1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

سِلی پوائنٹ

'کھیل کے میدان' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر خیام, ‏19 جنوری 2010۔

  1. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    آئی پی ایل کی حالیہ نیلامی میں پاکستان کے مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد افریدی کو کسی بھی ٹیم نے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ کرکٹ کی دنیا میں شاید یہ ایک حیرت انگیز واقعہ ہو۔ اور ماہرین اس کیلیے بہت سی وجوہات پیش کریں۔
    لیکن ہمارے خٰیال میں اس کی سب بڑی وجہ یہ ہے کہ آئی پی ایل کی ٹیموں کے مالکان کو خدشہ ہے کہ شاہد آفریدی کو دو ملکوں کے درمیان سرد جنگ کی وجہ سے ویزا نہ مل سکے، اس لیے اس کیلیے اتنی زیادہ رقم کا جوا کھیلنا مناسب نہیں۔
     
  2. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سِلی پوائنٹ

    ان آخری دس منٹوں میں، سہیل تنویر، کامران اکمل، عمر اکمل، اور عمران نذیر کے نام بھی نیلامی میں ٹیموں کے نمایندگان کے سامنے پیش ہوئے۔ لیکن شاہد آفریدی کی طرح ان کھلاڑیوں کیلیے بھی کوئی خریدار سامنے نہیں آیا۔
    یہ وہ کھلاڑی ہین جن کی بدولت پاکستان نے پچھلے سال کا بیس بیسی عالمی کپ بڑے دھوم دھام سے جیتا تھا۔ لیکن شاید وجہ یہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہے، دونوں ملکوں کے درمیان کی سرد جنگ ان کھلاڑیوں کی راہ میں حائل ہورہی ہے۔
     
  3. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سِلی پوائنٹ

    کیا اسکی وجہ یہ بھی نہیں‌ہوسکتی کہ شاہد آفریدی قابل بھروسہ ہی نہیں ؟ خدا جانے کب چھکا مار دے اور خداجانے کب آؤٹ ہوجائے :takar:
     
  4. محبوب خان
    آف لائن

    محبوب خان ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏28 جولائی 2008
    پیغامات:
    7,126
    موصول پسندیدگیاں:
    1,499
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سِلی پوائنٹ

    چلو اچھا ہوا اور ہمیں یہ بھی پتا چلا کہ بھارت والے ہمارے بارے ۔۔۔۔۔چاہے عام عوام ہوں۔۔۔۔یا کرکٹ کے ہیرو۔۔۔۔۔۔مگر وہ ہر وقت پاکستانیوں کو زیرو بنانے کے فضول چکر میں‌لگے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔پتا نہیں بھارتی یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ گلاب کو اگر اپنے مبارک زبان سے گلاب نہ کہیں تو گلاب کو کچھ فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔۔۔بے چارے 20 20 گیم کھیلیں گے۔۔۔۔مگر انھیں پتا بھی ہے کہ پاکستان 20 20 ورلڈ چمپئن ہے۔

    بس کچھ لوگ اپنی محرومیوں‌کا ازالہ کچھ ایسے ہی کرنے کی سعی لاحاصل کرتے ہیں۔
     
  5. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سِلی پوائنٹ

    پاکستان تو آخری سارے میچ ہار گیا۔۔۔۔۔۔۔ لیکن خوشی کی بات یہ افغانستان کی ٹیم نے آج اور گذشتہ کل کو سکاٹ لینڈ اور آئر لینڈ کی ٹیموں کو 20/20 کے میچوں ہرا دیا۔
    یاد رہے کہ اسی آئر لینڈ کی ٹیم نے ویسٹ انڈیز میں کھیلے جانے والےون ڈے کرکٹ کے ورلڈ کپ میں پاکستان کی قومی ٹیم کو ہرایا تھا۔۔
    اب ہوسکتا ہے کہ پاکستان کا مقابلہ اگے 20/20 ورلڈ کپ میں افغانستان سے ہی پڑ جائے۔۔۔۔۔
    مشتری ہوشیار باش۔۔ کرکٹ کی دنیا میں ایک نئی سپر پاور کا اضافہ ہونے والا ہے۔۔
     
  6. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سِلی پوائنٹ

    آج افغانستان نے دبئی میں 20/20 کے ایک میچ میں مسلسل تیسرا میچ بھی جیت لیا۔۔ آج انہوں نے امریکہ کی کرکٹ ٹیم کو 29 رنز سے ہرادیا۔۔۔ اس طرح افغانستان نے تین میں سے تینوں میچ جیت کر سپر فور کیلیئے کوالیفائی کر لیا ہے۔
    آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔۔۔
     
  7. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سِلی پوائنٹ

    افغانستان نے 20/20 کوالیفاٰینگ ٹورنامنٹ جیت لیا۔۔ فائنل میں آئرلینڈ کی ٹیم کو آٹھ وکٹ سے شکست دیدی۔
    سیمی فائنل میں افغانستان نے متحدہ عرب امارات کی ٹیم کو ہرایا تھا۔
    افغانستان نے پورے ٹورنامنٹ میں صرف ایک میچ۔ نیدرلینڈ سے ہارا۔۔
    افغانستان نے اس سال ویسٹ اینڈیز میں ہونے والے 20/20 ورلڈ کپ میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ وہ اب گروپ" سی" میں جنوبی افریقہ اور انڈیا سے نبردآزما ہوں گے۔
    کریم صادق، سمیع اللہ شنواری، نوروز مینگل، نور علی، محمد نبی، میرویس اشرف، شاپورزردان،حمید حسن، اور محمد شہزاد کی کارکردگی اس تورنامنٹ میں نمایاں رہی۔
     
  8. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سِلی پوائنٹ

    28 فروری کا دن بوت یادگار رہا۔
    صبح سویرے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا ایکشن اور مار دھاڑ سے بھرپور ،میچ ہوا۔ جس میں دونوں نے 214 رنز بنا کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ برینڈن میککیلم نے سنچری بنائی۔
    اور شام کو زمبابوے نے ویسٹ اینڈیز کو ایک ایک کم سکور کے میچ میں ہرا دیا۔ زمبابوے نے صرف 105 رنز بنائے۔ صرف تین کھلاڑی اپنے رنز کا کھاتہ کھول سکے۔ باقی سات کے سامنے صفر کا ہندسہ لگا۔۔ جواب میں ویسٹ اینڈیز 79 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔
    28 فروری کا دن اس سے زیادہ بھی یادگار اور ہنگامہ خیز ثابت ہوسکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر اس دن ام کو کوئی تحفہ، کارڈ، مبارکباد کا ایس ایم ایس مل جاتا۔۔۔۔۔۔ کچھ نہیں ملا۔۔۔۔ کسی کو ام کا غیرسرکاری جنم دن یاد نہیں آیا۔۔۔۔۔۔۔دنیا کو پتہ نہیں کیا ہوتا جارہا ہے؟ ام اس کے مستقبل کے بارے میں کچھ زیادہ خوش آئیند توقعات وابستہ نہیں ہیں۔۔
     
  9. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سِلی پوائنٹ

    کچھ ہفتے پہلے ام نے ادر کی صفحات پر لکھا تھا کہ یونس گیا یوسف آیا۔ لیکن اب دونوں چلا گیا۔
    یوسف اور یونس، پاکستان کا دو بوت ہی سینیر کھلاڑی کو پاکستان کی تمام ٹیموں سے نکال دیا گیا ہے۔ البتہ وہ ڈومیسٹک اور کاؤنٹی کرکت کھیل سکتے ہیں۔
    اس کے علاوہ آفریدی، عمر اکمل اور کامران اکمل اور دیگر بہت سے کھلاڑیوں پر بیس سے تیس لاکھ کے جرمانے کیے گئے ہیں اور ان کو کہا گیا ہے کہ ان پر چھ ماہ کا پروبیشن ہے یعنی ان کو اس عرصے میں ایسے ہی قصور یا غلطی کرنے پر ان کو بھی اس سے زیادہ سزا کے قابل سمجھا جائے گا۔
    شعیب ملک اور رانا نوید پر ایک سال کی پابندی لگا دی گٰئی ہے۔
    عمر اکمل پر الزام ہے کہ ہوبرٹ میں اس نے کھیلنے سے انکار کردیا تھا، اس کا کہنا تھا کہ اگر اس کے بھائی کو ڈراپ کیا گیا تو وہ زخمی ہونے کا بہانہ کر کے نہیں کھیلے گا۔
    یاد رہے کہ آسٹریلیا میں خراب کارکردگی کے بعد کرکٹ بورڈ نے ایک چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی، جس کے ذمے ان اسباب کا پتہ لگانا تھا، جن کی وجہ سے ٹیم کی کارکردگی خراب رہی۔۔ اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی اور اعجاز بٹ نے آج ابھی ابھی اپنا فیصٌلہ صادر کردیا۔
    مزید تفصیلات کا انتظار کریں
     
  10. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سِلی پوائنٹ

    محمدیوسف پاکستان کا آخری ٹیسٹ سپر سٹار۔۔۔
    20/20 میں شاید پاکستان کبھی کبھار معرکہ مار لے۔۔۔۔ ایک روزہ کرکٹ میں بھی شاید۔ کسیا چھے دن کسی اچھی ٹیم کو ہرا دے۔ جیسے نیوزیلینڈ کی ٹیم اپ سیٹ کر جاتی ہے۔
    لیکن ٹیسٹ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟ پاکستان کے پاس پوری ٹیسٹ ٹیم کیلیے مناسب کھلاڑی دستیاب نہیں ہیں۔
    ملکی حالات کا اثر باقی شعبوں کی طرح کرکٹ پر بھی بہت بری طرح سے اثرانداز ہوا ہے۔ مقامی کرکٹ کا ڈھانچہ تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ جو تھوڑی بہت کرکٹ ہورہی ہے اس کا معیار عالمی معیار سے بہت نیچے ہے۔
     
  11. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سِلی پوائنٹ

    یونس گیا۔۔ یوسف آیا
    اب یونس گیا۔۔۔۔اور یوسف بھی گیا۔
    ایسا گیا کہ گیا ہی گیا۔۔
    اس کے جانے کے ساتھ ہی کرکٹ کا ایک درخشاں باب بھی بند ہوگیا۔
    سن 2000ء سے لیکر 2006ء تک دنیائے کرکٹ میں نمایاں ترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والا اس صدی کے پہلے عشرے کا سب سے بہترین پاکستانی بلے باز آنسوؤں کی لڑیاں پروتا ہوا ۔۔اپنے کیرٰئیر ختنم ہونے سے قبل ہی رن آؤٹ ہوگیا۔۔
     
  12. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سِلی پوائنٹ

    عمر خیام بھائی ۔
    اگر ممکن ہو تو محمد یوسف کے سپورٹس کیرئیر اور ریکارڈز وغیرہ کی تفصیلات ہم تک پہنچا دیں۔ شکریہ
     
  13. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سِلی پوائنٹ

    محترم نعیم بھائی۔ محمد یوسف کا مکمل کرکٹ کیریئر حاضر ہے۔
    26 فروری 1998 کو جنوبی افریقہ کے خلاف ڈربن میں اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا۔ پہلے ٹیسٹ میں صرف 5 اور ایک رن کی ہی اننگز کھیل سکے۔ لیکن پاکستان وہ میچ 29 رنز سے جیت گیا۔
    اب تک 88 ٹیسٹ میچز کی 152 اننگز میں 7431 رنز 53 سے زاید کی اوسط سے بنا چکے ہیں۔ جس میں 24 سنچریاں اور 32 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ یوسف نے جنوبی افریقہ کے علاوہ ہر ملک میں سنچری سکور کرنے کا اعزاز بھی حاصل کررکھا ہے۔ جبکہ سن 2006 میں یوسف نے گیارہ میچوں میں 1788 رنز نو سنچریوں کی مدد سے بنا کر ایک کیلنڈر سال میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا عالمی ریکارڈ بھی انہی کے پاس ہے۔لیکن بدقسمتی سے اس ریکارڈ ساز سال کے بعد وہ محض 15 میچ ہی کھیل سکے۔
    جبکہ ایک روزہ کرکٹ میں انہوں نے 282 میچوں کی 267 اننگز میں 9624 رنز سکور کیے۔ ایک روزہ کرکٹ میں یوسف نے 15 سنچریاں اور 64 نصف سنچریاں سکور کررکھی ہیں۔
     
  14. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سِلی پوائنٹ

    سن 2006 کے ریکارڈ ساز سال کے بعد 2007 ء میں یوسف کو وزڈن کرکٹر اف دی ائیر اور آئی سی سی کرکٹر آف دی ائیر کا اعزاز بھی ملا
     
  15. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    37
    جواب: سِلی پوائنٹ

    کیا فائدہ ہوا اسے یہ سب کرنے کا
     
  16. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سِلی پوائنٹ

    کرکٹ کا ورلڈ کپ اپنے منطقی انجام تک پہنچ گیا۔ یعنی ٹورنامنٹ کی میزبان ،مضبوط ترین ٹیم اور ایکروزہ کرکٹ کی سراول ٹیم نے ورلڈ کپ جیت لیا۔۔ کرکٹ ورلڈ کپ کی 36 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی میزبان ٹیم نے ایسا کارنامہ سر انجام دیا ہو۔
    پاکستان نے سیمی فاٰنل تک رسائی حاصل کی۔۔ جو میرے خیال میں تمام اسباب اور پس منظر کو دیکھتے ہوئے ایک عظیم کامیابی ہے۔ کیونکہ ماضی کے دو ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے موجودہ ٹیم سے زیادہ مضبوط ٹیمیں میدان میں اتاریں گئیں لیکن وہ خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کرسکیں، بلکہ وہ تو دوسرے مرحلے تک بھی پہنچنے میں ناکام رہیں۔۔۔۔ اس پر پاکستان کی تمام ٹیم بلا شبہ مبارکباد کی مستحق ہے۔
    اگر تنقیدی نظر سے پاکستان کی سیمی فاٰئنل کی شکست کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات ایک لحاظ سے خوش ائند بھی ہے کہ اس شکست میں اپنا ھاتھ زیادہ تھا۔۔۔ ایک تو فیلڈنگ میں ضرورت سے زیادہ کیچ چھوڑے گئے۔ اور دوسرے نمبر پر مڈل آرڈر میں کچھ تجربہ کار بیٹسمین اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح سے برائے کار نہیں لا سکے۔
    پاکستان کو ایک عالمی سطح کے فیلڈنگ کوچ کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ٹیم میں ایک ماہر نفسیات کی بھی ضرورت ہے، جو بڑے مواقع پر ٹیم کا مورال بلند کرنے میں معاون ہو۔
    ویلڈن پاکستان !!!!
    کچھ دنوں کیلئے ہی سہی لیکن قوم میں ایک نیا جذبہ تو ابھرا۔ لوگ معاشی، سماجی اور دیگر مسائل کو کچھ دیر کو بھولے تو سہی۔
     
  17. محبوب خان
    آف لائن

    محبوب خان ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏28 جولائی 2008
    پیغامات:
    7,126
    موصول پسندیدگیاں:
    1,499
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سِلی پوائنٹ

    کرکٹ نے بہرحال قوم کو یکجہتی کے لڑی میں‌پرویا ۔۔۔۔۔۔ چلو کچھ دنوں‌کے لیے سہی۔۔۔مگر سب ایک ہی انداز میں سوچ رہے تھے۔
     
  18. نورمحمد
    آف لائن

    نورمحمد ممبر

    شمولیت:
    ‏22 مارچ 2011
    پیغامات:
    423
    موصول پسندیدگیاں:
    5
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سِلی پوائنٹ

    بہت خوب خیام بھائی ۔ شکریہ
     
  19. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سِلی پوائنٹ

    ویسٹ انڈیز جانے والی پاکستانی ٹیم کا اعلان کردیا گیا ہے۔
    وکٹ کیپر کامران اکمل اور آل راؤنڈر عبدالرزاق کو شامل نیہں کیا گیا۔۔ جبکہ محمد یونس اور عمر گل کو آرام کرنے کیلئے گھر مٰیں رہنے کا کہا گیا ہے۔۔۔
    کامران اکمل کی جگہ کراچی کے وکٹ کیپر محمد سلمان کو شامل کیا گیا ہے۔ عمر گل کی جگہ 31 سالہ اعزاز چیمہ کو موقعہ دیا گیا ہے۔
    عبدالرزاق نے ورلڈ کپ کے تمام میچوں میں شرکت کی، لیکن صرف پانچ وکٹٰں لے سکے۔ عام طور پر رزاق کو اس کی دھواں دار یٹنگ کی وجہ سے ٹیم میں رکھا جاتا ہے۔ لیکن اس بار وہ صرف دھواں دھواں ہی رہے۔ اور صرف 104 رنز کا ٹوٹل ہی کرسکے۔ رزاق کی جگہ پر اٹک کے بیس سالہ حماد اعظم کو شامل کیا گی ہے۔ یہ نوجوان کھلاڑی انڈر 19 میں عمدہ کارکردگی دکھا چکا ہے اور کرک کے شائقین کو اس سے مستپبل مٰں بہت سے توقعات وابستہ ہیں۔
    ایک اور نیا نام عثمان صلاح الدین کا ہے۔ یہ شاید یونس خان کی جگہ بیٹسمین کے طور پر جارہا ہے۔ اس کے علاوہ باقی تمام جانے پہچانے نام ہیں۔ یعنی شاہد آفریدی، عمر اکمل، مصباح الحق، تنویر احمد، وہاب ریاض، جنید خان۔ محمد حفیظ۔ اسد شفیق۔ احمد شہزاد۔ توفیق عمر۔ عبدالرحمان۔ سعید اجمل۔ وغیرہ
     
  20. نورمحمد
    آف لائن

    نورمحمد ممبر

    شمولیت:
    ‏22 مارچ 2011
    پیغامات:
    423
    موصول پسندیدگیاں:
    5
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سِلی پوائنٹ

    شکریہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  21. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سِلی پوائنٹ

    آئی پی ایل اس وقت دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ دنیا بھر کے چیدہ چیدہ اور سٹار کھلاڑی اس وقت اپنی اپنی صلاحیتوں کا بھرپورمظاہرہ کررہے ہیں ۔ بلکہ آئی پی ایل کی بے پناہ مقبولیت کا اندازہ اسی بات سے لگا لیں کہ دنیا کے چند معروف کرکٹرز نے اپنے ملک کی نمائندگی سے زیادہ آئی پی ایل میں کھیلنے کو دی ہے ۔ آپ کو یاد ہوگا کہ آسٹریلیا کے ایڈم گلرسٹ، شین وارن اور میتھیو ہیڈں نے آئی پی ایل میں اپنا کیریئر لمبا کرنے کی غرض سے عالمی کرکٹ سے کنارہ کشی کرلی تھی۔ پچھلے سال بریٹ لی نے اور اس سال ورلڈ کپ کے بعد شان ٹیٹ نے بھی کنارہ کشی کر لی ہے ۔ اور اب کل خبر آئی ہے کہ سری لنکا کے سٹار فاسٹ بالر لستھ ملینگا نے بھی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر منٹ کا اعلان کردیا ہے ۔ توقع ہے کہ ویسٹ اینڈیز کے کرس گیل بھی آج کل میں ایسا ہی کریں گے۔ نیوزی لینڈ کے کپتان ڈینئیل وٹوری بھی ٹیسٹ کرکٹ چھوڑ دیں گے ۔
    اس میں قصور ان کھلاڑیوں کا بھی نہیں ہے ۔ کرکٹ کے کھلاڑی کی کھیلنے کی عمر محض چند سال ہوتی ہے ۔ اور چونکہ اس کھیل میں مہارت حاصل کرنے کی غرض سے اپنی نو عمری میں بہت زیادہ محنت کی ہوتی ہے اس لیے اکثر کھلاڑیوں کے پاس کوئی تعلیمی ڈگری نہیں ہوتی ۔ اور تیس سال کی عمر کے بعد یہ کھلاڑی مالی مشکلات کا شکار ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ اور اسی عمر میں یہ کھلاڑی اپنی خانگی زندگیوں کا آغاز بھی کرتے ہیں ۔ اس لیے دیگر عالمی کھیلوں کے کھلاڑیوں کی طرح ان کے پاس پیسہ کمانے کا جو بھی جائز طریقہ ہو ان کو اپنانا پڑتا ہے ۔
    یہ باتیں تو خیر سے عالمی منظر نامے کے حوالے سے تھیں۔
    پاکستان کے کرکٹرز کا مستقبل تاریک سے تاریک تر ہوتا جارہا ہے ۔ جو کھلاڑی انٹرنیشنل کرکٹ میں آجاتے ہیں ان کو تو پھر بھی کچھ نہ کچھ سہارا مل جاتا ہے ۔ لیکن ڈومیسٹک کرکٹ کے کھلاڑی ازحد ابتری کا شکار ہیں ۔
    پاکستان اپنی کرکٹ کو بچانے کیلیے ۔ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کیلیے ایک طریقہ اپنا سکتا ہے ۔
    پاکستان کے اندرونی حالات ایسے ہیں کہ یہاں پر کسی بھی عالمی معیار کا ٹورنامنٹ کرانا ممکن نہیں ۔اور عالمی معیار کے کھلاڑیوں کا مستقبل قریب میں یہاں آکر کھیلنا انہونی سی بات ہے اور نہ ہی پاکستانی کرکٹ کے شائقین ان میچوں کو دیکھنے کیلیئے کرکٹ کے میدانون میں اسی جوش وجذبے کے ساتھ قدم رکھیں گے ۔
    ہاں ! البتہ ایک طریقہ ہوسکتا ہے ۔
    پاکستان مڈل ایسٹ یعنی دبئی، ابو ظہبی، شارجہ اور جدہ وغیرہ میں وہاں کی مقامی کمپنیوں کے تعاون اور اشتراک سے اپنا ایک 20/20 ٹورنامنٹ کرائے ۔ اس میں ان ممالک کی مقامی ٹیمیں اور پاکستان سے فرنچائز ٹیمیں حصہ لیں ۔
    فرض کریں جدہ، دبئی، ابو ظہبی، شارجہ، اور پاکستان سے چھ یا سات فرنچائیز ٹیمیں حصہ لیں ۔ ہر ٹیم گیارہ میں سے سات مقامی کھلاڑی یعنی اسی ملک کے اور چار کھلاڑی دنیا بھر میں سے کہیں سے بھی لے کے کھلائے ۔
    اس وقت بحرین، دبئی، قطر، اور ابو ظہبی میں دنیا کے بہترین ٹینس، گھوڑ دوڑ، موٹر ریسنگ اور گولف جیسی سپورٹس کے ٹورنامنٹ ہورہے ہیں جس میں لاکھوں اور کروڑوں ڈالر کے انعامات دیئے جاتے ہیں ۔
    پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس کھلاڑی اور تجربہ موجود ہے ۔ وہ آئی پی ایل کے مقابلے میں صرف اسی ایک‌صورت میں عالمی معیار کا ٹورنامنٹ کراسکتے ہیں ۔۔ آخر کو مایا کو مایا ملتی ہے کر کر لمبے ھاتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا خیال ہے آپ کا ؟
    ہے نا ایک قابل عمل تجویز؟؟؟
     
  22. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سِلی پوائنٹ

    کسی جگہ لکھا تھا کہ قیادت میں صرف ایک تبدیلی سے کتنا فرق پڑتا ہے ۔ ایک اعجاز بٹ نکلا تو ٹیم میں یکدم کیسااتحاد اور اعتماد لوٹ آیا۔
    یہ جیت محض ایک جیت نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک بہت بڑا سبق ہے ۔ یہ کیا سبق ہے ؟ اس کو جاننے کیلیۓ آپ کو اس سیریز کا پس منظر جاننا ہوگا۔
    یہ سیریز ایک شکست خوردہ، دل گرفتہ اور شکستہ ٹیم اور ایک عالی حوصلہ ، نمبر ون ، آسٹریلیا جیسی پیشہ ور ٹیم کو ان کے ہی صحن میں شکست دیکر آنے والی اور انڈیا جیسی ورلڈ چیمپئن کو ایک ہزیمت بھری بُری شکست سے دوچار کرنے والی ٹیم کے درمیان تھی ۔ انگلینڈ کی ٹیم چھ بیٹسمین ایسے تھے جن کی ٹیسٹ اوسط چالیس سے اوپر تھی۔ تین بیٹسمین ایسے کہ جنہوں نے 19، 19 سنچریاں سکور کررکھی ہیں ۔ اور آئن بیل جیسا بیٹسمین جس نے گذشتہ سال سو رنز سے زیادہ کی اوسط سے تقریباٰ ایک ہزار رنز سکور کیے تھے ۔دنیا کا نمبر ون سپنر ، سوئنگ بالگ کا شہزادہ ، بہترین آل راؤنڈر سبھی اس میں شامل تھے۔ اور دوسری طرف صرف یونس خان ایک ایسا کھلاڑی تھا جس نے 50 سے زیادہ ٹیسٹ کھیل رکھے تھے ۔ عمرگل کو نکال دیں تو باقی سب بالروں کا کل تجربہ مونٹی پنیسر سے بھی کم بنتا تھا ۔ انگریز صرف سعید اجمل کو خطرہ سجمھتے تھے ۔ باقی کسی کو خاطر میں لانے کو تیار نہ تھے۔ ان کو اپنی اس ٹیم پر جس نے آسٹریلیا اور انڈیا جیسے سورما چاروں شانے چت گراۓ تھے، اتنا ناز تھا کہ پہلے میچ میں انہوں نے صرف ایک سپنر کھیلایا۔ جس کا خمیازہ ان کو بھگتنا پڑا۔
    پہلے ٹیسٹ میں جیت کو ایک فلُوک سمجھا گیا۔ کہا گیا کہ انگلینڈ کی ٹیم ابھی دس دن پہلے ہی یہاں اتری ہے ا سلیے ماحول اور موسم سےاچھی طرح سے مانوس نہیں ہوسکی ۔ اس لیے دوسرے میچ میں اچھا کھیل کر بدلہ لے گی ۔ اور دو دن تک انہوں نے اپنے عمدہ اور پروفیشنل کھیل سے پاکستان کو کنارے لگاۓ رکھا۔ لیکن دوسرے میچ کی تیسری اننگز میں اسد شفیق اور اظہر علی نے بیٹنگ سے بتایا کہ ڈسپلن ہوتو کچھ بھی ممکن ہے۔ اور پھر سب سے کم فیشن ایبل اور انڈر ریٹڈ بالر نے پانسا پلٹ دیا۔ عبدالرحمان دنیا کا عام سا سپنر ہے جس کے ترکش میں سپن بالنگ کی ورایٹی کے بہت کم تیر ہیں ۔ لیکن اس کی ایک بہت بڑی خوبی ہے، وہ یہ کہ وہ فیلڈنگ کے مطابق گیند کراتا ہے۔ رنز نہیں بننے دیتا۔ جس کی وجہ سے بیٹسمین پر پریشر رہتا ہے ۔ اگر دوسرے اینڈ سے سعید اجمل سا بالر گیند بازی کررہا ہو تو ہر بیٹسمین یہی چاہتا ہے کہ وہ سیعد کو آرام سے احتیاط سے کھیلے، اور اس کی بجاۓ دوسری طرف سے رنز بنا کر پریشر کم کرے ۔ اور اسی کا فائدہ عبدالرحمان نے اٹھایا، اس نے لائن اور لینتھ اتنی باندھ کے رکھی کہ بیٹسمینوں کو خطرہ مول لیکر کھیلنا پڑا۔ سیریز کے تیسرے میچ کی چوتھی اننگز میں اس نے مسلسل 33 اوورز کراۓ۔ اور ایک مرتبہ بھی ا سکے ایکشن سے نہیں لگا کہ اس کی تھکن اس کی لائن یا لینتھ پر اثر انداز ہورہی ہو۔ حفیظ پاکستان کا ایسا ہیرا ثابت ہورہا ہے جو اگر ایک میدان مئں نہ چل سکے تو باقی کے دو میدانوں میں اپنی اہمیت کو مسلم کردیتا ہے۔ عمر گل بھی ایک اثاثہ ہے ۔ کسی جگہ محمود نے لکھا ہے کہ ٹیم میں گروپ بندی بہت تھی جس کی وجہ سے ٹیم پر اثر پڑ رہا تھا۔ یہ بات بالکل ٹھیک ہے ۔ پڑھنے والوں کو یاد ہوگا کہ اس کی طرف راقم نے بہت پہلے اشارے کنایے اور کھلم کھلا لکھا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ کچھ سال پہلے جب پاکستان کی ٹیم ویسٹ انڈیز میں ورلڈکپ میں آئرلینڈ جیسی ٹیم کے ہاتھوں ہار کے وطن لوٹی تھی تو اس ٹیم کے ایک مایہ نازکھلاڑی نے اپنے دو ساتھی کھلاڑیوں کا ہم سب کے سامنے اس طرح سے مذاق اڑایا تھا جیسے ردی کے ٹکڑے ہوں ۔ آج اللہ کی شان دیکھیں کہ وہی دو کھلاڑی یعنی عمر گل اور محمد حفیظ پاکستان کے تاج کا سنہرا پر ثابت ہوۓ ہیں۔ اسی عمرگل نے 20۫۔20 کا ورلڈکپ جتانے میں اہم کردار کیا تھا۔
    اظہرعلی ایک مکمل بیٹسمین ہے۔ اس سیریز سے پہلے وہ بڑا سکور کرنے میں ناکام رہتا تھا۔ نصف سنچری بنا کر ا سکی بس ہوجاتی تھی۔ لیکن دبئی ٹیسٹ کی دوسری اننگ میں ا سکے بناۓ ہوۓ 157 رنز کو میں پاکستان کی جانب سے کھیلی جانے والی کسی بھی بڑی اننگ کے مقابل باآسانی رکھ سکتا ہوں ۔اظہرعلی کو صرف ایک طرف توجہ دینی چاہیے کہ جب وہ کسی آؤٹ سوئنگر یا لیگ کٹر کو کھیلنے کوشش کرتا ہے تو اس کو اگلاپیر ٹھیک سے پورا باہر نہیں نکلتا، دیر سے نکلتا ہے اور اس کی باڈی کاوزن پچھلے پیر زیادہ ہوتا ہے۔ جس سے اس کی پوزیشن کا بلینس ٹھیک نہین رہتا۔جس کی وجہ اس کی کیچ وکٹ کیپر یا سلپ میں نکلنے کا ہمیشہ چانس ہوتا ہے۔ دیکھنے والوں نے دیکھا ہوگا کہ جب بھی اظہر علی وکٹ پر آیا دوسری طرف اسی وقت سٹوارٹ براڈ کو لگا دیا جاتا تھا اور دو سے زیادہ مواقع پر براڈ اپنی بالنگ سے اظہر کو جلدی ہی شکار بنانے میں کامیاب بھی رہا۔ دبئی یا ابوظہبی کی وکٹ تو خیر اتنی تیز نہیں تھی۔ لیکن آسٹریلیا یا انگلینڈ کی وکٹوں پر اس کی اس کمزوری سےمخالف بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔
    پاکستان گو کہ یہ سیریز تین صفر سے جیت گیا ہے ۔ انگلش میڈیا اس کو وایٹ واش قرار دے رہا ہے۔ ایک صحافی دوست نے اس کو دودھ پتی واش کہا ہے۔۔۔ ھاھاھا لیکن میں اس کو لسی واش کا نام دیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔ لیکن اس ٹیم میں ابھی چند ایک کمزور لنک ہیں ۔ توفیق عمر سوئنگ بالنگ پر مشکل کا جلدی سے شکار ہوجاتا ہے۔ اینڈرسن نے اس کو ہمیشہ آؤٹ کیا۔ توفیق کی فیلڈنگ بھی مشکوک ہے ۔ وکٹ کیپر عدنان اکمل نے گو کہ اچھی کارکردگی دکھائی ہے لیکن ڈی آر ایس کے بارے میں ا سکی قوت فیصلہ بہت کمزور ہے۔ اس پر منحصر ہوتو تو ری ویو کے دونوں چانس ایک ہی سیشن میں ضائع کردیا کرے۔ ماڈرن کرکٹ میں دو ری ویو بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ مصباح اس سیریز میں 5 بار ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوا اور ہر بار اس نے ایمپائر کے فیصلوں کو چیلنج کیا۔ اس پر گور کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلے میچ میں ایک بار سعید اجمل غلط آؤٹ ہوا تھا لیکن اس کے پاس ری ویو کا کوئی چانس نہیں بچا تھا۔اس لیے اس کو واپس پیولین لوٹ کے جانا پڑا۔ عدنان کی بیٹنگ اس کے بھائی کامران کے معیار کی نہیں ہے۔ بورڈ کو چاہیے کہ وہ جونیئر کرکٹ سے دو تین وکٹ کیپر چنے اور ان کو ٹریننگ کیلیۓ آسٹریلیا یا جنوبی افریقہ بھیج دیا کرے۔ عمر گل کے علاوہ چیمہ اور جنید کو فاسٹ بالرکے طور پر کھلایا گیا۔ تیسرے میچ میں وہاب ریاض کو موقعہ دیا جانا چاہیے تھا۔ تیسرے میچ میں چیمہ کو دیکھ کر ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے گاؤں کی کرکٹ میں ٹوٹل پورا کرنے کرنے کیلیۓ راستے سے کسی کو بھی پکڑ کے ساتھ لے جاتے ہیں۔ بے چارے نے کل دس اوور بھی نہیں کراۓ۔ بیٹنگ بھی 11 نمبر پر کرتا رہا۔ اور فیلڈنگ بھی ہمیشہ اس نے لانگ لیگ اور فائن لیگ پر کی ۔ یونس خان پر جب بھی کوئی انگلی اٹھاتا ہے کہ ا سکی عمر اب ریٹائر منٹ کو ہونے والی ہے وہ ایک یادگار اننگ کھیل کر ناقدین کے منہ بند کردیتا ہے۔ یونس اب بھی اس ٹیم کا اچھا فیلڈر ہے ۔ چوتھی اننگ میں اس کا کک کا کیچ ہر لحاظ سے ایک ورلدکلاس کیچ تھا۔ اور جس حالات میں ا سنے دوسری اننگ میں سنچری سکور کی، اس نے دنیاۓ کرکٹ کے دو عظیم کھلاڑیوں کپل دیو اور گواسکر کو کھڑے ہوکر تالیاں بجانے پر مجبور کردیا۔
    یہ ایک عظیم فتح ہے ۔ حالات کے تناظر میں دیکھا جاۓ تو ورلدکپ 92ء اور 20۔20 ورلڈ کپ کی جیت کو چھوڑ کے ٹیسٹ کی یہ اہم ترین جیت ہے ۔
    یہ بہرحال ایک کھیل ہے۔ زیادہ توقعات بلند نہیں کرنی چاہیں ۔ آج کے ہیرو کل کے زیرو بھی ہوسکتے ہیں ۔ کچھ قسمت بھی اپنا عمل ودخل دکھاتی ہے ۔ دوسرے اور تیسرے ٹیسٹوں میں ٹاس کی جیت ایک فیصلہ کن عنصر ثابت ہوئی۔۔ لیکن سو سے کم رنز پر آؤٹ ہونے کے باوجود ٹیسٹ جیتنا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے ۔ ایسا کارنامہ کہ 105 سال میں پہلی بار ایسا کارنامہ سرانجام دیا جاسکا ہے۔
     
  23. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: سِلی پوائنٹ

    خدا خدا کرکے پاکستان نے ٹاس جیتا اور جیسا کہ توقع تھی کہ جو بھی ٹاس جیتے گا، وہ پہلے بیٹنگ کرےگا۔ مصباح نے بھی ایسا ہی کیا ۔ آغاز اچھا تھا لیکن اس کے بعد کھوتی کھوہ بیٹھ گئی ۔یکے بعد دیگرے چار کھلاڑی آؤٹ ہوگئے ۔ اس صورتحال کے بعد کسی بھی ٹیم کا سنبھلنا مشکل ہوتا ہے لیکن پھر بھی جیسے تیسے کرکے 222 رنز کا قابل عزت ٹوٹل ہو ہی گیا۔ ورنہ میں تو سمجھ رہا تھا کہ شاید ڈیڑھ سو تک ہی سودا چلے گا۔ آفریدی اور عمر اکمل نے اچھی بیٹنگ کی ۔ ان کو اس کی داد دینی چاہیے ۔
    وکٹ اچھی تھی ، اس میں باؤنس بھی تھا اور پَیس بھی ۔ بیٹنگ کیلیۓ شاندار وکٹ تھی ۔ عام حالات میں 280 کا سکور ہونے کا چانس تھا۔ اور جیسا حفیظ کھیل رہا تھا، لگ بھی یہی رہا تھا کہ اتنا ہی بنے گا۔
    حفیظ نے وہی غلطی کی جو وہ ہمیشہ کرتا ہے ۔ اف پر پچ ہونے والی بال کو ذرا سا کراس کھیلتا ہے۔ اس کے پاس آف سائیڈ کے اچھےسٹروکس ہیں ، پتہ نہیں اس کو لیگ پر کھیلنے کا کیا لٹکاہے۔ جو کراس ہوجاتا ہے ۔ کوئی بھی بالر جو نوے کی سپیڈ سے بال کررہا ہو، یا وہ جو بال کو سوئنگ کررہا ہو ۔ کے پاس حفیظ کو ایل بی ڈبلیو کرنے کاہمیشہ چانس ہوتا ہے ۔
    عمران فرحت کی تو بات ہی نہ کریں۔ اس کا سُسر چیف سلیکٹر نہ ہوتا تو وہ شاید ٹیم میں نہ ہوتا۔ اس کی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں بنتی ۔ اس کے بجاۓ اسد شفیق کو حفیظ کے ساتھ اوپنر بھیجیں ۔
    اظہر علی کے بارے میں ہم نے کئی بار کہا ہے کہ اس کی بیٹنگ ٹیکنیک میں واضح خرابی ہے ۔ اور یہ بات باقی ٹیموں کو معلوم ہوگئی ہے ۔ اور اس بار بھی اس نے فرنٹ فٹ پر پورا جاۓ بغیر آف سٹمپ پر پڑنے والی بال کو کھیلنے کی کوشش جو ذرا سی باہر کو نکل رہی تھی ۔ اظہر علی کو میانداد یا انضمام سے کوچنگ لینی چاہیے ۔
    مصباح پر جب ذرا سا پریشر پڑتا ہے تو اس کا رنگ اڑ جاتا ہے ۔ تینوں میچوں میں وہی بیٹنگ آرڈر چلایا۔ ذرا بھی تبدیلی کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ اس بار جب تین کھلاڑی آؤٹ ہوگۓ تھے تو اس کو چاہیے تھا کہ عمر اکمل کو بھیج دیتا۔
    عدنان اکمل ٹیسٹ میچ کھیلے یا ایکروزہ ۔۔۔ اس کی رنزوں کی اوسط اتنی ہی رہنی ہے ۔ اچھا دن ہوا تو تیس چالیس کر لے گا ورنہ وہی دس پندرہ۔ بورڈ کو کوئی اور اپشن سامنے رکھ کے منصوبہ بندی کرنی چاہیے ۔ ایک نظر جمال انور پر بھی مار لیں ۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں