1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

سائنس و ٹیکنالوجی فیل ‘اللہ ہی سپر پاور ہے ۔۔۔۔۔ محمد عبداللہ حمید گل

'کالم اور تبصرے' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏27 مارچ 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    3,492
    موصول پسندیدگیاں:
    499
    ملک کا جھنڈا:
    سائنس و ٹیکنالوجی فیل ‘اللہ ہی سپر پاور ہے ۔۔۔۔۔ محمد عبداللہ حمید گل


    کورونا وائرس کے خوف کے باعث آج ہر انسان اپنے اپنے عقیدے کے مطابق ‘اللہ تعالیٰ سے معافی کا طلبگار ہے‘ کیونکہ شاید اللہ تعالیٰ‘ اپنے بندوں سے ناراض ہے یا انسانیت کے گناہ حد سے زیادہ تجاوز کر گئے ہیں۔قریباً سبھی مذہب کی عبادت گاہوں کے دروازے بند ہو چکے ہیں ۔تمام مذاہب کے پیروکار اپنی رسومات کوبالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے مرحومین کی مشینوں کے ذریعے تدفین کررہے ہیں ۔ دنیا میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی سے نہ کوئی تعزیت کر رہا ہے اور نہ کوئی گلے لگ کر رو رہا ہے ۔ قدرت سے بغاوت کرنے والے ممالک؛ اٹلی ‘ فرانس ‘ سپین کے ہسپتال لاشوں سے بھرے ہوئے ہیں ۔ تد فین کرنے والی کمپنیوں کے دفاتر کے باہر ایسے رش دکھائی دے رہا ہے‘ جیسے سپر مارکیٹوں میں لوگوں کا ہجوم دیکھنے کو ملتا ہے ۔
    یہ ہے ایک انسان کی اصل حقیقت کہ وہ قدرت سے بغاوت کر بیٹھا تھا اور سائنسی ترقی کے بل بوتے پر سرکشی اور نافرمانی کی حدوں کو ہی پھلانگنے لگا تھا۔ اس نے ٹیکنالوجی کو اس عروج پر پہنچا دیا کہ دنیا کی سرحدیں بے معنی ہو گئیں اور انسانوں کو یہ محسوس ہونے لگا کہ انہوں نے کارِ قدرت کو اپنی مٹھی میں لے لیا ہے۔ قوم عاد و ثمود پر عذاب بھی ان کی ایسی ہی کوتاہیوں اور احکامات ِالٰہی سے رو گردانی کے نتیجے میں نازل ہوا تھا ۔ کورونا بھی عذابِ الٰہی ہے‘ جس نے ''میرا جسم ‘ میری مرضی ‘‘کا نعرہ لگانے والوں کو دکھا دیا ہے کہ یہ پوری دنیا صرف اس قادرِ مطلق کی ہے اور اس میں رہنے والے بھی اسی کی مرضی کے تابع ہیں۔ کائنات کے اصل مالک نے سرکش انسانوں کو ان کی اوقات یاد دلا دی ہے ‘ کیونکہ آج کورونا وائرس کے مقابل سائنس و ٹیکنالوجی فیل ہو چکی ہے اور ثابت ہو چکا کہ سپر پاور صرف اللہ کی ذات ہے‘ جو بے شک ہر چیز پر قادر ہے ۔
    کس طرح ایک چھوٹے سے وائرس سے پوری دنیا (مشرق سے مغرب ‘ شمال سے جنوب تک) کانپ اٹھی ہے اور بنی نوع انسان اپنے جینے اور مرنے کی فکر میں ہے۔سپین جہاں مسلمانوں کا نام و نشاں مٹا دیا گیا تھا‘انہیں گاجروں اور مولیوں کی طرح کاٹا گیا تھا اور مسجدوں کو تالے لگا دئیے گئے تھے ‘ کی فضائوں میں آج 500سال بعد اللہ اکبر کی صدائیں گونج رہی ہیں۔ہم نے دیکھا کہ اٹلی ‘ فرانس ‘ سپین ‘ جرمنی اور یورپ کا معاشی مرکز کہلوانے والے ملکوں میں اللہ کی کتاب قرآن پاک بے حرمتی کے دلسوز واقعات بھی ہوتے رہے ۔ ہمارے نبیٔ مہربان ﷺ کی شان میں گستاخیاں کی گئیں ‘ جبکہ وہاں کی حکومتیں مسلمانوں کو حقوق ِانسانی کا درس پڑھاتی رہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سرکار نے لاک ڈائون کیا تو کسی امیر ملک نے اتنی جرأت نہیں دکھائی کہ بھارت پر دبائو ڈال کر کہے کہ وہاں سے کر فیو کیوں نہیںاٹھا جا رہا؟اب ‘ ان مظلوم کشمیریوں کی سسکیوں وآہوں نے آخر حشر اٹھا ہی دیا ہے ۔ وہ قومیں جو قدرت کے اصولوں کو زندگی بھر پامال کرتی آئی ہیں‘ وہ آج پامال ہونے کی راہ پر ہیں۔
    وطنِ عزیز پاکستان بھی اس کوروناوبا سے محفوظ نہیں رہ سکا اور موذی مرض نے ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر خدانخواستہ چین ‘ اٹلی جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑے تو کیا ہو گا؟ وطن عزیز میں جہاں ایک بڑا طبقہ‘ جس کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا اور اس کی اکثریت جسم وجاں کا رشتہ برقرار رکھنے کیلئے مسلسل تگ و دو میں ہے‘ وہاں سنگین صورت ِ حال کو سنبھالنے کیلئے کیا کیے گئے اقدامات نا کافی نہیں ؟ درحقیقت کورونا وائرس نے تو پچھلی حکومت کا پوسٹ مارٹم کرکے رکھ دیا ہے۔ گزشتہ ادوار میںصحت کے شعبے پر اگر توجہ دی جاتی تو آج اتنی پریشانی کا سامنا شاید نہ کرنا پڑتا‘ جتنا اس وقت کرنا پڑ رہا ہے۔ملک کی 22کروڑ سے زائد آبادی ہے‘ جبکہ ٹوٹل1999 وینٹی لیٹرزموجود ہیں۔یہ کتنا خوفناک لگ رہا ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے ‘یعنی پنجاب کی آبادی 11کروڑ ہے اور صرف1300وینٹی لیٹرز موجود ہیں۔بلوچستان میں49‘خیبرپختونخوا میں150اور سندھ میں اگرچہ حتمی تعداد کا تو نہیں پتا‘ لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق‘ 500کے لگ بھگ وینٹی لیٹرز موجود ہیں۔ افسوس اورنج ٹرین‘ میٹرو ‘ موٹروے سے لے کر سولنگ اور بلب کی سیاست تک نے پچھلے بہتر برسوں سے ہمارے ملک پر اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ڈیڑھ سے دو سو خاندان ہیں‘ جو مسلسل اس ملک کو پچھلی کئی دہائیوں سے دونوںہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں‘لیکن ان میں سے کسی نے بھی اس ملک کے شہریوں کیلئے جدید ہسپتالوں اور ان کے انفراسٹرکچر کی طرف دھیان نہیں دیا۔وزیر اعظم عمران خان صاحب!اس وقت سب سے زیادہ اختیارات آپ کے پاس ہیں۔بحیثیت ِقوم آپ کی اطاعت ہم پرفرض ہے ۔میں جانتا ہوں کہ پچھلے ڈیڑھ سال میں قوم نے آپ کو اور آپ کی پالیسیوں کو بہت تنقید کا نشانہ بنایاہے اور مجھے یہ بھی اندازہ ہے کہ بحیثیت ِایک انسان آپ کو ان سب باتوں سے بہت تکلیف بھی ہوئی ہوگی ‘لیکن ان سب باتوں کو بھول کر ابھی ‘اس وقت موجودہ کورونا وائرس کی وبا کو شکست دینے کیلئے ایک فیصلہ کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے‘ لیکن آپ کا کمزور یا دیر سے فیصلہ کرنا لاکھوں لوگوں کی اموات کی وجہ بن سکتا ہے۔پوری دنیا کو یہ پتا چل چکا ہے کہ کووڈ19‘ اگر کنٹرول سے باہر ہوجائے ‘تو اس کا کوئی علاج نہیں سوائے امدادی نگہداشت کے‘ جس کا اہم جزو وینٹی لیٹر ہے اور اس حوالے سے اٹلی اور ایران کی صورت میں بہت ہی خوفناک نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ہمارے ہسپتالوں کا یورپین ممالک سے کوئی مقابلہ نہیں‘ ملک کی آبادی کے لحاظ سے ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرزنہ ہونے کے برابر ہیں اور مختصر وقت میں وینٹی لیٹرز وغیرہ کا بندوبست بھی نہیں کیا جاسکتا ‘کیونکہ ان کو آپریٹ کرنے کیلئے مہارت رکھنے والے ڈاکٹرز اور سٹاف کہاں سے لایا جائے گا؟ ان کی تربیت کیلئے وقت درکار ہے۔ہمارے ہسپتالوں میں شروع دن سے ہی گنجائش سے زیادہ مریض ہیں‘اگر کورونا کے مریضوں کا علاج کیا بھی تو باقی بیماریوں سے اموات ہوں گی‘ جیسا کہ بیکٹیریا سے پیدا ہونے والا قابل ِ علاج امراض نمونیا وغیرہ۔
    میرے نزدیک اس وقت جنگی بنیادوں پر کام کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔معیشت کی خاطر انسانی جانوں کو دائو پر لگانا انسانی زندگی بیچنے کے مترادف ہے۔ہماری اکثریت کم تعلیم یافتہ ہے اور ہم نظم و ضبط کا مظاہرہ نہ کرنیوالی قوم ہیں۔بہت دفعہ صرف سختی کی زبان سمجھتے ہیں‘ لیکن اللہ نے اس قوم کو بہت مضبوط اور منظم افراد سے نوازا ہے۔یہ ملک بھر میں یکجہتی کا وقت ہے۔کچھ لوگ اگر از خودتنہائی اختیار کرنے کے اصول پر عمل کریں ‘ تو وائرس کا پھیلاؤ روکا جا سکے گا۔ ہمیں متحدہوکر اس پرعمل کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم صاحب کا یہ خوف کہ لوگ بھوک سے مرجائیں گے ‘بالکل بھی ایسا نہیں ہوگا (ان شاء اللہ ) کیونکہ ہزاروں لوگ اور مختلف فلاحی ادارے مستحق خاندانو ں میںراشن تقسیم کررہے ہیں‘اگر آپ حقیقی ریاست مدینہ کے ابتدائی دور کو دیکھیں تو اس میں اخوت کی ایک اعلیٰ مثال ملتی ہے۔وہ مثال ‘جس میں ایک مشکل وقت میں ایک انصاری ایک مہاجر کی مدد کرتا ہے۔آج کیوں ایسا نہیں ہوسکتا؟ میں سب سے پہلے رضاکارانہ طور پر ایسا کرنے کیلئے تیار ہوں‘اگر آپ جیسا حاکم قوم سے اپیل کرے تو مجھے یقین ہے کہ قوم تسلیم سرخم کرلے گی۔ضرورت پڑنے پر فنڈز جاکر دینے کی بجائے الیکٹرانک ٹیکنالوجی کے ذریعہ دینا چاہیے‘ تاکہ وائرس کی منتقلی کے امکانات کم سے کم ہوں۔ میں غلط ہوسکتا ہوں ‘لیکن ہمیں ایک نظر نہ آنے والے دشمن کیخلاف لڑنے کیلئے اضافی احتیاط کی ضرورت ہے ۔ وزیر اعظم جناب عمران خان سے گزارش ہے کہ یہ کمزوری دکھانے کا وقت نہیں‘ بلکہ یہ مشکل فیصلوں کا وقت ہے اور یہ ٹھوس شواہد پر عمل کرنے کا وقت ہے۔اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو!​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں