1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

دیکھا جو اس کے بھیگے بدن کی تراش کو

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏3 دسمبر 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    6,400
    موصول پسندیدگیاں:
    776
    ملک کا جھنڈا:

    دیکھا جو اس کے بھیگے بدن کی تراش کو
    مچلی بہت یہ آنکھ وہاں بود و باش کو
    پتوں کی بانٹ سے تو یہ لگتا ہے چرخ نے
    پھینٹا نہیں ہے ٹھیک سے قسمت کی تاش کو
    چکھتے کہاں ہیں حسن کا سارا ثمر کہ ہم
    معیار جانتے ہیں فقط ایک قاش کو
    ناتے سبھی ہیں سانس کی ڈوری سے اس لئے
    دریا قبولتا نہیں مچھلی کی لاش کو
    سر پر اگرچہ برف جمی ڈھلتی عمر کی
    محسوستا ہے فرقِ تلاش و معاش کو
    مجروح ؔـاُس کے بوسۂ اوّل کی سنسنی
    آرازتی ہے اب بھی لبِ خوش قماش سے
    ٭......٭......٭
    حسین مجروح​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں