1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

حکایت سعدی ، غریب بچے کے دانت

'اردو ادب' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏13 اکتوبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    1,442
    موصول پسندیدگیاں:
    190
    ملک کا جھنڈا:
    حکایت سعدی ، غریب بچے کے دانت
    [​IMG]
    بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مفلس کے شیر خوار بچے کے دانت نکلنے شروع ہوئے تو وہ بہت پریشان ہوا۔ سوچنے لگا، دانت نکلے ہیں تو اب یہ روٹی بھی مانگے گا۔ ادھر اپنا حال یہ ہے کہ بمشکل گزارا ہوتا ہے۔ اس نے بہت غور کیا لیکن اپنے بیٹے کے کھانے پینے کے انتظام کرنے کے سلسلے میں اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ لیکن جب اس نے اپنی بیوی سے اس بارے میں گفتگو کی تو اس نے بہت اعتماد سے کہا کہ تُو یہ فکر اپنے سر نہ لے کہ اگر تُو اس کی غذا فراہم نہ کرے گا تو بچہ مرجائے گا۔ جس نے اسے دانت بخشے ہیں وہ یقینا کھانے کو بھی دے گا۔ کیا تُو نہیں جانتا کہ جب کوئی شخص غلام خریدتا ہے تو اس کے کھانے پینے کا انتظام بھی کرتا ہے۔ کیا تجھے اپنے خدا پر اتنا بھروسا بھی نہیں ہے جتنا ایک غلام کو اپنے آقا پر ہوتا ہے۔ عورت نے مزید کہا، اصل مسئلہ تو دل کا حرص و ہوس سے پاک ہونا ہے۔ جب انسان کے دل کو پاکیزگی حاصل ہو جاتی ہے تو اس کے نزدیک مٹی اور سونا برابر ہو جاتے ہیں، اور یہ پاکیزگی حاصل نہ ہو تو بادشاہ بن کر بھی انسان مزید ملک حاصل کرنے کی تمنا کرتا ہے وہ رزاقِ حقیقی رزق کرتا ہے عطا سب کو ہو مفلس یا تونگر سب اسی کے در سے پاتے ہیں وہ ناداں ہے جو کہتا ہے ہنر ہے کارگر اس کا حقیقت تو بس اتنی ہے وہ دیتا ہے تو کھاتے ہیں حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں ایک ایسی عمدہ بات بتائی ہے کہ اگر اسے پوری طرح ذہن نشین کر لیا جائے تو تفکرات کا خاتمہ ہو جائے اور بغیر کسی کوشش کے ہزارہا فتنوں کا سدباب ہو جائے۔ جو بات قریب قریب ہر شخص کو پریشان رکھتی ہے اور بے ایمانی کرنے پر بھی آمادہ کر دیتی ہے وہ اولاد کے مستقبل کی فکر ہے۔ میرے بچے میرے بعد کیا کریں گے؟ ان کا گزارا کس طرح ہو گا؟ میں اپنے بچوں کے لیے اتنا تو چھوڑ جاؤں کہ وہ دال روٹی کی فکر سے آزاد رہیں۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو بہ استثنائے چند سبھی سوچتے ہیں اور ان میں سے بہت سے طرح طرح کے فتنوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ حضرت سعدیؒ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جو ہمارا رزاق ہے وہی ہمارے بچوں کا بھی ہے۔ پھر ہمیں ناحق کی فکر مول لینے کی کیا ضرورت ہے۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں