1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

دنیا بھر کے راستے

'ادبی طنز و مزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از کاشفی, ‏17 جون 2008۔

  1. کاشفی
    آف لائن

    کاشفی شمس الخاصان

    شمولیت:
    ‏5 جون 2007
    پیغامات:
    4,774
    موصول پسندیدگیاں:
    16
    [center:1h4cuznq]دنیا بھر کے راستے
    ایک بامحاورہ تحریر۔۔۔ملاحظہ کیجئے۔
    (نادر خان سر گروہ۔۔ممبئی۔۔۔مقیم مکہ مکرمہ)[/center:1h4cuznq]

    کسی بھی منزل تک پہنچنے کی پہلی شرط ہے راستہ۔۔۔۔

    شہروں میں راستے اس لئے بنائے جاتے ہیں‌کہ۔۔۔وقت بے وقت کھدائی کے لئے۔۔۔
    کوئی معقول جگہ میسر ہو۔۔۔ اور حادثوں کا کوئی بہانہ ہو۔۔

    راستہ پار کرنا بھی ایک فن ہے۔۔راستہ پار کرنے کی دوسری شرط یہ ہے کہ راستے پر گاڑیاں ہوں۔۔اور پہلی شرط یہ ہے کہ ۔۔۔راستہ ہو۔۔۔

    گاؤں میں ۔۔۔راستہ۔۔رینگتے ہوئے اور لوٹ لوٹ کر پار کیا جاسکتا ہے۔۔گاؤں میں تو راستہ پار کرنے سے پہلے ۔۔۔راستہ ڈھونڈنا پڑتا ہے۔۔۔اگر راستہ ہو بھی تو وہ۔۔۔راستہ پار کرنے والوں کی۔۔۔
    راہ تکتا ہے۔

    شہر میں راستہ پار کرتے وقت۔۔۔دائیں بائیں اور سامنے بھی دیکھنا پڑتا ہے۔۔سامنے اس لئے کہ آج کل شہروں کی آبادی اتنی بڑھ گئی ہے کہ آپ اکیلے راستہ پار نہیں‌کرتے ایک شہرِ پریشاں بھی آپ کے ساتھ راستہ پار کرتا ہے۔۔کیا پتہ۔۔کوئی اپنی دُھن میں‌مخالف سمت سے آکر۔۔۔مسائل سے بھرے سر سے آپ کو ٹکر مار دے۔۔۔اگر کسی وجہ سے وہ نہ مارے تو آپ جا کر مار دیں۔۔۔راستہ پار کرتے وقت سامنے دیکھنے کے علاوہ اپنی نگاہِ بلند ۔۔۔۔نیچی رکھنا بھی ضروری ہے۔۔۔نیچے دیکھے بغیر آگے جانے کی کوشش میں‌ہو سکتا ہے کہ آپ کو۔۔۔نیچے۔۔۔اور ۔۔۔بہت نیچے جانا پڑے۔۔کھلے منہ والا کوئی مین ہول Manhole آپ کو ثابت نگل جائے۔۔۔اور آپ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں۔۔۔

    (جاری ہے۔۔۔۔۔)
     
  2. این آر بی
    آف لائن

    این آر بی ممبر

    شمولیت:
    ‏13 جنوری 2008
    پیغامات:
    1,495
    موصول پسندیدگیاں:
    108
    واہ بھئی مزہ آگیا! بہت خوبصورت مشاہدہ ہے۔
     
  3. ابوبکر
    آف لائن

    ابوبکر ممبر

    شمولیت:
    ‏17 جون 2008
    پیغامات:
    11
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    کاشفی کہیں آپ ہی نادر تو نہیں مجھئے تو ایسا ہی لگتا ہے​
     
  4. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,087
    موصول پسندیدگیاں:
    11,121
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب نادر سرگروہ صاحب۔
    بہت عمدہ تحریر ہے۔ راستہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔
    [glow=red:232qt1tm]بہت خوب [/glow:232qt1tm]
     
  5. عاشو
    آف لائن

    عاشو ممبر

    شمولیت:
    ‏4 مئی 2008
    پیغامات:
    1,161
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    :a180: ۔۔۔ :dilphool:
     
  6. این آر بی
    آف لائن

    این آر بی ممبر

    شمولیت:
    ‏13 جنوری 2008
    پیغامات:
    1,495
    موصول پسندیدگیاں:
    108
    کاشفی نادر ہیں، اِس میں تو کوئی شک نہیں۔ لیکن کیا وہ نادر خان ہیں، اِس بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔
     
  7. نادر سرگروہ
    آف لائن

    نادر سرگروہ ممبر

    شمولیت:
    ‏5 جون 2008
    پیغامات:
    600
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    دنیا بھر کے راستے۔ ۔ ۔ گزشتہ سے پیوستہ

    گزشتہ سے پیوستہ

    دنیا بھر کے راستے


    کسی بھی مین ہول کا ہمہ وقت کھُلا رہنا اشد ضروری ہے۔ اگر کسی آنکھ والے کی آنکھ چُوکے اور وہ اُس میں'جا اُترے'
    تو بے چارے کا 'دم نہ گھُٹے'۔ اِسی لئے کچھ خیر اندیش شہر کے تمام مین ہولز کے ڈھکن دِن دہاڑے بڑی شرافت کے ساتھ
    اُڑا لے جاتے ہیں۔ اور کسی کو ' آنکھوں آنکھ خبر نہیں ہوتی '۔ اِتنے بھیڑ بھڑَکّّّے میں ایسے ایسے بھاری بھرکم ڈھکن اُٹھا کر ۔ ۔ ۔ گدھے کے سَر سے سینگ کی طرح غائب کر دینا کوئی ۔ ۔ ۔ 'شریف بچوں کا کھیل نہیں'۔

    ہمارے دوست پُرجوش پُوری(جو manhole کو main hole کہتے ہیں ) کا کہنا ہے کہ " اِتنی نفاست سے تراشے گئے
    لوہے کہ اِس قیمتی ٹُکڑے کو کسی گَٹر کے بدبُو دار منہ کا ڈھکن نہیں ہونا چاہئیے۔ ' لوہا منوانے کی جگہیں اور بھی ہیں'۔
    یوں بھی اِن ڈھکنوں کی وجہ سے راہ گیر دھوکا کھا جاتے ہیں۔ وہ ان پر پُورے اعتماد کے ساتھ ' ٹھوس قدم ' رکھتے ہیں۔ ۔ ۔
    تب اچانک یہ پیروں تلے زمین کی طرح کھِسک کر ' دغا دیتے ہیں'۔
    ڈُبویا تیرے ہونے نے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ ہوتا تُو تو کیا ہوتا "۔


    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جاری ہے ۔۔
     
  8. عاشو
    آف لائن

    عاشو ممبر

    شمولیت:
    ‏4 مئی 2008
    پیغامات:
    1,161
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    :201: :a180:
     
  9. نادر سرگروہ
    آف لائن

    نادر سرگروہ ممبر

    شمولیت:
    ‏5 جون 2008
    پیغامات:
    600
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    گزشتہ سے پیوستہ

    اِن با ڈھکن کنوؤں کے علاوہ ہمارے یہاں راستوں پر چھوٹے چھوٹے تالاب بھی بنے ہوتے ہیں۔اِن کی ابتداء معمولی گڑھوں سے ہوتی ہے۔ پھر آگے چل کر اِن میں بارش اور نالیوں کا زائد پانی ذخیرہ اندوز ہوتا رہتا ہے۔اِن ذخائر میں سالہا سال پانی کی کمی نہیں دیکھ جاتی۔اِن میں سے گاڑیاں جھٹکے کھا کر گزرتی ہیں۔ اور گاڑیاں چلانے والے ہر جھٹکے پر گالیوں کی قئے کرتے اور لوگوں پر کیچڑ اُچھالتے ہوئے گزرتے ہیں۔ 'وہ ' غُسل دیتے ہیں کہ جِس سے نہانے والے پر 'غُسل واجب ہو جاتا ہے۔

    ہمارے شہروں میں تو یہ راستے کچھ گھر سے بے گھر لوگوں کی خواب گاہیں بھی ہوتی ہیں۔ دیر رات تک وہ انتظار کرتے ہیں کہ کب دکانوں والے اپنا بکھیڑا سمیٹیں اور کب ان کا بِستر خالی ہو ۔ پھر جب وہ سوتے ہیں تو ۔ ۔ ۔ ہر گزرنے والی گاڑی اُن کی مفلسی پر ' تیز روشنی ڈالتی ہے'۔ اور اُن کے خوابوں پر سڑکوں پر بنے تالابوں کا ' پانی پھیرتی ہے'۔
     
  10. نادر سرگروہ
    آف لائن

    نادر سرگروہ ممبر

    شمولیت:
    ‏5 جون 2008
    پیغامات:
    600
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    کہتے ہیں کہ جاپان میں ایک کے اوپر ایک راستے بنے ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے راستہ بنانے کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔ جاپانی دسویں منزل کے پُر تعیـُش فلیٹ سے نکل کر ' سیدھے راستے پر آ سکتے ہیں'۔ ہمارے دوست پُرجوش پُوری بھی کاروبار میں بھاری نقصان کے بعد دسویں منزل سے راستے پر آگئے۔

    یورپ اور امریکہ میں بڑے لمبے چوڑے راستے ہوتے ہیں۔ پھر بھی اُن چاڑے راستوں پر گاڑیاں کسی نہ کسی کو ڈُھونڈ ڈھانڈ کر ٹکر مار ہی لیتی ہیں۔اُن ملکوں کے راستے ہم تیسری دنیا والوں کے لئے آسانی سے نہیں کھُلتے۔ پر یہ دنیا کے ہر ملک میں بآسانی راستہ بنا لیتے ہیں۔ بلکہ دِل(و دِماغ) میں
    ' راستہ ' بنا لیتے ہیں۔
    بمبئی شہر میں راستے پر چلنا ایسا ہے جیسے قطار میں چلنا۔ ایک دُوسرے کے دھکے سے ہی پُورا شہر چلتا ہے۔ وہاں تو گاڑیاں بھی پیدل چلتی ہیں۔
    بمبئی میں ' شارٹ کَٹ مار کر بھی آپ وقت سے پہلے نہیں پہنچ سکتے۔ کیوں کہ وہاں ہر دُوسرا آدمی ۔ ۔ ۔ تیسرے سے بڑھ کر چالاک ہوتا ہے۔

    ' بولے تو ' وہاں سب کے سب ' شارٹ کَٹ ' مارتے ہیں۔

    چِین کے راستے دنیا کے راستوں کے مقابلے ذرا ' چِین کا سانس ' لیتے ہیں۔
    جاری ہے۔ ۔ ۔
     
  11. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,087
    موصول پسندیدگیاں:
    11,121
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوبصورت پیرائے میں حقائق بیان کرتے ہوئے میٹھے میٹھے انداز میں طنز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
    بہت خوب نادر خان بھیا۔ :a180:
     
  12. عقرب
    آف لائن

    عقرب ممبر

    شمولیت:
    ‏14 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    3,201
    موصول پسندیدگیاں:
    200
    بہت خوب نادر خان ۔ مزہ آیا
     
  13. نادر سرگروہ
    آف لائن

    نادر سرگروہ ممبر

    شمولیت:
    ‏5 جون 2008
    پیغامات:
    600
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    این آر بی صاحب

    نعیم صاحب

    عاشو صاحبہ

    عقرب صاحب

    آپ سب کا شکریہ جو آپ لوگوں نے قِسطوں میں مضمون پڑھا
    اور نقد داد دی۔


    اگر یہاں اِمیج اَٹیچ کرنے کا راستہ کھُل جائے تو بندہ ناچیز کی مُشکل آسان ہو جائے۔
    ایک تو مضمون اُردو میں سوچ سوچ کر لِکھو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھِر ہماری اُردو میں لِکھ لِکھ کر سوچو۔


    اب بھی اِس مضمون میں بڑی جان باقی ہے۔ میں چاپتا ہُوں کہ آپ ایک ہی سانس میں
    اِس مضمون کو پی جایئں۔ کڑوی دوا کی طرح ۔ ۔ ۔ تلخ حقیقت بھی ایک ہی سانس میں
    اثر کرتی ہے۔
     
  14. عقرب
    آف لائن

    عقرب ممبر

    شمولیت:
    ‏14 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    3,201
    موصول پسندیدگیاں:
    200
    نادر بھیا آپ پیغام لکھنے کے لیے جب صفحہ کھولتے ہیں اور اوپر بار میں جہاں پیلے رنگ کے مینڈک کا منہ نظر آتا ہے وہاں کلک کرنے سے آپ امیج ہیک کے ذریعے کچھ بھی یہاں اپ لوڈ کرسکتے ہیں۔ ٹرائی کریں
     
  15. نادر سرگروہ
    آف لائن

    نادر سرگروہ ممبر

    شمولیت:
    ‏5 جون 2008
    پیغامات:
    600
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    چِین کے راستے دنیا کے راستوں کے مقابلے ذرا ' چِین کا سانس ' لیتے ہیں۔اُن پر گاڑِیوں کے اِتنے ظلم نہیں ڈھائے جاتے۔ ایک کار کی جگہ چار چار ۔۔۔ پانچ پانچ سائکلیں چلتی ہیں۔ چین والوں نے دُشمنوں کے راستے میں اِتنی لمبی چوڑی دیوار کھڑی کی اور اب اُس کو راستہ بنا دیا۔ چین کے نقشہ میں بھی دیوارِ چین کے نقوش کسی راستے سے کم نظر نہیں آتے۔شاید آپ کو علم نہ ہو کہ چین کے تمام راستے " میڈ اِن چائنا " ہیں۔ پاکستان کی شاہراہ قراقرم بھی "میڈ بائی چائنا " ہے۔

    قاہرہ میں تو راستے نظر نہیں آتے۔ راستے پر گاڑیاں اور انسانی سر بچھے ہُوئے نظر آتے ہیں۔قاہرہ میں لوگ راستہ پار نہیں کرتے۔ بلکہ گاڑیاں لوگوں کو پار کرتی ہیں۔
    کسی مِصری Egyptian سے راستہ پوچھنا راستہ بھٹکنے کے مترادف ہے۔اگر اُسے راستہ پتا بھی نہ ہو تو وہ کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال لے گا۔ ایک مصری کسی دوسرے مصری پر بھروسہ نہیں کرتا۔دوسرا مصرا بھی ایک مصری پر بھروسہ نہیں کرتا۔ ایک مصری کسی مصری سے راستہ پوچھ کر آگے بڑھتا ہے اور فوراََ ہی کسی دوسرے مصری سے اُس کی تصدیق کرتا ہے۔ یعنی ایک مصری پہلے مصری پر بھروسہ نہیں کرتا ۔۔۔بلکہ دوسرے مصری پر بھروسہ کرتاہے۔
    پہلا مصری ۔۔۔ دوسرا مصری۔۔۔۔۔۔ میرا تو سَر چکرانے لگا ۔اووووووف,,,,,,,


    کسی بنگلہ دیشی سے راستہ پوچھنے کا تجربہ کسی امتحان سے کم نہیں ہوتا۔
     
  16. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,087
    موصول پسندیدگیاں:
    11,121
    ملک کا جھنڈا:
    پہلا مصری اور دوسرا مصری۔۔۔۔

    بہت خوب نادر بھیا۔

    اب ذرا بنگلہ دیش میں بھی راستہ پوچھ کر بتلائیے۔
     
  17. نادر سرگروہ
    آف لائن

    نادر سرگروہ ممبر

    شمولیت:
    ‏5 جون 2008
    پیغامات:
    600
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    ۔
    ۔
    ۔
    بہت شکریہ نعیم بھائی ۔ ۔ ۔
    چلیں اب بنگلہ دیش کے راستوں پر چلتے ہیں۔
    ۔
    ۔
    ۔


    کسی بنگلہ دیشی سے راستہ پُوچھنے کا تجربہ کسی امتحان سے کم نہیں ہوتا۔ اگر آپ اُس سے راستہ پوچھیں تو اُس کا سب سے پہلا سوال یہ ہو گا ۔ ۔ ۔ " آپ کہاں سے آ رہے ہیں ؟ " اُس کے بعد سوالات کا ایسا سلسلہ شروع پو گا کہ آپ کہیں گے۔ "اووووف،،،،،،، میں تو بھول ہی گیا کہ مجھے جانا کہاں ہے ؟"

    بنگلا دیش کے راستوں کو یہ شرف حاصل ہے کہ اُن میں 'کَشتِیاں ' بھی چلتی ہیں۔ اور جب ' کُشتیاں' نہ چل رہی ہوں تب اُن ہی راستوں پر دو پارٹیوں میں ' کُشتِیاں ' چلتی ہیں۔ ' کُشتیاں ' اگر نہ ہوں تو ۔ ۔ ۔ ' کَشتِیاں ' چلنے کی نوبت ہی نہ آئے۔

    ہمارے یہاں کچھ راستوں کے بارے میں یہ گمان گزرتا ہے آیا یہ راستے ہیں یا گلیاں!!!۔ دُنیا بھر کے کام اِن ہی گلیوں میں ہوتے ہیں۔ بسیں چلتی ہیں۔ بڑے بڑے ٹرک 'خراٹے مار کر ' گزرتے ہیں۔ ان کے بیچ میں جو خلا بنتا ہے ، اُن میں سے آٹو رِکشا اور ٹیکسیاں ۔ ۔ ۔ سِمَٹ سِمَٹ کر گزرتی ہیں۔ اور اُن میں سے جو جگہ بچتی ہے اُن میں سے موٹر سائیکل کے کرتب باز ۔ ۔ ۔ ۔ دائیں ، بائیں ۔ ۔ ۔ آڑے تِرچھے ہو کر اپنی دانِست میں ' اُڑے اُڑے جاتے ہیں'۔ ہاتھ گاڑیاں اور ٹھیلے بھی جدید سواریوں کی رفتار سے رفتار مِلا کر چلتے ہیں۔ اور اِن سب کے بیچ ۔ ۔ ۔ پِس پِس کر چلتا ہے ' پیدل انسان'۔

    اِن سب کے علاوہ اِن ہی گلی نُما راستوں پر جلوس نِکلتےہیں۔سیاستداں اِن ہی راستوں پر تِتر بِتر بھیڑ کو اِکٹھا کر کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کارتے ہیں اور ۔ ۔ ۔ اپنا راستہ لیتے ہیں۔اِن ہی راستوں پر گھوڑی پر سوار دُولہے کی 'آخری بارات' بھی نِکلتی ہے۔( آخری بارات اِس لئے کہ دوُسری شادی چھُپ چُھپا کر کی جاتی ہے) اتنی کَھلا بَلی میں کچھ لوگ اِن ہی راستوں پر ۔ ۔ ۔ اکیلے میں بھی مِل لیتے ہیں۔ اور تعجب ہے کہ اِتنا کچھ ہونے کے باوجود لوگوں کو تُھوکنے اور کُوڑے کے ڈھیر لگانے کی بھی جگہ مِل جاتی ہے۔ اور تو اور ۔ ۔ ۔کُتے بِلیاں اور کچھ مخصوص جانور دُم ہِلا ہِلا کر ۔ ۔ ۔ اپنے حال اور مُستقبِل سے بے پِروا اپنی تمام عُمر اِن ہی راستوں پر گزار دیتے ہیں۔


    ہمارے کلون clone پلانر Planner کا کہنا ہے کہ۔ ۔ ۔
     
  18. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,087
    موصول پسندیدگیاں:
    11,121
    ملک کا جھنڈا:
    :hasna: :hasna: :hasna:

    زبردست نادر خان بھائی ۔ کیا کہنے آپکے قلمی شاہکاروں کے ۔
    بہت مزیدار طرزِ تحریر۔ :mashallah:
     
  19. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,393
    موصول پسندیدگیاں:
    16,791
    ملک کا جھنڈا:
    :a180: اور :a165: تحریر ہے :201:
     
  20. نادر سرگروہ
    آف لائن

    نادر سرگروہ ممبر

    شمولیت:
    ‏5 جون 2008
    پیغامات:
    600
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    بہت شکریہ نعیم صاحب
    یہ آپ کا ذوقِ سلیم ہے۔
     
  21. نادر سرگروہ
    آف لائن

    نادر سرگروہ ممبر

    شمولیت:
    ‏5 جون 2008
    پیغامات:
    600
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    ھارون رشید بھائی

    بہت شکریہ۔

    اسی طرح پڑھتے رہئیے۔
    مُسکراتے رہئیے۔
     
  22. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,393
    موصول پسندیدگیاں:
    16,791
    ملک کا جھنڈا:
    اللہ کریم آپ کو سلامت رکھیں اور آپ ہمارے ہنسنے کا بندوبست کرتے رہیں :dilphool: :201:
     
  23. مبارز
    آف لائن

    مبارز ممبر

    شمولیت:
    ‏3 اگست 2008
    پیغامات:
    8,835
    موصول پسندیدگیاں:
    25
    آپ کا حکم سر آنکھوں‌ پہ سر۔۔ :dilphool:
     
  24. مبارز
    آف لائن

    مبارز ممبر

    شمولیت:
    ‏3 اگست 2008
    پیغامات:
    8,835
    موصول پسندیدگیاں:
    25
    گزشتہ سے پیوستہ ۔۔۔(پستہ کھا کر لکھ رہا ہوں)

    ہمارے کلون clone۔۔۔۔ پلانر Planner کا کہنا ہے کہ " راستے انسانی زندگی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ایک عام آدمی اپنے کام کے اوقات میں‌اتنا نہیں‌تھکتا جتنا ان راستوں پر آمد و رفت میں تھک جاتا ہے۔جس کا اثر اُس کی نفسیات اور گھریلو زندگی پر بھی پڑتا ہے۔۔گزشتہ بیس پچیس برسوں میں۔۔۔۔ہمارے یہاں آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور راستے پہلے سے بھی زیادہ تنگ ہوتے چلے گئے۔۔۔۔

    بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر ۔۔۔بنیادی سہولتیں بہم پہنچانے کے لئے۔۔۔۔راستوں کی کھدائی نا گزیر ہے۔لیکن اس کے لئے راستے اتنے چوڑے ہوں کہ۔۔۔۔کھدائی سے روزمرّہ کی زندگی متاثر نہ ہو۔ اور جس مقصد کے لئے کھدائی کی گئی ہو اس میں مستقبل کی مانگ اور نمو کو خاطر میں رکھا جائے۔راستوں کے مسائل اگر وقت پر نہ حل کئے جائیں تو۔۔۔یہ مزید پیچیدہ ہوتے جاتے ہیں"۔

    پلانر کا کہنا بلکل درست ہے مگر۔۔۔یہ سب تب ممکن ہوگا جب سسٹم System میں تبدیلی آئے گی۔۔۔چاہے ہم اور آپ بھی اقتدار میں آئیں۔۔۔تب بھی کچھ نہیں‌بدلے گا۔ہم بڑی بڑی باتیں کرنے والے بھی سسٹم System کے غُلام بن کر رہ جائیں گے۔۔۔

    سب کچھ بدلنے کا عزم رکھنے والے جب خُود ہی بدل جائیں تو پھر۔۔۔۔۔۔تبدیلی صرف خوابوں میں‌ ہی دیکھی جاسکتی ہے۔

    اور خواب ہی ایک عام آدمی کو ۔۔۔اِن حالات میں زندہ رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہماری بات تو ختم ہوئی مگر۔۔۔۔راستے ختم نہ ہوئے۔۔۔اور کوئی راستہ بھی نہ سُجھائی دیا۔۔۔۔ (ختم شد)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یا اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔۔آمین


    (نادر خان سَر گروہ ۔۔۔ممبئی میری جان۔۔۔مقیم مکہ مکرمہ)
     
  25. سیف
    آف لائن

    سیف شمس الخاصان

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2007
    پیغامات:
    1,297
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    کاشفی آپ چھا گئے ہو ! زبردست!
     
  26. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,087
    موصول پسندیدگیاں:
    11,121
    ملک کا جھنڈا:
    واہ کاشفی بھائی ۔ بہت زبردست :a180:
     
  27. نادر سرگروہ
    آف لائن

    نادر سرگروہ ممبر

    شمولیت:
    ‏5 جون 2008
    پیغامات:
    600
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    ۔
    ۔
    ۔

    بہت شکریہ کاشفی بھائی جو آپ نے اپنے "مبارز" ہاتھوں سے ( معاف کیجئیے) "مبارک" ہاتھوں سے اِس مضمون کو اختتام کو پہنچایا۔

    آپ نے لِکھا کہ پِستہ کھا کر لِکھ رہا ہُوں۔
    ایسا لگتا ہے کہ آپ ہر جواب پِستہ کھا کر لِکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ اِسی لئے آپ کے جوابات میں۔ ۔ ۔
    اِتنی گرمی ہوتی ہے۔

    ۔
    ۔
    ۔
    کبھی کبھار دھنیا پی کر بھی لکھا کریں۔
     
  28. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,087
    موصول پسندیدگیاں:
    11,121
    ملک کا جھنڈا:
    یعنی بالکل ہی جائیں کام سے :pagal:
     
  29. سیف
    آف لائن

    سیف شمس الخاصان

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2007
    پیغامات:
    1,297
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    نعیم بھائی خوفزدہ نہ ہوں کبھی کبھی دھنیا پینے سے کچھ نہیں ہوتا اور کاشفی بھائی کو تو بالکل کچھ نہیں ہوگا بلکہ پستے (پتے نہیں) کی گرمی کا اثر زائل کرنے کے لیے تیر بہدف ثابت ہو گا!
     
  30. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    37
    واوووووووووووووووو زبردست نادر جی آپ لکھتے کمال کا ھیں باتیں چاہے جیسی بھی کرتے ھیں شئیرنگ زبردست ہوتی ھے آپ کی
     

اس صفحے کو مشتہر کریں