1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

خود کو معاف کرنا سیکھیں…. ۔۔۔ راضیہ سید

'اردو ادب' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏6 جنوری 2021۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    6,489
    موصول پسندیدگیاں:
    777
    ملک کا جھنڈا:
    خود کو معاف کرنا سیکھیں…. ۔۔۔ راضیہ سید

    انسان کتنا تنہا ہے اس کا احساس ہر شخص کو زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ہو جاتا ہے ۔ اسی تنہائی سے بچنے کے لئے ہم نئے رشتے بناتے اور پرانے تعلق نبھاتے ہیں ۔یہ رشتے اور تعلق قائم تو رہتے ہیں لیکن حقیقت دراصل یہ ہے کہ آپ کیساتھ رہنے والا ایک واحد رشتہ آپ خود ہیں ۔اس بات سے قطع نظر کہ آپ کے اردگرد کیا اچھا یا برا ہو رہا ہے، زندگی کی آخری سانس تک آپ خود ہی اپنے ساتھ رہتے اور رفاقت نبھاتے ہیں۔

    جب اتنے لمبے عرصے تک ہمیں اپنے ساتھ ہی رہنا ہے تو خود کو ہی اپنا بہترین دوست کیوں نہ بنا لیا جائے ۔ غلطیاں یا کوتاہیاں کرنا انسانی فطرت کا حصہ ہے اور کوئی انسان بھی اس سے مبرا نہیں ۔ اس لئے زندگی میں کی جانیوالی غلطیوں پر آپ خود کو کتنا ہی کوس لیں لیکن آپ کو آگے بڑھنا ہی ہوتا ہے۔کوتاہی سرزد ہونا جائز امر ہے لیکن اس غلطی پر خود کو مورد الزام ٹھہرا کر خود سے نفرت کرنا کسی طور بھی جائز نہیں ہے۔

    یہ کہنا بہت آسان ہے کہ ہم اپنی زندگی میں کئے جانے والے ہر عمل کے ذمہ دار ہیں لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آپ کو بالکل معلوم نہیں ہوتا کہ کہاں اور کس کے ہاتھوں آپ استعمال ہوئے یا کوئی اور شخص بھی آپ کے دکھ کی وجہ ہو سکتا ہے ۔ کئی مرتبہ ہمیں یہ پتہ بھی نہیں ہوتا کہ یہ سازشی عمل ہوا کب ہے ۔ سو جو چیزیں یا حالات آپ کے کنٹرول میں نہیں ہیں ان پر وقت ضائع مت کریں۔

    جو انسان خود کو اپنی خوبیوں اور خامیوں سمیت قبول نہیں کرتا وہ چلتا پھرتا بے وقوف ہوتا ہے جسے کسی سے کوئی سند لینے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ کیونکہ جب آپ خود کو ہرٹ کر لیتے ہیں تو دوسروں کو بھی موقع مل جاتا ہے کہ وہ آپ کو آسانی سے ٹارگٹ کر لیں اور آُپ کی ذات کی دھجیاں منٹوں میں بکھیر کر رکھ دیں ۔ لہذا آپ خود کو جو اورجیسا ہے کی بنیاد پر قبول کریں تو کسی کی تعریف اور تنقید سے آپ کو رتی برابر بھی فرق نہیں پڑے گا۔

    خود کو معاف کرنے کے لئے بلند آواز میں سوری کا لفظ بولیں کہ کہاں کہاں میں غلط تھا ،کہاں کہاں نادانیوں نے میرا پیچھا نہ چھوڑا لیکن اب غلطیوں کے بعد آگے بڑھنا سیکھ گیا ہوں اور میں نے خود کو معاف کر دیا ہے ۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ جب آپ خود کو معاف کرتے ہیں تو آُپ کا دل وسیع ہو جاتا ہے اور پھر آُپ ان لوگوں سے بھی معافی مانگ لیتے ہیں جنہیں آپ نے رنجیدہ کیا تھا۔
    ہر غلطی ایک نیا سبق ہے اور خود کو معاف کرنا آسان نہیں لیکن یاد یہ رکھئیے کہ بلند ہمتی کسی مخصوص شخص کی میراث نہیں، ہرفرد تھوڑے سے حوصلے سے خود ہی پا سکتا ہے۔


     

اس صفحے کو مشتہر کریں