1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

سیاست یا ریاست ؟ خدشات کا جائزہ

'حالاتِ حاضرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از برادر, ‏20 دسمبر 2012۔

  1. برادر
    آف لائن

    برادر ممبر

    شمولیت:
    ‏21 اپریل 2007
    پیغامات:
    1,227
    موصول پسندیدگیاں:
    78
    سیاست یا ریاست ؟
    خدشات کا جائزہ


    [​IMG]
    ڈاکٹر علی اکبر الازہری ​

    وطن عزیز میں جہاں جاڑے کا موسم اپنی شدت کی طرف بڑھ رہا ہے وہیں سیاسی اکھاڑوں کی گرما گرمی میں بھی اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کے دھڑکتے دل لاہور کے تاریخی مقام مینار پاکستان کے سبزہ زار میں بھی ایک بڑے اور تاریخی جلسہ عام کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ یہاں 23 دسمبر (تین روز بعد) ملک سے ہجرت کرجانیوالے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری طویل انتظار کے بعد اپنے کارکنوں سمیت لاکھوں پاکستانی خواتین و حضرات سے غیر معمولی خطاب کرنے آرہے ہیں۔ حالات و واقعات کی ستائی ہوئی پاکستانی قوم اس عوامی اجتماع کو بوجوہ اہمیت دے رہی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے حالات کی سنگینی کے پیش نظر ”سیاست نہیں ریاست بچاﺅ“ کا فیصلہ کن نعرہ دیا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ پوری قوم کے سامنے ایک دعوت فکر رکھ دی گئی ہے۔23 دسمبر کو وہ کیا منشور پیش کرتے ہیں اور انکے وطن واپسی پر مینار پاکستان کیا منظر پیش کرے گا؟ یہ تو دو دن بعد لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے مگر اس وقت ہم سطح آب پر انکے اس نعرے سے پیدا ہونیوالے ارتعاش کا مختصر جائزہ لے رہے ہیں۔
    ملک بھر سے شائع ہونیوالے اخبارات اور رسائل سمیت الیکٹرونک میڈیا پر بھی انکی آمد اور انکے اس نعرے پر تبصرے، تجزیے اور خدشات کا اظہار ہورہا ہے۔ معتدل مزاج لوگ اسے تبدیلی کا سنگ میل سمجھتے ہیں جبکہ کچھ تجزیہ کار اور تبصرہ نگار اس نعرے کو مخصوص رنگ دے کر پیش کررہے ہےں۔ ایک معاصر روزنامے کے معروف کالم نگار نے یہاں تک لکھ دیا کہ ”چونکہ ڈاکٹر صاحب کے پاس دہری شہریت ہے اور وہ پاکستان کی اسمبلی میں جانے کی اہلیت نہیں رکھتے اس لئے جو نظام انکی پارلیمانی رکنیت کی راہ میں مزاحم ہے اس نظام کو وہ بھاڑ میں جھوک دینا چاہتے ہیں سیاست نہیں ریاست کا نعرہ لگاتے ہوئے پورے انتخابی اور جمہوری نظام کی نفی کررہے ہیں“۔
    موصوف کے جذبات کا تلاطم یہاں تک رہتا تو کسی حد تک قابل فہم تھا مگر انہوں نے اپنی بے چینی اور جھنجلاہٹ کا ثبوت دیتے ہوئے ”فخرو“ بھائی کو یہ کہہ کر متوجہ کیا ہے کہ ”وہ ضابطہ اخلاق کا دائرہ ان ”بے مہاروں“ تک بھی پھیلائیں جو کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر انتخابات اور الیکشن کمیشن کی ساکھ کے درپے ہورہے ہیں“۔
    قارئین! مندرجہ بالا اقتباسات درج کرنے کا مقصد کسی پر تنقید نہیں بلکہ اس المیے کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ ہمارے سینئر دانشور بھی جب کسی کی زلف کے اسیر ہوجاتے ہیں یا کسی سیاسی دھڑے سے اپنی وابستگی کا حق نمک ادا کرتے ہیں تو بڑے سے بڑے تلخ حقائق کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ انہوں نے ہر حالت میں اپنے ”باس“ کا دفاع کرنا ہوتا ہے چاہے انہیں روشنی کو اندھیرا اوراندھیرے کو روشنی ہی کیوں نہ کہنا پڑے۔
    ایسے عالی دماغ اور زیرک صاحبان قلم کی خدمت میں صرف اتنا عرض ہے کہ جس انتخابی سسٹم میں خود آپ منتخب ہوکر آگے آنے کا تصور نہیں کرسکتے اسکی بانجھ کوکھ سے آپ کسی شریف النفس اور دیانتدار قیادت کی امید کیسے رکھ سکتے ہیں؟
    اسی طرح کچھ قابل احترام تجزیہ نگار یہ اعتراض بھی کررہے ہیں کہ ”ڈاکٹر صاحب اگر خود ساختہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آرہے ہیں تو انہیں خاموشی کے ساتھ آجانا چاہئے پورے ملک میں شور شرابہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ انکی یہ بے چینی بھی ہمارے لئے ناقابل فہم ہے۔ انتخابی جلسوں کی اس اندھی دوڑ میں نہ جانے انہیں ڈاکٹر صاحب کے کارکنوں کا تحرک اور مروجہ سیاست پر تنقید کا لہجہ کیوں ناپسند ہے۔ بہت سے دوستوں نے اس نعرے میں چھپے فتنوں اور طوفانوں کی خبر بھی دی ہے۔ انکی نیت پر ہم شک نہیں کرتے۔ انکے بقول قومی انتخابات کا بگل بجنے والا ہے اور بڑی مشکل سے موجودہ حکومت مقررہ مدت پوری کررہی ہے۔ ایسے میں اگر عادی آمریت اور خودسر اسٹیبلشمنٹ کو بہانہ مل گیا تو وہ آرام سے مشرف کے احتساب کی طرح ا س ”عمل تطہیر“ میں مزید دس سال گزار دے گی۔ اس طرح تو کوئی بھی اس نظام سے چھٹکارے کا تصور نہیں کرسکے گا۔ اس طویل ظالمانہ جمہوری تجربے کے بعد تبدیلی کی خواہش تو امید اور زندگی کی علامت ہے۔ رہا فوجی مداخلت کا خطرہ تو اب آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کی موجودگی میںیہ بھی ناممکن ہے۔ ہاں اگر دیانتدار مخلص اور اہل ٹیم پر مشتمل نگران حکومت سیاسی گندگی کو صاف کرکے قومی اداروں کی ساکھ کو بحال کردے تو اس سے بہتر اس بدقسمت قوم کو اور کیا چاہئے۔ اب بھی اگر تبدیلی کے امکانات واضح ہوتے اور ملک میں نئے اور پرعزم لوگوں کا آگے آنا ممکن ہوتا تو بات اور تھی مگر موجودہ جوڑ توڑ اور خریدوفروخت کے نتیجے میں جو ڈھانچہ بھی برسراقتدار ہوگا اس میں بڑے کھلاڑی وہی پرانے ہونگے۔ اگر لوگوںکو یہ خوش فہمی ہے کہ ن لیگ پی پی کی نسبت بہتر حکمرانی کرکے تباہ شدہ قوم کو سہارا دے سکے گی تو ”ایں خیال است و محال است و جنوں“ کیونکہ اس وقت اس سیاسی جماعت میں ان پنچھیوں کی اکثریت ہے جو شریف برادران کی عدم موجودگی میں مشرف حکومت کے خوانِ نعمت پر چہچہا رہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک طرف مفاداتی سیاست کے فرعون ڈاکٹر صاحب کے اس نعرے سے خائف ہوچکے ہیں اور دوسری طرف لوگ باری باری کے اس جمہوری تماشے سے بدظن ہوچکے ہیں اور صحیح معنوں میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ تبدیلی نہ صرف ان کی آئندہ نسلوں کیساتھ دیانت کا تقاضا ہے بلکہ مملکت خداداد پاکستان کی سلامتی اور بقاءکا تقاضا بھی یہی ہے۔
    یہاں بعض احباب ڈاکٹر صاحب کو عمران خان کے ساتھ ملکر سیاسی جدوجہد کا مشورہ بھی دے رہے ہیں۔ ان حضرات کی نیک نیتی بھی صاف ظاہر ہے مگر ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ چونکہ تحریک انصاف پہلی مرتبہ انتخابی دنگل میں بھرپور حصہ لے رہی ہے اس لئے اسے اس راستے کی ہلاکت خیز گھاٹیوں کا کماحقہ علم نہیں۔ جن کے منہ کو اقتدار کا نشہ لگ چکا ہے اور انہوں نے الیکشن جیتنے کیلئے مال اور اسلحہ کے ذخائر جمع کررکھے ہیں وہ کب چاہیں کہ انکے ہاتھ سے کوئی شخص یہ سب کچھ چھین کر انہیں گھر بٹھادے۔ لہذا وہ ہر حالت میں تبدیلی کی سونامی کا راستہ روکیں گے اور ایک دو مرتبہ جب ایسا ہوگیا تو لامحالہ تحریک انصاف بھی اس کرپٹ انتخابی نظام سے بغاوت کردیگی۔
    جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ ڈاکٹر صاحب ریاست بچانے کیلئے سیاست کو غیر اہم سمجھ رہے ہیں حالانکہ سیاست تو جمہوری عمل ہے جسے جاری رہنا چاہئے۔ ایسے دوستوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ سیاست اور جمہوریت کی افادیت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ ڈاکٹر صاحب کی 20 سالہ اپنی سیاسی جدوجہد کے علاوہ مصطفوی انقلاب پر ان کی درجنوں کتب اور سینکڑوں خطابات موجود ہیں جن میں انہوں نے سیاست کو دین کا اہم ترین حصہ قرار دیا ہے۔ وہ سیاست کو سنت موکدہ سمجھتے ہوئے اسلامی ریاست کا قیام اپنی زندگی کا واحد مقصد قرار دے چکے ہیں۔ صاف ظاہر ہے ان کا آئیڈیل مصطفوی سیاست ہے موجودہ کرپٹ اور ابلیسی جاہ طلبی نہیں۔ جو دانشور الیکشن کمیشن اور انتخابی سیاست کے تقدس کے راگ الاپ رہے ہیں اور اس نظام سے بغاوت کرنے والے محب وطن شہریوں کو ”بے مہار“ قرار دے رہے ہیں انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اسی انتخابی نظام کی پیداوار بے اثر اسمبلیوں نے نہ صرف قوم کے بچے بچے کو قرضوں میں ڈبودیا ہے بلکہ 18 کروڑ عوام کو اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔
    ڈاکٹر صاحب خود اگر کینیڈا کے پرامن ماحول کو چھوڑ کر وطن عزیز کی خون آلود فضاﺅں میں قدم رکھ رہے ہیں تو یہ بذات خود ان کی جرات مندی اور حب الوطنی کی علامت ہے۔ ملک میں آئے روز خودکش حملے ہورہے ہیں پاکستان کا وجود اور اس کے قومی سیکورٹی ادارے جن دہشت گردوں کی زد میں ہیں انہی کے خلاف ڈاکٹر صاحب نے پورے چھ سو صفحات کا مدلل تاریخی فتویٰ جاری کیا ہے۔ پرعزم لوگ جان کی پرواہ نہیں کیا کرتے۔ ہمارے اندازوں کے مطابق ڈاکٹر صاحب اس قوم کو سنبھلنے کے لئے مصری قوم کی طرح ”میدان تحریر“ فراہم کررہے ہیں اور اپنی جان کو خطرات میں ڈال کر انقلاب کے دروازوں پر دستک دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ اب یہ اہل پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ انقلاب کی اس دستک پر ان کا کتنا اور کہاں تک ساتھ دیتی ہے۔


    روزنامہ نوائے وقت 20دسمبر 2012
    http://www.nawaiwaqt.com.pk/adarate-mazameen/20-Dec-2012/156464
     
  2. بےباک
    آف لائن

    بےباک ممبر

    شمولیت:
    ‏19 فروری 2009
    پیغامات:
    2,484
    موصول پسندیدگیاں:
    17
    جواب: سیاست یا ریاست ؟ خدشات کا جائزہ

    الطاف حسین صاحب بھی محترم طاھر القادری صاحب کی حمایت میں کود پڑے اور انہوں نے اپنے کارکنوں کو مینار پاکستان پہنچنے کا حکم نامہ جاری کر دیا ، اور خود طاھر القادری‌ صاحب کو فون کرکے پورے تعاون کا یقین دلایا ، اس اشتراک عمل سے کیا ہو گا ، کون سی طاقتیں ان کو اکٹھا کر رہی ہیں ، انتخابی گرما گرمی میں کیا ایک مکمل سیکولر پارٹی کیا ایک مکمل دینی پارٹی میں اتحاد ممکن ہے ۔ کیا کہیں اور سے ڈور ہل رہی ہے ، اگر کوئی دوست رہنمائی فرما دیں تو مشکور ہوں گا،
     
  3. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سیاست یا ریاست ؟ خدشات کا جائزہ

    السلام علیکم بےباک بھائی ۔ آپ کا سوال بلکہ "خدشہ" بہت اہم ہے۔ میں‌نے دوسری پوسٹ میں جواب دیا ہے۔ لیکن چند سطور یہاں بھی عرض کرتا ہوں۔
    جہاں‌تک ایم کیو ایم کا اعلان " گونگلوں سے مٹی جھاڑنے" کے سوا کچھ نہیں ۔ نہ تو کوئی اتحاد ہونے جارہا ہے اور نہ ہی اتحاد کی پیش کش کی گئی ہے۔ کیونکہ ایم کیو ایم کا ماضی بتاتا ہے کہ وہ ہرکسی کو اپنے "تعاون" کا یقین دلاتے ہیں۔ حتی کہ مذہبی جماعتوں کو بھی ۔ حکومت کو بھی اور اپوزیشن کو بھی ۔
    لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اگر کوئی جماعت ڈاکٹر طاہر القادری کی حمایت کرتی ہے تو "کس " ایجنڈے پر؟ اس جماعت کے ایجنڈے پر یا خود ڈاکٹر طاہرالقادری کے ایجنڈے پر۔ ؟؟
    اگر ڈاکٹر طاہرالقادری کے ایجنڈے یعنی "ظالمانہ و جاگیردارانہ و سرمایہ دارانہ نظام انتخاب بلکہ انتخابی تماشے میں اصلاحات کرکے اسے آئینی تقاضوں کے مطابق پہلے منصفانہ نظام انتخاب بنا یا جائے جس میں‌ شریف، تعلیم یافتہ، ایماندار اور محب وطن غریب و متوسط طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود قانون ساز اسمبلی میں پہنچ سکے " پر اگر کوئی بھی پاکستانی رہنما ، پاکستانی پارٹی اتفاق کرکے ڈاکٹر طاہر القادری کا ساتھ دیتی ہے تو اس میں ہرج ہی کیا ہے ؟
    چونکہ ہر جماعت ہی تبدیلی کی دعویدار ہے۔ وہ جو 4-4- -5-5 بلکہ شاید 6-6- بار بھی اقتدار میں رہ چکے ہیں وہ بھی تبدیلی کے دعویدار اور وہ جو خواہش کے باوجود محض اس کرپٹ نظام کی وجہ سے انہی کرپٹ اور داغدار ماضی والے روایتی سیاستدانوں‌کو اپنے ساتھ یہ فرما کر کہ "فرشتے کہاں سے لاؤں" ، ساتھ شامل کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں وہ بھی تبدیلی کے دعویدار ہیں۔
    لیکن تبدیلی کا دعوی، نظریہ سے ، تجربے سے، کردار سے اور مروجہ گندے نظام کا حصہ بنے بغیر کیا جائے تو اسکی وقعت یقینا باقیوں سے مختلف ہے۔
    ڈاکٹر طاہرالقادری جمہوری ذہن کے شخص ہیں ۔ انہوں نے25 مئی 1989 ، موجی دروازہ لاہور میں‌اپنی سیاسی جدوجہد کے آغاز میں کہا تھا "ہم اس نظام کو بدلنے کے لیے 1 یا 2 الیکشن دیکھیں گے اگر یہ راستہ ہمیں‌منزل کے قریب لے جاتا نظر آیا تو جاری رکھیں گے۔ وگرنہ چھوڑ کر کوئی اور جمہوری راہ اپنا کر جدوجہد کریں گے" 1990 اور 2002 کے انتخابات میں بھرپور مگر بااصول شمولیت کے باوجود جب انہیں‌نظر آگیا کہ
    موجودہ انتخابی نظام دراصل چنددرجن خاندانوں‌کے چند سو جاگیرداروں، سرمایہ داروں، رسہ گیروں ، غنڈوں اور بدعنوان افراد کی 18کروڑ عوام کو غلام بنائے رکھنے کے خلاف ایک "سازش" ہے جس کے تحت وہ کسی باکردار، باصلاحیت، محب وطن مگر شریف النفس اور دیانتدار شخص کو اسمبلی تک نہیں پہنچنے دیتے
    تو انہوں نے اس ظالمانہ و غیر منصفانہ نظام کو سمندر برد کرکے اسکی جگہ منصفانہ نظام انتخاب کے لیے جدوجہد کا اعلان کردیا ہے۔
    اب دیکھیے 23 دسمبر 2012 کو مینار پاکستان کے اجتماع مین وہ کیا لائحہ عمل دیتے ہیں ۔
    اللہ کرے ڈاکٹر طاہرالقادری اس قوم کے دکھوں کا مداوا ، پرامن، جمہوری انداز میں‌کرنے کی راہ دکھا سکیں۔
    آمین ثم آمین
     
  4. بےباک
    آف لائن

    بےباک ممبر

    شمولیت:
    ‏19 فروری 2009
    پیغامات:
    2,484
    موصول پسندیدگیاں:
    17
    جواب: سیاست یا ریاست ؟ خدشات کا جائزہ

    [​IMG]
     
  5. جان شاہ
    آف لائن

    جان شاہ ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اگست 2012
    پیغامات:
    729
    موصول پسندیدگیاں:
    215
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سیاست یا ریاست ؟ خدشات کا جائزہ

    اگر آپ کے باوثوق ذرائع کے مطابق ڈاکٹر صاحب امریکی ایجنڈے کے لئے کام کر رھے ھیں
    تو کیا ہمیں چوروں اور لٹیروں کو دوبارہ منتخب کر لینا چاہے اور ان کا موقع دینا چاہئے کہ وہ اقوام عالم کے سامنے ھماری رہی سہی عزت کا جنازہ نکال دیں
    گذشتہ چند سالوں میں کتنے معصوم لوگ مارے گئے کیا ان کے قاتل ان جمہوریت کے ٹھیکیداروں نے پکڑ لیے؟؟ کرپشن کے لحاظ سے ھم دنیا میں کتنے نمبر پر ھیں کیا آپ کو نہیں پتا؟؟؟
    کیا عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح ویگنوں اور بسوں میں بھر بھر کر لے جانا ھی انتخابات ھے؟؟؟؟
    اور ضمنی انتخابات کے نتائج ھم سب کے سامنے ھیں کہ کیسے پولنگ ھوی اور جیت کی خوشی میں کیا کچھ ھوا۔
    اور آخر میں اگر آپ پچھلی حکومت کی کارکردگی پر نظر ڈال لیں تو ھمارے ملک کے سیاسی نظام کو سمجھنا دشوار نہیں

    کم اذکم مجھے ایسی جمہوریت اور سیاست نہیں چاہیے
     
  6. تور خان
    آف لائن

    تور خان ممبر

    شمولیت:
    ‏21 دسمبر 2012
    پیغامات:
    27
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سیاست یا ریاست ؟ خدشات کا جائزہ

    مجھے حیرت ہے کہ طاہر القادری جیسے شخص سے توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ پاکستانی عوام کو طاہر القادری کی حقیقت معلوم کرنا چاہیئے۔
    یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ الطاف اور طاہر القادری مغربی استعمار کی ٹکسال میں ڈھالے گئے ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ بہتر ہو گا کہ ایک اپنی خدمات لندن اور دوسرا کینیڈا تک ہی محدود رکھے۔
     
  7. جان شاہ
    آف لائن

    جان شاہ ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اگست 2012
    پیغامات:
    729
    موصول پسندیدگیاں:
    215
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سیاست یا ریاست ؟ خدشات کا جائزہ

    محترم تور خان صاحب
    آپ نے لکھا کہ مجھے حیرت ہے کہ طاہر القادری جیسے شخص سے توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ پاکستانی عوام کو طاہر القادری کی حقیقت معلوم کرنا چاہیئے۔
    تو برائے مھربانی حقیقت آپ ہی بتا دیں اور ساتھ ہی کوئی ایسی شخصیت بھی بتا دیں کہ جس سے ھم توقعات وابستہ کر لیں۔
    شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری عالم اسلام کی نمایاں علمی، فکری، اصلاحی اور انقلابی شخصیت ہیں جو اپنی بے پناہ خدمات کی وجہ سے ہمہ جہت پہچان رکھتے ہیں۔ آپ تجدید و احیاء اسلام کی عالمگیر تحریک منہاج القرآن کے بانی قائد اور پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین ہیں۔ آپ منہاج یونیورسٹی لاہور کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز بھی ہیں۔ آپ کی سرپرستی میں تقریباً 80 ممالک میں تعلیمی، دعوتی، اصلاحی اور فلاحی مراکز کام کر رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی آپ نے دعوت اور اصلاح احوال کے لئے تحریک منہاج القرآن کا صوبہ، ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح تک نیٹ ورک اور عوام الناس کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لئے ہزاروں کالج، سکول، لائبریریاں اور عوامی تعلیمی مراکز قائم کئے ہیں۔

    سیاسی کیریئر

    مؤرخہ 25 مئی 1989ء کو آپ نے پاکستان عوامی تحریک کے نام سے ایک سیاسی جماعت بنائی، جس کا بنیادی ایجنڈا پاکستان میں انسانی حقوق و عدل و انصاف کی فراہمی، خواتین کے حقوق کا تحفظ، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی، ملکی سیاست سے کرپشن اور دولت کے اثرات کا خاتمہ تھا۔ [4]
    1990ء میں پاکستان عوامی تحریک نے پہلی بار عام انتخابات میں حصہ لیا۔
    1991ء میں ملک میں جاری فرقہ واریت اور شیعہ سنی فسادات کے خاتمے کے لئے پاکستان عوامی تحریک اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے مابین اعلامیہ وحدت جاری کیا گیا۔
    1989ء تا 1993ء انہوں نے اسمبلی سے باہر اپوزیشن کا کردار ادا کیا اور ملکی تعلیمی، سیاسی اور معاشی صورتحال پر حکومت وقت کو تجاویز ارسال کیں۔
    1992ء میں آپ نے قومی اور بین الاقوامی ٹرانزیکشنز کا احاطہ کرنے والا بلاسود بینکاری نظام پیش کیا، جسے صنعتی و بینکاری حلقوں میں سراہا گیا۔
    1998ء میں وہ سیاسی اتحاد پاکستان عوامی اتحاد کے صدر بنے، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی سمیت کل 19 جماعتیں شامل تھیں۔
    2003ء - محترمہ بے نظیر بھٹو نے ان کے ادارہ کی تاحیات رفاقت اختیار کی۔ [5]
    2003ء میں آپ نے فرد واحد کی آمریت کے خلاف قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے دیا[6] جو پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی رکن اسمبلی کی طرف سے پہلا استعفیٰ تھا۔
    2006ء میں جب ڈنمارک سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توہین آمیز خاکے بنائے گئے تو آپ نے اقوام متحدہ کو ایک احتجاجی مراسلہ بھیجا، جس کے ساتھ 15 کلومیٹر طویل کپڑے کا بینر بھی تھا[7] جس پر 10 لاکھ سے زائد لوگوں کے دستخط ثبت تھے۔ [8]
    توہین آمیز خاکوں کے حوالے سے آپ نے امریکہ، برطانیہ، ڈنمارک، ناروے اور دیگر یورپی ممالک کی حکومتوں کو ’’دنیا کو تہذیبی تصادم سے بچایا جائے‘‘[9] کے نام سے ایک مراسلہ بھی جاری کیا۔
    2009ء میں اسرائیل کے ہاتھوں ہونے والی غزہ کی تباہی کے بعد فلسطینی مسلمان بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے غزہ کانفرنس[10] کا انعقاد ہوا، بعد ازاں متاثرین غزہ کے لئے امداد سامان روانہ کیا گیا۔ 11

    دینی خدمات
    آپ کے زیراہتمام لاہور میں ہر سال رمضان المبارک میں اجتماعی اعتکاف ہوتا ہے، جسے حرمین شریفین کے بعد دنیا کا سب سے بڑا اجتماعی اعتکاف کہا جاتا ہے۔ [12]
    آپ کے زیراہتمام لاہور میں مینار پاکستان کے تاریخی مقام پر ہر سال میلاد کانفرنس منعقد ہوتی ہے، کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی میلاد کانفرنس ہے۔ [13]
    آپ کے قائم کردہ گوشہ درود میں لوگ سارا سال دن رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔ روئے زمین پر یہ ایسی واحد جگہ ہے جسے تاریخ میں پہلی بار شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے قائم کیا۔ [14]
    آپ کی قائم کردہ تحریک منہاج القرآن کی دنیا بھر میں شاخیں ہیں، جو تارکین وطن کی نئی نسل کو اسلام پر کاربند رکھنے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

    علمی و ادبی خدمات

    ڈاکٹر محمد طاہرالقادری ہزارہا دینی موضوعات پر اردو، انگریزی اور عربی میں خطابات کر چکے ہیں۔ [16] کیو ٹی وی، اے ٹی وی، پی ٹی وی، پرائم ٹی وی اور اے آر وائے گاہے بگاہے ان کے خطابات نشر کرتے ہیں۔
    بہت سے اسلامی موضوعات پر ان کی اردو، انگریزی اور عربی زبانوں میں سیکڑوں کتب شائع ہو چکی ہیں۔ [17][18]
    عرفان القرآن کے نام سے آپ نے قرآن مجید کا سلیس اردو اور انگریزی زبان میں ترجمہ کیا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ترجمہ ہو کر تفسیری شان کا حامل ہے اور عام قاری کو تفاسیر سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ [19]
    تفسیر منہاج القرآن کے نام سے آپ قرآن مجید کی تفسیر پر کام کر رہے ہیں، سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کی تفسیر طبع ہو کر منظر عام پر آ چکی ہے۔ [20]
    المنہاج السوی من الحدیث النبوی کے نام سے ان کا حدیث مبارکہ کا ایک ذخیرہ طبع ہو چکا ہے، جس میں ریاض الصالحین اور المشکوٰۃ المصابیح کی طرز پر منتخب موضوعات پر احادیث مع تخریج پیش کی گئی ہیں۔ [21]
    سیرت الرسول کے نام سے آپ کی تصنیف اردو زبان میں سیرت نبوی کی سب سے ضخیم کتاب ہے، جو 10 جلدوں پر مبنی ہے۔ اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات زندگی اور ان کی سیرت سے آج کے دور میں رہنمائی کے پہلوؤں پر کام کیا گیا ہے۔ [22]
    میلاد النبی کے نام سے آپ نے میلاد منانے کی شرعی حیثیت کے حوالے سے ایک ضخیم کتاب تصنیف کی، جس میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں میلاد کی حیثیت اور سلف صالحین کا میلاد منانے کا طریقہ باتحقیق پیش کیا گیا ہے۔ [23]
    اسلام اور جدید سائنس نامی تصنیف میں آپ نے ایک تقابلی مطالعہ پیش کیا ہے، جس کے مطالعہ سے اسلامی تعلیمات کی سائنسی افادیت و ناگزیریت واضح ہوتی ہے۔ [24]
    اسلام کے اقتصادی نظام کو آج کے دور میں قابل عمل ثابت کرنے کے لئے آپ نے اقتصادیات اسلام کے نام سے ایک ضخیم تصنیف بھی تحریر کی۔ [25]
    حقوق انسانی نامی تصنیف میں اقلیتوں[26]، خواتین[27]، بچوں[28] اور عمر رسیدہ اور معذور افراد[29] کے حقوق سمیت بنیادی انسانی حقوق کو اسلام کی عطا ثابت کیا۔
    عالمی سیاسی صورتحال میں عالم اسلام کو درپیش خطرات کے حوالے سے آپ کی تصنیف نیو ورلڈ آرڈر اور عالم اسلام خاص اہمیت کی حامل ہے۔
    امام مہدی کے حوالے سے افراط و تفریط پر مبنی غلط فہمیوں کے ازالہ کے لئے القول المعتبر فی الامام المنتظر آپ کی اہم تصنیف ہے۔ [30]
    اسلامی فقہ حنفی کے امام ابو حنیفہ کے علم حدیث میں مقام و مرتبہ کے حوالے سے امام ابو حنیفہ امام الائمہ فی الحدیث نامی ضخیم کتاب تمام اعتراضات اور غلط فہمیوں کا ازالہ کرتی ہے۔

    نظریات

    شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری ایک مسلمان سنی سکالر ہیں، مگر وہ خود کو بریلوی اور دیوبندی فرقوں کی بندشوں سے آزاد ایک عام مسلمان قرار دیتے ہیں۔
    ان کے مطابق اپنا عقیدہ چھوڑو مت اور دوسروں کا عقیدہ چھیڑو مت کی پالیسی اتحاد امت کے لئے ناگزیر ہے۔ [31]
    ان کے مطابق اسلامی تصوف کی روح نفس کی پاکیزگی سے عبارت ہے، جو شریعت کی پاسداری کے بغیر ناممکن ہے۔ اسی بناء پر وہ تصوف کو کاروبار بنانے والوں کو جاہل اور گمراہ قرار دیتے ہیں۔ [32]
    ان کے مطابق اسلام قیام امن کا سب سے بڑا داعی ہے [33] اور جہاد کے نام پر دہشت گردی کا بازار گرم کرنے والے گروہ مسلمان تو کجا انسان بھی کہلانے کے مستحق نہیں۔ [34] آپ کے مطابق دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں۔ [35] آپ نے متعدد بار واضح طور پر اسامہ بن لادن کی کارروائیوں کی مذمت بھی کی۔ [36]
    ان کے مطابق اسلام حقوق نسواں کا واحد علمبردار مذہب ہے [37]، جو آزادی نسواں کے نام پر عورت کی تذلیل کرنے کی بجائے صحیح معنوں میں اسے مرد کے برابر معاشرتی حقوق دیتا ہے[38] [39] [40]
    ان کے مطابق اسلام کا اصول مشاورت اسلامی نظام حیات کی روح ہے۔ اسلامی فلاحی معاشرے کے قیام کے لئے فرد واحد کے فیصلوں کی بجائے تمام فیصلوں میں اجتماعی مشاورت ناگزیر ہے۔ [41]
    ان کے مطابق انتہاء پسندی کے خاتمے کے لئے بین المذاہب رواداری نہایت ضروری ہے۔ [42] انہوں نے خود عملی طور پر مسلم کرسچئن ڈائیلاگ فورم[43] بنا رکھا ہے اور وہ عیسائیوں کے مسجدوں میں آ کر عبادت[44] کرنے کو حدیث نبوی [45] کی بنیاد پر جائز قرار دیتے ہیں۔
    ان کے مطابق اسلامی نظام معیشت آج کے دور میں بھی قابل عمل ہے۔ [46] اس سلسلے میں آپ نے بلاسود بینکاری نظام بھی پیش کیا۔ [47]
    ان کے مطابق اسلام کو آج کے دور میں قابل عمل دین ثابت کرنے کے لئے اسلام کی مذہبی، سماجی اور ثقافتی اقدار کے فروغ کے ساتھ ساتھ سائنسی بنیادوں پر اسلام کی تعبیر کی ضرورت ہے۔ [48]
    ان کے مطابق سیاست اسلام کا حصہ ہے، جسے دین سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ [49]


    اور براے مہربانی اپنے خیالات کو ہی حرف آخر نہیں سمجھ لینا چاہئے بلکہ غور و فکر کے بعد ہی کوئی رائے دینی چاہئے
     
  8. تور خان
    آف لائن

    تور خان ممبر

    شمولیت:
    ‏21 دسمبر 2012
    پیغامات:
    27
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سیاست یا ریاست ؟ خدشات کا جائزہ

    محترم جان شاہ صاحب

    قبل ازاں کہ جناب کے حروف اول پر کچھ کہنے کی کوشش کر سکوں، جناب کے حروف آخرین کے لئے نہ صرف سراپا سپاس ہوں بلکہ حد درجہ متفق بھی ہوں اور یہی وجہ ہے کہ جناب کی مشفقانہ نصیحت کو حکم سمجھتے ہوئے ہی حرف بہ حرف عملدر آمد کرتے ہوئے اپنی ناقص رائے کا اظہار کیا ہے۔ ہر چند کہ جناب کا حکم ناچیز کے مراسلہ کے بعد صادر ہوا ہے۔ غالبؔ اور جناب سے معذرت کے ساتھ:

    میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی اس کے دل میں ہے

    غور و فکر کے حوالے سے عرض کرنا چاہوں گا کہ اگر مٹی کا مٹکا بھی خرید کرنا ہو تو عموماً ٹھونک بجا کر خرید کیا جاتا ہے کہ صحیح کھنکتا بھی ہے یا نہیں۔ تو اسی طرح دینی امور میں بھی غور و فکر اور جانچ پڑتال نہایت ضروری ہے۔ اسی بنا پر ہم نے صرف اپنے ہی خیالات کو حرف آخر نہیں سمجھا بلکہ بعد از تحقیقِ عمیق اپنا تبصرہ دیا ہے۔

    جناب نے جن صاحب کے بارے میں انچاس نکات پر مشتمل تعارف پیش کیا ہے، اس سے اور اس کی حقانیت سے ہم پہلے ہی آگاہ ہیں اور نظر رکھتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہم سرخ رنگ میں، اس میں پچاسویں نکتے کا اضافہ کر رہے ہیں تاکہ آپ کی محبوب شخصیت کی نصف سنچری تو ہو جائے۔ اور تاڑنے والے، بہتر ہو گا کہ آپ اسے نکتہ شناس پڑھ لیں خوب سمجھتے ہیں کہ یہ سندِ قبولیت کہاں سے عطا کی جا رہی ہے اور کس بنا پر۔

    حرفِ آخر:

    ظلم ایست کہ بر کلک و ورق کردہ ای دیروز
     
  9. جان شاہ
    آف لائن

    جان شاہ ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اگست 2012
    پیغامات:
    729
    موصول پسندیدگیاں:
    215
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سیاست یا ریاست ؟ خدشات کا جائزہ


    محترم تور خان صاحب
    پچاسواں نکتہ شامل کرنے کا شکریہ اور جہاں تک دہشت گردی سے متعلق ہزاروں صفحات پر مشتمل ایک فتویٰ ''تحریر'' کرنے کی بات کا تعلق ھے تو ان ظالموں کے خلاف اگر لاکھوں صفحات لکھ کر ان کی مذمت کی جائے تو بھی کم ھے
    اسلام کے ان ٹھکیداروں نے ھمارے ملک میں جو کچھ کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔امن امان کی صورتحال دیکھ کر سرمایہ کار ھمارے ملک سے جا رھے ھیں، کسی کی جان و مال محفوظ نہیں، ان ظالموں نے پاکستان کے دشمنوں کے اشاروں پر کیا کچھ نہیں کیا
    علما کرام کو شہید کیا
    لوگوں کو بسوں سے اتار اتار کر گولیاں ماریں
    مساجد، مزارات،امام بارگاہوں پر بم دھماکے کیے
    سکولوں کو تباہ کیا
    پاکستانی تنصیبات کو نشانہ بنایا
    کبھی بلیک وااٹر کے کارندے بنے تو کبھی را کے ایجنٹ
    عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور بے نظیر سمیت کئ ملکی سیاسی رھنماوں کے قتل میں ملوث ان جہاد کے تاجروں کے مزموم مقاصد کو بے نقاب کرنے کے لیے لاکھوں صفحات لکھنے کی ضرورت ھے
    شیخ الحدیث مولانا حسن جان خیبر پختنخواہ کے شہر چار سدہ سے تعلق رکھتے تھے، انہیں دہشت گردوں نے 15 ستمبر 2007ء کو رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں پشاور میں شہید کر دیا تھا۔ اپنی شہادت سے چند روز پہلے مولانا حسن جان نے پشتو کے ایک ریڈیو چینل کو انٹرویو دیا تھا، جو شیخ الحدیث مولانا حسن جان کا میڈیا سے آخری انٹرویو ثابت ہوا، کیونکہ حقائق سے بھرپور اس انٹرویو کے بعد مولانا کو شہید کر دیا گیا۔
    یاد رہے کہ مولانا حسن جان مکتب دیوبند کے جید عالم دین اور شیخ الحدیث کے رتبے پر فائز تھے۔ مولانا حسن جان کی عوام میں مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1988ء کے انتخابات میں مولانا حسن جان نے چارسدہ سے قومی اسمبلی کی نشست پر عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ خان عبدالولی خان کو شکست دی تھی۔ جس کے بعد خان عبدالولی خان نے عملی سیاست کو خیر باد کہ دیا تھا۔ جے یو آئی سے وابستہ شیخ الحدیث مولانا حسن جان وفاق المدارس پاکستان کے مرکزی نائب صدر کے عہدے پر بھی فائز رہے، جبکہ عمر کے آخری ایام تک پشاور صدر کی مشہور مسجد درویش میں امام جماعت و خطیب کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔
    آخری انٹرویو مولانا حسن جان اور ان کے جوابات
    مولانا حسن جان سے سوال
    پاکستان کے قبائلی علاقوں کے بارے میں اطلاعات ہوں گی کہ بعض عناصر نہ صرف ان علاقوں میں خودکش کاروائیاں اور دھماکے کر رہے ہیں بلکہ پولیس یا پاکستان کی سیکورٹی فورسز کے افراد حتٰی عام افراد کو حکومت کے لئے جاسوسی کرنے کے الزام میں پکڑتے ہیں ان کو قتل کر کے ان کا مثلہ کرتے ہیں۔ مثلا” چند دن پہلے ان عناصر نے وزیرستان میں ایف سی فورس ملیشیا کے سرکاری اہلکاروں کو گرفتار کیا، بعد میں دیگر کو چھوڑ دیا گیا، لیکن ان میں سے ایک ایف سی اہلکار لائق حسین کا سر ایک بچے کے ذریعے قلم کرایا اور اس کی ذبح شدہ ویڈیو فلم بھی بنائی اور اس فلم کو عام لوگوں میں تقسیم بھی کیا۔ آپ اس طرح کی کاروائیوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔؟
    مولانا حسن جان کا جواب
    یہ بہت بڑا ظلم ہے، یہ سب دیوانگی اور پاگل پن کا نتیجہ ہے۔ اس طرح کی کاروائیاں کرنے والے پاگل ہیں۔ یہ لوگ منفی پروپیگنڈے اور جذباتی نعروں کے فریب میں آئے ہوئے ہیں، بعض خفیہ ادارے ان بے وقوفوں کی حرکات سے فائدہ اٹھاتے ہیں، یہ پاکستان مخالف ہیں، ان کے ہندوستان اور اسرائیل سے رابطے ہیں، یہ لوگ پاکستان میں امن و امان کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔

    مولانا حسن جان سے سوال
    آپ درست فرما رہے ہیں آج جب ان خودکش حملوں، سر قلم کرنے والے مناظر کو مغربی اور صیہونی میڈیا اپنے ذرائع ابلاغ پر دکھاتا ہے تو ساتھ یہ بھی پروپیگنڈا کرتا ہے کہ یہ اسلام ہے۔ گویا اسلام کا چہرہ مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے، آپ کیا فرماتے ہیں۔؟

    مولانا حسن جان کا جواب
    جو لوگ یہ کام انجام دیتے ہیں اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ طاغوتی اور استعماری طاقتیں اس طرح کے اقدامات سے فائدہ اٹھاتی ہیں، اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کرتی ہیں اور اپنے لوگوں کے اذہان میں اسلام کے خلاف نفرت کے بیج بوتی ہیں۔
    مولانا حسن جان سے سوال
    بعض علماء حتٰی بعض جہادی عناصر ان خودکش حملوں کی حمایت کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اس طریقے سے پاکستان میں اسلامی انقلاب لائیں گے۔؟
    مولانا حسن جان کا جواب
    انقلاب کا یہ راستہ نہیں ہے، یہ جاہلانہ طرز فکر ہے، اس کا ہدف فقط قتل و غارت اور ملک میں اختلافات اور تفرقہ پھیلانا ہے۔ اسلامی انقلاب کے دو راستے ہیں یا تو اتحادی حکومت مکمل طور پر ختم ہو جائے یا طاقت کے زور پر ملک میں انقلاب لایا جائے یا انتخابات اور عوامی رائے سے لائق اور اسلامی فکر رکھنے والے لوگوں کو اقتدار میں لایا جائے، اس سے ملک میں اسلامی تبدیلی آ سکتی ہے۔ اگر یہ روش اختیار نہ کی جائے اور ہم خودکش حملوں اور دھماکوں کا سلسلہ شروع کر دیں تو کہیں بھی نہیں پہنچ پائیں گے اور کوئی انقلاب و غیرہ برپا نہیں ہو گا۔

    اور آخر میں آپ شاید جانتے ھوں کہ دوسرں کو امریکی ایجنٹ اور کافر کہنے والے کل فرانس کے درالحکومت پیرس میں مزاکرات کے لیے پہنچ چکے ھیں
     
  10. تور خان
    آف لائن

    تور خان ممبر

    شمولیت:
    ‏21 دسمبر 2012
    پیغامات:
    27
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سیاست یا ریاست ؟ خدشات کا جائزہ


    محترم شاہ صاحب
    السلام علیکم!
    حضرت موضوع زیر بحث طاہر القادری صاحب کی ذات ہے۔ لیکن آپ نے بالجواب جو طرز اختیار کیا ہے وہ اصل موضوع سے فرار اور غیر متعلقہ شخصیات و واقعات کو درمیان میں لانے کے باعث کج بحثی کا مونہہ بولتا نمونہ و شاہکار ہے۔ جس کے باعث یہ حقیقت آپ پر واضح کر دینے کے بعد اور آپ سے واپس موضوع سخن کی جانب آنے کے مطالبے کے سوا ، بندہ مزید گفت و شنید کا ہر گز مکلف نہ تھا۔ تاہم خلوصِ نیت و حسن ظن سے صرف نظر کئے جانے کے علاوہ سوچا ،کہ کرسمس کی اب چٹھیاں ہیں ، تو کچھ دل لگی کر لی جائے۔ مزید برآں واضح ہو! کہ مباحث میں اس طرح کا طرز عمل اختیار کرنا Circular Reasoning یا عام زبان میں Circular Argument کے زمرے میں آتا ہے۔ اور اگر جناب کو یہی طرز عمل اختیار کرنا ہے تو اس صورت ہم کہیں اور دل لگی کر لیں گے جس کی ذمہ داری ہم پر نہ ہو گی۔
    [​IMG]
    جواب بالجواب میں حقیر کی جانب سےپچاسویں نقطے کے جبری دخول یا شمول کے شکریئے کا شکریہ، تاہم کنی خوب کترائی جناب نے۔ اور جہاں تک دہشت گردی سے متعلق ہزاروں صفحات پر مشتمل ایک فتویٰ تحریر کرنے کی بات ہے تو حضرت فتاویٰ ایک قانونی حکم یا فیصلہ کا درجہ رکھتے ہیں۔ دہشت گردی اور مغرب کی گھڑی ہوئی ایک اصطلاح جسے ''خودکشی'' کہتے ہیں اور یہ اصطلاح اب پاکستانیوں کے بھی زبان زدِ عام ہے، تو اس پر ہزار ہا صفحات کالے کرنا کسی نا اہل یا پرلے درجے کے احمق کو ہی زیب دیتا ہے کسی مستند عالم کو نہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ وہ اس لئے کے قرآنِ پاک کی آیات کا شمار بھی معلوم ہے اور ان آیات میں دہشت گردی، قتل ِ ناحق، قتل و غارت اور خود کشی کی ممانعت اور اس کی تعزیر سے متعلق شماریات بھی معلوم ہیں۔ لہٰذا فتاویٰ جامع اور مدلل تو ضرور ہوا کرتے ہیں لیکن بے جا کی طوالت اور آئیں بائیں شائیں سے عاری۔مسلمان بلیغ خطاب کیا کرتا ہے اور اس کا بیان و تحریر بے جا لفاظی سے عاری اور دلیل برہانِ قاطع ہوا کرتی ہے۔ طاہر صاحب نے جو نام نہاد فتویٰ تحریر کیا ہے بھائی اسے ذرا پڑھ کر بھی تو دیکھیں۔ یقین جانئے کہ پڑھنے کے بعد کوئی بھی صمیم قلب، ذی فہم اور عقلِ سلیم کا مالک دو باتیں سوچنے پر مجبور ہو گا۔ پہلی تو یہ کہ کیا جھک ماری ہے صاحبِ تحریر نے اور پڑھ کر قاری نے۔ دوسری بات جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ صاحبِ تحریر نے کس قدر تلبیسِ حق اور چالاکی سے کام لے کر اپنے مغربی آقاؤں کی ہمنوائی کرتے ہوئے ان کی منظور نظری حاصل کرنے اور ان کا آلہ کار بننے کی سعی دکھائی ہے۔

    ہزاروں صفحات پر مشتمل فتویٰ کے حوالے سے جناب نے ارشاد فرمایا ہے کہ ''ان ظالموں کے خلاف اگر لاکھوں صفحات لکھ کر ان کی مذمت کی جائے تو بھی کم ہے''۔حضور نے اپنے مراسلہ میں لاکھوں کا ذکر دو مقامات پر کیا ہے۔ طاہر صاحب تو اس حوالے سے قناعت پسند نکلے جبکہ جناب لاکھوں سے نیچے کی بات ہی نہیں کرتے۔ لیکن ہماری خواہش ہے کہ آپ کروڑوں میں کھیلیں ، دودھوں نہائیں پوتوں پھلیں۔ بھلا وہ کیسے؟ جناب آسان سا نسخہ ہے۔ لندن کے ایک تھنک ٹنک کویلئیم فاؤنڈیشن نے طاہر صاحب کو فتویٰ تحریر کرنے پر ہزاروں میں تول ڈالا ظالموں کے مذمت کے لئے۔ آپ لاکھوں کے بجائے کروڑوں صفحات کی مذمت ان ظالموں کے خلاف لکھ ڈالیں۔ صاحب گبھرائیے گا نہیں۔ یہ کوئی ایسا مشکل بھی نہیں۔ اگر طاہر صاحب کی طرح مفت کےچیلے چپاٹے میسر نہ ہوں تو اہل و احباب سے کام لے کر بس ''کٹ اینڈ پیسٹ'' ہی تو کرنا ہوتی ہے۔ کونسا دماغ کھپانا ہے۔ کس نے تصدیق کرنی ہے۔کسی نے اگر تنقیص یا تنقید کی آواز بھی بلند کی تو اسے صدا بہ صحرا بنا دیا جائےگا جبکہ بکاؤ میڈیا جناب کے لیئے تقریظ کے ڈونگرے بجائے گا۔ اور پھر اس کے بعد، پریس کانفرنس، میڈیا کوریج، مال و مراعات، ہوائی جہازوں پر سیر اور جہاں کی بھی قومیت درکار ہو، اک ذرا کہنے کی بات ہے۔

    مولانا حسن جان صاحب کے حوالے سے عرض ہے کہ ان کا ذکر بے محل و بے جا ہے۔ موضوعِ سخن طاہر قادری صاحب کی ذات سے ہے۔چونکہ جناب نے ذکرِ یار چھیڑ ہی دیا ہے تو مختصراً عرض کروں گا کہ اللہ ان پر رحمت فرمائے اور ان کی کمزوریوں کوتاہیوں کو بخشے۔ ہرچندیکہ کہ مولانا حسن جان کا استدلال شرع اور معروضی حقائق کے عین برخلاف تھا، تو اگر طالبان سے آپ کی مراد تحریک طالبان پاکستان ہے تو انھوں نے کبھی بھی ان کے خلاف قتل کا ارادہ، اعلان وغیرہ نہیں کیا۔ ان کے قتل کا قصور آپ اپنی ہی ایجنسیز یا بلیک واٹر کو دیجئے جنہیں خود پاکستانی حکام نے پاکستان میں کھل کھیلنے کی مکمل اجازت دے رکھی ہے ۔
    جہاں تک مولانا حسن جان صاحب کا مکتب دیو بند کے جید عالم اور شیخ الحدیث ہونے کا تعلق ہے تو عرض ہے کہ اس باعث وہ دودھ میں نہلائی ہوئی مقدس گائے کے درجے پر فائز نہیں ہو جاتے کہ انہیں اشتباہ سے پاک و صاف گردان لیا جائے۔ بہ حیثیتِ عالم دین، خود کشی اور استشہاد کے مابین تمیز رکھنا ان پر واجب تھا۔
    خرِ عیسیٰ اگر بہ مکہ رود
    چوں باز بیاید، ہنوز خر باشد

    افغان طالبان کا پیرس میں مذاکرات کے لیئے پہنچنے کے حوالے سے اس بے خبر کو با خبر کرنے کا ممنون ہوں۔ یقین واثق ہے کہ طالبان کی اس پیرس یاترا کا مکمل سیاق و سباق اور پس منظر بھی بخوبی جناب کے حسنِ نظر میں ہوگا۔ طالبان بفضلہ پیرس گئے ہیں، ضرور گئے، اور بڑی شان و شوکت اور دھڑلے سے گئے ہیں۔طالبان، پاکستانی حکمرانوں اور جرنیلوں کی طرح احکامات وصول کرنے اور ان کے قدموں میں لوٹنے کے لئے نہیں گئے بلکہ اُن پر اور کارزئی پر اپنا دو ٹوک موقف پیش کرنے گئے ہیں۔شکست خوردہ امریکہ ناقابلِ شکست طالبان سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے۔

    http://www.nytimes.com/2012/12/21/world/asia/afghan-factions-hold-informal-talks-near-paris.html

    http://www.france24.com/en/20121220-afghanistan-taliban-paris-talks-chantilly
    http://www.latimes.com/news/world/worldnow/la-fg-wn-afghanistan-taliban-insurgents-20121220,0,4194145.story


    اس حوالے سے ایک راز کی بات بتاؤں؟ پتا ہے طالبان جس طیارے میں پیرس جا رہے تھے تو بار بار ایک ہی گانا بجوا رہے تھے پائلٹ سے کہہ کے۔ لیکن یہ نہیں بتا سکتا کہ دوران پرواز وہ مجھ سے کون سا گانا بجوا رہے تھے۔ اگر بتایا تو وہ مجھے گولی مار دیں گے۔

    چال چلی ہے سوچ کے ہم نے
    اس کھیل میں، اپنی مات نہیں

    اور آخر میں جناب کی مزید خاطر تواضح (دیکھ لیجیئے! جناب کی خاطر تواضح میں آج ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی)کے لئے طاہر قادری صاحب کا ماضی قریب کا ایک اور جھوٹ پیشِ خدمت ہے۔حق و باطل میں تمیز رکھنے والے خود جان جائیں گے کہ طاہر صاحب! یہ کیا؟ موصوف کوشش میں ہیں اس ویڈیو کو بھی منظر عام سے ہٹوانے کے لئے لیکن فی الوقت بات نہیں بن رہی۔ ویسے دیگر بہت سے ویڈیو کامیابی سے ہٹوا چکے ہیں جس سے ان کا پردہ کھلتا تھا زِپّی لِونی کی طرح۔
    http://www.dailymotion.com/video/xtq6ry_tahir-ul-qadri-lies-caught-red-handed-facebook_fun
     
  11. جان شاہ
    آف لائن

    جان شاہ ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اگست 2012
    پیغامات:
    729
    موصول پسندیدگیاں:
    215
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سیاست یا ریاست ؟ خدشات کا جائزہ

    السلام علیکم!
    محترم تو ر خان صاحب
    آپ نے لکھا کہ موضوع زیر بحث طاہر القادری صاحب کی ذات ہے۔ لیکن آپ نے بالجواب جو طرز اختیار کیا ہے وہ اصل موضوع سے فرار اور غیر متعلقہ شخصیات و واقعات کو درمیان میں لانے کے باعث کج بحثی کا مونہہ بولتا نمونہ و شاہکار ہے۔

    تو جناب جہاں تک موضوع کی نوعیت کا تعلق ھے تو
    زیرِبحث موضوع میں آپ نے پچاسواں نکتہ شامل کیا اور ڈاکٹر صاحب کے فتویٰ پر اعتراضات آٹھاے تو خاکسار نے اسی کے جوابات دیئے اور صرف یہ بتانے کے لیےحضرت مولانا حسن جان صا حب کا حوالہ دیا کہ صرف ڈاکٹر صا حب نے ھی نہیں بلکہ دوسرے علما کرام نے بھی ان ظالموں کے خلاف آواز اٹھائی اور ان میں سے کئ ایک کو شہید بھی کر دیا گیا
    اور حضرت آپ نے تحریر فرمایا
    کہ دہشت گردی اور مغرب کی گھڑی ہوئی ایک اصطلاح جسے ''خودکشی'' کہتے ہیں اور یہ اصطلاح اب پاکستانیوں کے بھی زبان زدِ عام ہے، تو اس پر ہزار ہا صفحات کالے کرنا کسی نا اہل یا پرلے درجے کے احمق کو ہی زیب دیتا ہے کسی مستند عالم کو نہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ وہ اس لئے کے قرآنِ پاک کی آیات کا شمار بھی معلوم ہے اور ان آیات میں دہشت گردی، قتل ِ ناحق، قتل و غارت اور خود کشی کی ممانعت اور اس کی تعزیر سے متعلق شماریات بھی معلوم ہیں

    تو کیا طالبان نے ان قرآنی آیات کا مطالعہ نہیں کیا یقیناً کیا ھو گا مگر اسکے باوجود آج بھی وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ھیں اسی لیے ڈاکٹر صاحب نے اُن قرانی آیات اور احادیث نبوئ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح اور تفسیر کی اور ان ظالموں کی مذمت کی اور ثابت کیا کہ یہ گروہ خارجی ھے۔ آپ نے مذید لکھا کہ
    یقین جانئے کہ پڑھنے کے بعد کوئی بھی صمیم قلب، ذی فہم اور عقلِ سلیم کا مالک دو باتیں سوچنے پر مجبور ہو گا۔ پہلی تو یہ کہ کیا جھک ماری ہے صاحبِ تحریر نے اور پڑھ کر قاری نے۔
    تو قرانی آیات اور احادیث نبوئ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح اور تفسیر آپ کے نذدیک شاید جھک ھو گی میں اس پر کیا تبصرہ کروں (فتاویٰ میں کیئ ایک قرانی آیات اور احادیث مبارکہ موجود ھیں
    آگے آپ نے ارشاد فرمایا کہ
    دوسری بات جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ صاحبِ تحریر نے کس قدر تلبیسِ حق اور چالاکی سے کام لے کر اپنے مغربی آقاؤں کی ہمنوائی کرتے ہوئے ان کی منظور نظری حاصل کرنے اور ان کا آلہ کار بننے کی سعی دکھائی ہے۔
    تو ہہ بات بھئ روز روشن کی طرح عیاں ھے کہ کس نے روس کے خالف جنگ میں امریکیوں سے ڈالر کمائےاور مغربی آقاؤں کو خوش کیا اور آج کون پڑوسی بنئیے کی خوش نودی حاصل کرنے کی جستجو میں مسلمانوں کا قتلِ عام کر رہا ہے اور آخر میں آپ نے تحریر لکھا
    میں جناب کی مزید خاطر تواضح (دیکھ لیجیئے! جناب کی خاطر تواضح میں آج ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی)کے لئے طاہر قادری صاحب کا ماضی قریب کا ایک اور جھوٹ پیشِ خدمت ہے۔حق و باطل میں تمیز رکھنے والے خود جان جائیں گے کہ طاہر صاحب! یہ کیا؟ موصوف کوشش میں ہیں اس ویڈیو کو بھی منظر عام سے ہٹوانے کے لئے لیکن فی الوقت بات نہیں بن رہی۔ ویسے دیگر بہت سے ویڈیو کامیابی سے ہٹوا چکے ہیں جس سے ان کا پردہ کھلتا تھا زِپّی لِونی کی طرح۔
    تو اگر آپ اسکے ساتھ ہی موجود ریپلائی بھی ملاحظہ کر لیتے تو آپ اچھا تھا ۔۔۔ خیر آب دیکھ لیں
    http://www.dailymotion.com/video/xt...ying-on-danish-television_people#.UNmIRuRgRQV
     
  12. بےباک
    آف لائن

    بےباک ممبر

    شمولیت:
    ‏19 فروری 2009
    پیغامات:
    2,484
    موصول پسندیدگیاں:
    17
    جواب: سیاست یا ریاست ؟ خدشات کا جائزہ

    [​IMG]
    کس شوخ نے کیا لکھ دیا محراب مسجد پر --- کے نادان گر گیے سجدے میں جب وقت قیام آیا
    جناب محترم نعیم صاحب نے فرمایا ،
    اس پر میں نے کیا تبصرہ کرنا ہے ، آج ہی کسی ظالم نے مجھے یہ ویڈیو دیکھنے کے لیے بھیج دی ، اور رنگ میں بھنگ ملا دیا ,
    توہین رسالت کے قانون پر طاہر القادری کا یو ٹرن ۔۔۔۔۔
    http://vimeo.com/56187904
     
  13. بےباک
    آف لائن

    بےباک ممبر

    شمولیت:
    ‏19 فروری 2009
    پیغامات:
    2,484
    موصول پسندیدگیاں:
    17
    جواب: سیاست یا ریاست ؟ خدشات کا جائزہ

    اس سلسلے میں یہ لنک مشاھدہ کریں ، یہ سب تبصرہ جات ملکی اخبارات کے ہیں ،
    http://talkhaabau.wordpress.com/2009/09/09/ایم-کیو-ایم-قادیانی-وٹہ-سٹہ-؛-الطاف-حسین الطاف حسین اور قادیانیت کے تانے بانے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لاہور / لندن (خصوصی نامہ نگار/ آئی این پی/ نوائے وقت رپورٹ) تحریک منہاج القرآن کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری اور متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے درمیان منگل کو ٹیلی فون پررابطہ ہوا، نظام کی تبدیلی کےلئے الطاف حسین نے طاہرالقادری کو انقلابی جدوجہد میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرا دی۔ الطاف حسین نے کہاکہ انقلابی جدوجہد میں طاہرالقادری کے ساتھ ہیں۔ ایم کیوایم کے کارکنان طاہر القادری کی 14جنوری کی کال کےلئے تیار ہو جائیں، ایم کیو ایم کے کارکنان رابطہ کمیٹی کے حتمی اعلان کا انتظارکریں، ہم ملک سے کرپٹ پولیٹیکل سسٹم، دولت اور موروثی نظام سیاست اور فرسودہ جاگیردارانہ نظام کے خاتمہ کی انقلابی جدوجہد میں ڈاکٹرطاہرالقادر ی کے ساتھ ہیں، دونوں رہنماو¿ں نے 14جنوری کے لانگ مارچ اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ الطاف حسین نے نظام انتخاب میں اصلاحات کیلئے ڈاکٹر طاہر القادری کے مطالبہ کی بھرپور تائیدکرتے ہوئے کہاکہ ملک کے نظام میں حقیقی تبدیلی کیلئے انتخابی نظام میں اصلاحات ضروری ہیں۔ الطا ف حسین نے کہا کہ اب فیض احمد فیض کے اس خواب کو پوراکرنے کا وقت آگیا ہے کہ، سب تخت گرائے جائیں گے، سب تاج اُچھالے جائیں گے۔۔اور راج کرے گی خلقِ خدا، جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو۔ ڈاکٹرطاہرالقادری نے الطاف حسین کی بھرپور حمایت و تعاون پر ان کاشکریہ اداکیا اورکہاکہ ایم کیوایم اور تحریک منہاج القرآن میں یہی چیز قدر مشترک ہے کہ دونوں ملک سے کرپٹ جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ چاہتی ہیں، اس سے بڑھکرکوئی اور مشترکہ ایجنڈا نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا سادہ سا ایجنڈا ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور اتفاق رائے سے ایک ایسی جاندار اور ایماندار نگراں حکومت تشکیل دی جائے جسکے پاس وژن ہو، اتھارٹی ہو، اہلیت اور قابلیت ہو، جسے ریاست کے اداروں کی سپورٹ بھی حاصل ہو اور جو نظام انتخاب میں اصلاحات کرکے آزادانہ اور منصفانہ الیکشن کرا دے۔ دریں اثناءطاہر القادری نے کہاکہ 14 جنوری کے عوامی مارچ کو روکنے کا واحد راستہ 10جنوری سے قبل تمام سٹیک ہولڈرز کے اعتماد کے ساتھ نگران سیٹ اپ کا قیام ہے جس پر قوم کو مکمل اعتماد ہو، اس نگران حکومت کے مینڈیٹ میں آئین کی شقوں کے مطابق انتخابی اصلاحات کے بعد 90دن کے اندر انتخابات کی تکمیل ہو۔ مرکزی ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس میں انہوں نے عوام پاکستان، اندرون اور بیرون ملک تنظیمات اور کارکنان کو 23دسمبر کے تاریخی اجتماع کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور 14جنوری کے عوامی مارچ کی تیاریاں بھرپور انداز میں کرنے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر عوامی مارچ کے انتظامات اور ملک بھر میں عوامی رابطہ مہم کےلئے 100سے زائد کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ عوامی مارچ کی کمیٹیوں کے سربراہ شیخ زاہد فیاض ہو ں گے۔
    نوائے وقت کی آج کی خبر
     
  14. بےباک
    آف لائن

    بےباک ممبر

    شمولیت:
    ‏19 فروری 2009
    پیغامات:
    2,484
    موصول پسندیدگیاں:
    17
    جواب: سیاست یا ریاست ؟ خدشات کا جائزہ

    یاد رکھیے قادیانیوں نے ایک دفعہ کہا تھا کہ جس دن قومی اسمبلی کی 1974 کی کاروائی سرکاری سطح پر شائع ہو گی وہ وقت پاکستان کی تاریخ پر بہت بھاری ہو گا ، 38 سال بعد اتفاق سے وہ کاروائی شائع ہو چکی ہے ، اور ان قادیانیوں کے برمنگھم میں اسی سلسلے میں اجتماعات ہو رہے ہیں ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    محترمین میں نے صرف وہ باتیں بیان کی ہیں جو اخبارات اور وسائل اعلام میں آ چکی ہیں ، اللہ تعالی سے دعا ہے وطن عزیز کی حفاظت فرما ، اور ہر اس ہاتھ کو توڑ دے جو اس کی تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے ، میرے علم میں جو حقائق آئے بغیر تبصرے کے سامنے رکھ دیے ۔
     
  15. سرحدی
    آف لائن

    سرحدی ممبر

    شمولیت:
    ‏14 دسمبر 2012
    پیغامات:
    11
    موصول پسندیدگیاں:
    3
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سیاست یا ریاست ؟ خدشات کا جائزہ

    السلام علیکم ورحمۃ‌اللہ وبرکاتہ!
    اُمید ہے کہ تمام احباب صحت و عافیت کے ساتھ ہوں‌گے۔
    یہاں‌موجود ممبران نے اپنے نقطہ نظر کے ساتھ بہت ہی اچھے انداز میں‌ایک دوسرے کے سوالات کے جوابات دئیے اور بے باک بھائی نے موجود وقت کے خطرات کی نشاندہی بھی کردی ہے اور قوم کو ان لوگوں‌سے آگاہ کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔
    اصل میں‌مسئلہ کہاں‌پیدا ہوتا ہے کہ جب ہم لاعلمی میں‌کسی شخصیت کی باتوں‌سے متاثر ہوکر اس کے پیچھے چلنے لگتے ہیں، اور جب اس کے خلاف کوئی بولے تو ہم بغیر کسی تحقیق اس کو برداشت کرنا پسند ہی نہیں‌کرتے۔
    میرے خیال میں‌ہمارے کسی شخصیت کو پرکھنے کے لیے ایک طریقہ موجود ہے، اور وہ ہے ’’دین اسلام‘‘۔ یعنی اگر کوئی شخصیت اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اپنے کو شیخ‌الحدیث، شیخ‌الاسلام اور یا کوئی اور لقب دے کر عوام الناس میں‌مقبولیت حاصل کررہا ہے تو ہمیں‌اس کے ظاہری افعال، اعمال اور کردار کو دیکھنا اور پرکھنا چاہیے کہ یہ اسلام کے مطابق ہیں‌یا نہیں! اگر وہ شخصیت نبی اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کے حدود کے اندر ہے اور اس کے افعال، اقوال، اعمال اور کردار دین اسلام کے مطابق ہے تو ہم اس کی انگلی پکڑ کر اپنی منزل مقصود کی جانب چلیں‌گے۔ لیکن! اگر کوئی شخص شریعت مطہرہ کے حدود و قیود کے نکل گیا ہے اس کا ظاہر (قول و فعل( اور کردار اسلام سے مطابق نہیں‌رکھتا، نہ ہی وہ اپنے خیالات، افکار اور فیصلوں‌میں‌ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور ان ارشادات کے ضمن میں‌اسلام کے وضع کردہ اصول کے مطابق نہیں تو وہ شخص اس قابل ہی نہیں‌ہے کہ اس کی اتباع میں‌چلا جائے یا اس کی پیروی کی جائے۔
    ہمارے لیے راستہ کا تعین ہوچکا ہے اور وہ ہے اسلام کا راستہ۔ اب اس راستہ پر ہر چلنے والے کو دیکھ لیا جائے۔
    اس کے لیے مطالعہ کی ضرورت ہے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کو پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے، خلافت راشدہ کے زمانے کو دیکھنے کی ضرورت ہے، صالحین اور بزرگان دین کے فرمودات جو احادیث سے وضع کیے گئے ہیں‌سے مدد لینے کی ضرورت ہے۔ اس لیے تنقید برائے اصلاح‌ہونی چاہیے اگر کہیں‌پر اپنا آپ گرتا ہوا نظر آئے اور اپنا موقف غلط نظر آئے تو برملا اس کا اظہار کردینا بلندی ہے نہ کہ پستی۔ اللہ تعالیٰ‌ہمیں‌نیک و صالحین کی قیادت نصیب فرمائے ، ہمارا ہاتھ ان لوگوں‌کے ہاتھ میں‌تھمادے جن سے اللہ تعالیٰ‌راضی ہیں۔ آمین
     
  16. بےباک
    آف لائن

    بےباک ممبر

    شمولیت:
    ‏19 فروری 2009
    پیغامات:
    2,484
    موصول پسندیدگیاں:
    17
    جواب: سیاست یا ریاست ؟ خدشات کا جائزہ

    [​IMG]
     
  17. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سیاست یا ریاست ؟ خدشات کا جائزہ

    پاکستان آنے سے لیکر اب تک طاہر القادری صاحب نے جتنے " یو ٹرن " لئیے ہیں وہ بھی اپنی مثال آپ ہی ہیں ۔
    اس وقت بھی جناب " ایم کیو یم " کے مرکز " نائن زیرو " پر موجود ہیں ۔
     
  18. راشد احمد
    آف لائن

    راشد احمد ممبر

    شمولیت:
    ‏5 جنوری 2009
    پیغامات:
    2,457
    موصول پسندیدگیاں:
    15
    جواب: سیاست یا ریاست ؟ خدشات کا جائزہ

    علامہ طاہر اشرفی۔۔۔۔ شراب والا مولوی
    گھر سے نکل آیا اور بوتل بھی ساتھ لایا۔۔۔
     
  19. راشد احمد
    آف لائن

    راشد احمد ممبر

    شمولیت:
    ‏5 جنوری 2009
    پیغامات:
    2,457
    موصول پسندیدگیاں:
    15
    جواب: سیاست یا ریاست ؟ خدشات کا جائزہ

    طاہرالقادری صاحب جو بیان دیتے ہیں دوسرے دن اس سے پھر جاتے ہیں۔
    کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ طاہرالقادری آخر کرنا کیا چاہتے ہیںِ؟
     
  20. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سیاست یا ریاست ؟ خدشات کا جائزہ

    یہ تو روز اول سے وہ خود بھی نہیں جانتے کہ وہ کیا چاہتے ہیں :04:
     
  21. محبوب خان
    آف لائن

    محبوب خان ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏28 جولائی 2008
    پیغامات:
    7,126
    موصول پسندیدگیاں:
    1,499
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سیاست یا ریاست ؟ خدشات کا جائزہ

    ویسے یہ متحدہ سے اتحاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔سمجھنے سے زرا قاصر ہوں۔

    خدا خیر کرے۔۔۔۔۔۔کہ علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کی نیت پر تو کوئی شک نہیں۔۔۔۔۔۔جو معلومات ہیں۔۔۔مگر متحدہ اور ان کے انداز بیان وغیرہ سے تو سارا باغ ہی جانے ہے۔

    لیکن چونکہ رجوع تو کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔اس لیے یہ دعا ہے کہ یہ تبدیلی واقعی بہتر تبدیلی ہو۔۔۔۔۔ایسا نہ ہو کہ نظام کو ہی لپیٹ دیں۔

    یہ تو حقیقت ہے کہ سرسوں ہتھیلی پر نہیں جمایا جاتا ۔۔۔۔۔ لیکن چونکہ ڈاکٹر صاحب ایک بہت بڑے سکالر ہیں۔۔۔۔انکی ایک سیاسی بصیرت بھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔سو امید بہار رکھیں۔
     
  22. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سیاست یا ریاست ؟ خدشات کا جائزہ

    محبوب چاچو ! جھوٹ کے پانی سے کھیتیاں سیراب نہیں ہوتی ۔
    اگر پرانی سب باتین بھول بھی جائیں‌ اور اس بار ہی پچھلے کچھ مہینے سے چلائے جانے والی اشتہاری مہم کا ہی اگر ہم ایک جائزہ لین تو علامہ صاحب پچھلے کچھ عرصے میں میلک سے باہر رہ کر اور ملک میں آ کر کے جو جو مطالبات تھے اور جن میں سے اکثر سے وہ مکمل یو ٹرن لے چکے ہیں ، اور ہر بار یوٹرن لیتے ہوئے وہ کوئی نئی دلیل پیش کر دیتے ہیں ، لوگوں کو اُلجھا دیا ہے اوروں‌کو تو چھوڑیں خود مجھے جیسے نظریاتی لوگ بھی اس بار علامہ صاحب کی طرف اُمید سے دیکھنے لگے تھے مگر علامہ صاحب نے ہمارے یقین اور بھروسے کو یوں‌ توڑا ہے کہ اب خود پر بھی بھروسہ نہیں رہا ۔
    ایم کیو ایم پر لگے تمام دشہت گردی کے الزامات کو اگر ہم فل وقت بھول بھی جائیں تو بھی کیا یہ وہی جماعت نہیں جو بے نظیر اور نواز شریف سے لیکر موجودہ حکومت سمیت ہر حکومت کا حصہ ہوتی ہے ، جو مسلسل اس نظام کا حصہ بھی رہی ہے اور اب بھی ہے ۔
    مجھے اُن دوستوں سے دلی ہمدردی ہے جو کچھ دن پہلے تک نواز شریف ، زرد آری ، چوہدری برادران ، الطاف حسین ، منور حسن اور عمران خان کی تصاویر کے ساتھ اپنے پیغام میں‌ آقا صلاۃ السلام کی ایک بہت ہی پیاری پیاری حدیث کوٹ کرنے کے بعد پوچھتے تھے کہ بتائیے روز قیامت آپ کس کے ساتھ اُٹھنا پسند کریں گے ?
    اب کیا وہ یہی سوال جناب علامہ صاحب سے کر سکتے ہیں ؟
     

اس صفحے کو مشتہر کریں