1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

سچ بولئے تاکہ آپ کے بچوں کا مستقبل محفوظ رہ سکےٓ

'ادبی طنز و مزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از مخلص انسان, ‏23 ستمبر 2016۔

  1. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,744
    ملک کا جھنڈا:
    جیسے کہ عاشق نامدار کا نہ صرف چاند تارے توڑ لانے کا جھوٹ بلکہ اسے محبوب کے قدموں میں
    کسی فالودے کے پیالے کی طرح پیش کرنے والا جھوٹ ۔ ۔
    جو دانتوں سے کاغذی بادام توڑ نہیں سکتا ۔ ہمسایوں کے درخت سے آم توڑ کر نہیں لا سکتا ۔ وہ چاند کو زمین پر لانے کی بات کرتا ہے
    ایسے ہی عاشق کے بارے میں پڑھا تھا کہ ایک دفعہ اپنی محبوبہ کو بھگا کر لے گیا ۔
    دو دن بعد وہ گھر آگئی باپ نے غصے سے دھاڑتے پوچھا اب کیا لینے آئی ہو ۔ معصومیت سے جواب دیا ۔
    باریک پن والا چارجر ۔ یعنی عاشق نامدار کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ چارجر ہی لے کر دیں ۔
    ایسے ہی عاشق بعد میں لڑکی بن کر اور خدا رسول کے واسطے دے کر بیس روپے کا لوگوں سے ایزی لوڈ مانگ رہے ہوتے ہیں
    ایسے لوگ جھوٹ اپنی تمام تر معصومیت استعداد اور لوگوں کی نظر میں اپنی پوزیشن کے حساب سے بولتے ہیں ۔
    دراصل اس جھوٹ سے یہ اپنی ذات کی بھونڈے طریقے سے تشہیر کرتے ہیں ۔ لوگ وہی سنتے ہیں جو آپ کہتے ہیں ۔
    اب عاشق ستم ظریف دن رات موبائل پر جان دے دوں گا دنیا سے لڑ جاوں گا جیسے الفاظ کا
    کثرت سے اگرچہ ورد کرتے ہیں مگر ۔ حقیقت میں شہد کی مکھی لڑجائے تو محبوبہ کو باجی اور مکھی کو آپا کے
    خطابات دینے سے بھی ہرگز نہیں چوکتے ۔
    اور دوبارہ توبہ کرتے ہیں کہ محبوب کی گلی کو بھول کر بھی نہیں دیکھیں گے
    کیونکہ محبوب کے پاس دل ہے اور احساس ہے مگر مکھی کے پاس ایسا کچھ بھی نہیں اور نہ اسے احساس ہے ۔
    ویسے بھی موقع پر فی میل ہی فی میل کو بچاتی ہے بھلے وہ مکھی ہو یا انسان ۔ ۔
    ایسے عاشق بھی کاغذی اخروٹ کی طرح بس کاغذی عاشق ہی ثابت ہوتے ہیں ۔
    ایسے ہی ایک ماڈرن عاشق سے اسکے محبو ب نے پوچھا تم میرے لئے کیا کر سکتےہو ۔ عاشق نے موجودہ دور کا سب
    سے بڑا جھوٹ بول دیا ۔ کہ تمھارے لئے فیس بک ۔ وٹس ایپ وائی فائی ۔ ۔ ۔ اور تھری جی سب چھوڑ سکتا ہوں ۔ ۔
    سنا ہے لڑکی نے فورا اس سے شادی کر لی آج وہ لڑکا شاعر ہے ۔ اور فراز کے عشقیہ شعروں کی ایسی تیسی کرکے اپنا انتقام لیتا ہے ۔
    اسی لئے کسی سیانے نے کہا ہے ۔ ۔ ۔ جھوٹ کے پاوں نہیں ہوتے ۔ ۔ ۔ اور سچ کا سرا نہیں ہوتا ۔
    بعض اوقات انسان کا بولا گیا جھوٹ سچ بن جاتا ہے ۔ اور جھوٹے لفظ بھی لوگوں کی نظر میں حقیقت کا روپ دھا ر لیتے ہیں ۔
    اسی لئے کلو کا گدھا بھی کلو ہی کہلاتا ہے ۔ بھلے وہ کلو جتنا کالا نہ بھی ہو ۔ ۔
    ۔ اور گدھے کو یہ جمہوری طریقہ بالکل بھی پسند نہ آئے … وہ زیادہ چوں چراں بھی نہیں کر سکتا
    اگر کرے گا تو کسی ہوٹل کے مٹن مینیو کا حصہ بن جائے گا …
    لوگ آپ کے جھوٹ کو پکڑ نہیں پاتے … کیونکہ آپکا جھوٹ سپورٹس کار سے بھی تیز رفتاری سے سفر کرتاہے . .
    کہتے ہیں کہیں ایک شخص جھوٹ بولنے میں بہت ماہر سمجھا جاتا تھا ۔ ایک دفعہ ایک مائی اس سے ملی
    اور بولی سنا ہے تم جھوٹ بولنے میں ماہر ہو ۔ اور کوئی بھی یقین کر لیتا ہے ۔ ۔ وہ بولا ۔ آپ جیسی خوبصورت ۔ ۔ حسیں ۔ ۔ ۔
    جواں خاتوں کے منہ سے یہ بات اچھی نہیں لگتی ۔ ۔ مائی بولی کون کمبخت بولتا ہے تم جھوٹ بولتے ہو ۔ تم تو سچ بولتے ہو ۔
    لہذا لوگ آپکے جھوٹ کو بھی سچ جان کر اعتبار کی سند دے دیتے ہیں ۔
    لہذا اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ لوگ ایسے ایسے لوگوں کو اعتبار کی سند دیتے ہیں جو غلطی سے بی اے کا امتحان پاس کرلیں
    تو یونیورسٹی حیرت کے مارے سند نہیں دیتی ۔ ۔
    اس معاشرے میں زیادہ جھوٹ اچھا حلیہ ہی اپنا کر بولا جاتا ہے ۔ اشتہارات ہی کو دیکھ لیجئے ۔۔سب جھوٹ ۔
    پھر بھی آپ آنکھیں بند کرکے اعتبار کر رہے ہیں ۔ اور وہی چیز لے رہے ہیں جو آپ کو زیادہ دکھائی جا رہی ہے ۔
    بھلا کونسا آم ہے جو آپ سے پوچھ کر منہ میں ٹپکتا ہے ۔ وہ بھی نل سے ناراض پانی کے قطروں کی طرح ٹپ ٹپ ۔ ۔
    بھلا کونسی کریم ہے جسے لگانے کے فورا بعد آپ ہر قسم کی بدصورتی سے نجات پاکر مجسم حسن بن جاتے ہیں .
    اور آپ لیلی سے سنڈریلا بن جاتی ہیں ۔ آپ کو دو سال میں گھر بنگلہ ۔ ۔ ۔ گاڑی سب مل جاتا ہے ۔
    تاکہ آپ لڑکے جیسا کماوپوت بن سکیں ۔ جسیا فیر اینڈ لولی میں دکھایا جاتا ہے ۔
    بھلا وہ کونسا صابن ہے جسے لگا کر کارواں کا کارواں آپ پر فدا ہوا چاہتا ہے ۔
    کسی زمانے میں سنتے تھے آلہ دین کا چراغ رگڑیں تو جن نکل آتا ہے اور آپ کی انکم وغیرہ ڈبل کر دیتا ہے ۔
    اب یہ کام پیسپی نے سنبھال لیا ہے ۔ بس بوتل کو کھانے کی ٹیبل پر ماریں نہ صرف کھانا ڈبل ہوگا بلکہ من چاہا بھی ہوگا ۔
    اتنے عقلمند لوگ ویسے اس سیارے پر کیا کر رہے ہیں ۔ انہیں تو مریخ پر ہونا چاہیئے ۔ ۔ ۔ ایک آکسیجن ۔ ۔ پیسپی اور کیپسول کی گولیا ں لے کر جائیں
    اور پیسی کو زمیں پر مار کر ڈبل کرتے رہیں ۔ ۔ ۔
    وہ کونسا سپرے ہے جسے لگا کر نہ صر ف لڑکیاں بلکہ غائب پریاں
    بھی حسرت سے اس بند ے کو دیکھتی ہیں جس کی بیوی ہمیشہ یہی کہتی رہتی ہو ۔
    شیدے تو بندہ کب بنے گا ۔
    لیکن آپ چپ چاپ کتنے سستے داموں ایک مارکیٹنگ ایجنسی کو اپنا اعتبا ر بیچ کر اپنے وجود میں
    ہر قسم کے جھوٹ کو تسلیم کرنے کی بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں ۔
    اسے لئے زندگی کے ہر موقع پر بلا جھجک آپ دھوکہ کھا رہے ہوتے ہیں ۔
    زندگی جب دھو کہ دیتی ہے تو اس دھوکے کو آپ کسی صابن یا سر ف سے بھی دھوکر صاف نہیں کر سکتے ۔
    حالانکہ موجودہ دور میں تو آپ دھوکہ تو دور کیمکلز زدہ سبزیوں اور پھلوں کو بھی صاف نہیں کر سکتے ۔
    میں جب سڑکوں سے گزرتا ہوں تو جابجا لگے اشتہا ر دیکھ کر یہی سوچتا ہوں ۔
    کہ اگر ہر چیز میزان میں اچھی لگتی ہے تو یہ خود کس چیز میں اچھی لگتی ہے۔
    اور ہر چیز میزان میں اچھی لگتی ہے تو خواتین کو چاہئیے تھوڑا سا میزان آئل چہرے پر
    مل لیا کریں کیونکہ جب ہر چیز میزان میں اچھی لگ رہی ہے تو آپ بھی خوب لگیں گی ۔ ۔ اور میک اپ کا خرچہ بھی بچ جائے گا ۔
    اگر سپرمین زمین پر یوفون کی موبائل سم لینے آسکتا ہے تو کیا بیٹ مین پمپر لینے نہیں آسکتا ۔
    اور کیا آئرن مین ائرن کی کمی ہارلیکس یا مائلو پینے سے پوری نہیں کر سکتا ۔ ۔
    شیمپو لگا کر آپ سب کچھ کر جاتے ہیں ۔ آپ کے بال بال نہیں رہتے ۔ کیونکہ کمپنی ٹھیک کہتی ہے ۔ جب سر پر
    بال ہی نہیں رہیں گے تو کیسی خشکی کیسی سکری ۔
    جیسا کہ آپ جانتے ہیں عید کی آمد آمد ہے۔ لہذا ۔ ۔ دن میں پانچ چھ بار بکرے ۔ ویہڑے یا اونٹ کو علاقے میں لازمی گھمائیں ۔
    آپ کی اچھی خاصی مارکیٹنگ ہوجائے گی ۔ لوگوں کو پتہ چلے گا ۔ صاحب نے اب کہ دو لاکھ کا ویہڑہ لیا ہے ۔ لیکن صاحب خود
    پچاس ہزار کی اسامی بھی نہیں ۔ یعنی صآحب جی قر ضہ لے کر قربانی کر رہے ہیں ۔ تاکہ محلے میں ان کی ناک جو پہلے ہی دو گز کی ہے
    اور اس پر مزید دو فلائی اور بن سکتے ہیں ۔ ۔ ان سے بندہ پوچھے اتنی بڑی ناک کا
    کریں گے کیا تو جواب یہی دیں گے ۔ ۔
    مصیبت کے وقت کے لئے سنبھال کر رکھوں گا ۔ وہ اس ناک کو اونچی کرنے کے لئے ہر طریقہ اپناتے ہیں
    ۔یہ سب جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے ۔ ۔
    جو کام ایڈ ایجنسیز کرتی ہیں وہ آپ بھی کر رہے ہیں ۔
    کیا آ پ قربانی شو آف کے لئے نہیں کر رہے اگر آپ ایسا کر رہے ہیں تو بہتر ہے ۔
    خود بکرے ، دنبے اور ویہڑے کی جگہ قربان ہوجائیے ۔ ۔ آپ کی مارکیٹنگ اچھے طریقے سے ہوگی ۔ لوگ کہیں گے وہ دیکھو
    کتنا اچھا بکرا تھا ۔ سوری آپ بکرے جیسے ہی لگتے ہیں جب آپ ان کی نمائش کرتے ہیں ۔
    پھر یہی جھوٹ آپ کی پوری زندگی میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے ۔
    اور آپ ہر جگہ جھوٹ کے ساتھ ہی زندگی بسر کرتے ہیں ۔
    اور بھلا ایسے جھوٹ کا فائدہ کیا ۔ پھر آپ شکایت کرتے ہیں ہم بہت جھوٹ بولتے ہیں ۔ ۔
    بچپن سے ہی ساس پین وال منہ لے کر آپ بچے کو سکھا رہے ہوتے ہیں ۔
    بیٹا بطوطہ انکل گھر آئیں تو کہنا میں گھر پر نہیں ہوں ۔ اور بیٹا بھی خراماں
    خراماں دروازے پر جا کر کہتا ہے ۔ ابو کہ رہے ہیں وہ گھر پر نہیں ہیں ۔
    آپکا بیٹا سچا ہوتا ہے شروع شروع میں کوئی سکول میں اس سے پوچھے نا بیٹا آپ کے ابو کیا کرتے ہیں وہ یہی جوب دیتا ہے ۔
    جو امی کہیں۔وہی کرتے ہیں ۔ اور ساتھ وہ بھی کرتے ہیں جو امی کہنا بھول جاتی ہیں ۔
    بعد میں آپ کی تربیت سے یہی بچہ سیاست دان کی طرز کا گفتگو کرنے لگتا ہے ۔
    لہذا جھوٹ کو اپنی زندگی سے ایسے نکالئے جیسے مہنگائی نے آپ کو اچھے لائف سٹائل سے نکال باہر کیا ہے ۔
    اور سچ کو اپنائیے شروع میں یہ آپ کو اپنی ساس کی طرح لگے گا ۔ ۔ لیکن وقت کے ساتھ بے ضرر سسر کی طرح لگنے لگے گا جو سسرال میں اکثر آپ کی ہی سائڈ لیتا ہے ۔
    سچ بولئے تاکہ آپ کے بچوں کا مستقبل محفوظ رہ سکےٓ

    ( بشکریہ : سخاوت حسین )
     
    نعیم نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں