1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

دلیر مجرم ( ابن صفی )

'ادبی کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از ساتواں انسان, ‏1 دسمبر 2020۔

  1. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,943
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    " یہاں آئیے ۔ ۔ ۔ ! " وہ دوربین کے شیشے پر جھک کر بولا ۔ " میں اس وقت نواب صاحب کی خوابگاہ کا منظر اتنا صاف دیکھ رہا ہوں جیسے وہ یہاں سے صرف پانچ فٹ کے فاصلے پر ہوں ۔ نواب صاحب چت لیٹے ہیں ۔ ان کے سرہانے ان کی بھانجی بیٹھی ہے ۔ یہ لیجئے دیکھئے ۔ "
    فریدی نے اپنی آنکھ شیشے سے لگا دی ۔ سامنے والی کوٹھی کی کشادہ کھڑکی کھلی ہوئی تھی اور کمرے کا منظر صاف نظر آرہا تھا ۔ کوئی شخص سر سے پیر تک مخمل کا لحاف اوڑھے لیٹا تھا اور ایک خوبصورت لڑکی سرہانے بیٹھی تھی ۔
    " میں سامنے والے کمرے کے بہت سے راز جانتا ہوں ۔ لیکن تمہیں کیوں بتاؤں ۔ " بوڑھا فریدی کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا ۔ " بس کرو اب آؤ چلیں ۔ "
    " مجھے کسی کے راز جاننے کی ضرورت ہی کیا ہے ۔ " فریدی اپنے شانے اچھالتا ہوا بولا ۔
    بوڑھا قہقہہ لگا کر بولا ۔ " کیا مجھے احمق سمجھتے ہو ۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ جملہ تم نے محض اسی لئے کہا ہے کہ میں سارے راز اگل دوں ۔ تم خطرناک آدمی معلوم ہوتے ہو ۔ اچھا اب چلو بس تمہیں باہر جانے کا راستہ دکھا دوں ۔ "
    وہ دونوں نیچے اتر آئے ۔ ابھی وہ ہال ہی میں تھے کہ دروازے پر کنور سلیم کی صورت دکھائی دی ۔
    " آپ یہاں کیسے ؟ " اس نے فریدی سے پوچھا ۔ " کیا آپ پروفیسر کو جانتے ہیں ۔ "
    " جی نہیں ۔ ۔ ۔ لیکن آج انہیں اس طرح جان گیا ہوں کہ زندگی بھر نہ بھلا سکوں گا ۔
    " کیا مطلب ۔ ۔ ۔ ؟ "
    " آپ گلہریوں کا شکار کرتے کرتے آدمی کا شکار کرنے لگے تھے ۔ " فریدی پروفیسر کے ہاتھ میں دبی ہوئی رائفل کی طرف اشارہ کرکے بولا ۔ " میری ہیٹ ملاحظہ فرمائیے ۔ "
    " اوہ سمجھا ۔ ۔ ۔ ! " کنور سلیم تیز لہجے میں بولا ۔ " پروفیسر تم براہ کرم ہماری کوٹھی خالی کردو ورنہ میں تمہیں پاگل خانے بھجوادوں گا ۔ ۔ ۔ سمجھے ۔ "
     
  2. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,943
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    بوڑھے نے خوفزدہ نگاہوں سے کنور سلیم کی طرف دیکھا اور بےساختہ بھاگ کر مینار کے زینوں پر چڑھتا چلا گیا ۔
    " معاف کیجئے گا ۔ ۔ ۔ یہ بوڑھا پاگل ہے ۔ خواہ مخواہ ہماری پریشانیاں بڑھ جائیں گی ۔ اچھا خدا حافظ ۔ "
    گولیوں کی بوچھاڑ
    فریدی نے اپنی کار کا رخ قصبے کی طرف پھیر دیا ۔ اب وہ نواب کے فیملی ڈاکٹر سے ملنا چاہتا تھا ۔ ڈاکٹر توصیف ایک معمر آدمی تھا ۔ اس سے قبل وہ سول سرجن تھا ۔ پنشن لینے کے بعد اس نے اپنے آبائی مکان میں رہنا شروع کردیا تھا جو راج روپ نگر میں واقع تھا ۔ اس کا شمار قصبہ کے ذی عزت اور دولت مند لوگوں میں ہوتا تھا ۔ فریدی کو اس کی جائے رہائش معلوم کرنے میں کوئی دقت نہ ہوئی ۔
    ڈاکٹر توصیف انسپکٹر فریدی کو شاید پہچانتا تحا اس لئے وہ اس کی غیر متوقع آمد سے کچھ گھبرا سا گیا ۔
    " مجھے فریدی کہتے ہیں ۔ " اس نے اپنا ملاقاتی کارڈ پیش کرتے ہوئے کہا ۔
    " میں آپ کو جانتا ہوں ۔ ۔ ۔ ! " ڈاکٹر توصیف نے مضطربانہ انداز میں ہاتھ ملاتے ہوئے کہا " فرمائیے کیسے تکلیف فرمائی ۔ "
    " ڈاکٹر صاحب میں ایک نہایت اہم معاملے میں آپ سے مشورہ کرنا چاہتا ہوں ۔ "
    " فرمائیے ۔ ۔ ۔ اچھا اندر تشریف لے چلئے ۔ "
    " آپ ہی نواب صاحب کے فیملی ڈاکٹر ہیں ۔ " فریدی نے سگار لائٹر سے سگار سلگاتے ہوئے کہا ۔
     
  3. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,943
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    " جی ہاں ۔ ۔ ۔ جی ۔ ۔ ۔ فرمائیے ۔ " ڈاکٹر نے مضطربانہ انداز میں کہا ۔
    " کیا کرنل تیواری آپ کے مشورے سے نواب صاحب کا علاج کررہے ہیں ۔ " وہ اچانک پوچھ بیٹھا ۔
    ڈاکٹر توصیف چونک کر اسے گھورنے لگا ۔
    " لیکن آپ یہ سب کیوں پوچھ رہے ہیں ۔ "
    " ڈاکٹر صاحب ! ذہنی بیماریوں کے علاج میں مجھے تھوڑا سا دخل ہے اور میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ اس قسم کے امراض کا صرف ایک ہی علاج ہے اور وہ ہے آپریشن ۔ ۔ ۔ آخر یہ کرنل تیواری تضیع اوقات کیوں کررہے ہیں اور یہ چیز بھی ہمارے لئے باعث تشویش ہے کہ کرنل تیواری کو جسے کئی نوجوان ڈاکٹر امراض کے سلسلے میں کافی پیچھے چھوڑ چکے ہیں معالج کیوں مقرر کیا گیا ہے ۔ '
    " میرا خیال ہے کہ آپ ایک قطعی نجی معاملے میں داخل اندازی کررہے ہیں ۔ " ڈاکٹر توصیف نے ناخوشگوار لہجے میں کہا ۔
    " آپ سمجھے نہیں ۔ " فریدی نے نرم لہجے میں کہا ۔ " میں نواب صاحب کی جان لینے کی ایک گہری سازش کا پتہ لگا رہا ہوں ۔ اس سلسلے میں آپ سے مدد لینی مناسب ہے ۔ "
    " جی ۔ ۔ ۔ ! " ڈاکٹر توصیف نے چونک کر کہا اور پھر مضمحل سا ہوگیا ۔
    : جی ہاں ۔ ۔ ۔ کیا آپ میری مدد کریں گے ۔ " فریدی نے سگار کا کش لے کر پر اطمینان لہجے میں کہا ۔
    " بات دراصل یہ ہے انسپکٹر صاحب کہ میں خود بھی اس معاملے میں بہت پریشان ہوں ۔ لیکن کیا کروں ۔ ۔ ۔ خود نواب صاحب کی بھی یہی خواہش تھی ۔ انہیں دو ایک بار کرنل تیواری کے علاج سے فائدہ ہوچکا ہے ۔ "
    " لیکن مجھے تو معلوم ہوا ہے کہ کرنل تیواری کو علاج کے لئے ان کے خاندان والوں نے منتخب کیا ہے ۔ "
     
  4. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,943
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    " نہیں یہ بات نہیں ۔ البتہ انہوں نے میری آپریشن والی تجویز نہیں مانی تھی ۔ میں آپ کو وہ خط دکھاتا ہوں جو نواب صاب نے دورہ پڑنے سے ایک دن قبل مجھے لکھا تھا ۔ "
    ڈاکٹر توصیف اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا اور فریدی سگار کے کش لیتا ہوا ادھ کھلی آنکھوں سے خلاء میں تاکتا رہا ۔
    " یہ دیکھئے نواب صاحب کا خط ۔ ۔ ۔ ! " ڈاکٹر توصیف نے فریدی کی طرف خط بڑھاتے ہوئے کہا ۔ فریدی خط کا جائزہ لینے لگا ۔ خط نواب صاحب کے ذاتی پیڈ کے کاغذ پر لکھا گیا تھا جس کی کی پیشانی پر ان کا نام اور پتہ چھپا ہوا تھا ۔
    فریدی خط پڑھنے لگا ۔
    " ڈیئر ڈاکٹر ۔ ۔ ۔
    آج دو دن سے مجھے محسوس ہورہا ہے جیسے مجھ پر دورہ پڑنے والا ہے ۔ اگر آپ شام تک کرنل تیواری کو لے کر آجائیں تو بہتر ہے پچھلی مرتبہ بھی ان کے علاج سے فائدہ ہوا تھا ۔ مجھے اطلاع ملی ہے کہ کرنل تیواری آج کل بہت مشغول ہیں لیکن مجھے امید ہے کہ آپ انہیں لے کر ہی آئیں گے ۔
    آپ کا
    وجاہت مرزا ۔ "
    " ڈاکٹر صاحب کیا آپ کو یقین ہے کہ یہ خط نواب صاحب ہی کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے ۔ " فریدی نے خط پڑھ کر کہا ۔
    " اتنا ہی یقین ہے جتنا کہ اس پر اس وقت میں آپ سے گفتگو کررہا ہوں ۔ میں نواب صاحب کا انداز تحریر لاکھوں میں پہچان سکتا ہوں ۔ "
    " ہوں ۔ ۔ ۔ ! " فریدی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ۔ " لیکن ڈاکٹر صاحب ذرا اس پر غور کیجئے کیا آپ نے کبھی اتنی چوڑائی رکھنے والے کاغذ کا اتنا چھوٹا پیڈ بھی دیکھا ہے ۔ کسی قدر بےڈھنگا معلوم ہورہا ہے ۔ اوہ ۔ ۔ ۔ یہ دیکھئے ۔ ۔ ۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ دستخط کے نیچے سے کسی نے کاغذ کا بقیا ٹکرا قینچی سے کاٹا ہے ۔ ڈاکٹر کیا آپ کو یہ اسی حالت میں ملا تھا ۔ "
     
  5. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,943
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    " جی ہاں ۔ ۔ ۔ ! " ڈاکٹر نے متحیر ہوکر کہا ۔ " لیکن میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا ۔ "
    " وہی عرض کرنے جارہا ہوں ۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ نواب صاحب نے خط لکھا کر دستخط کردینے کے بعد بھی نیچے لکھا ہو جسے کسی نے بعد میں قینچی سے کاٹ کر اسے برابر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ میرا خیال ہے کہ نواب صاحب فطرتا اتنے کنجوس نہیں کہ باقی بچا ہوا کاغذ کاٹ کر دوسرے مصرف کے لئے رکھ لیں ۔ "
    " اف میرے خدا ۔ " ڈاکٹر نے سر پکڑ لیا ۔ یہاں تک میری نظر نہیں پہنچی تھی ۔ "
    " بہرحال حالات کچھ ہی کیوں نہ ہوں کیا آپ بحثیت فیملی ڈاکٹر اتنا نہیں کرسکتے کہ کرنل تیواری کے بجائے کسی اور معالج سے علاج کرائیں ۔ "
    " میں اس معاملے میں بالکل بےبس ہوں فریدی صاحب ۔ حالانکہ نواب صاحب نے کئی بار مجھ سے آپریشن کے متعلق گفتگو کی تھی ۔ ۔ ۔ اور ہاں کیا نام ہے اس کا اس سلسلے میں سول ہسپتال کے اسپیشلسٹ ڈاکٹر شوکت کا بھی تذکرہ آیا تھا ۔ "
    " اب تو معاملہ بالکل صاف ہوگیا ۔ " فریدی نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا ۔ " ممکن ہے خط لکھ چکنے کے بعد نواب صاحب نے یہ لکھا ہو کہ اگر کرنل تیواری نہ مل سکیں تو ڈاکٹر شوکت کو لیتے آئیے گا ۔ اس حصے کو کسی نے غائب کردیا ۔ "
    " ہوں ۔ ۔ ۔ ! " توصیف نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ۔
    " میرا خیال ہے کہ آپ ڈاکٹر شوکت سے ضرور رجوع کیجئے ۔ کم از کم اس صوبے میں وہ اپنا جواب نہیں رکھتا ۔ "
    " میں اس کی تعریفیں اکبارات میں پڑھتا رہتا ہوں اور اس سے ایک بار مل بھی چکا ہوں ۔ میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ نواب صاحب کا سو فیصدی کامیاب آپریشن کرے گا لیکن فریدی صاحب میں کرنل تیواری کی موجودگی میں بالکل بےبس ہوں ۔ ایسا جھکی آدمی آج تک میری نظروں سے نہیں گزرا ۔ "
     
  6. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,943
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    " کرنل تیواری کی آپ فکر نہ کریں ۔ اس کا انتظام میں کر لوں گا ۔ آپ جتنی جلد ممکن ہوسکے ڈاکٹر شوکت سے مل کر معاملات طے کر لیجئے ۔ "
    " آپ کرنل تیواری کا کیا انتظام کریں گے ۔ "
    " انتظام کرنا کیسا ! وہ تو قریب قریب ہوچکا ہے ۔ " فریدی نے سگار جلاتے ہوئے کہا ۔
    " میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا ۔ "
    " تین دن کے بعد کرنل تیواری کا یہاں سے تبادلہ ہوجائے گا ۔ اوپر سے حکم آگیا ہے ۔ مجھے باوثوق ذرائع سے اطلاع ملی ہے ۔ لیکن خود کرنل تیواری کو ابھی تک اس کا علم نہیں ۔ انہیں اتنی جلد جانا ہوگا کہ شاید وہ دھوبی کے یہاں سے اپنے کپڑے بھی نہ منگا سکیں ۔ لیکن یہ راز کی بات ہے اسے اپنے تک محدود رکھئے گا ۔ "
    " ارے یہ بھی کوئی کہنے کی بات ہے ۔ " ڈاکٹر توصیف نے کہا ۔
    " اچھا تو اب میں چلوں ۔ ۔ ۔ آپ کرنل تیواری کے تبادلے کی خبر سنتے ہی ڈاکٹر شوکت کو یہاں لے آئیے گا ۔ میرا خیال ہے کہ اس وقت پھر کسی کو اعتراض کی بھی گنجائش نہ رہ جائے گی ۔ ہاں دیکھئے اس کا خیال رہے کہ میری ملاقات کا حال کسی پر ظاہر نہ ہونے پائے ۔ خصوصا نواب صاحب کے خاندان کے کسی فرد اور اس خبطی بوڑھے پروفیسر کو اس کی اطلاع نہ ہونے پائے ۔ صاحب مجھے تو وہ بوڑھا انتہائی خبیث معلوم ہوتا ہے ۔ "
    " میں بھی اس کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہیں رکھتا ۔ ۔ ۔ ! "
    " وہ آخر ہے کون ۔ " فریدی نے دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے کہا ۔
    " میرے خیال سے وہ نواب صاحب کا کوئی عزیز ہے لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ نواب صاحب نے میرے سامنے اس سے پرانی کوٹھی کا کرایہ نامہ لکھوایا تھا ۔ بلکہ میں نے اس پر گواہ کی حیثیت سے دستخط کئے تھے ۔ "
    " خیر ۔ ۔ ۔ اچھا اب میں اجازت چاہوں گا ۔ " فریدی نے اٹھتے ہوئے کہا ۔ " مجھے امید ہے کہ آپ جلد ہی ڈاکٹر شوکت سے ملاقات کریں گے ۔ "
     
  7. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,943
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    فریدی کی کار تیزی سے شہر کی طرف جارہی تھی ۔ آج اس کا دماغ بےانتہا الجھا ہوا تھا ۔ بہرحال وہ جو مقصد لے کر راج روپ نگر آیا تھا اس میں اگر بالکل نہیں تو تھوڑی بہت کامیابی ضرور ہوئی تھی ۔ اب وہ آئندہ کے لئے پروگرام مرتب کررہا تھا ۔ جیسے جیسے وہ سوچتا تھا اسے اپنی کامیابی کا پورا یقین ہوتا جارہا تھا ۔
    سڑک کے دونوں طرف دور دور تک چھیول کی گھنی جھاڑیاں تھیں ۔ سڑک بالکل سنسان تھی ۔ ایک جگہ اسے بیچ سڑک پر ایک خالی تانگہ کھڑا نظر آیا ۔ وہ بھی اس طرح جیسے وہ خاص طور پر راستہ روکنے کے لئے کھڑا کیا گیا ہو ۔ فریدی نے کار کی رفتار دھیمی کرکے ہارن دینا شروع کیا لیکن دور و نزدیک کوئی دکھائی نہ دیتا تھا ۔ سڑک زیادہ چوڑی نہ تھی ۔ لہذا فریدی کو کار روک کر اترنا پڑا ۔ تانگہ کنارے لگا کر وہ گاڑی کی طرف لوٹ ہی رہا تھا کہ اسے دور جھاڑیوں میں ایک بھیانک چیخ سنائی دی ۔ کوئی بھرائی ہوئی آواز میں چیخ رہا تھا ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بار بار چیخنے والے کا منہ دبالیا جاتا ہو اور وہ گرفت سے نکلنے کے بعد پھر چیخنے لگتا ہو ۔ فریدی نے جیب سے ریوالور نکال کر آواز کی طرف دوڑنا شروع کیا ۔ وہ قد آدم جھاڑیوں سے الجھتا ہوا گرتا پڑتا جنگل میں گھسا جارہا تھا ۔ دفعتا ایک فائر ہوا اور ایک گولی سنسناتی ہوئی اس کے کانوں کے قریب سے نکل گئی ۔ وہ پھرتی کے ساتھ زمین پر لیٹ گیا ۔ لیٹے لیٹے رینگتا ہوا وہ ایک کھائی کی آڑ میں ہوگیا ۔ اب پے درپے فائر ہونا شروع ہوگئے ۔ اس نے بھی اپنا پستول خالی کرنا شروع کردیا ۔ دوسری طرف سے فائر ہونا بند ہوگئے ۔ شاید گولیاں چلانے والا اپنے خالی پستول میں کارتوس چڑھا رہا تھا ۔ فریدی نے کھائی کی آڑ سے سر ابھارا ہی تھا کہ فائر ہوا ۔ اگر وہ تیزی سے پیچھے کی طرف نہ گرگیا ہوتا تو کھوپڑی اڑ ہی گئی تھی ۔ دوسری طرف سے پھر اندھا دھند فائر ہونے لگے ۔ فریدی نے بھی دو تین فائر کئے اور پھر چیختا کراہتا سڑک کی طرف بھاگا ۔ دوسری طرف سے اب بھی فائر ہورہے تھے ۔ لیکن وہ گرتا پڑتا بھاگا جارہا تھا ۔ کار میں پہنچتے ہی وہ تیز رفتاری سے شہر کی طرف روانہ ہوگیا ۔
     
  8. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,943
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    حیرت ناک سانحہ
    شام کا اخبار شائع ہوتی ہی سارے شہر میں سنسنی پھیل گئی ۔ اخبار والے گلی کوچوں میں چیختے پھر رہے تھے انسپکٹر فریدی کا قتل ۔ ۔ ۔ ایک ہفتہ کے اندر اندر آپ کے شہر میں تین قتل ۔ ۔ ۔ شام کا تازہ پرچہ پڑھئے ۔ اخبار میں پورا واقعہ درج تھا ۔
    آج دو بجے دن انسپکٹر فریدی کی کار پولیس ہسپتال کے کمپاؤنڈ میں داخل ہوئی ۔ انسپکٹر فریدی کار سے اترتے وقت لڑکھڑا کر گرپڑے ۔ کسی نے ان کے داہنے بازو اور بائیں شانے کو گولیوں کا نشانہ بنادیا تھا ۔ فورا ہی طبعی امداد پہنچائی گئی لیکن فریدی صاحب جان بر نہ ہوسکے ۔ تین گھنٹے موت و حیات کی کش مکش میں مبتلا رہ کر وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رخصت ہوگئے ۔ یقینا یہ ملک و قوم کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے ۔
    انسپکٹر فریدی غالبا سبیتا دیوی کے قتل کے سلسلے میں تفتیش کررہے تھے لیکن انہوں نے اپنے سرکاری روزنامچے میں کسی کی کوئی خانہ پری نہیں کی ۔ چیف انسپکٹر صاحب کو بھی اس بات کا علم نہیں کہ انہوں نے سراغ رسانی کا کون سا طریقہ اختیار کیا تھا ۔ ابھی تک کوئی نہیں بتاسکتا کہ انسپکٹر فریدی آج صبح کہاں گئے تھے ۔ بظاہر ان کی کار پر جمی ہوئی گرد اور پہیوں کی حالت بتاتی ہے کہ انہوں نے کافی لمبا سفر کیا تھا ۔
    " انسپکٹر فریدی کی عمر تیس سال تھی ۔ وہ غیر شادی شدہ تھے ۔ انہوں نے دو بنگلے اور ایک بڑی جائیداد چھوڑی ہے ۔ ان کے کسی وارث کا پتہ نہیں چل سکا ۔ "
    یہ خبر آگ کی طرح آنا فانا سارے شہر میں پھیل گئی ۔ محکمہ سراغ رسانی کے دفتر میں ہلچل مچی ہوئی تھی ۔ انسپکٹر فریدی کے دوستوں نے لاش حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں لاش دیکھنے کی اجازت نہ دی گئی اور کئی خبروں سے معلوم ہوا ہے کہ پوسٹ مارٹم کرنے پر پانچ یا چھ زخم پائے گئے ہیں ۔
     
  9. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,943
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    یہ سب کچھ ہورہا تھا لیکن سرجنٹ حمید نہ جانے کیوں چپ تھا ۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ انسپکٹر فریدی راج روپ نگر گیا تھا لیکن اس نے اس کی کوئی اطلاع چیف انسپکٹر کو نہ دی ۔ وہ نہایت اطمینان سے پولیس اور خفیہ پولیس کی بھاگ دوڑ کا جائزہ لے رہا تھا ۔
    دوسرے جاسوسوں اور بہیترے لوگوں نے اس سے ہر طرح پوچھا لیکن اس نے ایک کو بھی کوئی تشفی بخش جواب نہ دیا ۔ کسی سے کہتا کہ انہوں نے مجھے اپنا پروگرام نہیں بتایا تھا کسی سے کہتا انہوں نے مجھ سے یہ تک تو بتایا نہیں تھا کہ انہوں نے اپنی چھٹی کینسل کرادی ہے پھر سراغ رسانی کا پروگرام کیا بتاتے ۔ کسی کو یہ جواب دیتا کہ وہ اپنی اسکیموں میں کسی سے نہ مشورہ لیتے تھے اور نہ مل کر کام کرتے تھے ۔
    تقریبا دس بجے رات کو ایک اچھی حیثیت کا نیپالی چوروں کی طرح چھپتا چھپاتا سرجنٹ حمید کے گھر سے نکلا ۔ بڑی دیر تک یوں ہی بےمصرف سڑکوں پر مارا مارا پھرتا رہا پھر ایک گھٹیا سے شراب خانے میں گھس گیا ۔ جب وہ وہاں سے نکلا تو اس کے پیر بری طرح ڈگمگا رہے تھے ۔ آنکھوں سے معلوم ہوتا تھا جیسے وہ کثرت سے پی گیا ہو ۔ وہ لڑکھڑاتا ہوا ٹیکسیوں کی طرف چل پڑا ۔
    " ول بھائی شاپ ہم دور جانا مانگتا ہے ۔ " اس نے ایک ٹیکسی ڈرائیور سے کہا ۔
    " صاحب ہمیں فرصت نہیں ۔ ۔ ۔ ! " ٹیکسی ڈرائیور نے کہا ۔
    " او بابا پیسے دے گا ۔ ۔ ۔ " اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر پرس نکالتے ہوئے کہا ۔
    " نہیں ۔ ۔ ۔ نہیں صاحب ۔ ۔ ۔ مجھے فرصت نہیں ۔ " ٹیکسی ڈرائیور نے دوسری طرف منہ پھیرتے ہوئے کہا ۔
    " ارے لو ہمارا باپ ۔ ۔ ۔ تم بھی شالا کیا یاد کرے گا ۔ " اس نے دس دس کے تین نوٹ اس کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہا " اب چلے گا ہمارا باپ ۔ "
    " بیٹھئے کہاں چلنا ہوگا ۔ " ٹیکسی ڈرائیور نے کار کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا ۔
    " جاؤ ہم نہیں جانا مانگتا ۔ ۔ ۔ ہم تم کو تیس روپیہ خیرات دیا ۔ " اس نے روٹھ کر زمین پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔
     
  10. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,943
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    " ارے نہیں صاحب اٹھئے چلئے ۔ ۔ ۔ جہاں آپ کہیں آپ کو پہنچادوں ۔ چاہے جہنم ہی کیوں نہ ہو ۔ " ٹیکسی ڈرائیور نے اس کے نشے کی حالت سے لطف اٹھاتے ہوئے ہنس کر کہا ۔
    " جہنم لے چلے گا ۔ " نیپالی نے اٹھ کر پرمسرت لہجے میں کہا ۔ " تم بڑا اچھا ہے ۔ تم ہمارا باپ ہے ۔ ۔ ۔ تم ہمارا بھائی ہے ۔ ۔ ۔ تم ہمارا ماں ہے ۔ ۔ ۔ تم ہمارا بی بی ہے ۔ ۔ ۔ تم ہمارا بی بی کا شالا ہے ۔ ۔ ۔ تم ہمارا ۔ ۔ ۔ تم ہمارا ۔ ۔ ۔ تم ہمارا کیا ہے ۔ "
    " صاحب ہم تمہارے سب کچھ ہے بولو کہاں چلے گا ۔ " ٹیکسی ڈرائیور نے اس کا ہاتھ اپنی گردن سے ہٹا کر ہنستے ہوئے کہا ۔
    " جدھر ہم بتلانا مانگتا ۔ شائد تم نہیں جانتا کہ ہم بڑا لوگ ہے ۔ ہم تم کو اور بخشش دے گا ۔ " مدہوش نیپالی نے پچھلی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔ " شیدھا چلو ۔ "
    دوسرے موڑ پر پہنچ کر ٹیکسی راج روپ نگر کی طرف جارہی تھی ۔
    کتے کی موت
    ڈاکٹر شوکت انسپکٹر فریدی کی موت کی خبر سن کر ششدر رہ گیا ۔ اسے حیرت تھی کہ آخر یک بیک یہ کیا ہوگیا ۔ لیکن وہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ اس کی موت سبیتا دیوی قتل کی تفتیش کے سلسلے میں واقع ہوئی ہے ۔ وہ یہی سمجھ رہا تھا کہ فریدی کے کسی پرانے دشمن نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا ہوگا ۔ محکمہ سراغ رسانی والوں کے لئے دشمنوں کی اچھی خاصی تعداد پیدا کرلینا کوئی تعجب کی بات نہیں ۔ اس پیشے کے کامیاب ترین آدمیوں کی موتیں عموما اسی طرح واقع ہوتی ہیں ۔
     
  11. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,943
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    سبیتا دیوی کے قتل کے متعلق اس کی اب تک یہی رائے تھی کہ یہ کام ان کے کسی ہم مذہب کا ہے ۔ جس نے مذہبی جذبات سے اندھا ہوکر آخر کار انہیں قتل ہی کردیا ۔ انسپکٹر فریدی کا یہ خیال کے وہ حملہ دراصل اسی پر تھا رفتہ رفتہ اس کے ذہن سے ہٹتا جارہا تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ جب سے راج روپ نگر سے ڈاکٹر توصیف کا خط ملا تو اس نے اس قصبے کے نام پر دھیان تک نہ دیا ۔
    دوسرے دن ڈاکٹر توصیف خود اس سے ملنے کے لئے آیا ۔ اس نے نواب صاحب کے مرض کی ساری تفصیلات بتا کر اسے آپریشن کرنے پر آمادہ کرلیا ۔
    ڈاکٹر شوکت کی کار راج روپ نگر کی طرف جارہی تھی ۔ وہ اپنے اسسٹنٹ اور دو نرسوں کو ہدایت کرآیا تھا کہ وہ چار بجے تک آپریشن کا ضروری سامان لے کر راج روپ نگر پہنچ جائیں ۔
    نواب صاحب کے خاندان والے ابھی تک کرنل تیواری کے تبادلے اور توصیف کے نئے فیصلے سے ناواقف تھے ۔ ڈاکٹر شوکت کی آمد سے وہ سب حیرت میں پڑگئے ۔ خصوصا نواب صاحب کی بہن تو آپے سے باہر ہوگئیں ۔
    " ڈاکٹر صاحب ۔ ۔ ۔ ! " وہ توصیف سے بولیں ۔ " میں آپ کی اس حرکت کا مطلب نہیں سمجھ سکی ۔ "
    " محترمہ مجھے افسوس ہے کہ مجھے آپ سے مشورے کی ضرورت نہیں ۔ " توصیف نے بےپروائی سے کہا ۔
    " کیا مطلب ؟ " نواب صاحب کی بہن نے حیرت اور غصہ کے ملے جلے انداز میں کہا ۔
    " مطلب یہ کہ اچانک کرنل تیواری کا تبادلہ ہوگیا ہے اور اب اس کے علاوہ کوئی اور صورت باقی نہیں رہ گئی ۔ "
    " کرنل تیواری کا تبادلہ ہوگیا ہے ۔ "
    " ان کا خط ملاحظہ فرمائیے ۔ " ڈاکٹر توصیف نے جیب سے ایک لفافہ نکال کر ان کے سامنے ڈال دیا ۔ وہ خط پڑھنے لگیں ۔ کنور سلیم اور نواب صاحب کی بھانجی جنمہ بھی جھک کر دیکھنے لگیں ۔
    " لیکن میں آپریشن تو ہرگز نہ ہونے دوں گی ۔ " بیگم صاحبہ نے خط واپس کرتے ہوئے کہا ۔
     
  12. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,943
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    " دیکھئے محترمہ ۔ ۔ ۔ یہاں آپ کی رائے کا کوئی سوال ہی نہیں رہ جاتا ۔ نواب صاحب کے طبی مشیر ہونے کی حیثیت سے اس کی سو فیصدی ذمہ داری مجھ پر عاید ہوتی ہے ۔ کرنل تیواری کی عدم موجودگی میں میں قانونا اپنے حق کو استعمال کرسکتا ہوں ۔ "
    " قطعی ۔ ۔ ۔ قطعی ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر صاحب ۔ " کنور سلیم نے سنجیدگی سے کہا ۔ " اگر ڈاکٹر شوکت میرے چچا کو اس مہلک مرض سے نجات دلا دیں تو اس سے بڑھ کر اچھی بات کیا ہوسکتی ہے ۔ میرا بھی یہی خیال ہے کہ اب آپریشن کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہ گیا ۔ "
    " سلیم ۔ ۔ ۔ ! " نواب صاحب کی بہن نے گرج کر کہا ۔
    " پھوپھی صاجبہ ۔ ۔ ۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ ایک محبت کرنے والی بہن کا دل رکھتی ہیں لیکن ان کی صحت کی خاطر دل پر پتھر رکھنا ہی پڑے گا ۔ "
    " کنور بھیا ۔ ۔ ۔ آپ اتنی جلد بدل گئے ۔ " نجمہ نے کہا ۔
    " کیا کروں نجمہ ۔ ۔ ۔ اگر کرنل تیواری موجود ہوتے تو میں کبھی آپریشن کے لئے تیار نہ ہوتا ۔ لیکن ایسی صورت میں ۔ تم ہی بتاؤ چچا جان کب تک یونہی پڑے رہیں گے ۔ "
    " کیوں صاحب کیا آپریشن کے علاوہ کوئی اور صورت نہیں ہوسکتی ؟ " نواب صاحب کی بہن نے ڈاکٹر شوکت سے پوچھا ۔
    " یہ تو میں مریض کو دیکھںے کے بعد ہی بتاسکتا ہوں ۔ " ڈاکٹر شوکت نے مسکرا کر کہا ۔
    " ہاں ہاں ممکن ہے کہ اس کی نوبت ہی نہ آئے ۔ " ڈاکٹر توصیف نے کہا ۔
    نواب صاحب جس کمرے میں تھے وہ اوپری منزل میں واقع تھا ۔ سب لوگ نواب صاحب کے کمرے میں آئے ۔ وہ کمبل اوڑھے چت لیٹے ہوئے تھے ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے وہ گہری نیند میں ہوں ۔
    ڈاکٹر شوکت نے اپنے آلات کی مدد سے ان کا معائنہ کرتا رہا ۔
    " مجھے افسوس ہے بیگم صاحبہ کہ آپریشن کے بغیر کام نہ چلے گا ۔ " ڈاکٹر شوکت نے اپنے آلات کو ہینڈ بیگ میں رکھتے ہوئے کہا ۔
    پھر سب لوگ نیچے واپس آگئے ۔
     
  13. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,943
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    ڈاکٹر شوکت نے نواب صاحب کے خاندان والوں کو کافی اطمینان دلایا ۔ ان کی تشفی کے لئے اس نے ان لوگوں کو اپنے بےشمار خطرناک کیسوں کے حالات سنا ڈالے ۔ نواب صاحب کا آپریشن تو ان کے مقابلہ میں کوئی چیز نہ تھا ۔
    " پھوپھی صاحبہ آپ نہیں جانتیں ۔ " بیگم صاحبہ سے سلیم نے کہا ۔ " ڈاکٹر شوکت صاحب کا ثانی پورے ہندوستان میں نہیں مل سکتا ۔ "
    " میں کس قابل ہوں ۔ " ڈاکٹر شوکت نے خاکسارانہ انداز میں کہا ، " سب خدا کی مہربانی اور اس کا احسان ہے ۔ "
    " ہاں یہ تو بتائیے کہ آپریشن سے قبل کوئی دوا وغیرہ دی جائے گی ۔ " کنور سلیم نے پوچھا ۔
    " فی الحال ایک انجکشن دوں گا ۔ "
    " اور آپریشن کب ہوگا ۔ " نواب صاحب کی بہن نے پوچھا ۔
    " آج ہی ۔ ۔ ۔ آٹھ بجے رات سے آپریشن شروع ہوجائے گا ۔ چار بجے تک میرا اسسٹنٹ اور دو نرسیں یہاں آجائیں گی ۔ "
    " میرا تو دل گھبرا رہا ہے ۔ " نواب صاحب کی بھانجی نے کہا ۔
    " گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے ۔ " ڈاکٹر شوکت نے کہا ۔ " میں اپنی ساری کوششیں صرف کردوں گا ۔ کیس کچھ ایسا خطرناک نہیں ۔ خدا تعالی کی ذات سے قوی امید ہے کہ آپریشن کامیاب ہوگا ۔ آپ لوگ قطعی پریشان نہ ہوں ۔ "
    " ڈاکٹر صاحب آپ اطمینان سے اپنی تیاری مکمل کیجئے ۔ " کنور سلیم ہنس کر بولا ۔ " بےچاری عورتوں کے بس میں گھبرانے کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ "
    نواب صاحب کی بہن نے اسے تیز نظروں سے دیکھا اور نجمہ کی پیشانی پر شکنیں پڑگئیں ۔
    " میرا مطلب ہے پھوپھی صاحبہ کہ کہیں ڈاکٹر صاحب آپ لوگوں کی حالت دیکھ کر بد دل نہ ہوجائیں ۔ اب چچا جان کو اچھا ہی ہوجانا چاہئے ۔ کوئی حد ہے اٹھارہ دن ہوگئے ابھی تک بےہوشی زائل نہیں ہوئی ۔ "
     
  14. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,943
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    " تم اس طرح کہہ رہے ہو گویا ہم لوگ انہیں صحت مند دیکھنے کے خواہش مند نہیں ہیں ! " بیگم صاحبہ نے منہ بنا کر کہا ۔
    " خیر ۔ ۔ ۔ خیر ۔ ۔ ۔ ! " فیملی ڈاکٹر توصیف نے کہا ۔ " ہاں تو ڈاکٹر شوکت میرے خیال سے اب آپ انجکشن دے دیجئے ۔ "
    ڈاکٹر شوکت ، ڈاکٹر توصیف اور کنور سلیم بالائی منزل پر مریض کے کمرے میں چلے گئے اور دونوں ماں بیٹیاں ہال ہی میں رک کر آپس میں سرگوشیاں کرنے لگیں ۔ نجمہ کچھ کہہ رہی تھی اور نواب صاحب کی بہن کے ماتھے پر شکنیں ابھر رہی تھیں ۔ انہوں نے دو تین بار زینے کی طرف دیکھا اور باہر نکل گئیں ۔
    انجکشن سے فارغ ہوکر ڈاکٹر شوکت ، کنور سمیل اور ڈاکٹر توصیف کے ہمراہ باہر آیا ۔
    " اچھا کنور صاحب اب ہم چلیں گے ۔ چار بجے تک نرسیں اور میرا اسسٹنٹ آپ کے یہاں آجائیں گے اور میں بھی ٹھیک چھ بجے یہاں پہنچ جاؤں گا ۔ " ڈاکٹر شوکت نے کہا ۔
    " تو یہیں قیام کیجئے نا ۔ ۔ ۔ ! " سلیم نے کہا ۔
    " نہیں ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر توصیف کے یہاں ٹھیک رہے گا اور پھر قصبے میں مجھے کچھ کام بھی ہے ۔ ہم لوگ چھ بجے تک یقینا آجائیں گے ۔ "
    ڈاکٹر کار میں بیٹھ گئے لیکن ڈاکٹر شوکت کی پےدرپے کوششوں کے باوجود بھی کار اسٹارٹ نہ ہوئی ۔
    " یہ تو بڑا مصیبت ہوئی ۔ " ڈاکٹر شوکت نے کار سے اتر کر مشین کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ۔
    " فکر مت کیجئے ۔ ۔ ۔ میں اہنی کار نکال کر لاتا ہوں ۔ " کنور سلیم نے کہا اور لمبے ڈگ بھرتا ہوا گیراج کی طرف چلا گیا ۔ جو پرانی کوٹھی کے قریب واقع تھا ۔
    تھوڑی دیر بعد نواب صاحب کی بہن آگئیں ۔
    " ڈاکٹر شوکت کی کار خراب ہوگئی ۔ کنور صاحب کار کے لئے گئے ہیں ۔ " ڈاکٹر توصیف نے ان سے کہا ۔
     
  15. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,943
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    " اوہ ۔ ۔ ۔ کار تو میں نے شہر بھیج دی ہے اور بھائی جان والی کار عرصہ سے خراب ہے ۔ "
    " اچھا تو پھر آئیے ڈاکٹر صاحب ہم لوگ پیدل ہی چلیں ۔ ۔ ۔ صرف ڈیڑھ میل تو چلنا ہے ۔ " ڈاکٹر شوکت نے کہا
    " ڈاکٹر توصیف ! مجھے آپ سے کچھ مشورہ کرنا ہے ۔ " نواب صاحب کی بہن نے کہا ۔ " اگر آپ لوگ شام تک یہیں ٹھہریں تو کیا مضائقہ ہے ۔ "
    " بات دراصل یہ ہے کہ مجھے چند ضروری تیاریاں کرنی ہیں ۔ " ڈاکٹر شوکت نے کہا ۔ " ڈاکٹر صاحب کو آپ روک لیں ۔ مجھے کوئی اعتراض نہ ہوگا ۔ "
    " آپ کچھ خیال نہ کیجئے ۔ ۔ ۔ ! " بیگم صاحبہ بولیں ۔ " اگر کار شام تک واپس آگئی تو میں چھ بجے تک بھجوادوں گی ۔ ورنہ پھر کسی دوسری سواری کا انتظام کیا جائے گا ۔ "
    " شام کو تو میں ہر صورت میں پیدل ہی آؤں گا ۔ کیونکہ آپریشن کے وقت میں کافی چاق و چوبند رہنا چاہتا ہوں ۔ " شوکت نے کہا اور قصبے کی طرف روانہ ہوگیا ۔ راہ میں کنور سلیم ملا ۔
    " مجھے افسوس ہے ڈاکٹر کہ اس وقت کار موجود نہیں ۔ آپ یہیں رہئے آخر اس میں حرج ہی کیا ہے ۔ "
    " حرج تو کوئی نہیں لیکن مجھے تیاری کرنی ہے ۔ " ڈاکٹر شوکت نے جواب دیا ۔
    " اچھا تو چلئے میں آپ کو چھوڑ آؤں ۔ "
    " نہیں ۔ ۔ ۔ شکریہ ۔ ۔ ۔ راستہ میرا دیکھا ہوا ہے ۔ "
    ڈاکٹر شوکت جیسے ہی پرانی کوٹھی کے قریب پہنچا اسے ایک عجیب قسم کا وحشیانہ قہقہہ سنائی دیا ۔ عجیب الخلقت بوڑھا پروفیسر عمران قہقہے لگاتا ہوا اس کی طرف بڑھ رہا تھا ۔
    " ہیلو ہیلو ۔ ۔ ۔ ! " بوڑھا چیخا ۔ " اپنے مکان کے قریب اجنبیوں کو دیکھ کر مجھے خوشی ہوتی ہے ۔ "
    ڈاکٹر شوکت رک گیا ۔ اسے محسوس ہوا جیسے اس کے جسم کے سارے روئیں کھڑے ہوگئے ہوں ۔ اتنی خوفناک شکل کا آدمی آج تک اس کی نظروں سے نہ گزرا تھا ۔
     
  16. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,943
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    " مجھ سے ملئے ۔ ۔ ۔ میں پروفیسر عمران ہوں ۔ " اس نے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا ۔ " اور آپ ۔ ۔ ۔ ! "
    " مجھے شوکت کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ! " شوکت نے بادل نخواستہ ہاتھ ملاتے ہوئے کہا ۔ لیکن اس نے محسوس کیا کہ ہاتھ ملاتے وقت بوڑھا کچھ سست پڑگیا تھا ۔ بوڑھے نے فورا ہی اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور قہقہہ لگاتا ، اچھلتا کودتا پھر پرانی کوٹھی میں واپس چلا گیا ۔
    ڈاکٹر شوکت متحیر کھڑا تھا ۔ دفعتا قریب کی جھاڑیوں سے ایک بڑا کتا اس پر جھپٹا ۔ ڈاکٹر شوکت گھبرا کر کئی قدم پیچھے ہٹ گیا ۔ کتے نے جست لگائی اور ایک بھیانک چیخ کے ساتھ زمین پر آرہا ۔ چند سیکنڈ تک وہ تڑپا اور پھر بےحس و حرکت ہوگیا ۔۔ یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ ڈاکٹر شوکت کو کچھ سوچنے سمجھنے کا موقعہ نہ مل سکا ۔ اس کے بعد کچھ سمجھ ہی میں نہ آرہا تھا کہ وہ کیا کرے ۔
    " ارے یہ میرے کتے کو کیا ہوا ۔ ۔ ۔ ٹائیگر ٹائیگر ۔ ۔ ۔ ! " ایک نسوانی آواز سنائی دی ۔ ڈاکٹر شوکت چونک پڑا ۔ سامنے نواب صاحب کی بھانجی نجمہ کھڑی تھی ۔
    " مجھے خود حیرت ہے ۔ " شوکت نے کہا ۔
    " میں نے اس کے غرانے کی آواز سنی تھی ۔ کیا یہ آپ پر جھپٹا تھا لیکن اس کی سزا موت تو نہ ہوسکتی تھی ۔ " وہ تیز لہجے میں بولی ۔
    " یقین فرمائیے محترمہ مجھے خود حیرت ہے کہ اسے یک بیک ہو کیا گیا ۔ ۔ ۔ اگر آپ کو مجھ پر شبہ ہے تو بھلا بتائیے میں نے اسے کیوں کر مارا ۔ ۔ ۔ ؟ "
    نجمہ کتے کی لاش پر جھکی اسے پکار رہی تھی ۔ " ٹائیگر ٹائیگر ۔ ۔ ۔ ! "
    " بے سود ہے محترمہ یہ ٹھنڈا ہوچکا ہے ۔ " شوکت کتے کی لاش کو ہلاتے ہوئے بولا ۔
    " آخر اسے ہو کیا گیا ۔ " نجمہ نے خوفزدہ انداز میں پوچھا ۔
    " میں خود یہی سوچ رہا ہوں ۔ بظاہر کوئی زخم بھی نہیں نظر آیا ۔ "
     

اس صفحے کو مشتہر کریں