1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

دو دانشور \"کرونا وائرس\" سے آگاہ تھے

'جنرل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏19 مارچ 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    3,492
    موصول پسندیدگیاں:
    499
    ملک کا جھنڈا:
    دو دانشور \"کرونا وائرس\" سے آگاہ تھے
    corona.jpg
    کتابوں میں کرونا وائرس جیسی بیماری کے ذکر نے دنیا کو حیران کر دیا
    تحریر : صہیب مرغوب
    دنیا کا سب سے بڑا موضوع بحث کورونا کے سوا کوئی نہیں۔ جہاں جائیں، اسی پر بات ہو رہی ہو گی۔ افواہوں اور قیاس آرائیوں کا ایک بازار ’’گرم‘‘ ہے جو’’ ٹھنڈا‘‘ ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ کچھ نے اسے قیامت کی کئی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دے دیا ہے۔

    کچھ کے نزدیک دنیا ختم ہونے والی ہے، بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ گمراہی کی دلدل میں دھنسے ہوئے انسانوں کے لئے ایک سبق ہے، خود کو طاقت ور سمجھنے والا انسان اللہ کے حقیر سے وائرس سے ڈر کر گھروں میں چھپ گیا ہے۔ کائنات میں انسان کی یہ ہے اوقات۔
    اس سارے منظر نامے میں دو کتابیں ہر جگہ زیر بحث ہیں، یہ دونوں کتب یورپی مصنفین کی تحریر کردہ ہیں۔ ایک کتاب کا ٹائٹل ہے، ''End of Days‘‘ یعنی دنیا کا انجام۔ اس کی مصنفہ ہیں سلویا برائون (Sylvia Browne)۔ انہوں نے 2020ء میں ایک خطرناک وائرس کے پھیلنے کی پیش گوئی کی تھی جس سے دنیا بھر میں ہل چل مچ جائے گی اور اس پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا، ایسا ہی ہوا ہے۔ وہ اپنی موت کی پیش گوئی بھی کر بیٹھی تھیں لیکن یہ غلط ثابت ہوئی۔ دوسری اہم کتاب کے مصنف ڈین کونز (Dean Koontz) ہیں ۔ کتاب کا ٹائٹل ہے ''The Eyes of Darkness‘‘۔
    سلویا برائون کئی عشروں سے عالمی تبدیلیوں کے بارے میں پیش گوئیاں کرتی رہی ہیں، وہ نجومی ہیں نہ پامسٹ۔ دنیا میں کئی لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اچھی نعمتوں سے نوازا ہے، ان کی چھٹی حس تیز ہے یا وہ حالات کا بہتر ادراک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ خود کو ''سائیکک ایکسپرٹ‘‘ قرار دیتے ہیں۔ عام سے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ آنے والے حالات کی ہلکی سی'' بو‘‘ سونگھ لیتے ہیں ۔ سلویا بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ انہوں 2008ء میں لکھا کہ ''2020ء کے قریب دنیا میں ایک ایسا وائرس پھیلے گا جس پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا، یہ وائرس پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ انہوں نے لکھا کہ ''2020ء میں کہیں نمونیہ کی قسم کا ایک وائرس پوری دنیا میں پھیل جائے گا،کوئی خطہ اس سے نہیں بچ پائے گا۔ یہ پھیپھڑوں اور ان کی ارد گرد کی برنکیل ٹیوبس (bronchial tubes) کو متاثر کرے گا۔ کسی دوا سے قابو نہ آنے والا یہ وائرس جتنی تیزی سے حملہ آور ہو گا اتنی ہی تیزی سے ناپید بھی ہو جائے گا۔ 10برس بعد یہی وائرس دوبارہ حملہ آور ہو گا، اور پھر اس کے بعد یہ کبھی حملہ نہیں کرے گا۔‘‘ وہ وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں خاموش تھیں۔ ان کی کتاب معروف ماڈل کم کردشیان نے بھی شیئر کی جس کے بعد دنیا بھر میں زیر بحث آ گئی۔ سوشل میڈیا کے مطابق وائرس کا دنیا بھر میں پھیلنا، پھیپھڑوں اور سانس کی نالیوں کو متاثر کرنا اورکسی دوائی سے قابو نہ آنے کی باتیں حقیقت کے قریب تر ہیں۔ تاہم کئی لوگوں نے سلویا سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا ہے '' انہوں نے شدید نمونیا جیسی بیماری کی پیش گوئی کی تھی لیکن یہ شدید نہیں ہے کیونکہ اس میں شرح اموات محض 3.5 فیصد ہے۔ پھر یہ کہ سلویا نے لکھا کہ '' 2020ء میں کہیں‘‘ یعنی انہوں نے 2020ء کی بات نہیں کی تھی اور اس میں بھی انہوں نے ''قریب ‘‘ کا لفظ استعمال کر کے دو تین سال کا مارجن حاصل کر لیا تھا۔
    دوسری کتاب اس سے بھی پہلے لکھی گئی تھی۔ یہ 1981ء میں لکھا گیا ڈین کونز کا ناول ''دی آئیز آف ڈارکنس ‘‘ ہے۔ ڈین کونز کا شمار شہرت یافتہ عالمی مصنفین میں ہوتا ہے، لوگ ان کے سنسنی خیز ناولوں کا انتظار کرتے ہیں۔ سنسنی خیزی اور مہم جوئی ان پر ختم ہے۔ وہ اپنے ناولوں میں سنسنی خیزی کے علاوہ سائنس فکشن، بائیولوجیکل وار، آسمانی مخلوق اور طنز و مزاح کا تڑکہ بھی لگاتے ہیں۔ ان کے ناولوں پر ڈرامہ سیریلز اور فلمیں بھی بنائی جا چکی ہیں۔ مذکورہ ناول ٹی وی پروڈیوسر لی رچ (Lee Rich) نے خرید کر ڈرامہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن اچھے ڈائیلاگ نہ لکھے جانے کی وجہ سے یہ کام مکمل نہ ہوسکا۔ پہلے ایڈیشن میں انہوں نے وائرس کا نام ''گورکی 400‘‘ رکھا مگر بعد ازاں 1989ء میں چھپنے والے ایڈیشن میں نام ''ووہان 400 ‘‘ دیا ہے۔ ناول نگار کے خیال میں یہ وائرس یعنی ''ووہان 400‘‘ انسان کا ہی بنایا ہوا ایک ہتھیار ہے۔ جیسا کہ اس وقت بھی امریکہ اور چین میں یہ بحث چھڑ چکی ہے کہ یہ انسان کا ہی بنایا ہوا ہتھیار ہے جو معیشت کو نشانہ بنانے کے لئے چین میں چھوڑا گیا ہے۔ ایک چینی افسر کے اس سے ملتے جلتے ریمارکس پر امریکی حکومت نے سخت برا مناتے ہوئے چینی سفیر سے بھی احتجاج کیا ہے۔
    ڈین مذہبی حوالے سے کٹر کیتھولک ہیں اور اسی کو ذریعہ نجات گرادنتے ہیں۔ اسی لئے وہ امریکہ میںغریبوں کی مدد کرنے والے ایک ادارے سے بھی منسلک رہے۔ شائد اسی لئے ان کے ناول کا موضوع بھی چین ہی تھا، ہالی وُڈ انڈسٹری اب چین کو ایک برے ملک کے طور پر دکھانے میں پیش پیش ہے۔ سوویت یونین کے زوال کے بعد ہالی وُڈ اب چین کے پیچھے پڑ چکا ہے۔ یہ ملک امریکی ناول نگاروں کے بھی نشانے پر ہے۔ 1968ء میں لکھے گئے اپنے پہلے ناول میں بھی انہوں نے جہاں سائنس فکشن کا تڑکہ لگایا، وہیں کیتھولک تعلیمات کا پرچار کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ ناول میں ووہان کا نام بطور خاص لکھنا محض اتفاق ہے یا اس کے پیچھے کوئی راز چھپا ہوا ہے؟ انہوں نے نام کیوں تبدیل کیا، گورکی اور ووہان میں بہت فرق ہے؟ اس سوال کا جواب وقت ہی دے گا ۔
     
    ماریہ نور نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. ماریہ نور
    آف لائن

    ماریہ نور ممبر

    شمولیت:
    ‏18 مارچ 2020
    پیغامات:
    75
    موصول پسندیدگیاں:
    36
    ملک کا جھنڈا:
    intelligent086
    تحقیق، پرہیز، علاج مزہبی فریضہ ہے باقی معاملات اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینے چاہیں ہمارا ان مفروضوں سے کوئی تعلق نہیں
     

اس صفحے کو مشتہر کریں