1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

رسول اللہ ﷺ غیروں کی نظر میں

'سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم' میں موضوعات آغاز کردہ از سقراط, ‏4 دسمبر 2011۔

  1. سقراط
    آف لائن

    سقراط ممبر

    شمولیت:
    ‏13 مئی 2011
    پیغامات:
    109
    موصول پسندیدگیاں:
    24
    ملک کا جھنڈا:
    از فرید اللہ مروت

    مقام مصطفی ﷺ وشانِ مصطفی ﷺ وہ مقام ہے جس کی وسعت ورفعت کا اندازہ لگانا محال وناممکن ہے ۔
    بقول شاعر : خدا کا حُسنِ انتخاب ، انتخابِ لاجواب
    ہمارے نبی ﷺ کی شان ومقام مانتی تو ساری کائنات ہے ، کیا نباتات ، کیا جمادات ، کیا بحروبر ، کیا شمس وقمر ، کیا چرند پرند، کیا حور وملائک ، کیا جن وبشر ، کیا بہار وخزاں ، کیا آسمان وزمین ، کیا دوست ودشمن ، کیا اپنے وپرائے ، غرض کائنات کی ہرہستی مقام مصطفی ﷺ اور پیغمبرِ اسلام کی تہذیب ، امانت داری ، دیانت ، اعلیٰ اخلاق اور مساوات کا اقرار کرتے ہیں مگر کائنات کی کوئی بھی ہستی یا کل کائنات بھی مل کر مکمل طور پر شان اور مقامِ مصطفی ﷺ بیان کرنے سے قاصر ہے ۔ مسلمان تو اسے مانتے ہی ہیں لیکن غیر مسلم بھی محبوبِ خدا ﷺ کی عظمت وشان کو بیان کرتے ہیں ۔ کفارِ مکہ سے لے کر آج چودہ سو سال گزر جانے کے بعد تک بے شمار غیر مسلموں نے زبانی ، تحریری ، شعری اور ہر انداز میں مقام مصطفی ﷺ کے مقام کو تسلیم کیا ہے ۔ ایک غیر مسلم نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ -
    ہوجائے عشق اس میں چارہ تو نہیں
    فقط مسلم کا محمد ﷺ پہ اجارہ تو نہیں
    مشرق ومغرب کے بڑ ے بڑ ے محقق ، اصحابِ فراست ولیاقت اور مفکرین نے اپنی تحریروں میں سرورِ کائنات ﷺ کے متعلق جو اعتراف حقیقت کیا ، انہی کے الفاظ میں پیشِ خدمت ہے ۔

    ایک ہندوپروفیسر اما کرشنا راؤ رسول معظم ﷺ کواس طرح خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے : رسول عربی ﷺ کے کل تک تو پہنچنا مشکل ہے البتہ یہ محمدجرنیل ہیں ، یہ محمد بادشاہ ہیں ، سپہ سالار ہیں ، تاجر ہیں ، داعی ہیں ، فلاسفر ہیں ، مدبر ہیں ، خطیب ہیں ، مصلح ہیں ، یتیموں کی پناہ گاہ ہیں ، عورتوں کے نجات دہندہ ہیں ، جج ہیں ، ولی ہیں ۔ یہ تمام اعلیٰ اور عظیم الشان کردار ایک ہی شخصیت کے ہیں ۔ ہر شعبہ زندگی کیلئے آپ ﷺ کی حیثیت مثالی ہے ۔​

    فرانس کے عظیم جرنیل نپولین بوناپارٹ نے رسول کریم ﷺ کی ذات کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے
    محمد ﷺ دراصل اصل سالارِ اعظم تھے ۔ آپ نے اہلِ عرب کو درسِ اتحاد دیا۔ ان کے آپس کے تنازعات ومناقشات ختم کیے ۔ تھوڑ ی ہی مدت میں آپ کی امت نے نصف دنیا کو فتح کر لیا۔ ۱۵ سال کے قلیل عرصے میں لوگوں کی کثیر تعداد نے جھوٹے دیوتاؤں کی پرستش سے توبہ کر لی ۔ مٹی کی بنی ہوئی دیویاں مٹی میں ملادی گئیں ، بت خانوں میں رکھی ہوئی مورتیوں کو توڑ دیا گیا۔ حیرت انگیز کارنامہ تھا رسول معظم ﷺ کی تعلیم کا کہ یہ سب کچھ صرف پندرہ ہی سال کے عرصے میں ہو گیا۔ جبکہ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام پندرہ سوسال میں اپنی امتوں کو صحیح راہ پر لانے میں کامیاب نہ ہوئے تھے ۔ حضرت محمد ﷺ عظیم انسان تھے ۔ جب آپ دنیا میں تشریف لائے اس وقت اہل عرب صدیوں سے خانہ جنگی میں مبتلا تھے ۔ دنیا کی اسٹیج پر دیگر قوموں نے جو عظمت وشہرت حاصل کی اس قوم نے بھی اس طرح ابتلاء ومصائب کے دور سے گزر کر عظمت حاصل کی اور اس نے اپنی روح اور نفس کو تمام آلائشوں سے پاک کر کے تقدس وپاکیزگی کا جوہر حاصل کیا۔

    یورپ کا مشہور عالم ٹامس کارلائل رسول اللہ ﷺ کی صداقت کا ان الفاظ میں اظہار کرتا ہے ۔
    صحرائے عرب کی یہ عظیم شخصیت جنہیں دنیا محمد ﷺ کے نام سے جانتی ہے پاکیزہ روح ، شفاف قلب وبلند نظری اور مقدس خیالات رکھتا تھا۔ جن کو خدا ہی نے حق وصداقت کی اشاعت کیلئے پیدا کیا۔ ہستی کا بھیدان پر کھل گیا تھا۔ آپ کا کلام خود اللہ کی آواز تھا۔​

    موہن چند کرم داس گاندھی رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کہتے ہیں
    اسلام نے تمام دنیا سے خراج تحسین وصول کیا جب مغرب پر تاریکی اور جہالت کی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں ۔ اس وقت مشرق سے ایک ستارہ نمودار ہوا۔ ایک روشن ستارہ جس کی روشنی سے ظلمت کدے منور ہوگئے ۔ اسلام دین باطل نہیں ہے ، ہندوؤں کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ بھی میری طرح اس کی تعظیم کرنا سیکھ جائیں میں یقین سے کہتا ہوں کہ اسلام نے بزورِ شمشیر سرفرازی اور سربلندی حاصل نہیں کی بلکہ اس کی بنیاد نبی کا خلوص ، خودی پر آپ کا غلبہ ، وعدوں کا پاس ، غلام ، دوست اور احباب سے یکساں محبت۔ آپ کی جرأت اور بے خوفی اللہ اور خود پر یقین جیسے اوصاف۔ لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔ اس کی فتوحات میں یہی اوصاف حمیدہ شامل ہیں اور یہی وہ اوصاف ہیں جن کی مدد سے مسلمان تمام پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود پیش قدمی کرتے چلے گئے ۔​

    روسی فلاسفر کاؤنٹ ٹالسٹانی کہتا ہے
    محمد ﷺ عظیم الشان مصلحین میں سے ہیں جنہوں نے اتحاد امت کی بہت بڑ ی خدمت کی ہے ۔ ان کے فخر کے لیے یہی کافی ہے کہ انہوں نے وحشی انسانوں کو نورحق کی جانب ہدایت کی اور ان کو اتحاد ، صلح پسندی اور پرہیز گاری کی زندگی بسر کرنے والا بنا دیا اور ان کے لیے ترقی وتہذیب کے راستے کھول دئیے اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنا بڑ ا کام صرف ایک فرد واحد کی ذات سے ظہور پذیر ہوا۔​

    سرولیم میود اپنی کتاب لائف آف محمد میں لکھتا ہے
    ہمیں بلا تکلف اس حقیقت کا اعتراف کر لینا چاہیے کہ تعلیم نبوی ﷺ نے ان تاریک توہمات کو ہمیشہ کے لئے جزیرہ نمائے عرب سے باہر نکال دیا جو صدیوں سے اس ملک پر چھأئے ہوئے تھے ، بت پرستی نابود ہوگئی ، توحید اور اللہ کی بے پناہ رحمت کا تصور محمد ﷺ کے متبعین کے دلوں میں گہرائیوں اور زندگی کے اعماق میں جاگزیں ہوگئی ، معاشرتی اصلاحات کی بھی کوئی کمی نہ رہی ۔ ایمان کے دائرہ میں برادرانہ محبت ، یتیموں کی پرورش ، غلاموں سے احسان ومروت جیسے جوہر نمودار ہوگئے امتناع شراب میں جو کامیابی اسلام نے حاصل کی اور کسی مذہب کو نصیب نہیں ہوئی۔​

    جوزف جے نوٹن رقم طراز ہیں
    جناب محمد ﷺ کا مذہب مطلق العنان روس کیلئے بھی اتنا ہی موزوں ہے جتنا جمہوریت پسند متحدہ امریکا کے لئے وہ مناسب ومفید ہے اسلام ایک عالمگیر حکومت کی نشاندہی کرتا ہے اور اسلام کی کتاب قرآن کا موضوع زندگی ہے اور اس میں پوری انسانی زندگی کو سمیٹ دیا گیا ہے ۔​


    مشہور فرانسیسی مؤرخ موسیوسیدیو نبی کریم ﷺ کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں
    محمد ﷺ یوں تو محض اُمی تھے ۔ مگر عقل ورائے میں یگانہ روزگار تھے ۔ ہمیشہ خندہ پیشانی سے پیش آتے اور اکثر خاموش رہتے ۔ طبیعت کے حلیم ، خلق کے نیک ، اکثر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ذکر کیا کرتے لغویات کبھی زبان سے نہ نکالتے ۔ مساکین کو دوست رکھتے کبھی فقیر کو فقر کے سبب سے حقیر نہ جانتے نہ کسی بادشاہ سے اس کی بادشاہی کے سبب سے خوف کھاتے تھے ۔​

    جارج برناڈ شاہ لکھتا ہے
    میں نے رسول ا کرم ﷺ کے دین کو ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھا ہے ۔ یہ الزام بے بنیاد ہے کہ آپ عیسائیوں کے دشمن تھے میں نے اس حیرت انگیز شخصیت کی سوانح مبارک کا گہرا مطالعہ کیا ہے میری رائے میں آپ پورے بنی نوع انسان کے محافظ تھے ۔


    ایس مار گولیوتھ رقم طراز ہے : رسول امین ﷺ کی دردمندی کا دائرہ انسان ہی تک محدود نہ تھا بلکہ انہوں نے جانوروں پر بھی ظلم وستم توڑ نے کو بہت بُرا کہا ہے ۔

    مسٹر ایڈورڈ مونٹے کہتے ہیں : آپ نے سوسائٹی کے تزکیہ اور اعمال کی تطہیر کیلئے جو اسوۂ حسنہ پیش کیا ہے وہ آپ کو انسانیت کا محسن اوّل قرار دیتا ہے ۔​

    ڈاکٹر جی ویل نے رسول ا کرم ﷺ کی ان الفاظ میں تعریف کی ہے : بیشک رہبر اعظم محمد ﷺ نے گمرا ہوں کیلئے ایک بہترین راہ ہدایت قائم کی اور یقینا آپ کی زندگی نہایت پاک صاف تھی آپ کا لباس اور آپ کی غذا بہت سادہ تھی۔ آپ کے مزاج میں بالکل تمکنت نہ تھی یہاں تک کہ وہ اپنے متبعین کو تعظیم وتکریم کے رسمی آداب سے منع فرماتے تھے ۔ آپ نے اپنے غلام سے کبھی وہ خدمت نہ لی جس کو آپ خود کرسکتے تھے آپ بازار جا کر خود ضرورت کی چیزیں خریدتے ، اپنے کپڑ وں میں پیوند لگاتے ، خودبکریوں کا دودھ دوہتے اور ہر وقت ہر شخص سے ملنے کیلئے تیار رہتے تھے ۔ آپ بیماروں کی عیادت کرتے تھے اور ہرشخص سے مہربانی کا برتاؤ فرماتے تھے ۔ آپ کی خوش اخلاقی ، فیاضی اور رحم دلی محدود نہ تھی۔ غرض آپ قوم کی اصلاح کی فکر میں ہر وقت مشغول رہتے تھے آپ کے پاس بے شمار تحائف آتے تھے لیکن بوقت وفات آپ نے صرف چند معمولی چیزیں چھوڑ یں اور ان کو بھی مسلمانوں کا حق سمجھتے تھے ۔​

    لیفٹیننٹ کرنل سالیکس کہتے ہیں : نبی محترم محمد ﷺ کے حالات زندگی پر نظر ڈالنے کے بعد کوئی انصاف پسند شخص ان کی اولوالعزمی ، اخلاقی جرأت ، نہایت خلوصِ نیت، سادگی اور رحم وکرم کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتا پھر انہی صفات کے ساتھ استقلال وعزم وحق پسندی اور معاملہ فہمی کی قابلیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ یہ یقینی بات ہے کہ آپ نے اپنی سادگی، لطف وکرم اور اخلاق کو بلا خیال ومرتبہ قائم رکھا۔ اس کے علاوہ شروع سے آخر تک وہ اپنے آپ کو ایک بندۂ خدا اور پیغمبر خدا بتلاتے رہے حالانکہ وہ اس سے زیادہ کا دعویٰ کر کے اس میں کامیاب ہو سکتے تھے ۔​


    The Hundred ڈاکٹر مائیکل مارٹ نے اپنی کتاب
    میں تاریخ کی ۱۰۰ ایسی شخصیتوں کا ذکر کیا جنہوں نے دنیا میں انمٹ نقوش چھوڑ ے ۔ اس عیسائی نے ۱۰۰ ہستیوں میں سب سے پہلے نمبر پر نبی آخر الزماں کا مبارک تذکرہ کیا ۔ وہ لکھتا ہے : کہ میں نے ان سو آدمیوں کا تذکرہ کیا جنہوں نے تاریخ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ان میں سب سے پہلے محمد ﷺ کا تذکرہ کیا ہے ۔ اس سے بعض لوگ حیران ہوں گے لیکن اس کی میرے پاس ایک ٹھوس دلیل موجود ہے ۔ کائنات میں جتنی بھی ہستیاں آئیں اگر ان کے حالات پڑ ھتے ہیں تو وہ ہمیں اپنے بچپن سے لڑ کپن میں کسی نہ کسی استاد کے سامنے بیٹھے تعلیم پاتے نظر آتے ہیں ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان تمام ہستیوں نے پہلے مروجہ تعلیم حاصل کی اور پھر اس کی بنیاد بنا کر انہوں نے زندگیوں میں کچھ اچھے کام کر دکھائے لیکن دنیا میں فقط ایک ہستی ایسی نظر آتی ہے کہ جس کی زندگی کی تفصیلات کو دیکھا جائے تو پوری زندگی کسی کے سامنے شاگرد بن کر بیٹھی نظر نہیں آتی۔ وہ ہستی محمدﷺ ہیں ۔ یہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے دنیا سے علم نہیں پایا بلکہ دنیا کو ایسا علم دیا کہ جیسا علم نہ پہلے کسی نے دیا اور نہ بعد میں کوئی دے گا۔ لہذا اس بات پر میرے دل نے چاہا کہ جس شخصیت نے ایسی علمی خدمات سرانجام دی ہوں میں غیر مذہب کا آدمی ہونے کے باوجود ان کو تاریخ کی سب سے اعلیٰ شخصیات میں پہلا درجہ مانتا ہوں ۔​

    ریمنڈ لیروگ رسول ا کرم ﷺ کو اس طرح خراج عقیدت پیش کرتا ہے : نبی عربی ﷺ اس معاشرتی اور بین الاقوامی انقلاب کے بانی ہیں جس کا سراغ اس سے قبل تاریخ میں نہیں ملتا۔ انہوں نے ایک ایسی حکومت کی بنیاد رکھی جسے تمام کرۂ ارض پرپھیلنا تھا اور جس میں سوائے عدل اور احسان کے اور کسی قانون کو نہیں ہونا تھا۔ ان کی تعلیم تمام انسانوں کی مساوات ، باہمی تعاون اور عالمگیر اخوت تھی۔​

    قارئین کرام! جب کافر اپنی زبان سے یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں تو معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ نے یقینا انسانیت کے اوپر بڑ ا احسان فرمایا ہے اور نبی ا کرم ﷺ کی ذات کو ایک ایسی فضیلت حاصل ہے جو کسی دوسری ہستی کو حاصل نہیں ہے ۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم محبوب خدا کی تعلیمات پر دل وجان سے عمل کریں تاکہ دنیا وآخرت میں سرخرو ہو سکیں ۔​

    صراط الہدیٰ ویب
     
  2. سقراط
    آف لائن

    سقراط ممبر

    شمولیت:
    ‏13 مئی 2011
    پیغامات:
    109
    موصول پسندیدگیاں:
    24
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: رسول اللہ ﷺ غیروں کی نظر میں

    :91: کوئی ہے:91:
     
  3. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,344
    موصول پسندیدگیاں:
    7,488
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: رسول اللہ ﷺ غیروں کی نظر میں

    جزاک اللہ!
    سقراط جی حسبِ روایت ایک نہایت ہی عمدہ اور ایمان افروز پوسٹ شیئر کرنے کے لیے بہت بہت شکریہ۔
    بہت سے غیر مسلم شعراء نے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں اشعار کہے۔ لیکن غیر مسلم مشہور شخصیات کے حضور علیہ الصلوٰۃ السلام کے بارے میں کہے گئے فقرات پڑھ کر ایمان تازہ ہو گیا۔
     
  4. یوسف ثانی
    آف لائن

    یوسف ثانی ممبر

    شمولیت:
    ‏14 اکتوبر 2011
    پیغامات:
    108
    موصول پسندیدگیاں:
    19
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: رسول اللہ ﷺ غیروں کی نظر میں

    جزاک اللہ
    بہت اچھی کاوش ہے
     

اس صفحے کو مشتہر کریں