1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

دوسری عالمی جنگ میں امریکی تیاریاں

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏13 اکتوبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    1,442
    موصول پسندیدگیاں:
    190
    ملک کا جھنڈا:
    دوسری عالمی جنگ میں امریکی تیاریاں
    [​IMG]
    لوئس ایل سنائیڈر
    دوسری عالمی جنگ کے دوران 1940ء کے وسط تک ایڈولف ہٹلر کی فتوحات کا یہ نقشہ تھا… ڈنمارک اور ناروے پر حملہ ہوا،کئی ممالک تسخیرہوئے اور فرانس کو شکست ہوئی۔ حالات کی تیز رفتاری، خصوصاً سقوطِ فرانس نے ریاست ہائے متحدہ امریکا کو سرگرمیٔ عمل پر آمادہ کر دیا۔ جنگ کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے تین جنوری 1940ء کو امریکی صدر روزویلٹ نے سالانہ بجٹ کا تخمینہ پیش کرتے ہوئے قومی دفاع کے لیے 1 ارب 80 کروڑ ڈالرز کی درخواست کی تھی۔ 16 مئی 1940ء کو اس نے کانگرس کے نام پیغام بھیجا، جس میں ہر سال 50 ہزار ہوائی جہاز بنانے کے پروگرام کی درخواست کی۔ اس پر جرمنی کے اندر فوراً زبردست دلچسپی پیدا ہوئی۔ 50 ہزار ہوائی جہاز سالانہ؟ ناممکن، ناقابلِ یقین۔ نازی فیلڈ مارشل گوئرنگ کو ہوابازی میں ماہر مانا جاتا تھا۔ اس نے یہ پورا معاملہ ایک قہقہہ لگا کر ختم کر دیا۔ ڈاکٹر گوئبلز وزیر نشرو اشاعت نے اسے صدر روزویلٹ کی شیخی قرار دیا۔ ایڈولف ہٹلر نے طبی رائے دیتے ہوئے کہا: بلاشبہ روزویلٹ کا دماغ ماؤف ہے۔ 50 ہزار ہوائی جہاز ہر سال؟ بالکل ناممکن، (حقیقت یہ ہے کہ تقریباً 1940ء سے اختتام جنگ تک امریکا کے کارخانوں نے دو لاکھ 96 ہزار 6 سو ایک جنگی جہاز تیار کیے، جن کی سالانہ اوسط 60 ہزار ہے۔) 31 مئی 1940ء کو فرانس سقوط کے قریب پہنچا ہوا تھا۔ اس وقت روزویلٹ نے مزید ایک ارب 27 کروڑ 77 لاکھ 41 ہزار ایک سو 70 ڈالر کی درخواست کی تاکہ فوجی اور بحری ضرورتیں زیادہ تیزی سے پوری کی جا سکیں۔ اس وقت تک روزویلٹ کے پروگرام کا خاکہ واضح ہو چکا تھا یعنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ، داخلی تیاریاں اور براعظم امریکا کا اتحاد۔ سرمائے کے مصارف کا درجہ بہت اونچا ہو گیا۔ 20 جولائی 1940ء کو روزویلٹ نے ایک مسودۂ قانون منظور کیا جس میں دو سمندروں کے لیے یکساں الگ الگ بیڑے رکھنے کا اختیار دے دیا گیا اور 200 جنگی جہاز بنانے کا انتظام کر دیا گیا جن میں 55،55 ہزار ٹن کے 7 بڑے جہاز بھی شامل تھے۔ تاریخ میں اس زبردست بحری توسیع کی کوئی مثال موجود نہ تھی۔ 18 اگست 1940ء کو صدر روزویلٹ اور کینیڈا کے وزیراعظم ولیم میکنزی کنگ کے درمیان ملاقات ہوئی اور دونوں دفاع کے لیے ایک مستقل مشترکہ بورڈ قائم کرنے پر متفق ہو گئے۔ کینیڈا میں فوجوں اور ہوابازوںکی تربیت کے لیے انتظامات مکمل ہو چکے تھے۔ دفاع کے لیے روپیہ بے حد اہم تھا لیکن آدمی کچھ کم اہم نہ تھے۔ 27 اگست 1940ء کو امریکی کانگرس نے اختیار دے دیا کہ قومی گارڈز کو وفاقی خدمات کے لیے تیار کر لیا جائے۔ 4 روز بعد ابتدائی دستے طلب کر لیے گئے۔ پھر جبری فوجی بھرتی کا قانون منظور ہوا۔ 16 ستمبر 1940ء کو سیلیکٹو سروس ٹریننگ اور سروس ایکٹ کا قانون کانگرس نے منظور کر لیا۔ امریکا کی تاریخ میں یہ پہلا قانون تھا جس کے مطابق زمانۂ امن میں جبری فوجی خدمت کا انتظام کر لیا گیا۔ اس کے مطابق 21 سے 36 برس کی عمر کے تمام افراد کو اپنے نام رجسٹر کرا لینے کا کہا گیا۔ 12 لاکھ افواج کو ایک سال کے لیے تربیت دی گئی اور 8 لاکھ مدمحفوظ میں رکھے گئے۔ پہلی مرتبہ نام 16 اکتوبر 1940ء کو رجسٹر کرائے گئے۔1 کروڑ 64 لاکھ افراد کے نام رجسٹر ہوئے۔ 2 ہفتے بعد یعنی 29 اکتوبر کو واشنگٹن میں قرعہ ڈال کر پہلا گروہ چن لیا گیا۔ 18 اگست 1941ء کو خدمات کی مدت 1 سال سے 30 مہینے کر دی گئی۔ 3 ستمبر1940ء کو روزویلٹ نے برطانیہ کے ساتھ دفاع کے معاملے پر بات چیت کی اور کوئی شبہ باقی نہ رہا کہ صدر کی ہمدردی کس طرف ہے۔ برطانیہ کو تباہ کن جہازوں کی سخت ضرورت تھی۔ اس کے 10 جہاز ڈنکرک میں برباد ہو چکے تھے، جو معاہدہ ہوا اس کی رو سے 50 تباہ کن امریکی جہاز برطانیہ کو دے دیے گئے۔ اس کے بدلے میں نیوفاؤنڈ لینڈ، برموڈا، بہاماز، جمیکا، سینٹ لوسیا، ٹرینڈاڈ، اینٹگوا برطانوی گائنا میں بحری اور ہوائی اڈے 99 سال کے لیے بلارقم اجارے پر لے لیے گئے۔ تباہ کن جہاز فوراً برطانیہ کے حوالے کر دیے گئے۔ ساتھ ہی امریکا نے نئے اڈوں میں اپنی فوج پہنچا دی اور تیزی سے ان کا استحکام شروع کر دیا۔ صدر نے یہ سب کچھ کانگرس سے مشورہ لیے بغیر کیا۔ یہ بڑی جسارت کا کام تھا اور اس کی کوئی مثال پہلے موجود نہ تھی۔ گویا اس نے بھاری خطرہ قبول کیا۔ اس نے برطانوی دفاع کو اوقیانوس کی جنگ میں بیش بہا فائدہ پہنچایا اور اہل برطانیہ کے حوصلے بہت بڑھ گئے۔ روزویلٹ اور چرچل دونوں کو یقین تھا کہ 1940ء میں ڈنمارک لے لینے کے بعد ہٹلر گرین لینڈ پر قبضہ کر لے گا۔ 9 اپریل 1941ء کو امریکا نے ڈنمارک کی جلاوطن حکومت کے ساتھ معاہدہ کر کے امریکی بحری فوج گرین لینڈ بھیج دی۔ ساتھ ہی عہد کیا کہ امریکا ہر حملے کے خلاف گرین لینڈ کی حفاظت کرے گا۔ اس کے بدلے میں امریکا کو گرین لینڈ سے بحری اور فضائی کارروائیوں، نیز ریڈیو اور دوسرے دفاعی انتظامات کی اجازت دے دی جائے۔ 7 جولائی 1941ء کو اس قسم کا ایک معاہدہ آئس لینڈ کے متعلق بھی ہو گیا۔ ان علاقوں، نیز براعظم امریکا سے فضائی فوج اوقیانوس کے مغربی حصے کی نگرانی کر سکتی تھی۔ برطانیہ نے اپنی قوت مشرقی حصے کی حفاظت کے لیے مرتکز کر دی۔ اس دوران داخلی تیاریاں بڑی تیزی سے آگے بڑھتی رہیں۔ فیڈرل بیورو کے محکمہ تفتیش نے ایسی مستعدی سے پانچویں کالم یعنی نازیوں اور ان کے حامیوںکے خلاف کارروائیاں کیں کہ ان کی سرگرمیاں زیادہ سے زیادہ گھٹ گئیں۔ عالمی جنگ سے پیدا شدہ حالات سے نپٹنے کی تیاری کے سلسلے میں فوری ضرورتیں اس درجہ بڑھ گئی تھیں کہ ملک کی دونوں بڑی پارٹیوںکو حکومت میں شامل کرنا ضروری ہو گیا۔ چنانچہ روزویلٹ نے ری پبلکن پارٹی سے2 لیڈروں کو شامل کر لیا اور یہ دونوں برطانیہ کی امداد کے زبردست حامی تھے۔ 5 نومبر 1940ء کو صدر کا انتخاب ہوا اور روزویلٹ کو تیسری مرتبہ صدر چن لیا گیا۔ یہ واقعہ بھی بالکل بے مثال تھا۔اس کامیابی سے روزویلٹ نے امریکی تاریخ کی ایک پختہ رسم توڑ دی۔ روزویلٹ نے انتخابی مہم میں تمام امریکی والدین کو یقین دلایا کہ آپ کے بیٹے کسی اجنبی جنگ میں نہیں دھکیلے جائیں گے۔ اس کامیابی کو روزویلٹ نے اپنی خارجہ پالیسی کی قومی تائید تصور کیا۔ 20 دسمبر 1940ء کو روزویلٹ نے سامان تیار کرنے کے لیے انتظامات کا ایک محکمہ قائم کیا جس کا ڈائریکٹر نڈسن کو مقرر کیا۔ وہ ایک بڑا صنعتی لیڈر تھا۔ اس محکمے کا کام یہ تھا کہ دفاع کے لیے جو کچھ بنتا ہے، وہ نظم و ضبط کے ساتھ تیار ہو اور جلد سے جلد تیار کیا جائے تاکہ ان قوموں کو پوری امداد پہنچائی جا سکے جو ہٹلر کے خلاف لڑ رہی تھیں۔ روزویلٹ کے پروگرام کا تیسرا نکتہ یہ تھا کہ ہمسایوں سے اچھا برتاؤ کیا جائے۔ وہ چاہتا تھا کہ براعظم امریکا کی تمام قومیں نازیوں کے خلاف متحدہ محاذ بنائیں۔ اس پروگرام کی شروعات جنگ چھڑنے کے ابتدائی دور ہی میں ہو چکی تھی جب 3 اکتوبر کو امریکی نمائندوں کی ایک کانفرنس ہوئی اور اعلانِ پاناما کے مطابق دنیا کو بتا دیا گیا کہ کینیڈا کے جنوب میں جو سمندر ہے، اس کے کن علاقوں میں متحارب فریق کوئی کارروائی نہ کریں۔ 16 جون 1940 کو ایک قرارداد پیش کی گئی جس کا مدعا یہ تھا کہ لاطینی امریکا کی جمہوریتوں کے عسکری دفاع کو تقویت پہنچائی جائے ۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں