولیت:
    ‏18 فروری 2012
    پیغامات:
    3,129
    موصول پسندیدگیاں:
    241
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: شانی کی کہانی

    قسط نمبر 2


    شام کی ٹھنڈی ہوا میں ڈاکٹر جبار گارڈن میں بیٹھے تھے۔ راضیہ بھی انکے پاس بیٹھی تھی۔ لیکن دونوں خاموش تھے۔اتنے میں ماہم بھی وہیں چائے لے کر آگئی۔ اس نے دونوں کو چائے دی اور خود بھی اپنی چائے لے کر وہیں بیٹھ گئی۔ بھائی ہم واپس کب جائیں گے۔ ماہم پرسوں تک انشاء اللہ چلے جائیں گے۔ کل حاکم کی برسی ہے اور میں چاہتا ھوں کہ ہر سال کی طرح اس کی برسی یہیں کروں۔ اس لیے اس دفعہ میں تم کو بھی ساتھ لایا ھوں۔ ھاں بھائی اس انسان کے ہم پر بہت احسان ہیں ۔وہ ہمارا کچھ نہ ھو کر بھی بہت کچھ ھو گیا ۔ ماہم کچھ لوگ ھوتے ہیں جو کسی کے نہ ھو کر بھی بہت کچھ بن جاتے ہیں۔ پاس بیٹھی راضیہ دونوں کی باتیں سن رہی تھی لیکن وہ خاموش تھی۔ کہنا تو وہ بھی بہت کچھ چاہتی تھی ،لیکن اس کی زبان اسکا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ شاہد دل کے کسی گوشے میں وہ بھی اسی کو سوچ رہی تھی۔ جس کا نام حاکم تھا۔
    حاکم بھی کراچی کا رہنے والا تھا ۔ اس کے مان باپ اسکے بچپن میں ہی اس دنیا سے رخصت ھو گئے۔ اس نے بچپن سے جوانی تک کا سفر اکیلے ہی طے کیا۔ وہ ایک اچھا ڈرائیور تھا۔ بہت جگہ اس نے ڈرائیور کی نوکری کی۔ لیکن کسی جگہ بھی اس نے 5 یا 6 مہینے سے زیادہ کام نہیں کیا۔ اس کی وجہ اس کی صاف گوئی اور اس کی خوداری تھی۔ وہ کبھی کسی کی چاپلوسی نہیں کرتا تھا۔ جھوٹ کبھی اس نے بولا نہیں اور سچ کبھی اس نے چھوڑا نہیں۔عمومی طور پر بڑے لوگ مغرور ھوتے ہیں اور حاکم کو مغروری پسند نہیں تھی۔کبھی کسی سے زیادہ بات نہیں کرتا تھا،مطلب کی بات ھو تو جواب دیتا تھا ورنہ اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔
    ہر وقت سوچوں میں ڈوبا رہنا اسکا مشغلہ تھا۔ زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا پر اہنی ڈائری باقاعدگی سے لکھتا تھا۔ اس کی ڈائری ہی اس کی زندگی تھی۔وہ ڈائری میں کیا لکھتا تھا یہ اس کے مرنے دم تک کسی کو معلوم نہیں تھا۔
    آج کل حاکم فارغ تھا، کوئی کام نہیں تھا۔ اس لیے وہ زیادہ تر گھر میں ہی رہتا تھا یا پھر شام کے وقت گھر کے پاس ہی ایک ھوٹل میں چلا جاتا تھا۔ جہاں اس کا دوست اکبر کبھی کبھی اس سے ملنے آ جاتا تھا۔ اکبر ایک پرائویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا۔اور ہر دوسرے یا تیسرے دن وہ حاکم کو ملنے آ جایا کرتا تھا۔آج بھی وہ شام کو ہوٹل میں ملے تھے۔ حاکم کی اداسی دیکھ کر اکبر نے اس سے کہا کہ یار زیادہ پریشان نہ ھو میں تمھارے لیے کام ڈھونڈ رہا ھون ، نہیں اکبر میں کام کی وجہ سے پریشان نہیں ھوتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اتنی رقم تو میرے پاس ہے کہ میں ایک سال تک بھی فارغ رہ سکتا ھوں پر یار مجھ سے نکما نہیں بیٹھا جاتا۔ بس تو جلدی میرے لیے کچھ کام ڈھونڈ ،لیکن اس بار کوئی ایسا گھر دھونڈنا جہاں میں کام کر سکوں ۔ ٹھیک ہے یار کچھ کرتے ہیں تمھارے لیے۔
    اشرف صاحب بھی کراچی میں ہی رہتے تھے اور آجکل انکو بھی اپنے گھر کے لیے ڈرائیور چائیے تھا۔ کیونکہ ڈاکٹر جبار تو اپنی گاڑی لے کر اپنے کلینک چلا جاتا تھا اور گھر میں صرف ماہم اور ااشرف صاحب ہی ھوتے تھے اور وہ دونوں ہی ڈرائیونگ نہیں کر سکتے تھے۔اس لیے اشرف صاحب کو گھر کر کام کاج کے لیے ایک ڈرائیور کی ضرورت تھی۔ اس کے لیے ڈاکٹر جبار نے اخبار میں ایک اشتہار بھی دے دیا تھا۔ڈرائیرو تو بہت آئے لیکن اشرف صاحب کو پسند نہیں آئے۔ کیو نکہ یہ انکی بیٹی کی بات تھی اس لیے وہ سوچ سمجھ کر ڈرائیور رکھنا چاہتے تھے۔ کیونکہ گھر کا سامان اور راشن وغیرہ ماہم ہی مارکیٹ سے لاتی تھی۔ اس لیے اشرف صاحب کوئی ایسا ڈرائیور رکھنا چاہتے تھے کہ جس پر اعتبار کیا جا سکے۔
    حاکم کی قسمت حاکم کو کہان لے کر جانے والی تھی یہ حاکم کو بھی معلوم نہیں تھا ۔دو تین دن بعد اکبر حاکم سے ملنے آیا تو بہت خوش تھا ۔ اس نے حاکم کو بتایا کہ میں نے تمھارے لیے کام ڈھونڈ لیا ہے اور جیسا ڈرائیور ان لوگوں کو چائیے تو بلکل ویسا ہی ہے، وہ اخبار اپنے ساتھ لایا تھا ااکبر نے حاکم سے کہا کہ چل اٹھ چلتے ہیں آج تیرا کام بن جائے گا۔ حاکم نے پوچا کون لوگ ہیں وہ تو اس کی تسلی کے لیے اکبر نے اتنا ہی کہا کے میں ان لوگوں کو جانتا ھوں ۔ بہت اچھے لوگ ہیں اور تم کو وہاں کوئی مشکل بھی نہیں ھو گی۔اس کی بات پر حاکم اس کے ساتھ چل دیا۔ وہ دونوں اشرف صاحب کو گھر پہنچ گئے اور حاکم کو کام بھی مل گیا


    جاری ہے۔
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    شانی کی کہانی ۔ ۔ ۔ ادھوری ہی رہ گئی ؟
     
  5. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    7,115
    موصول پسندیدگیاں:
    2,254
    ملک کا جھنڈا:
    تھوڑا انتظار اور کرلیتے ہیں
     
  6. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    انتہا ہو گئی ۔ ۔ ۔ انتظار کی ۔ ۔ ۔
     
  7. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,719
    ملک کا جھنڈا:
    شانی صاحب نے ‏2 دسمبر 2012 کے بعد اچھا خاصا آرام کر لیا
    لگتا ہے اب آصف بھائی نے ان کو جگا کے دم لینا ہے
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    سوئے ہوئے کو تو جگایا جا سکتا ہے ، جاگے ہوئے کو کیا جگانا ۔ ۔ ۔
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,719
    ملک کا جھنڈا:
    بابا جی کہتے ہیں کہ
    گھوڑے بیچ کے سونے والا



    سردی میں پانی ڈالنے سے بھی نہیں اٹھتا.
    [​IMG]
     
  10. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    بابا جی کے تجربے ۔ ۔ ۔

    یقینا ہم جیسوں کے لیے بہت اہم ہیں ۔ ۔ ۔
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,719
    ملک کا جھنڈا:
    بابا جی کہتے ہیں
    تجربہ حاصل کرنا ہو




    تو کسی تجربہ کار کی تخلیق کو
    بار بار خراب کرتے رہو اور وہ آپ کے سامنے دوبارہ بناتے رہیں گے
    تو سیکھ جائینگے
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    واہ بابا جی واہ
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  13. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,719
    ملک کا جھنڈا:
    بابا جی کہتے ہیں
    واہ واہ کرتے رہیے
    خوشی بہت ہوتی ہے



    بس غرور کبھی نہیں کیا ہاہاہاہا
     

اس صفحے کو مشتہر کریں