1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

سیف الدین سیف ۔۔۔ہدایتکار، فلمساز اور با کمال شاعر ....عبدالحفیظ ظفر

'اردو ادب' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏24 جنوری 2021۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    6,465
    موصول پسندیدگیاں:
    777
    ملک کا جھنڈا:
    سیف الدین سیف ۔۔۔ہدایتکار، فلمساز اور با کمال شاعر ....عبدالحفیظ ظفر

    پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے تولاکھ چلے رے گوری تھم تھم کے

    پاکستانی فلموں کیلئے نغمہ نگاروں نے اپنی صلاحیتیوں کے ایسے ایسے جوہر دکھائے جن کی بنا ء پر انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔ بعض نغمہ نگار ایسے تھے جنہوں نے غزل اور نظم کے میدان میں بھی اپنی فنی عظمت کا لوہا منوایا۔ اگر بھارت کے نغمہ نگار باکمال تھے تو پاکستان کے نغمہ نگار بھی کسی سے کم نہیں تھے۔ پاکستانی نغمہ نگاروں کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کے کئی گیتوں کو بھارتی فلموں میں شامل کیا گیا۔ قتیل شفائی مرحوم تو کئی دفعہ بھارت گئے اور ان کے گیتوں کو بھارتی فلموں میں شامل کیا گیا۔ پاکستان میں تنویر نقوی، قتیل شفائی، منیر نیازی، تسلیم فاضلی، فیاض ہاشمی، مسرور انور، حبیب جالب، خواجہ پرویز، حکیم عثمانی اور یونس ہمدم نے یادگار اردو گیت تخلیق کئے۔ پنجابی فلموں کیلئے احمد راہی، حزیں قادری اور وارث لدھیانوی نے یادگار نغمات لکھے۔احمد راہی نے اردو نغمات بھی لکھے لیکن ان کی اصل شہرت پنجابی نغمات کی وجہ سے ہے۔ ان سب کے علاوہ ایک اور نغمہ نگار تھے جنہوں نے لازوال شہرت حاصل کی اور وہ تھے سیف الدین سیف۔
    سیف الدین سیف کے علاوہ تنویر نقوی اور قتیل شفائی ایسے نغمہ نگار تھے جنہوں نے غزل اور نظم کے میدان میں بھی اپنے فن کا سکہ جمایا۔ قتیل شفائی کے تو کئی کلیات منظر عام پر آئے لیکن یہ حقیقت ہے کہ سیف الدین سیف اور تنویر نقوی نے اردو نغمات کے علاوہ پنجابی گیت بھی تحریر کئے اور بہت شہرت حاصل کی۔ قتیل شفائی نے شاید ایک دو پنجابی فلموں کے لئے بھی گیت لکھے۔
    سیف الدین سیف نغمہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ہدایت کار، فلمساز اور مکالمہ نگار بھی تھے۔انہوں نے ''سات لاکھ‘‘ اور ''کرتار سنگھ ‘‘ جیسی باکمال فلیں بنائیں۔ ''کرتار سنگھ‘‘ کی ہدایات بھی انہوں نے دیں اور اس فلم کو عظیم ترین فلموں میں شمار کیا جاتاہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ''کرتار سنگھ‘‘ احمد ندیم قاسمی کے افسانے ''پرمیشر سنگھ ‘‘سے متاثر ہوکر بنائی گئی تھی، لیکن یہ کہنا درست نہیں۔ کرتار سنگھ کا سکرپٹ بالکل مختلف تھابہرحال اس شاہکار فلم کا مقابلہ کسی اور فلم سے نہیں کیا جاسکتا۔ سیف الدین سیف ہدایت کاری میں بھی کامیاب رہے۔ ان کی فلمی شاعری کا آغاز تقسیم ہند سے پہلے ہی ہوچکا تھالیکن اس کا باقاعدہ آغاز قیام پاکستان کے بعد ہوا۔ ان کے بیٹے محسن سیف کا کہنا ہے کہ جو لوگ ان کے شعری کلیات ''خم کا کل‘‘ اور ''کف گل فروش‘‘ کا مطالعہ کرچکے تھے جب انہوں نے سیف صاحب کے فلمی گیت سنے تو انگشت بدنداں رہ گئے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے نغمات میں سیف الدین سیف کا رنگ اور آہنگ بالکل مختلف تھا ۔ انہوں نے اپنے وقار اور معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
    سیف صاحب کو جس گیت سے شہرت ملی وہ ڈبلیو زیڈاحمد کی فلم ''وعدہ‘‘ تھی۔دراصل یہ ایک نظم تھی جو لاہور کے ایک جریدے کے دفتر میں بیٹھ کر لکھی گئی تھی۔محسن سیف کے بقول یہ نظم 40منٹ میں تحریر کی گئی بعد میں اسے فلم ''وعدہ‘ ‘میں شامل کیا گیا۔ اس گیت کے بول تھے ''تیری رسوائیوں سے ڈرتا ہوں،جب ترے شہر سے گزرتا ہوں‘‘اسے شرافت علی نے گایا اور رشید عطرے نے موسیقی دی ۔ان کا یہ گیت ان کی شناخت بن چکا ہے۔دوسرا معرکہ آرا ء گیت فلم ''گمنام‘‘ کا تھا جس کے بول تھے''پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے ،تو لاکھ چلے رے گوری تھم تھم کے‘‘۔اقبال باتو نے یہ امر گیت ماسٹر عنائیت حسین کی موسیقی میں گایا تھا۔سیف صاحب نے جتنی فلموں کے گیت لکھے ان میں سے اکثر سپرہٹ ہوئیں لیکن کچھ ناکامی سے بھی دو چار ہوئیں۔لیکن ان کی جو فلمیں باکس آفس پر ناکام ہوئیںان کے گیت بھی بڑے معیاری تھے۔وہ فلمیں کمزور سکرپٹ ،غیر معیاری ہدایت کاری اور دیگر عوامل کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکیں۔سیف صاحب کو کسی بھی طرح موردالزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ان فلموں میں''پرویز ،ماضی حال مستقبل ، جھومر چور،حقیقت ،پیاسا ،باپ کا گناہ ،محفل ،مسکراہٹ‘‘ اور'' لیلیٰ مجنوں ‘‘کے نام لیے جا سکتے ہیں،''لیلیٰ مجنوں ‘‘وہ فلم تھی جس میں انہوں نے مثنوی لکھی۔
    سیف الدین سیف کی ہدایت کار حسن طارق سے دوستی تھی اور ذہنی ہم آہنگی بھی۔غالباًیہی وجہ تھی کہ حسن طارق کی زیادہ تر فلموں کے نغمات سیف صاحب نے ہی لکھے اس کی وجہ ان کا منفرد انداز تھا۔ویسے اس حوالے سے سیف صاحب کا اپنا ہی ایک شعر ہے۔
    سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے
    ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
    حسن طارق کی فلموں ''انجمن ،تہذیب،امرائو جان ادا ‘‘اور ''ثریا بھوپالی‘‘کیلئے سیف صاحب نے جو نغمات لکھے ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ان سب کے علاوہ ان کی فلم ''اک گناہ اورسہی‘‘کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا اس فلم میں وہ ایک مختلف نغمہ نگار کی حیثیت سے سامنے آئے اور سب حیرت کے سمندر میں ڈوب گئے ۔قادر مطلق نے سیف صاحب کو زبردست صلاحیتوں سے نوازا تھا۔اس خاکسار سے ان کی صرف ایک ملاقات ہوئی۔80ء کی دہائی میں وہ ایک ادبی محفل کی صدارت کر رہے تھے اور ان کی عقل و دانش کے موتی بکھررہے تھے۔جب انہوں نے یہ کہا ''جب کسی کے اشتعال کا سورج سوا نیزے پر آجائے تو اس سے معافی کی توقع عبث ہے کیونکہ آگ میں پھول نہیں کھلتے‘‘ تو بے ساختہ سب کے منہ سے واہ واہ نکلی۔
    سیف صاحب نوجوان ادیبوں اور شعراء کی بڑی حوصلہ افزائی کرتے تھے لیکن وہ انہیں تلقین بھی کرتے تھے کہ معیار پر سمجھوتہ نہ کریں۔کم لکھیں لیکن اچھا لکھیںان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اچھا ادیب اور شاعر بننے کے لیے وسیع المطالعہ ہونا بہت ضروری ہے۔ان کا فقرہ اس خاکسار کے ذہن میں گو بختا رہتا ہے ''دکھ کوئی بھی چھوٹا نہیں ہوتا ،بعض اوقات ایک چھوٹا سا دکھ بھی انسان کے سارے سکھ لے جاتا ہے‘‘۔ہم ذیل میں اپنے قارئین کیلئے سیف الدین سیف کے کچھ اردو نغمات کا ذکر رہے ہیں۔
    1۔جب ترے شہر سے گزرتا ہو...فلم''وعدہ‘‘۔2۔پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے ......فلم''گمنام ‘‘۔3۔آئے موسم رنگیلے ......فلم ''سات لاکھ‘‘۔4۔یارو مجھے معاف رکھو......فلم ''سات لاکھ‘‘۔5۔بار بار برسے مورے نین ...فلم ''وعدہ‘‘۔6۔لگا ہے حسن کا بازار دیکھو...فلم ''تہذیب‘‘۔ 7۔اظہار بھی مشکل ہے...فلم ''انجمن‘‘۔ 8۔کاٹے نہ کٹے رتیا ...فلم ''امرائو جان ادا‘‘۔ 9۔جو بچا تھا وہ لٹانے کے لئے......فلم ''امرائوجان ادا‘‘۔ 10۔آدیکھ مونجوداڑو میں ......فلم ''اک گناہ اور سہی ‘‘۔ 11۔روح کی پیاس بجھانے کیلئے ......فلم ''اک گناہ اور سہی‘‘۔ 12۔تھا یقیں کہ آئیں گی......فلم ''ثریا بھوپالی‘‘۔ 13۔جس طر ف آنکھ اٹھائوں......فلم ''ثریا بھوپالی‘‘۔
    اس کے علاوہ ان کے بے شمار فلمی گیت اور بھی ہیں جن کے معیاری ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔اب ہمارے قارئین ان کے پنجابی نغمات سے بھی محظوظ ہوں ان کے پنجابی گیت بھی اعلیٰ درجے کے ہیں اور ان کا کوئی مقابلہ نہیں۔
    1۔آگئی باگاں وچ بہار......فلم ''سوہنی مہینوال‘‘۔ 2۔کرکے بہانے اساں ......فلم ''سدھا رستہ‘‘۔ 3۔اک اک شے چناں ......فلم ''سدھا رستہ‘‘۔ 4۔اج مک گئی اے غماں والی شام......فلم ''کرتار سنگھ‘‘ ۔ 5۔تک اج میری ٹور ...فلم ''اک سی ڈاکو‘‘۔ 6۔کھیڈ کھڈونے آلے بھولے ......فلم ''ضدی ‘‘ ۔ 7۔عاشق جیا بے سمجھ نہ کوئی......فلم ''لٹ دا مال‘‘ ۔ 8۔میرے خواباں دا ونجارہ......فلم ''سوہنی مہینوال‘‘۔
    یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ حسن طارق کی فلم ''تہذیب ‘‘کا یہ گیت ''لگاہے حسن کا بازار دیکھو‘‘اصل میں یہ تھا ''لگا ہے مصر کا بازار دیکھو‘‘۔بعد میں اس مصرعے کو تبدیل کر دیا گیا۔
    محسن سیف کے مطابق ان کے والد فلمی شاعری کسی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ اپنی طبیعت اور مزاج کی وجہ سے کرتے تھے۔سیف الدین سیف نے اپنے فلمی نغمات کی وجہ سے بھی بڑا نام کمایا۔پاک و ہند کے بہترین گیت نگاروں کا جب بھی ذکر کیا جاتا ہے ، سیف صاحب کانام ضرور لیا جاتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک لاثانی نغمہ نگار تھے۔


     

اس صفحے کو مشتہر کریں