1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

زمرد خان کی بہادری یا بیوقوفی

'حالاتِ حاضرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از "ابوبکر", ‏16 اگست 2013۔

  1. "ابوبکر"
    آف لائن

    "ابوبکر" ممبر

    شمولیت:
    ‏19 نومبر 2011
    پیغامات:
    178
    موصول پسندیدگیاں:
    64
    ملک کا جھنڈا:
    [​IMG]

    لاہور میں میڈیا کو اسلام آباد میں جناح ایونیو پر فائرنگ کرنے والے مسلح شخص سکندر خان کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ جن سیکیورٹی اہلکاروں نے زمرد خان کو اندر آنے کی اجازت دی ان کو برطرف کر دیا جائے گا،میں نے پولیس سے سوال کیا کہ انہوں نے زمرد خان کو سیکیورٹی حصار کو کیوں توڑنے دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد آنے والی ہر گاڑی کو چیک کرنا ممکن نہیں ہے لیکن پھر بھی اس واقعے سے سیکیورٹی کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور پولیس اور اس کے بعد سیکیورٹی اداروں میں تبدیلیاں لائی جائیں گی۔​
    وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اس سارے ڈرامے کو طول دینے کی ذمہ داری پہلے مجھ پر اور بعد میں میڈیا پر عائد ہوتی ہے، اس کے بچوں کی موجودگی میں اس پر گولی چلانا ممکن نہیں تھا اور نشانہ لے کر بھی گولی چلانا مناسب نہیں تھا،سکندر حیات نے ریڈ زون کی خلاف ورزی نہیں کی وہ ریڈ زون سے 2 کلو میٹر دور تھا، تمام اسلحہ اس نے بچوں کے بیگس میں چھپایا ہوا تھا، ہم نے فوری اس کے بارے میں معلومات کر کے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ اس کا تعلق کسی دہشت گرد تنظیم سے نہیں ہے اور جب اندھیرا بڑھ گیا تو ہم نے فیصلہ کیا کہ لائٹس بند کر کے اب کارروائی کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی فلم کی شوٹنگ نہیں تھی اور ہم میڈیا کے سامنے کوئی کارروائی یا آپریشن نہیں کر سکتے تھے، آپریشن کرنے کے لئے ہمیں علاقے کو میڈیا اور عوام سے کلیئر کرانا تھا، میں نے پیمرا سے رابطہ کر کے کہا کہ ہمیں 15 منٹ کا وقت دیا جائے تاکہ ہم آپریشن مکمل کر سکیں۔​
    وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ سکندر حیات 2 دن سے اسلام آباد میں تھا اور یہاں سیر کے مقصد سے آیا تھا، اس نے گاڑی کرائے پر لی اور 2 مقامات جانے کا عندیہ دیا تھا، اس کی گاڑی رینٹ اے کار کا ڈروائیور چلا رہا تھا جس نے اسپیڈ تیز کی تو پولیس نے گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا لیکن اس نے گاڑی نہ روکی، پولیس نے اگلی چیک پوسٹ پر اطلاع دی انہوں نے بھی اسے رکنے کا اشارہ کیا پھر 20 سے 25 پولیس اہلکاروں نے گاڑیوں میں اس کا تعاقب کیا اور جناح ایوینیو پر سڑک کو پولیس نے بلاک کر دیا۔​
    چوہدری نثارعلی خان نے کہا کہ سڑک بلاک ہونے کے بعد سکندر حیات نے ون وے پر یو ٹرن لیا اور اس دوران تعاقب میں لگی پولیس کی گاڑیوں نے اس کی گاڑی کو ٹکر ماری، اس سے قبل اس نے گن پوائنٹ پر ڈرائیور کو گاڑی سے باہر نکالا اور خود ڈارئیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ پولیس نے اسی دوران مجھے اطلاع دی اور میں نے 3 ہدایات پولیس کو دیں کہ اگر کسی کی جان یا مال خطرے میں نہیں ہے تو پھر اس پر گولی نہ چلائی جائے، اس کے بیوی اور بچوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہئے اور اگر اس نے کسی کو دھمکی نہیں دی تو پھر اسے زندہ گرفتار کیا جائے۔​
    پولیس پہلے تو سکندر حیات سے مذاکرات کرکے اسے اپنے مؤقف پر قائل کرنا چاہ رہی تھی، وہ پولیس کے حصار میں تھا اور کسی کے لئے خطرہ نہیں تھا، سکندر نے دبئی میں اپنے بیٹے کی رہائی کا مطالبہ بھی پولیس کے سامنے رکھا تھا، دنیا میں کہیں بھی ایسے واقعات کی براہ راست کوریج نہيں ہوتی لیکن یہاں ملزم ٹی وی پر حکومت اور سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کو گالیاں دے رہا تھا، ملزمان کو میڈیا پر ہیرو بنا کر دکھایا جا رہا تھا تو اس کے حوصلے اور بلند ہوتے چلے گئے، میں میڈیا کے اس غیر زمہ دارانہ رویے پر پیمرا سے بات کروں گا۔​
    وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اس وقت سکندر حیات کا اسپتال میں علاج جاری ہے اور اس کی حالت تشویش ناک ہے، 9 گھنٹے تک اسے وینٹی لیٹر پر رکھا گیا اور ابھی کچھ دیر قبل اس نے سانس لینا شروع کر دی ہے جو ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کی بیوی تعلیم یافتہ ہیں اور ذہنی طور پر ٹھیک ہیں، اس کی بیوی کا کہنا ہے کہ سکندر حیات 2009 تک منشیات کا عادی تھا اور اس نے ڈی جی خان میں ایک اسپتال سے اپنا علاج کرایا اور مارچ 2013 میں اس کی حالت کافی بہتر ہو چکی تھی اور اب تک وہ کسی غلط روش یا عادات میں مبتلا نہیں تھا۔​

     
    ھارون رشید اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. "ابوبکر"
    آف لائن

    "ابوبکر" ممبر

    شمولیت:
    ‏19 نومبر 2011
    پیغامات:
    178
    موصول پسندیدگیاں:
    64
    ملک کا جھنڈا:
    [​IMG]


    اسلام آباد میں کئی گھنٹے تک پولیس کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنے والے مسلح شخص کو دبوچنے پر جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما زمرد خان کو صدر مملکت سمیت ملک کے کئی رہنماؤں نے خراج تحسین پیش کیا وہیں رانا ثنا اللہ ان پر خوب پرسے اور ان کی کوشش کو حماقت سے تعبیر کیا۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ زمرد خان انتظامیہ کو بتا کر نہیں گئےتھے، مسلح شخص نے زمرد خان کو بھاگنے کا موقع دیا۔ انہوں نے واقعے کو اسلام آباد پولیس کی بھی ناکامی قرار دیا۔
    دوسری جانب مسلح شخص کو دبوچنےپرصدرآصف زرداری نے زمردخان کی کوشش کر سراہا جب کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کا کہنا تھا کہ زمردخان نےاچھاشہری ہونے کے ناطے اپنا فرض اداکیا۔ قائد ایم کیوایم الطاف حسین نےکہا کہ زمردخان نے جس جرات کامظاہرہ کیا اس پرجتنابھی خراج تحسین پیش کیا جائےکم ہے۔وزیربلدیات سندھ اویس مظفرنے بھی زمردخان کو قومی ہیرو اوربےنظیربھٹو کاجیالا قرار دیا۔
     
    ھارون رشید اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. "ابوبکر"
    آف لائن

    "ابوبکر" ممبر

    شمولیت:
    ‏19 نومبر 2011
    پیغامات:
    178
    موصول پسندیدگیاں:
    64
    ملک کا جھنڈا:
    [​IMG]


    وفاقی وزیر داخلہ نے پیپلز پارٹی کے جیالے کے اقدام کو تو سراہا لیکن یہ بھی واضح کردیا کہ زمرد خان کی وجہ سے پانچ گھنٹے مشقت ضائع ہوگئی۔
    زمرد خان کی بہادری کے قصیدے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بھی پڑھے اور کیوں نہ پڑھتے۔ خود وزیر داخلہ نے بتایا کہ زمرد خان ان کے علاقے کا ہے۔ ان کا دوست بھی ہے۔ بولے۔ زمرد خان کے جذبے کا احترام اپنی جگہ لیکن پیپلز پارٹی کے جیالے نے پولیس کی اجازت کے بغیر حصار توڑا۔ زمرد خان کے اقدام کی وجہ سے وہ کام ہوگیا جو نہیں کرنا چاہتے تھے یعنی گولی چل گئی۔
    وزیر داخلہ چوہدری نثار نے واضح کردیا کہ جن اہلکاروں نے زمرد خان کو روکا نہیں۔ اُنھیں معطل کردیا گیا ہے ۔ وفاقی وزیر داخلہ نے اسلام آباد واقعے کو طول دینے کا ذمہ دار پہلے خود کو اور پھر میڈیا کو بھی ٹہرایا۔

    سماء ٹی وی
     
    ھارون رشید اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. "ابوبکر"
    آف لائن

    "ابوبکر" ممبر

    شمولیت:
    ‏19 نومبر 2011
    پیغامات:
    178
    موصول پسندیدگیاں:
    64
    ملک کا جھنڈا:
    [​IMG]

    اسپیکر قومی اسمبلی نے اسلام آباد کو پانچ گھنٹے تک یرغمال بنائے جانے کے واقعہ پر حکومت سے جواب طلب کرلیا۔ شیخ آفتاب نے پیر کو تفصیلی بریفنگ کی یقین دہانی کرادی۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت ہوا۔ ایم کیو ایم کے رکن نبیل گبول نے گزشتہ رات اسلام آباد کو یرغمال بنائے جانے کے واقعہ پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کل پتہ چلا کہ سیکیورٹی اداروں کی اہلیت اور صلاحیت کیا ہے۔ ایس ایس پی تک کو گولی چلانے کی اجازت نہ تھی۔

    چار پولیس کانسٹیبلز نے بغیر حکم ازخود گولی چلا کر ملزم کو گرایا۔ نبیل گبول نے دعویٰ کیا کہ آخری وقت میں سکندر سرینڈر کرنے آ رہا تھا اس لئے بیوی بچے بھی اس کے ہمراہ تھے۔ صدر،وزیراعظم اورپارلیمنٹ ہاؤسز، پارلیمنٹ لاجز زیرو سیکورٹی پر ہیں۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا کہ یہ تو غیر تربیت یافتہ آدمی تھا،پیرودھائی،سبزی منڈی،پشاور موڑ کے علاقے انتہا پسندوں کے نرغے میں ہیں اگر کوئی تربیت یافتہ شخص آ گیا تو کیا ہو گا۔ کچھ دن پہلے بھی سازش پکڑی گئی کہ تین خود کش حملہ آور پیراشوٹ کے ذریعے ریڈزون میں اتر کر حملہ کرنا چاہتے تھے۔

    اسپیکر نے حکومت کو ہدایت کی کہ ایوان کو بتائے کہ گزشتہ روز کا واقعہ کیوں اور کیسے پیش آیا۔ شیخ آفتاب نے کہا کہ حکومت آئندہ اجلاس میں واقعے پر تفصیلی جواب دے گی۔وزراء کی نشستیں خالی ہونے پر اپوزیشن نے شیم شیم کے نعرے لگائے۔ تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ ایوان میں نہ کوئی سننے کو تیار ہے اور نہ جواب دینے کو۔ اجلاس پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
     
    ھارون رشید اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. "ابوبکر"
    آف لائن

    "ابوبکر" ممبر

    شمولیت:
    ‏19 نومبر 2011
    پیغامات:
    178
    موصول پسندیدگیاں:
    64
    ملک کا جھنڈا:
    [​IMG]


    سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے بلوچستان میں لاپتہ افراد اور دہشت گردی کے واقعات پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس نے وفاقی سیکریٹری داخلہ کے عدالت میں پیش نہ ہونے اور گزشتہ روز اسلام آباد میں پیش آنے والے واقعے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں کل ہونے والا تماشا پوری دنیا نے دیکھا۔
    چیف جسٹس نے چیرمین پیمرا سے استفسا ر کیا کہ جو تماشا ہورہا تھا آپ نے بھی دیکھا، دنیا کو آپ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں، اس پر چیرمین پیمرا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرے پاس اختیار نہیں کہ ایکشن لوں، چیف جسٹس نے کہا آپ لکھ کر دیں کہ آپ کے پاس اختیار نہیں پھر ہم سیکریٹری اور دیگر حکام سے پوچھیں گے کہ ٹی وی چینلز سنسی خیز خبریں کیسے دے رہے ہیں۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے بلوچستان کے معاملے پر آئی جی ایف سی کو عدالت میں طلب کرلیا ہے۔

    ایکسپریس نیوز
     
    ھارون رشید اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. "ابوبکر"
    آف لائن

    "ابوبکر" ممبر

    شمولیت:
    ‏19 نومبر 2011
    پیغامات:
    178
    موصول پسندیدگیاں:
    64
    ملک کا جھنڈا:
    [​IMG]


    بلاول ہاوس کے ترجمان اعجاز درانی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء زمرد خان کے خلاف مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ کے بیان کو ان کی ذہنی سوچ کی عکاسی اور پوری پاکستانی قوم کی توہین قرار دیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ کل اسلام آباد میں ایک شخص کی وجہ سے پوری پاکستان قوم ذہنی اذیت میں مبتلا رہی۔ اس موقع پر نواز لیگ کے تمام باختیار وزیر اپنے سرکاری محلات میں بیٹھ کر قوم کی بے بسی کا تماشہ دیکھ رہے تھے۔ لیکن وزیراعظم اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت کسی بھی حکومتی بااختیار شخصیت نے اس تشویشناک صورتحال پر دو بول ادا کرنے کی زحمت تک گوارا نہ کی۔ آج حسب روایت ایک مرتبہ پھر وزیراعظم نواز شریف اور ان کی پوری حکومت نے بہادر پاکستانی قوم کا مذاق اڑانے کیلئے ایک ایسے شخض کا چناو کیا جو خود ایک ذہنی اور بیمار مریض ہے، زمرد خان مخالف بیان اس بات کو ثابت کرتا ہے۔

    اعجاز درانی نے کہا کہ یہ امر بھی حیرت اور افسوس کا باعث ہے کہ جب کل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حکومتی نااہلی کا تماشا پوری دنیا دیکھ رہی تھی تو نواز لیگ کے وزراء اپنے دفاتر اور گھروں کو چھوڑ کر مری اور بھوربھن فرار ہو گئے تھے۔ اعجاز درانی نے کہا کہ رانا ثناءاﷲ اور نواز لیگ کی دیگر حکومتی شخضیات کو اب ”چوڑیاں اور گھنگھرو“ پہن کر اسلام آباد میں اسی مقام پر بھنگڑے ڈالنے چاہیے جہاں ایک شخص کی وجہ سے پوری پاکستان کی غیرت مند قوم کو شرمندگی اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم پاکستانی قوم کو اپنے ایک غیرت مند اور جیالے بیٹے زمرد خان پر فخر ہے کہ جنہوں نے قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید جمہویرت بے نظیر بھٹو کی جرات مندی اور بہادری کی یادیں تازہ کر دیں۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھن والے صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ زمرد خان کا قدم جرات مندانہ نہیں احمقانہ تھا، جب وہ اس کام کیلئے فٹ نہیں تھے تو انہیں اس قسم کا ایکشن نہیں لینا چاہئیے تھا۔

    اسلام ٹائمز
     
    ھارون رشید اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. "ابوبکر"
    آف لائن

    "ابوبکر" ممبر

    شمولیت:
    ‏19 نومبر 2011
    پیغامات:
    178
    موصول پسندیدگیاں:
    64
    ملک کا جھنڈا:
    [​IMG]


    اسلام آباد میں جو کچھ ہوا پوری دنیا نے دیکھ لیا ۔ایک شخص جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ۔بیوی بچوں کو گاڑی میں ساتھ لیے ،دو کلاشنکوفیں اٹھائے فلمی انداز میں دارالحکومت کے ریڈ زون میں دندناتا رہا ، فائرنگ کرتا رہا اور پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پانچ گھنٹے تک اس کے سامنے خاموش تماشائی بنے رہے ۔پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے اس ڈرامے کا ڈراپ سین پیپلزپارٹی کے رہنما زمرد خان نے اپنی جان پر کھیل کر پانچ سیکنڈ میں کر دیا ۔ وہ مسلح شخص سے مذاکرات کے بہانے اس کے قریب گئے ، اس کی بیوی سے بات کی، بچوں سے ہاتھ ملایا اور پھر مسلح شخص پر جھپٹ پڑے ۔زمرد خان کے اس دلیرانہ اقدام سے مسلح شخص کے اوسان خطا ہوئے اور اس نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی اور بوکھلاہٹ میں بھاگنا شروع کر دیا۔ پولیس نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے دبوچ لیا ۔ٹی وی چینلز پر لائیو کوریج دیکھتے ہوئے یہ مناظرپوری قوم نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ۔اس کے بعد سوشل میڈیا پر زمرد خان کی بہادری کے چرچے ہونے لگے ۔کسی نے انہیں قومی ہیرو قرار دیا۔کسی نے انہیں تمغہ ء جرأت دینے کی تجویز پیش کی۔کوئی انہیں وزیرداخلہ بنانے کی بات کرتا رہا تو کوئی زمرد خان کے اس اقدام کو پیپلزپارٹی کی روایتی جاں نثاری سے تعبیر کرتا رہا۔ کسی کے خیال میں اس ملک کی حفاظت صرف سیاستدان ہی کر سکتے ہیں۔حکمراں جماعت کے کچھ لوگ البتہ زمرد خان کے اس عمل کو بے وقوفی قرار دے رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ جس کا کام اسی کو ساجھے ۔ یہ کام پولیس کا تھا ، زمرد خان کا نہیں ۔اگر اس دوران انہیں گولی لگ جاتی تو کون ذمہ دار تھا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ کام سیکورٹی اداروں کا تھا تو وہ پانچ گھنٹے تک اپنا یہ کام سرانجام دینے سے گریز کیوں کرتے رہے؟۔ ایک مسلح شخص کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روکنا کیا ان کی ذمہ داری نہیں تھی ؟۔اگر زمرد خان کے انفرادی عمل سے یہ ڈرامہ چند سیکنڈ میں ختم ہو گیا تو اسی جرأت کا مظاہرہ کیا سیکورٹی ادارے نہیں کر سکتے تھے ؟جلتی آگ میں بے خطر کود پڑنے کے زمرد خان کے اقدام کو اگر بے وقوفی سے تعبیر کیا جائے تو حکمراں جماعت کیعقلمندوزراء محوِ تماشائے لب ِ بام کہاں تھے ؟

    فاضل جمیلی۔۔جنگ بلاگ
     
    ھارون رشید اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    ساری دنیا میں آج کل ٹی وی ہر واقعے کی کوریج کرتی ہے ۔اور اسی کوریج نے سیکورٹی اور پولیس کی کارکردگی عیاں کی ہے ۔اور اسی کوریج نے لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کی ناقص سیکورٹی سے پردہ اٹھایا تھا ۔پورا پاکستان اس نازک سیکورٹی کی وجہ سے رسک پر ہے ۔اسلام آباد والوں کے لئے یہ ایک وارنگ شاٹ تھی ۔کہ یہی کچھ اس سے بھی خطرناک ہو سکتا ہے ،اگر آپ لوگ وطن عزیز اور عوام کی سیکورٹی سے آنکھیں چراتے رہے تو
     
  9. "ابوبکر"
    آف لائن

    "ابوبکر" ممبر

    شمولیت:
    ‏19 نومبر 2011
    پیغامات:
    178
    موصول پسندیدگیاں:
    64
    ملک کا جھنڈا:
    [​IMG]

    متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے اسلام آبادمیں اپنی جان خطرے میں ڈال کر مسلح شخص کوقابو کرنے کرنے کی دلیرانہ کوشش کرنے پر پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی زمردخان کوزبردست خراج تحسین پیش کیاہے۔ اپنے ایک بیان میں جناب الطاف حسین نے کہا کہ زمردخان نے ملک کی عزت ووقار کی خاطر اپنی جان پر کھیل کرمسلح شخص کوقابوکرنے کیلئے جس جرات و بہادری اوردلیری کامظاہرہ کیاہے وہ ایک ناقابل فراموش واقعہ ہے جس پر زمردخان کوجتناخراج تحسین پیش کیاجائے کم ہے ۔ جناب الطا ف حسین نے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ پوری قوم میں جرات وہمت اورحب الوطنی کاایسا ہی جذبہ پیداکرے تاکہ سب ملکر وطن عزیز کی سلامتی وبقاء کیلئے اتحاد ویکجہتی اورجرات وبہادری کے ساتھ ملک کادفاع کرسکیں۔انہوں نے کہاکہ میں ایک مرتبہ پھرپوری قوم کی جانب سے زمردخان کوان کی جرات وبہادری پر زبردست خراج تحسین پیش کرتاہوں
     
    پاکستانی55 اور ھارون رشید .نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. مجیب منصور
    آف لائن

    مجیب منصور ناظم

    شمولیت:
    ‏13 جون 2007
    پیغامات:
    3,149
    موصول پسندیدگیاں:
    70
    ملک کا جھنڈا:
    پوری قوم زمرد صاحب کی شجاعت کو سلام کرتی ہے
    اور حکومت کی ناکامی پر دھول جھاڑتی ہے
    اور ہم سب اہل وطن وزیرداخلہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ برائے کرم یہ احمقانہ حرکت چھوڑیں اور دوبارہ معطل افسران کو فعال کردو۔
    حکومت کی ناکامی کامنہ بولتاثبوت برداشت نہیں ہوارہا
     
    عطاءالرحمن منگلوری، ھارون رشید اور پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,683
    موصول پسندیدگیاں:
    16,916
    ملک کا جھنڈا:
    میرے خیال میں تو اس نے اچھا کام کیا ہے باقی ممبران کا کیا خیال ہے
     
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. عطاءالرحمن منگلوری
    آف لائن

    عطاءالرحمن منگلوری ممبر

    شمولیت:
    ‏17 اگست 2012
    پیغامات:
    243
    موصول پسندیدگیاں:
    293
    ملک کا جھنڈا:
    خطرات سے نبرد آزما ہونا بےوقوفی ہے تو پھرہر بہادر آدمی بےوقوف ہوتاہے۔۔جب کہ زیادہ عقلمندی آدمی کو بزدل بنا دیتی ہے۔
    چوہے اور چھپکلی سے ڈرنے والے بھی تو اپنے تئیں بہت عقلمند ہوتے ہیں۔(مستورات کومستثنیٰ سمجھا جائے:cfd: )
     
    پاکستانی55 اور ھارون رشید .نے اسے پسند کیا ہے۔
  13. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,683
    موصول پسندیدگیاں:
    16,916
    ملک کا جھنڈا:
    چلو کوئی گل نہیں
     
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  14. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    زمرد خان نے ایک پاکستانی ہونے کا ثبوت دیا ہے ،کیونکہ پاکستانی بہادر اور غیرت مند ہیں ۔چاھے کوئی انہیں کچھ بھی کہے۔ہماری قیادت میں پاکستانیوں جیسے کرتوت نہیں ہیں جس کی وجہ سے ملک اس صورت حال سے دوچار ہے۔نااہل وزیروں کے بیانات سے حقیقت پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔
     
  15. عباس حسینی
    آف لائن

    عباس حسینی ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2009
    پیغامات:
    392
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    ملک کا جھنڈا:
    زمرد خان نے سب سے پہلے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالا۔۔۔۔ اور کسی کی نہیں۔۔۔
    اور اگر ان کا پاوں پھسلتا نہ تو انہوں نے اس کو دبوچ لیا تھا۔۔۔
    بہر حال ان کی جرات اور بہادری کی داد دینی پڑی گی۔۔۔
     
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  16. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    میں چوہدری نثار کی بات کی تائید کرونگا ، بے شک زمرد خان صاحب نے بہت جرئت اور بہادری کا ثبوت دیا اُن کی بہادری کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ، یقینا ایک مسلح شخص سے یوں اُلجھ جانا بہت دل گردے کا کام ہے ، مگر زمرد خان صاحب کی وجہ سے وہ ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا ، سکندر اگر دہشت گرد ہوتا تو وہ نہایت ہی آسانی سے زمرد خان صاحب کو گولی مار سکتا تھا ، یا کم از کم اُنہیں گن پوائنٹ پر یرغمال بنا کر اپنا موقف اور مطالبات منوا سکتا تھا ۔ مگر پیروں میں گرے ہوئے زمرد خان پر گولی چلانے کے بجائے سکندر ہوائی فائر کرتا ہوا پیچھے ہٹتا گیا ، جو کہ اُس کی بدحواسی کا ثبوت ہے اور پھر جس طرح وہ پلٹ کر بھاگا اُس کے سبب وہاں موجود تماشہ دیکھتے ہوئے لوگوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی تھی جس کے سبب سکیورٹی اداروں کو اس کے خلاف کاروائی کرنا پڑی ، صاف نظر آ رہا تھا کہ پولیس اور سکندر کے مزاکرات کم و بیش کامیاب ہو چکے تھے ۔
     
    محبوب خان اور تانیہ .نے اسے پسند کیا ہے۔
  17. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,414
    موصول پسندیدگیاں:
    11,582
    ملک کا جھنڈا:
    شکر ہے میں نے یہ تمام مناظر نہیں دیکھے کہ میں ٹی وی سے دور رہتا ہوں۔۔۔۔۔
     
    محبوب خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  18. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    جتنی باتیں کریں اتنی ہی کم ہیں۔لیکن وزیر صاحب کی باتیں اپنی کمزوری کی پردہ پوشی کرنے والی باتیں لگتی ہیں
     
    تانیہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  19. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,414
    موصول پسندیدگیاں:
    11,582
    ملک کا جھنڈا:
    ہمارے ہاں پولیس کو غیر سیاسی کئے بغیر حالات میں بہتری نہیں آسکتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انتظامیہ قانون کے تابع ہونی چاہیے نہ کہ حکومتی اہلکاروں کے تابع۔۔۔
     
    محبوب خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  20. تانیہ
    آف لائن

    تانیہ ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مارچ 2011
    پیغامات:
    6,324
    موصول پسندیدگیاں:
    2,338
    ملک کا جھنڈا:
    مجھے رانا ثناءاللہ خان سے مکمل اتفاق ہے کہ وہ کسی منصوبہ بندی کے بغیر یہ ڈرامہ نہ کر سکتا تھا۔ سکندر تو اس کا ساتھی ہوگا اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ سے یہ تفتیش کون کرے گا؟ پیپلز پارٹی کے زمرد خان نے جرا¿ت نہیں کی حماقت کی ہے یہ تو کوئی ڈرامہ تھا، ساڑھے پانچ گھنٹے تک ایک شخص کی طرف سے اسلام آباد پولیس انتظامیہ اور حکومت کا تماشا ساری دنیا کو دکھانے کے بعد زمرد خان کو خیال آیا کہ اب کافی ہو گیا ہے تو اس ڈرامے کا ڈراپ سین کر دینا چاہیے اس سے پہلے کئی دفعہ ایسے واقعات ہوئے ہیں۔ ہمارے میڈیا نے پاکستان کے لئے ایک ناکام اور بدنام ریاست کا منظر پوری دنیا کو دکھایا۔ اب تو ہر بار میڈیا ایسے ہی کرتا ہے کہ لمحے لمحے کی کہانی سے لوگوں کے اعصاب شل کرتاہے اور دشمنوں کو خوش کرتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ایسے ماحول کو دہشت اور وحشت پھیلانے کے لئے باقاعدہ پروگرام کے تحت دکھایا جائے اداکاری کرنا اور ڈرامہ کی سی حالت پیدا کرنا مناسب نہیں ہے۔ 15 اگست کو بھارت یوم جمہوریہ منا رہا تھا اور ہم دارالحکومت میں اپنی رسوائی اور پسپائی کا تماشا دکھا رہے تھے۔
    مجھے کراچی سے ایک بزرگ خاتون زیب باجی نے رو رو کر کہاکہ پاکستان کے صدر مقام میں ریڈ زون کے قریب ایک شخص نے سب کو یرغمال بنایا۔ ایک ایک لمحے کی رپورٹ لوگوں کو دکھائی گئی، زمرد خان کو تو بعد میں ہیرو بنا کے پیش کیا گیا اس سے پہلے سکندر نامی شخص کو ہیرو بنایا گیا۔ ہمارے میڈیا نے ولن اور ہیرو کا فرق مٹا دیا ہے جس انداز میں سکندر نے بڑے سکون اور بے خوفی سے سیرو تفریح کرتے ہوئے فائرنگ کی اور سینکڑوں پولیس والوں کو بے بس کئے رکھا اس کے بچے اور بیوی بھی انجوائے کر رہے تھے۔ یہ بہت شرمناک ہے۔
    صدر زرداری اور بلاول زرداری نے فوری طور پر زمرد خان کو خراج تحسین پیش کیا جیسے یہ بیان پہلے سے تیار تھا۔ بے اختیار وزیراعلیٰ سندھ قائم مقام علی شاہ نے زمرد خان کو سیلوٹ کیا ابھی تک سندھ کے وزیر اختیارات اویس مظفر ٹپی نے کوئی بیان نہیں دیا پورے ملک میں اپنی انتخابی شکست کے بعد اس سوچے سمجھے واقعے کے بعد جیالے جشن منا رہے ہیں۔ صدر زرداری نے پیپلز پارٹی کو برباد کیا۔ زمرد خان نے آباد کر دیا، میرا خیال ہے کہ ابھی پیپلز پارٹی جلوس نکالے گی اور جئے بھٹو کے نعرے لگائے گی ۔ ”شہید بے نظیر کی تصویریں دکھائے گی‘ زمرد خان شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ ایسے بیانات اورخطابات سے نواز رہے ہیں، جان چلی جاتی تو بھی تیار تھا۔“ انہوں نے جان بچانے کے لئے بھی اداکاری کی۔ وہ گر پڑے اورپھر بھاگ کھڑے ہوئے کارروائی تو ڈاکٹر رضوان کی قیادت میں پولیس نے کی اور وہ جان پرکھیل کر پہنچے۔ زمرد خان سے بچ نکلنے والے سکندر کو قابو کیا۔ ہماری قوم تماشبین قوم ہے تماشا بھی خود تماشائی بھی خود۔
    زمرد خان کی بہادری کے لئے ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ کلاشنکوف لہراتے ہوئے سکندر نے نجی ٹی وی سے بات کی۔ اس طرح کی بات ہمارے ٹی وی چینلز ایک کریڈٹ کی طرح نشر کرتے ہیں۔ ”دونوں بھائیوں نے قوم کو بھکاری بنا دیا ہے (دونوں بھائیوں سے مراد نوازشریف اور شہباز شریف ہیں) سکندر نے للکار کر کہا کہ ”جنرل کیانی ان کی حکومت کو ہٹا دیں۔ یہ خبر سب اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔ سکندر نے کہا کہ دو بھائیوں کی حکومت کا خاتمہ چاہتا ہوں اور نئے انتخابات کرائے جائیں اور پیپلزپارٹی کو دوبارہ لایا جائے۔ یہ مطالبہ فخرو بھائی کے استعفیٰ سے پہلے کرنا چاہیے تھا۔ اس نے کہا کہ جب تک جنرل کیانی دونوں بھائیوں کی حکومت کو ختم نہیں کرتے میں ہتھیار نہیں ڈالوں گا میں اکیلا نہیں ہوں پوری امت مسلمہ میرے ساتھ ہے (امت مسلمہ میں سعودی عرب بھی ہے، نوازشریف غور کریں)
    ہماری پولیس مظاہرین کو تو قابو کر لیتی ہے آنسو گیس کے گولے پھینکتے ہیں، پانی کی فائرنگ کرتے ہیں جس سے عورتیں کپڑے گیلے ہونے کی وجہ سے تقریباً ننگی ہو جاتی ہیں تو کیا ایک شخص کوکسی طرح قابو کرنے کا کوئی طریقہ بہادر اور ماہر پولیس کے پاس نہ تھا پانچ گھنٹے تک پوری دنیا کو میڈیا تماشا دکھاتا رہا۔ ایوان صدر سے شاید صدر زرداری بھی یہ تماشا دیکھتے رہے ہوں گے، بلاول زرداری دبئی سے مسلسل رابطے میں تھے یہ بھی ہوا کہ زمرد خان پر سکندر نے کوئی فائرنگ نہ کی۔ وہ پولیس پر تو فائرنگ کر رہا تھا۔ زمرد خان اس کا دوست تھا۔ زمرد خان نے بھاگ کر جان بچائی پیپلزپارٹی کے جیالوں نے اسے کندھے پر اٹھا لیا اور میڈیا نے اسے ہیرو بنا کے پیش کیا۔ وہ تقریر کر رہا تھا کہ نوازشریف نے تو قوم سے خطاب نہیں کیا۔ عزیز ہموطنو میرا خطاب سنو!
    میڈیا سے گزارش ہے کہ خدا کے لئے ایسے ڈراموں اور ہنگاموں سے قوم کو نجات دلائیں لوگ نفسیاتی مریض ہو چکے ہیں دنیا والوں کو اب خوش نہ کرو، اسلام آباد پولیس کی ایک مجبوری یہ بھی تھی کہ چودھری نثار کی ہدایت کے مطابق سکندر کو زندہ گرفتار کرنا تھا ۔ چودھری صاحب اس کے ساتھ چائے پینا چاہتے ہوں گے۔ ناجائز فرمانبرداری آدمی کو بزدل بنا دیتی ہے۔ پولیس کو فری ہینڈ ملنا چاہیے مگر یہ بات قابل غور ہے کہ پولیس افسران نے زمرد خان کو سکندر کے پاس کیوں جانے دیا؟ نوازشریف پریشان ہیں۔
    لگتا ہے پاکستان پر میڈیا کی حکومت ہے مگر ان سے میری ایک گزارش ہے کہ وہ پاکستانی میڈیا بن جائے۔محترمہ زیب باجی کی سسکیوں کی آواز میرے دل میں گونج رہی ہے وہ نوائے وقتن ہے۔ ان کے بہنوئی نوائے وقت کراچی سے منسلک تھے۔ وہ مجید نظامی کے لئے بھی دعا گو رہتی ہیں کہ نوائے وقت کے ذریعے پاکستان بولتا ہے اب میڈیا سکندر اور زمرد ایک قطار میں کھڑے ہیں۔زمرد خان سے میری گزارش ہے کہ وہ ورزش کیا کریں اور انتظامیہ اپنے اندر بدنظمی کو ختم کرے۔آخر میں سکندر کی یہ بات کہ جب تک عورتیں پردے کی پابند نہیں ہو جاتیں میں ہتھیار نہیں ڈالوں گا اس کی اپنی بیوی بغیر پردے کے پولیس کے ساتھ بات چیت کر رہی تھی۔!!!

    ڈاکٹر محمد اجمل نیازی۔۔نوائے وقت
     
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  21. تانیہ
    آف لائن

    تانیہ ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مارچ 2011
    پیغامات:
    6,324
    موصول پسندیدگیاں:
    2,338
    ملک کا جھنڈا:
    میں اسکو زمرد خان کی بہادری ہی کہونگی کیونکہ جب ہمیں پہلے سے پتہ ہو کہ ہم جس طرف جا رہے وہاں موت سامنے کھڑی ہے کچھ بھی ہو سکتا ہے اسکے باوجود ہم ہر خوف کو ایکطرف رکھ کر صرف اپنے وطن اور یہاں کے لوگوں کے لیے سوچیں تو نہ صرف ہمیں اس جذبے کو سراہنے کی ضرورت ہے بلکہ سچائی کو بھی مان لینا چاہیئے کہ بلاشبہ زمرد خان نے بہادری کا کارنامہ کیا جب مشکل وقت ہو تو یہ نہیں سوچتے یہ کام کس کا ہے کون کرے گایا وہ کر بھی سکے گا یا نہیں یا پھر اس میں انکی جان بھی جا سکتی ان سب کے باوجود ایک شخص نے ہمت کی تو قابل تعریف ہوا نا ۔۔۔۔نہ صرف اس شخص کی بہادری بلکہ اسکا جذبہ بھی ۔۔۔۔۔اور وہ وہاں آگے بڑھا اس شخص کی طرف تو وہاں موجود فورسز سے بات کر کے ایویں تو منہ اٹھا کے نہیں چلا گیا بندوقوں کی طرف ۔۔۔۔۔۔۔باقی جہاں تک یہ سوال کہ بیوقوفی کی جان بھی جاسکتی تھی وغیرہ وغیرہ تو اتنا کہونگی کہ
    یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
    جب مرنا طے ہے کسی روڈ ایکسیڈنٹ میں ، کسی بیماری میں ، کسی قدرتی آفت میں یا طبعی تو پھر اسطرح اپنی زمین کے لیے جان چلے جانا تو اور زیادہ سعادت ہوتی
    اس لیے کوئی بھی نقاد طریقہ کار پہ تنقید کر سکتے لیکن بہادری کا اعتراف تو کرنا ہی پڑیگا
     
    پاکستانی55 اور آصف احمد بھٹی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  22. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,414
    موصول پسندیدگیاں:
    11,582
    ملک کا جھنڈا:
    میں نے ابھی ابھی دنیا نیوز کی ریکارڈنگ دیکھی تو بہت افسوس ہوا۔۔۔۔
    اللہ نہ کرے یہ طرز عمل رواج نہ پاجائے۔۔۔۔
     
  23. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    ہم ایک ایسی قوم ہیں جو دراصل قوم نہیں ہجوم ہے ، ہر واقعے کے بعد ہم لوگ ایک دوسرے کی طرف اُنگلیاں اُٹھا دیتے ہیں ، تلخ ترین لہجوں میں ایک دوسرے کی توہین اور تذلیل کرتے ہیں ، ہمارے پاس کسی شے کا کوئی نظام موجود ہی نہیں ، ہماری پولیس بے بس ہے ، وزیر داخلہ تو کیا ایک عام سا ایم پی اے بلکہ کونسلر ( بشرط بلدیاتی ادارے موجود ہوں ) کسی بھی پولیس والے کو کوئی حکم دے دے تو وہ ماننے پر مجبور ہوتے ہیں ، چاہے وہ حکم کتنا ہی غیر قانونی کیوں نہ ہو ۔ پوری دُنیا میں پولیس ہر طرح کے سیاسی اثر رسوخ سے پاک اور غیر جانبدار ہوتی ہیں ، اور جن ممالک میں پولیس وزارت داخلہ کے ماتحت بھی ہے وہاں بھی وزیر داخلہ کے اختیارات کا تعین کیا گیا ہے ، وزیر داخلہ کوئی غیر قانونی یا جانب داری پر مشتمل حکم نہیں دے سکتا ، پوری دُنیا کا میڈیا یونہی ہر واقعے کی کوریج کرتا ہے ، ہمارے ہاں تو پھر بھی میڈیا کسی نہ کسی کا دباؤ قبول کر لیتا ہے جبکہ اگر یورپ و امریکہ کو دیکھا جائے تو وہاں محض ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کی کار کا تعاقب کرتی پولیس کی مکمل کاروائی تک لائیو دکھائی جاتی ہے ، اس کے لیے میڈیا ہیلی کاپٹر تک کا استعمال کرتا ہے ، اسلام اباد جیسے واقعات امریکہ میں اکثر پیش آتے رہتے ہیں اور میڈیا وہ تمام واقعات مسلسل لائیو دکھاتا ہے ، پولیس ایسے کسی بھی واقعے کے بعد ہر کاروائی کے لیے با اختیار ہوتی ہے ۔ وہاں سے ہر تھوڑے عرصے بعد کسی اسکول ، یونیورسٹی یا کسی بھی عوامی مقام سے فائرنگ ہونے اور فائرنگ سے ہلاکتوں کی اطلاعات آتی رہتی ہیں ، اور ہر بار پولیس کی جوابی کاروائی سے حملہ آور مارا جاتا ہے ۔
    زمرد خان کی بہادری پر کوئی دو رائے نہیں ، ہم لوگ اختلاف رائے میں اکثر انتہاؤں پر پہنچ جاتے ہیں ، اور وہ سب کچھ بھی کہہ جاتے ہین کہ جو ہمین خود بھی برا لگتا ہے ۔ ۔ ۔
     
    نعیم اور طاہرہ مسعود .نے اسے پسند کیا ہے۔
  24. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,414
    موصول پسندیدگیاں:
    11,582
    ملک کا جھنڈا:
    میرے خیال میں زمرد خان کی خوش قسمتی ہے کہ انھوں نے پاوں پکے نہ رکھے اور جھپٹتے ہی خود پھسل گئے اور سکندر کی گولی سے بچ گئے؟؟؟؟
    زمرد خان صاحب کو شہرت کے علاوہ دوسری زندگی بھی ملی ہے۔۔۔۔۔۔
     
  25. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    جس دن قانون کا احترام شروع ہو جائے گا اس دن نہ کوئی سکندر ہو گا نہ کوئی کسی پر انگلی اٹھائے گا
     
    تانیہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  26. طاہرہ مسعود
    آف لائن

    طاہرہ مسعود ممبر

    شمولیت:
    ‏28 جون 2006
    پیغامات:
    293
    موصول پسندیدگیاں:
    43
    ملک کا جھنڈا:
    اس ملک میں کوئی قانون ہوتا تو زمرد خان اس کی لازماً پاسداری کرتا۔ اصولی طور پرکسی انسان کو کسی بڑے معاملے میں اسی وقت مداخلت کرنی چاہئیے جب وہ ان ادروں یا حکام بالا کو اعتماد میں لے چکا ہو۔
     
  27. طاہرہ مسعود
    آف لائن

    طاہرہ مسعود ممبر

    شمولیت:
    ‏28 جون 2006
    پیغامات:
    293
    موصول پسندیدگیاں:
    43
    ملک کا جھنڈا:
    اچھا؟ ویڈیو کلپ سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ سکندر نے اس کے بعد کوئی گولی نہیں چلائی بلکہ سرینڈر کر دیا۔
     
    آصف احمد بھٹی اور ملک بلال .نے اسے پسند کیا ہے۔
  28. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,416
    موصول پسندیدگیاں:
    7,511
    ملک کا جھنڈا:
    میرا خیال ہے اس نے سرینڈر نہیں کیا بلکہ بھاگا تھا تو فورسز کو گولی چلانی پڑی۔
     
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  29. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,414
    موصول پسندیدگیاں:
    11,582
    ملک کا جھنڈا:
    طاہرہ صاحبہ
    السلام علیکم
    خوش آمدید
    بہت دنوں بعد آپ کو دیکھا۔۔۔۔۔ خوشی ہوئی

    میرے کہنے کا مطلب ہے جب زمرد صاحب نے دبوچنے کی کوشش کی تو اس وقت سکندر صاحب کے دونوں ہاتھوں میں کلاشنکوف اور دیگر گن تھیں۔ ایسی صورت مین اگر ایک بھی گولی انھیں لگ جاتی تو بہت نقصان ہوتا۔
    تاہم اس دوران ارد گرد سے گولیاں چلیں اور وہ ٹانگ میں گولی لگنے سے گرگئے اسطرح پولیس کی دوڑی اور جب وہ گر گئے تو ایک گولی ان کی کمر کی طرف سے لگی اور وہ لیٹ گئیے۔۔۔۔۔
    اللہ تعالی نے خاتمہ بغیر کیسی بڑے خون خرابے انجام کو پہنچا دیا۔۔۔
     
    ملک بلال اور طاہرہ مسعود .نے اسے پسند کیا ہے۔
  30. طاہرہ مسعود
    آف لائن

    طاہرہ مسعود ممبر

    شمولیت:
    ‏28 جون 2006
    پیغامات:
    293
    موصول پسندیدگیاں:
    43
    ملک کا جھنڈا:
    جی یہی۔ ٹھیک فرمایا آپ نے۔ اس نے گولی چلانے کی بجائے بھاگنا بہتر سمجھا۔
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں