1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

دلوں میں نیزے‘ جگر میں خنجر‘ چبھے ہوئے تھے‘ پر ہم کھڑے تھے

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏4 ستمبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    1,740
    موصول پسندیدگیاں:
    206
    ملک کا جھنڈا:
    غزل
    دلوں میں نیزے‘ جگر میں خنجر‘ چبھے ہوئے تھے‘ پر ہم کھڑے تھے
    ہماری نظروں کے سامنے تن‘ کٹے ہوئے تھے‘ پر ہم کھڑے تھے
    یہ حال غیرت‘ یہ سوزِ ایماں‘ یہ کیف ہستی‘ کہ فربہ ہو کر
    عدو کے ہاتھوں‘ گلے ہمارے‘ دبے ہوئے تھے‘ پر ہم کھڑے تھے
    ہمارے نیزوں‘ ہماری ڈھالوں‘ پہ تھا بھروسہ‘ جنہیں ازل سے
    ہمارے آگے‘ وہ سربریدہ‘ پڑے ہوئے تھے‘ پر ہم کھڑے تھے
    جنہیں دلاسہ‘ دہائیوں سے‘ وفا کا ہم نے‘ دیا ہوا تھا
    وہ خواب آزادیوں کا لے کر مرے ہوئے تھے‘ پر ہم کھڑے تھے
    لکھو مورخ! یہ المیہ کہ جہان بھر کے‘ ستم کدوں میں
    ہماری بہنوں کے جسم سارے‘ چھلے ہوئے تھے‘ پر ہم کھڑے تھے
    شاعر:- نامعلوم​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں