1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

خواب میں دیدار نبی صلی اللہ علیہ وسلم

'سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم' میں موضوعات آغاز کردہ از زبیراحمد, ‏4 جون 2012۔

  1. زبیراحمد
    آف لائن

    زبیراحمد خاصہ خاصان

    شمولیت:
    ‏6 فروری 2012
    پیغامات:
    307
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    ملک کا جھنڈا:
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے مجھے حقیقت میں دیکھا ، اصلاً کہ شیطان میری مثال نہیں بنا سکتا میری صورت اختیار نہیں کر سکتا ﴿ صحیح بخاری و صحیح مسلم ﴾

    تشریح : ہر مسلمان کی یہ خواہش رہتی ہے کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم کا دیدار کر لے ، اوریہ خواہش اسکے سچے محب ِرسول ہونے کی دلیل ہے جیسا کہ نبی صلى الله عليہ وسلم کا ارشاد ہے: میری اُمت میں مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو میری وفات کے بعد آئیں گے اور ان کی خواہش ہوگی کہ وہ مجھے دیکھنے کے لئے اپنے اہل و مال سب کچھ صَرف کردیں ﴿ صحیح مسلم ، مسند احمد ﴾

    آپ صلى الله عليہ وسلم کا یہ فرمان اس بات کی غُمازی کر رہا ہے کہ اس اُمت میں ایسے بھی محبِ رسول پیدا ہوں گے جنکے نزدیک آپ صلى الله عليہ وسلم کی صحبت اور آپ صلى الله عليہ وسلم کے نورانی چہرے کی طرف نظرسے بڑھ کر کوئی اور چیز نہ ہوگی ۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے انکے اس نیک جذبے کی قدر کی اور خود حبیب الہی رسول اکرم صلى اللہ عليہ وسلم بھی ان لوگوں سے ملاقات کے متمنی رہے جیسا کہ ایک بار آپ صلى اللہ عليہ وسلم قبرستان کی طرف نکلے ، اہل قبور کو سلام کیا اور صحابہ کرام سے فرمایا :ہماری خواہش ہے کہ اپنے بھائیوں کو دیکھ لیتا صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ ہمارے ساتھی ہو ، ہمارے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی تک نہیں آئے ﴿صحیح مسلم ، مسند احمد ﴾

    آپ صلى اللہ عليہ وسلم کے اس دنیا سے رُخصت ہوجانے کے بعد حالت بیداری میں تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم کا دیدار ممکن نہیں ہے ، البتہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اسے اپنے محبوب نبی اکرم صلى اللہ عليہ وسلم کا دیدار خواب میں کرا دیتا ہے ۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس خصوصیت سے نوازا کہ شیطان آپ صلى اللہ عليہ وسلم کی شکل اختیار نہیں کر سکتا جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے یہ قدرت دی ہے کہ جس مخلوق کی شکل چاہے اختیار کر لے سوا ئے نبی صلى اللہ عليہ وسلم کے، تاکہ جو شخص بھی آپ صلى اللہ عليہ وسلم کو خواب میں دیکھے اسکا خواب سچا ہو، جیسا کہ زیر بحث حدیث سے واضح ہوتا ہے لہذا جو شخص خواب میں نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کو دیکھتا ہے ، تو یہ سمجھا جائے گا کہ یقیناًوہ شخص رؤیت نبوی سے مشرف ہوا ہے ، البتہ اس سلسلے میں یہاں چند اہم باتیں دھیان میں رکھنا نہایت ضروری ہے۔

    • ضروری ہے کہ خواب میں نبی صلى اللہ عليہ وسلم کو اس شکل میں دیکھا جائے جس شکل میں آپ صلى اللہ عليہ وسلم دنیا میں موجود رہے ہیں کیونکہ ممکن ہے کہ شیطان کسی بزرگانہ شکل میں آئے اور اس مغالطے میں ڈال دے کہ یہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم ہیں درآں حالیکہ وہ صورت کسی اور بزرگ کی ہو کیونکہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے یہ فرمایا کہ شیطان میری صورت میں نہیں آسکتا ۔ اسی لئے صحیح بخاری میں زیر ِبحث حدیث کے بعد امام محمدبن سیرین کا یہ قول مذکور ہے کہ یہ اس صورت میں ہے جب اللہ کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم کو آپ ہی کی صورت میں دیکھا جائے ۔ اسی طرح ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے اورعرض کرتا ہے کہ میں نے آج رات نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے ، انھوں نے فرمایا کہ جسے دیکھا ہے اسکی صفت بیان کرو ، اس نے کہا کہ وہ شکل حسن بن علی رضي اللہ عنهما جیسی تھی تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنهما نے فرمایا : تم نے حقیقت میں دیکھا ہے ﴿ فتح الباری ۱۲ص ۳۸۴ ﴾

    • محبِ رسول کو چاہیے کہ آپ کے حلیہ مبارک کو یاد رکھے تاکہ شیطان اسکو دھوکہ میں نہ ڈال سکے ۔ کسی عالم سے ایک شخص نے کہا کہ میں نے خواب میں اللہ کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کی داڑھی بالکل سفید تھی وغیرہ ، اُس عالم نے اسے فوراً ٹوکا اور فرمایا کہ یہ خواب سچا نہیں ہے کیونکہ وفات تک نبی صلى اللہ عليہ وسلم کی داڑھی کے صرف چند بال ہی سفید ہوئےتھے ۔

    • علمائے اُمت کا اس پر اجماع ہے کہ اگر خواب میں نبی صلى اللہ عليہ وسلم کسی کو کوئی ایسی بات بتلائںم یا کوئی ایسا حکم دیں جو شریعت کے خلاف ہے تو اس پر عمل جائز نہ ہوگا کیونکہ اولاً تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم کی وفات سے قبل دین مکمل ہو چکا تھا ، ثانیا آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے یہ ضرور فرمایا ہے کہ شیطان میری شکل میں نہیں آسکتا لیکن یہ نہیں فرمایا کہ شیطان میری طرف کوئی بات منسوب نہیں کرسکتا ۔

    • اگر کوئی شخص نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کو خواب میں دیکھتا ہے تو اس رؤیت کی وجہ سے وہ صحابی شمار نہ ہوگا اور نہ ہی یہ اسکے متقی وپرہیزگار ہونے کی دلیل ہے ۔

    • نبی صلى اللہ عليہ وسلم کے دیدار کی خواہش رکھنے والے کو چاہیے کہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم کو کثرت سے یاد رکھے ، آپ صلى اللہ عليہ وسلم کی سیرت و شمایل کا مطالعہ کرے ، آپ صلى اللہ عليہ وسلم کی محبت اپنے دل میں راسخ کرنے کی کوشش کرے ، آپ صلى اللہ عليہ وسلم پر بکثرت درود بھیجے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کا دیدار کرادے، آپ صلى اللہ عليہ وسلم کے دیدار کے حصول کا یہی سب سے بڑا اور کامیاب نسخہ ہے ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ خواب میں نبی صلى اللہ عليہ وسلم کو نہ دیکھتا ہوں ﴿ الشفا ﴾ البتہ اسکے لئے خصوصی نمازیں پڑھنا اور اس میں کچھ خاص قسم کے اذکار کا اہتمام کرنا غیر شرعی اور بدعی طریقہ ہے ۔

    فوائد :
    • نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کی خصوصیت کہ شیطان مردود آپ کی صورت اختیار نہیں کر سکتا ۔
    • آپ صلى اللہ عليہ وسلم کے دیدار کی تمنا ایک نیک خواہش اور محب رسول ہونے کی دلیل ہے ۔
    • سارے مسلمان بحیثیت ایک مسلمان نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کے بھائی ہیں ، البتہ بحیثیت مقام و مرتبہ کے کوئی بھی آپ کا ہم پلہ نہیں ہے ۔
    • صحابہ کرام کی فضیلت کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں صحبت نبوی سے نوازا ہے ۔
     
  2. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,242
    موصول پسندیدگیاں:
    11,521
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: خواب میں دیدار نبی صلی اللہ علیہ وسلم

    مسلسل راہ حق اختیار کرنے والوں کو اللہ سبحانہ و تعالی کی ذات باری ایک انعام سے نوازتی ہیں جسے نفس مطمئنہ کہتے ہیں۔ یہ وہ انعام ہے جہاں آپ اللہ سبحانہ وتعالی سے راضی اور اللہ سبحانہ و تعالی آپ سے راضی ہوجاتے ہیں۔

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات مبارکہ کی زیارت ہماری زندگی میں سب سے بڑا انعام ہے۔ یہ خالصتا اللہ سبحانہ و تعالی کا خاص کرم ہے۔ جو اللہ سبحانہ و تعالی صرف اپنے خاص خاص بندوں کو انعام کرتے ہیں۔

    اس مقام کے حصول کیلئے درج ذیل بنیادی خواص درکار ہیں:۔

    1۔ ہر وقت وضو میں رہیں۔
    2۔ غیر محرم سے پردہ داری رکھیں (مرد اور خواتین دونوں پہ یکساں پردے کا حکم ہے)۔
    3۔ پاکیزگی اختیار کریں۔
    4۔ نمازیں وقت پہ ادا کریں۔
    5۔ روزے رکھیں اور سادگی اختیار کریں۔
    6۔ تمام لغویات سے اجتناب کریں۔
    7۔ خیرات دیں اور فلاح و بہبود کے کاموں میں (بے لوث) حصہ لیں۔
    8۔ برائی کو روکیں اور اچھائی کی ترغیب دیں۔
    9۔ والدین کی قدر و منزلت کا حق ادا کریں۔
    10۔ دل کو ، حسد، کدورت، عناد اور دشمنی کے عناصر سے پاک رکھیں۔
    11۔ اپنی خواہشوں کو اللہ سبحانہ و تعالی کی اطاعت کے تابع کریں۔
    12۔ عفو و درگزر سے کام لیں۔ آپ قصور وار نہیں تو بھی اصل قصوروار کو معاف کردیں؛ آپ کے درجات بلند ہوجائیں گے اور آسمانوں میں آپ کا چرچا ہوگا۔۔۔
    13۔ زیارت رسول کےمتمنی مومن و مومنہ کو چاہیے کہ تہجد کا باقاعدہ اہتمام کریں۔ سب سے افضل عبادت تہجد کی عبادت ہے۔۔۔۔۔
    دین کی راہ اختیار کرنے کے بے شمار فوائد ہیں مثلا:-
    آپ ہر بلا سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔
    آپ اپنے آپ کو اللہ سبحانہ و تعالی کی امان میں محسوس کرتے ہیں۔
    ہر مشکل گھڑی میں اللہ سبحانہ و تعالی آپ کو اطمینان اور صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور حوصلہ عطاء فرماتے ہیں۔
    آپ کو بیرونی خوف ہوتا ہے اور نہ اندرونی حزن کا شائبہ۔

    نوٹ:-
    دنیاوی اور سماوی معاملات یکسر مختلف ہیں۔ یہاں حسب نسب، عہدہ، میل ملاپ، ذاتی مفادات اور نجانے کون کون سی مصلحتوں کے پیش نظر ہر قانون اور ہر قدر کو پائمال کردیا جاتا ہے۔ مگرسماوی معاملات میں ہر فیصلہ قانون قدرت کے مطابق ہوتا ہے۔
    اللہ سبحانہ و تعالی کے ہاں چھوٹے سے چھوٹا فعل بھی رقم کیا جاتا ہے تاکہ انصاف اور معیار کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ ہو ۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں