1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

دیوان غالب

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از آصف احمد بھٹی, ‏25 جولائی 2011۔

  1. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,025
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: دیوان غالب


    غزل

    جب بہ تقریبِ سفر یار نے محمل باندھا
    تپشِ شوق نے ہر ذرّے پہ اک دل باندھا
    اہل بینش نے بہ حیرت کدۂ شوخئ ناز
    جوہرِ آئینہ کو طوطئ بسمل باندھا
    یاس و امید نے اک عرَبدہ میداں مانگا
    عجزِ ہمت نے طِلِسمِ دلِ سائل باندھا
    نہ بندھے تِشنگئ ذوق کے مضموں، غالبؔ
    گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا

     
    نعیم نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,025
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: دیوان غالب


    غزل

    میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤں
    گر میں نے کی تھی توبہ، ساقی کو کیا ہوا تھا؟
    ہے ایک تیر جس میں دونوں چھِدے پڑے ہیں
    وہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا
    درماندگی میں غالبؔ کچھ بن پڑے تو جانوں
    جب رشتہ بے گرہ تھا، ناخن گرہ کشا تھا


     
    نعیم نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,025
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: دیوان غالب


    غزل


    گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
    بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا
    تنگئ دل کا گلہ کیا؟ یہ وہ کافر دل ہے
    کہ اگر تنگ نہ ہوتا تو پریشاں ہوتا
    بعد یک عمرِ وَرع بار تو دیتا بارے
    کاش رِضواں ہی درِ یار کا درباں ہوتا


     
    نعیم نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,025
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: دیوان غالب


    غزل



    نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
    ڈُبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
    ہُوا جب غم سے یوں بے حِس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
    نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا
    ہوئی مدت کہ غالبؔ مرگیا، پر یاد آتا ہے
    وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

     
    نعیم نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,025
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: دیوان غالب


    غزل


    یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا
    یاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا
    بے مے کِسے ہے طاقتِ آشوبِ آگہی
    کھینچا ہے عجزِ حوصلہ نے خط ایاغ کا
    بُلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
    کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
    تازہ نہیں ہے نشۂ فکرِ سخن مجھے
    تِریاکئِ قدیم ہوں دُودِ چراغ کا
    سو بار بندِ عشق سے آزاد ہم ہوئے
    پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا
    بے خونِ دل ہے چشم میں موجِ نگہ غبار
    یہ مے کدہ خراب ہے مے کے سراغ کا
    باغِ شگفتہ تیرا بساطِ نشاطِ دل
    ابرِ بہار خمکدہ کِس کے دماغ کا!


     
  6. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,025
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: دیوان غالب


    غزل

    وہ میری چینِ جبیں سے غمِ پنہاں سمجھا
    رازِ مکتوب بہ بے ربطئِ عنواں سمجھا
    یک الِف بیش نہیں صقیلِ آئینہ ہنوز
    چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا
    شرحِ اسبابِ گرفتارئِ خاطر مت پوچھ
    اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا
    بدگمانی نے نہ چاہا اسے سرگرمِ خرام
    رخ پہ ہر قطرہ عرق دیدۂ حیراں سمجھا
    عجزسے اپنے یہ جانا کہ وہ بد خو ہوگا
    نبضِ خس سے تپشِ شعلۂ سوزاں سمجھا
    سفرِ عشق میں کی ضعف نے راحت طلبی
    ہر قدم سائے کو میں اپنے شبستان سمجھا
    تھا گریزاں مژۂ یار سے دل تا دمِ مرگ
    دفعِ پیکانِ قضا اِس قدر آساں سمجھا
    دل دیا جان کے کیوں اس کو وفادار، اسدؔ
    غلطی کی کہ جو کافر کو مسلماں سمجھا


     
  7. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,025
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: دیوان غالب


    غزل

    پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
    دل، جگر تشنۂ فریاد آیا
    دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
    پھر ترا وقتِ سفر یاد آیا
    سادگی ہائے تمنا، یعنی
    پھر وہ نیرنگِ نظر یاد آیا
    عذرِ واماندگی، اے حسرتِ دل!
    نالہ کرتا تھا، جگر یاد آیا
    زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
    کیوں ترا راہ گزر یاد آیا
    کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگی
    گھر ترا خلد میں گر یاد آیا
    آہ وہ جرأتِ فریاد کہاں
    دل سے تنگ آکے جگر یاد آیا
    پھر تیرے کوچے کو جاتا ہے خیال
    دلِ گم گشتہ، مگر، یاد آیا
    کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
    دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
    میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ
    سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

     
    نعیم نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,025
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: دیوان غالب


    غزل

    ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا
    آپ آتے تھے، مگر کوئی عناں گیر بھی تھا
    تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
    اس میں کچھ شائبۂ خوبیِ تقدیر بھی تھا
    تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں؟
    کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا
    قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد
    ہاں! کچھ اک رنجِ گرانباریِ زنجیر بھی تھا
    بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا!
    بات کرتے، کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا
    یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے، خیر ہوئی
    گر بگڑ بیٹھے تو میں لائقِ تعزیر بھی تھا
    دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈا
    نالہ کرتا تھا، ولے طالبِ تاثیر بھی تھا
    پیشے میں عیب نہیں، رکھیے نہ فرہاد کو نام
    ہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا
    ہم تھے مرنے کو کھڑے، پاس نہ آیا، نہ سہی
    آخر اُس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا
    پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
    آدمی کوئی ہمارا َدمِ تحریر بھی تھا؟
    ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ
    کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا



     
    نعیم نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. معصومہ
    آف لائن

    معصومہ ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏2 نومبر 2011
    پیغامات:
    15,314
    موصول پسندیدگیاں:
    167
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: دیوان غالب

    بہت خو ب ۔ بہت مہنت کی ہے آپ نےّ
     
  10. اوجھڑ پینڈے
    آف لائن

    اوجھڑ پینڈے ممبر

    شمولیت:
    ‏28 جنوری 2012
    پیغامات:
    30
    موصول پسندیدگیاں:
    4
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: دیوان غالب

    غزل

    [COLOR="Bluبازیچہءِ اطفال ہے دُنیا میرے آگے
    ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے

    مت پُوچھ کہ کیا حال ہے میرا تیرے پیچھے
    تودیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا میرے آگے

    ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا میرے ہوتے
    گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا میرے آگے

    ایماں مُجھے روکے ہے،جو کھینچے ہے مُجھے کُفر
    کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے

    گو ھاتھ کو جُمبِش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
    رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے

    اِک کھیل ہے اورنگِ سُلیماں میرے نزدیک
    اِک بات ہے اعجاز مسیحا میرے آگے [/COLOR]
     
    نعیم نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. سلطان مہربان
    آف لائن

    سلطان مہربان ممبر

    شمولیت:
    ‏2 اپریل 2013
    پیغامات:
    88
    موصول پسندیدگیاں:
    80
    ملک کا جھنڈا:
  12. مستقیم خان آفریدی
    آف لائن

    مستقیم خان آفریدی ممبر

    شمولیت:
    ‏15 جنوری 2016
    پیغامات:
    21
    موصول پسندیدگیاں:
    12
    ملک کا جھنڈا:

    جناب
     
  13. مانی.شہزادہ
    آف لائن

    مانی.شہزادہ ممبر

    شمولیت:
    ‏8 جون 2017
    پیغامات:
    33
    موصول پسندیدگیاں:
    19
    ملک کا جھنڈا:
    کیا پوری غزل مل سکتی ہے
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  14. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    17,895
    موصول پسندیدگیاں:
    8,595
    ملک کا جھنڈا:
    زندگی میں تو وہ محفل سے اٹھادیتے تھے
    دیکھوں اب مرگئے پر کون اٹھاتا ہے مجھے
    غالب
     
  15. ناصر إقبال
    آف لائن

    ناصر إقبال ممبر

    شمولیت:
    ‏6 دسمبر 2017
    پیغامات:
    1,670
    موصول پسندیدگیاں:
    343
    ملک کا جھنڈا:
    گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
    جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر

    کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقت سخن
    جانوں کسی کے دل کی میں کیونکر کہے بغیر

    کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں
    لیوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغیر

    جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہم
    سر جائے یا رہے نہ رہیں پر کہے بغیر

    چھوڑوں گا میں نہ اس بت کافر کا پوجنا
    چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر

    مقصد ہے ناز و غمزہ ولے گفتگو میں کام
    چلتا نہیں ہے دشنہ و خنجر کہے بغیر

    ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
    بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

    بہرا ہوں میں تو چاہیئے دونا ہو التفات
    سنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر

    غالبؔ نہ کر حضور میں تو بار بار عرض
    ظاہر ہے تیرا حال سب ان پر کہے بغیر

    مرزا غالب
     
  16. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    17,895
    موصول پسندیدگیاں:
    8,595
    ملک کا جھنڈا:
    جنوں گرم انتظار و نالہ بیتابی کمند آیا

    جنوں گرم انتظار و نالہ بیتابی کمند آیا
    سویدا تا بلب زنجیر سے دودِ سپند آیا

    مہِ اختر فشاں کی بہرِ استقبال آنکھوں سے
    تماشا کشورِ آئینہ میں آئینہ بند آیا

    تغافل، بد گمانی، بلکہ میری سخت جانی ہے
    نگاہِ بے حجابِ ناز کو بیمِ گزند آیا

    فضائے خندۂ گُل تنگ و ذوقِ عیش بے پروا
    فراغت گاہِ آغوشِ وداعِ دل پسند آیا

    عدم ہے خیر خواہِ جلوہ کو زندانِ بے تابی
    خرامِ ناز برقِ خرمنِ سعیِ پسند آیا

    جراحت تحفہ، الماس ارمغاں، داغِ جگر ہدیہ
    مبارک باد اسدؔ، غمخوارِ جانِ دردمند آیا
    [​IMG]
     
    مانی.شہزادہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  17. ناصر إقبال
    آف لائن

    ناصر إقبال ممبر

    شمولیت:
    ‏6 دسمبر 2017
    پیغامات:
    1,670
    موصول پسندیدگیاں:
    343
    ملک کا جھنڈا:
    عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
    درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

    تجھ سے قسمت میں مری صورت قفل ابجد
    تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا

    دل ہوا کشمکش چارۂ زحمت میں تمام
    مٹ گیا گھسنے میں اس عقدے کا وا ہو جانا

    اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہ
    اس قدر دشمن ارباب وفا ہو جانا

    ضعف سے گریہ مبدل بہ دم سرد ہوا
    باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا

    دل سے مٹنا تری انگشت حنائی کا خیال
    ہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا

    ہے مجھے ابر بہاری کا برس کر کھلنا
    روتے روتے غم فرقت میں فنا ہو جانا

    گر نہیں نکہت گل کو ترے کوچے کی ہوس
    کیوں ہے گرد رہ جولان صبا ہو جانا

    بخشے ہے جلوۂ گل ذوق تماشا غالبؔ
    چشم کو چاہئے ہر رنگ میں وا ہو جانا

    تا کہ تجھ پر کھلے اعجاز ہوائے صیقل
    دیکھ برسات میں سبز آئنے کا ہو جانا
     
  18. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    17,895
    موصول پسندیدگیاں:
    8,595
    ملک کا جھنڈا:
    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

    بہت نکلے مرے ارمان لیکن، پھر بھی کم نکلے
     
  19. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    17,895
    موصول پسندیدگیاں:
    8,595
    ملک کا جھنڈا:
    ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے

    کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور
     
  20. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    17,895
    موصول پسندیدگیاں:
    8,595
    ملک کا جھنڈا:
    ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا

    نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا کیا

    ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال

    ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو

    ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

    تمھیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے؟

    دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا

    میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

    اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا

    ساغر جم سے مرا جامِ سفال اچھا ہے

    حال دل لکھوں کب تک، جاؤں اُن کو دکھلا دوں

    انگلیاں فگار اپنی، خامہ خونچکاں اپنا
     
  21. ناصر إقبال
    آف لائن

    ناصر إقبال ممبر

    شمولیت:
    ‏6 دسمبر 2017
    پیغامات:
    1,670
    موصول پسندیدگیاں:
    343
    ملک کا جھنڈا:
    وہ فراق اور وہ وصال کہاں
    وہ شب و روز و ماہ و سال کہاں

    فرصتِ کاروبارِ شوق کسے
    ذوقِ نظارۂ جمال کہاں

    دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہا
    شورِ سودائے خطّ و خال کہاں

    تھی وہ اک شخص کے تصّور سے
    اب وہ رعنائیِ خیال کہاں

    ایسا آساں نہیں لہو رونا
    دل میں‌طاقت، جگر میں حال کہاں

    ہم سے چھوٹا "قمار خانۂ عشق"
    واں جو جاویں، گرہ میں مال کہاں

    فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوں
    میں کہاں اور یہ وبال کہاں

    مضمحل ہو گئے قویٰ غالب
    وہ عناصر میں اعتدال کہاں
     
  22. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    17,895
    موصول پسندیدگیاں:
    8,595
    ملک کا جھنڈا:
    غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
    برق سے کرتے ہیں روشن شمعِ ماتم خانہ ہم
    محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز ِ خیال
    ہیں ورق گردانِ نیرنگئی یک بت خانہ ہم
    باوجود یک ہنگامہ پیدائی نہیں
    ہیں چراغاں شبستانِ دل پروانہ ہم
    ضعف سے ہے کہ قناعت سے یہ ترکِ آرزو
    ہیں وبال ِ تکیہ گاہ ِ ہمت مردانہ ہم
    دائم الحبس اس میں لاکھوں آرزوئیں ہیں اسدؔ
    جانتے ہیں سینہ پر خوں کو زنداں خانہ ہم
     
  23. مانی.شہزادہ
    آف لائن

    مانی.شہزادہ ممبر

    شمولیت:
    ‏8 جون 2017
    پیغامات:
    33
    موصول پسندیدگیاں:
    19
    ملک کا جھنڈا:
    بہت شکریہ
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  24. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    17,895
    موصول پسندیدگیاں:
    8,595
    ملک کا جھنڈا:
    خوش رہیے
     
    مانی.شہزادہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  25. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    17,895
    موصول پسندیدگیاں:
    8,595
    ملک کا جھنڈا:
    تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں
    تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے
    غالب
     
  26. ناصر إقبال
    آف لائن

    ناصر إقبال ممبر

    شمولیت:
    ‏6 دسمبر 2017
    پیغامات:
    1,670
    موصول پسندیدگیاں:
    343
    ملک کا جھنڈا:
    حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
    مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

    چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوں
    ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر کو میں

    جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار
    اے کاش جانتا نہ ترے رہگزر کو میں

    ہے کیا جو کس کے باندھئے میری بلا ڈرے
    کیا جانتا نہیں ہوں تمہاری کمر کو میں

    لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے
    یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں

    چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیزرو کے ساتھ
    پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں

    خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار
    کیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں

    پھر بے خودی میں بھول گیا راہ کوئے یار
    جاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو میں

    اپنے پہ کر رہا ہوں قیاس اہل دہر کا
    سمجھا ہوں دل پذیر متاع ہنر کو میں

    غالبؔ خدا کرے کہ سوار سمند ناز
    دیکھوں علی بہادر عالی گہر کو میں
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  27. سید شہزاد ناصر
    آف لائن

    سید شہزاد ناصر ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏24 مئی 2015
    پیغامات:
    1,459
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    کیا ادھر مکمل دیوان غالب ٹائپ کیا جا رہا ہے؟
    اس سلسلے میں اگر ضرورت ہو تو دیوان غالب مکمل کی سافٹ کاپی میرے پاس ہے
     
    آصف احمد بھٹی اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  28. زاھرا
    آف لائن

    زاھرا ممبر

    شمولیت:
    ‏22 جنوری 2019
    پیغامات:
    54
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    ملک کا جھنڈا:
    amazing thanks for sharing
     
  29. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    17,895
    موصول پسندیدگیاں:
    8,595
    ملک کا جھنڈا:
    رحم کر ظالم کہ کیا بود چراغ کشتہ ہے
    نبض بیمار وفا دود چراغ کشتہ ہے
    دل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیں
    ورنہ یاں بے رونقی سود چراغ کشتہ ہے
    نشۂ مے بے چمن دود چراغ کشتہ ہے
    جام داغ شعلہ اندود چراغ کشتہ ہے
    داغ ربط ہم ہیں اہل باغ گر گل ہو شہید
    لالہ چشم حسرت آلود چراغ کشتہ ہے
    شور ہے کس بزم کی عرض جراحت خانہ کا
    صبح یک بزم نمک سود چراغ کشتہ ہے

    غالب
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  30. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    17,895
    موصول پسندیدگیاں:
    8,595
    ملک کا جھنڈا:
    حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد
    بارے آرام سے ہیں اہل جفا میرے بعد

    منصب شیفتگی کے کوئی قابل نہ رہا
    ہوئی معزولی انداز و ادا میرے بعد

    شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے
    شعلۂ عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد

    خوں ہے دل خاک میں احوال بتاں پر یعنی
    ان کے ناخن ہوئے محتاج حنا میرے بعد

    در خور عرض نہیں جوہر بیداد کو جا
    نگۂ ناز ہے سرمے سے خفا میرے بعد

    ہے جنوں اہل جنوں کے لیے آغوش وداع
    چاک ہوتا ہے گریباں سے جدا میرے بعد

    کون ہوتا ہے حریف مے مرد افگن عشق
    ہے مکرر لب ساقی پہ صلا میرے بعد

    غم سے مرتا ہوں کہ اتنا نہیں دنیا میں کوئی
    کہ کرے تعزیت مہر و وفا میرے بعد

    آئے ہے بیکسی عشق پہ رونا غالبؔ
    کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد

    تھی نگہ میری نہاں خانۂ دل کی نقاب
    بے خطر جیتے ہیں ارباب ریا میرے بعد

    تھا میں گلدستۂ احباب کی بندش کی گیاہ
    متفرق ہوئے میرے رفقا میرے بعد
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں