1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

دبئی ٹونٹی ٹونٹی میچ ،پاکستان نے آسٹریلیا کو روند ڈالا

'کھیل کے میدان' میں موضوعات آغاز کردہ از آزاد, ‏8 مئی 2009۔

  1. آزاد
    آف لائن

    آزاد ممبر

    شمولیت:
    ‏7 اگست 2008
    پیغامات:
    7,592
    موصول پسندیدگیاں:
    14
    [​IMG]
    دبئی ٹونٹی ٹونٹی میچ ،پاکستان نے آسٹریلیا کو روند ڈالا
    پاکستانی ٹیم ٹونٹی20ورلڈکپ کیلئےفیورٹ ٹیموں کی لسٹ میں شامل
    اعجازوسیم باکھری
    آہ…پاکستان کرکٹ ٹیم بھی کیا ٹیم ہے۔پہلا میچ جیتنے کے بعد ایسا شکستوں کے بھنور میں پھنسی کہ یوں محسوس ہونے لگا کہ جیسے شکست کا لفظ پاکستانی ٹیم کیلئے ہی مختص کردیا گیا ہے لیکن پھر اچانک تین میچز میں شکست کھانے کے بعد اور جب سیریز ہاتھ سے نکل گئی پاکستانی کرکٹرز نے ذمہ داری کا ثبوت پیش کیا اور ون ڈے سیریز کا آخری میچ جیت کر شاندار اختتام کیا اور پھر گزشتہ رات کھیلے جانیوالے ٹونٹی ٹونٹی میچ میں ایک بار پھر قومی ٹیم نے آسٹریلیا کو آؤٹ کلاس کرکے ماہرین کو حیران اور شائقین کو پریشان کردیا۔

    دبئی سپورٹس سٹی میں کھیلے گئے میچ میں قومی ٹیم کے خود اُن کے اپنے بقول (ناتجربہ کار )کپتان یونس خان نے میچ میں حصہ نہیں لیا اور کہا جارہا ہے کہ وہ بیمار تھے لیکن چندذرائع کا کہنا ہے کہ خان صاحب کا ٹیم مینجمنٹ سے پھڈا چل رہا ہے اسی وجہ سے انہوں نے ٹونٹی ٹونٹی میچ میں حصہ نہیں لیا لیکن پاکستانی ٹیم کے مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ یونس خان نے طبیعت ناسازی کی وجہ سے میچ میں حصہ نہیں لیا۔

    قائم مقام کپتان مصباح الحق نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرنے کافیصلہ کیا جو کہ درست ثابت ہوا ۔عمرگل ،شاہدآفریدی اور شعیب ملک کی عمدہ بولنگ کی بدولت آسٹریلوی ٹیم صرف 108رنز پر ڈھیر ہوگئی،آسٹریلوی ٹیم کا یہ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میں دوسرا کم ترین ٹوٹل ہے۔جواب میں پاکستان کی جانب سے ہدف کا تعاقب کرنے کیلئے سلمان بٹ اور احمد شہزاد آئے اور حسب معمول سلمان بٹ نے ایک دو چوکے لگائے اور اپنی وکٹ گنوا کرپویلین لوٹ گئے تاہم کامران اکمل نے وکٹ پر آتے ہی آسٹریلوی باؤلرز کو تلوار کی دھار پر رکھ لیا اور آزادانہ سٹروکس کھیل کر نہ صرف پاکستانی ٹیم کے دیگر بیٹسمینوں کو یہ پیغام دیا کہ اگر نیت درست ہوتو بیٹنگ کرنا کوئی مشکل نہیں اور اپنی تابڑتوڑ بیٹنگ سے آسٹریلوی ٹیم کوبھی یہ باور کرایا کہ پاکستانی ٹیم کسی بھی ٹیم میں شکست دینے کی آج بھی صلاحیت رکھتی ہے۔کامران اکمل نے42گیندوں پر پانچ چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے 59رنز بنائے اور پاکستانی ٹیم کے وقار کو بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ۔کامران اکمل کو اس بات کا بھی کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے اس سے قبل آخری ون ڈے میں ابوظہبی میں 116رنز کی دلیرانہ اننگز کھیلی اور پاکستان کو ہاری ہوئی سیریز بھی عزت عطا کی ۔کرکٹ کے تمام ماہرین اور تبصرہ نگاروں کا پہلے دن سے ایک ہی موقف تھا کہ آسٹریلوی ٹیم اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے اور عالمی چیمپئن کی قوت اور توانائی میں وسیع پیمانے پر کمی واقع ہوئی ہے اور آسٹریلوی ٹیم میں اب وہ بات نہیں رہی جو ورلڈکپ 2007ء کے فائنل تک تھی ۔پاکستان اورآسٹریلیا کی سیریز جب شروع ہوئی تو ماہرین نے مذکورہ سیریز کیلئے پاکستان کو فیورٹ قرار دیااور یہ سچ ہے کہ پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی تھی لیکن قومی ٹیم کے کپتان یونس خان نے نہ صرف خود آسٹریلوی ٹیم کو سر پر سوار کیا بلکہ دیگر سینئر کھلاڑیوں میں بھی غیر ذمہ داری کا عنصر پیدا کیا جس کی وجہ سے آسٹریلیا پاکستان کے خلاف تین ون ڈے جیتنے میں کامیاب ہوا ۔ورنہ اگر پاکستان نے جن دو ون ڈے میچز اور ایک ٹونٹی ٹونٹی میچ میں آسٹریلیا کو شکست دی وہ بالکل یکطرفہ میچز ثابت ہوئے اور آسٹریلوی ٹیم تینوں میچز میں کسی بھی لمحے مزاحمت کرتی ہوئی نظر آئی جس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ہمارے سینئر کھلاڑی بلاوجہ آسٹریلوی دہشت میں مبتلا رہے اور جیتنے کی بجائے سیکھنے کی کوشش میں لگے رہے جس سے ٹیم کا بھی نقصان ہوا اور قوم کو بھی مایوسی ہوئی لیکن یہاں کامران اکمل اور شاہد آفریدی کو داد دینا ہوگی کہ انہوں نے تن تنہا پاکستان کو تین میچز میں کامیابی دلائی اور قومی ٹیم کو مزید رسوائی سے بچا لیا ۔

    پاکستانی ٹیم کی آسٹریلیا کے خلاف آخری ون ڈے اور ٹونٹی ٹونٹی میچ میں کامیابی یقیناشائقین کے غصے اور دکھ میں کمی کا باعث بنی ہوگی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یونس خان اور ٹیم مینجمنٹ ان دوکامیابیوں کے بعد شائقین کے جذبات کو فراموش کرتے ہوئے اپنی لگاتار تین شکستوں کو بھول جائیں۔جب آسٹریلیا نے پاکستان کو چوتھے میچ میں شکست دیکر سیریز جیتی تو ایک طویل عرصے بعد شائقین قومی ٹیم سے ناراض ہوئے اور ناراضگی اس حد تک اپنے عروج پر چلی گئی تھی کہ یونس خان کو کپتانی سے ہٹائے جانے کا مطالبہ زور پکڑنا شروع ہوگیا تھا۔

    میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت پاکستانی ٹیم میں یونس خان سب سے بہترین کپتان ہیں اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک فائٹر کپتان ہیں لیکن انہیں مستقبل میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور بالخصوص آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں جس طرح انہوں نے غیر ذمہ داری اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ایسی غلطی کی مستقبل میں کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ پاکستانی ٹیم کا اگلہ بڑا ایونٹ ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ ہے جہاں پاکستانی ٹیم نے گزشتہ ورلڈکپ کے فائنل میں کی جانیوالی غلطیوں کا ازالہ کرنا ہے کیونکہ پہلے ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں پاکستانی ٹیم کو فائنل میں بھارت کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا لہذا اس بار غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور یونس خان نے آسٹریلیا کے خلاف ہر میچ ہارنے کے بعد کہاکہ وہ آسٹریلیا سے سیکھ رہے ہیں اب دیکھنا ہوگا کہ ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ سے پہلے پاکستان نے آسٹریلیا سے کیا سیکھا اور جو سیکھا اس پر کتنا عمل ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود آسٹریلوی ٹیم کو ٹونٹی ٹونٹی میچ میں ناک آؤٹ کرکے پاکستانی ٹیم ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ کیلئے ہارٹ فیورٹ ٹیموں کی لسٹ میں شامل ہوگئی ہے

    اور قارئین کیلئے ایک حیران کن خبر یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کی عالمی پاور رینکنگ میں اس وقت پہلے نمبر پر ہے اور بولنگ میں پاکستان کے عمرگل ٹونٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ 24وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز رکھتے ہیں ان کے ساتھ دوسرے نمبر پر 22وکٹوں کے ساتھ شاہد آفریدی نمایاں ہیں۔آخری دو میچز میں قومی ٹیم کی بہترین کارکردگی دیکھنے کے بعد شائقین ایک بار پھر قومی ٹیم سے ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ کیلئے توقعات وابستہ کرنے لگے ہیں اور ہماری بھی دعا ہے کہ قومی ٹیم ورلڈکپ میں اپنی غلطیاں دہرانے سے گریز کرے اور قوم کو مزید صدمات پہنچانے کی بجائے خوشیاں فراہم کرے۔
     
  2. محبوب خان
    آف لائن

    محبوب خان ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏28 جولائی 2008
    پیغامات:
    7,126
    موصول پسندیدگیاں:
    1,499
    ملک کا جھنڈا:
    ہماری ٹیم کےبارے جب 1992 کا ورلڈ کپ انھوں نے جیت لیا تو کسی نے کہا کہ "یہ معمولی اور غیر معمولی ٹیم ہے"۔۔۔۔۔سو یہ کچھ بھی کرسکتے ہیں‌اور جب کچھ کرنا ہو کچھ نہیں بھی کرسکتے ہیں۔
     
  3. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    37
    خدا کا لاکھ لاکھ شکر ھے کسی میدان میں میرے پاکستان کو بھی فتح نصییب ہوئی الحمد للہ
     
  4. نادیہ۔رضا
    آف لائن

    نادیہ۔رضا ممبر

    شمولیت:
    ‏25 اپریل 2009
    پیغامات:
    1,091
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    آزاد صاحب اِس شیئرنگ کا شکریہ
     
  5. بےباک
    آف لائن

    بےباک ممبر

    شمولیت:
    ‏19 فروری 2009
    پیغامات:
    2,484
    موصول پسندیدگیاں:
    17
    شیئرنگ کے لیئے شکریہ آزاد بھائی
    اللہ ہمارے پیارے پاکستان کو ایسے ہی ہر میدان میں کامیابی و فتح دے ۔۔۔آمین
     
  6. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    السلام علیکم۔ آزاد بھائی ۔
    مفید معلومات اور خوشخبری ارسال کرنے پر بہت شکریہ ۔

    ٹیم کی کامیابی کی دعاؤں پر صد بار آمین ثم آمین
     

اس صفحے کو مشتہر کریں