1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

حضور نبی اکرم(ص) اور اہل اللہ سے وسیلہ حاصل کرنا

'تعلیماتِ قرآن و حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از نعیم, ‏22 نومبر 2007۔

  1. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    عَنْ اَنَسٍ رضي اللہ عنہ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضي اللہ عنہ کَانَ اِذَا قُحِطُوْا اسْتَسْقَي بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضي اﷲ عنھما فَقَالَ : اَللَّھُمَّ اِنَّا کَنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَيْکَ بِنَبِيِنَا فَتَسْقِيْنَا، وَاِنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَيْکَ بِعَمِّ نَبِيِنَا فَاسْقِنَا، قَالَ : فَيُسْقَوْنَ. رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ خُزَيْمَۃَ وَابْنُ حِبَّانَ.

    (البخاري في الصحيح، کتاب : الاستسقاء، باب : سُؤَالِ النَّاسِ الامام الاستسقاء اِذا قَحَطُوا، 1 / 342، الرقم : 964، وفي کتاب : فضائل الصحابہ، باب : ذکر العَبَّاسِ بنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ رضي اﷲ عنھما، 3 / 1360، الرقم : 3507، وابن خزيمہ في الصحيح، 2 / 337، الرقم : 1421، وابن حبان في الصحيح، 7 / 110، الرقم : 2861، والطبراني في المعجم الاوسط، 3 / 49، الرقم : 2437، والبيھقي في السنن الکبري، 3 / 352، الرقم : 6220، والشيباني في الآحاد والمثاني، 1 / 270، الرقم : 351، واللالکائي في کرامات الاولياء، 1 / 135، الرقم : 87 وابن عبد البر في الاستيعاب، 2 / 814، وابن جرير الطبري في تاريخ الأمم والملوک، 4 / 433.)

    ’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب قحط پڑ جاتا تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے وسیلہ سے بارش کی دعا کرتے اور عرض کرتے : اے اللہ! ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ پکڑا کرتے تھے تو تو ہم پر بارش برسا دیتا تھا اور اب ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معزز چچا جان کو وسیلہ بناتے ہیں کہ تو ہم پر بارش برسا۔ فرمایا : تو ان پر بارش برسا دی جاتی۔‘‘
     
  2. زاہرا
    آف لائن

    زاہرا ---------------

    شمولیت:
    ‏17 نومبر 2006
    پیغامات:
    4,208
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    سبحان اللہ ۔ سبحان اللہ ۔ کیا ایمان افروز حدیث پاک ہے۔ پڑھ کر دل میں آقانبی کریم :saw: اور انکی اہلبیت پاک کی محبت کے چراغ جل جاتے ہیں۔
     
  3. عقرب
    آف لائن

    عقرب ممبر

    شمولیت:
    ‏14 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    3,201
    موصول پسندیدگیاں:
    199
    نعیم صاحب۔ اللہ آپ کو جزادے ۔ آپ نے ایمان تازہ کر دیا۔ سبحان اللہ
     
  4. محمدعبیداللہ
    آف لائن

    محمدعبیداللہ ممبر

    شمولیت:
    ‏23 فروری 2007
    پیغامات:
    1,054
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    ملک کا جھنڈا:
    ماشاء اللہ ،جزاک اللہ نعیم بھائی
     
  5. کاشفی
    آف لائن

    کاشفی شمس الخاصان

    شمولیت:
    ‏5 جون 2007
    پیغامات:
    4,774
    موصول پسندیدگیاں:
    16
    سبحان اللہ
    جزاک اللہ
     
  6. برادر
    آف لائن

    برادر ممبر

    شمولیت:
    ‏21 اپریل 2007
    پیغامات:
    1,227
    موصول پسندیدگیاں:
    78
    سبحان اللہ ۔

    اللہ تعالی ہمیں خلفائے راشدین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ جیسی محبتِ و اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خیرات عطا فرمائے۔ آمین
     
  7. محمدعبیداللہ
    آف لائن

    محمدعبیداللہ ممبر

    شمولیت:
    ‏23 فروری 2007
    پیغامات:
    1,054
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    ملک کا جھنڈا:
    ثم آمین
     
  8. نور
    آف لائن

    نور ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جون 2007
    پیغامات:
    4,021
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    سبحان اللہ۔ ایسی مستند احادیث کے باوجود حیرت ہے کہ لوگ کیسے اتنے عظیم ایمانی حقائق کا انتظار کر دیتے ہیں۔

    اللہ پاک ہم سب کے دلوں کو نورِ ایمان عطا فرمائے۔آمین
     
  9. الطاف حسین
    آف لائن

    الطاف حسین ممبر

    شمولیت:
    ‏6 فروری 2007
    پیغامات:
    47
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    ٘ماشا ءللہ

    مندرجہ بالا حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے سامنے پاک ہستیوں کا نام لیا جاے تو اللہ کی رحمت متوجہ ہوتی ہے۔سبحان اللہ ۔ اللہ سے مانگنا حضور نبی کریم :saw: کی سنت مبارکہ ہے ۔اور جو نبی کریم :saw: کی سنت پر عمل کرے گا وہ اللہ کی رضا مندی اور رحمت کو حاصل کرنے والوں میں شامل ہو جاے گا۔۔۔۔۔
     
  10. نوید
    آف لائن

    نوید ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مئی 2006
    پیغامات:
    969
    موصول پسندیدگیاں:
    42
    ملک کا جھنڈا:
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    امید ہے کہ خیریت سے ہونگے سب لوگ

    اس بارے مزید جاننے کے لیے ‌ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی کتاب عقیدہ توسل کا مطالعہ فرمائیں
    http://www.minhajbooks.com/books/index. ... mg&lang=ur
     
  11. برادر
    آف لائن

    برادر ممبر

    شمولیت:
    ‏21 اپریل 2007
    پیغامات:
    1,227
    موصول پسندیدگیاں:
    78
    Re: ٘ماشا ءللہ

    درست فرمایا۔ اب اگر واقعی آپ نے دل سے اس بات کو ثابت کر لیاہے تواگلے پیغام میں حدیثِ رسول :saw: پر عمل کرتے ہوئے سیدنا عمر :rda: جیسے عظیم المرتبت صحابیء رسول :saw: کے طریقے اور عقیدے کے مطابق سیدنا عباس :rda: یا حسنین کریمین رضوان اللہ عنھما اور اہلبیت اطہار کے وسیلے سے اپنے لیے، میرے لیے اور ساری امت مسلمہ کی ہدایت کے لیے دعا مانگئیے تاکہ ہم سب اللہ تعالی کی رحمت و رضا کے حقدار بن سکیں۔ :)

    شکریہ
     
  12. باذوق
    آف لائن

    باذوق مشتاق

    شمولیت:
    ‏17 ستمبر 2006
    پیغامات:
    77
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    یہ حدیث تو "وسیلہ" کے معاملے میں بہت واضح دلیل ہے کہ ۔۔۔ دعا صرف انہی سے کروائی جا سکتی ہے جو ہمارے سامنے زندہ ہوں۔ اور جو فضیلت رکھتے ہوں۔
    ورنہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ پر تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت ہے۔
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول و عمل صاف بتاتا ہے کہ پہلے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کے درمیان زندہ تھے تو انہی کے وسیلے سے دعا کروائی جاتی تھی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے دعا کروائی جانے لگی۔
     
  13. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    قرآن مجید کامل ہدایتِ ربّانی ہے۔ سراپا رشدوہدایت ہے۔ الحمد سے والناس تک سراپا نصیحت ہے۔ یہی ہمارا ایمان ہے۔ قرآن مجید میں نبوتِ محمدی :saw: سے قبل انبیائے کرام علیھم السلام اور انکی امتوں کےبیان کیے گئے احوال و واقعات امتِ محمدی :saw: کے لیے نصیحت و عبرت فراہم کرتے ہیں۔سورہ یوسف میں حضرت یعقوب علیہ السلام ، حضرت یوسف علیہ السلام اور انکی دیگر اولاد کے واقعات بیان فرمانے کے بعد آخر میں فرمایا :

    لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِھِمْ عِبْرَۃٌ لِّاُوْلِي الْاَلْبَابِ مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَى وَلَـكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْہ وَتَفْصِيلَ كُلَّ شَيْءٍ وَھُدًى وَرَحْمَۃً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَO (یوسف :111)

    بےشک ان کے قصوں میں عقل والوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ کوئی گھڑی ہوئی بات نہیں بلکہ یہ (قرآن) تو جو کچھ انکے سامنے والی (آسمانی کتب) کی تصدیق ہے- ہر بات کی تفصیل ہے۔ اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

    آئیے دیکھتے ہیں کہ متعلقہ موضوع پر اسی سورت میں قرآن مجید ہمیں کیا رہنمائی عطا فرماتا ہے۔ قربان جائیں قدم قدم پر انبیائے کرام کی شان، عظمت، ان کے اجسام سے مس ہوجانے والی اشیاء سے توسل و تبرک کا اظہار ہوتا ہے۔

    مذکورہ بالا سورت میں اللہ تعالی نے جلیل القدر انبیاء حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیھما السلام کا واقعہ بیان فرمایا ہے کہ جب حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی ختم ہوگئی تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فقط اپنا قمیص دے بھیجا اور فرمایا اسکو حضرت یعقوب علیہ السلام کے چہرے پر رکھ دینا۔ بینائی واپس آ جائے گی۔ فرمایا :

    اذْھَبُواْ بِقَمِيصِي ھَـذَا فَاَلْقُوہُ عَلَى وَجْہِ اَبِي يَاْتِ بَصِيرًا وَاْتُونِي بِاَھْلِكُمْ اَجْمَعِينَO
    میرا یہ قمیض لے جاؤ، پھر اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دینا، انکی بینائی واپس آجائے گی۔ اور (پھر) اپنے سب گھر والوں کو میرے پاس لے آؤ ۔ (یوسف : 93)

    اُدھر قافلہ مصر سے قمیض لے کر چلا تو حضرت یعقوب علیہ السلام کنعان میں بیٹھ کر فرماتے ہیں۔

    وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قَالَ اَبُوھُمْ اِنِّي لَاَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلاَ اَن تُفَنِّدُونِO
    اور جب (مصر سے) قافلہ روانہ ہوا ان کے والد (یعقوب علیہ السلام) نے (کنعان میں بیٹھے) فرما دیا: بیشک میں یوسف کی خوشبو پا رہا ہوں اگر تم مجھے بہکا ہوا خیال نہ کروo (یوسف: 94)

    سبحان اللہ ۔ قربان جائیں انبیائے کرام کی عظمت و رفعت پر کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی عطا کردہ صلاحیت سے سینکڑوں ہزاروں میل کے فاصلے سے اپنے بیٹے کی قمیض کی خوشبو سونگھ لی۔ تو سیدالانبیا نبی اکرم :saw: کی شان اور عظمت و رفعت کا عالم کیا ہوگا۔

    آگے فرمایا :

    فَلَمَّا اَن جَاءَ الْبَشِيرُ اَلْقَاہُ عَلَى وَجْہِہِ فَارْتَدَّ بَصِيرًا قَالَ اَلَمْ اَقُل لَّكُمْ اِنِّي اَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَO
    پھر جب خوشخبری والا آپہنچا اس نے وہ قمیض یعقوب (علیہ السلام) کے چہرے پر ڈال دیا تو اسی وقت ان کی بینائی لوٹ آئی، یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا میں تم سے نہیں کہتا تھا کہ بیشک میں اﷲ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتےo (یوسف:96)

    سوچنے کی بات یہ ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو لوٹائی گئی بینائی اللہ تعالی کی طرف سے ہے ۔ کیونکہ وہی خالق ومالک اور قادرِ مطلق ہے۔ وہی السمیع الدعاء ہے۔ لیکن یہاں اللہ تعالی نے خود ہی اپنے کلام میں یہ واقعہ بیان فرما کر بتلا دیا کہ اللہ تعالی کے مقرّب انبیائے کرام کہ جن سے بڑھ کر دنیا کا کوئی موحّد اور توحید پرست معرفتِ توحید کا دعویٰ نہیں کرسکتا وہ انبیائے کرام جنکا ہادی براہِ راست اللہ تعالی ہوتا ہے۔ وہ انبیائے کرام بھی وسیلہ اختیار فرماتے ہیں۔ اور اللہ رب العزت اس واقعے کو قرآن مجید کا حصہ بنا کر اہلِ ایمان کے لیے ایسے واقعات میں نصیحت و عبرت بناتا ہے۔

    اسی پر بس نہیں فرمایا۔ آگے دیکھیے اللہ تعالی کی شان کہ وہ خود وحدہُ لاشریک ذات ہے۔ خود غفورالرحیم ہے۔ خود غفارالذنوب ہے۔ خود السمیع الدعا ہے۔ اور انبیائے کرام سے بڑھ کر دنیا میں کون اللہ تعالی کی توحید کو زیادہ سمجھنے کا دعوی کرسکتا ہے ؟ خود انبیائے کرام کیا الفاظ استعمال فرما رہے ہیں۔

    قَالُواْ يَا اَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا اِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَO
    وہ بولے: اے ہمارے باپ! ہمارے لئے (اﷲ سے) ہمارے گناہوں کی مغفرت طلب کیجئے، بیشک ہم ہی خطاکار تھےo (یوسف:97)

    قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيَ اِنَّہُ ھُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُO
    (حضرت یعقوب علیہ السلام نے) فرمایا: میں عنقریب تمہارے لئے اپنے رب سے بخشش طلب کروں گا، بیشک وہی بڑا بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہےo (یوسف:98 )

    بخشش و مغفرت اللہ تعالی سے طلب کرنا مقصود ہو۔ خود سیدنا یعقوب علیہ السلام بھی فرما رہے ہیں کہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا اللہ سبحانہ تعالی ہی ہے۔ لیکن یہ نہیں فرما رہے کہ توحید پرست بنو، سیدھا اللہ تعالی سے جا مانگو۔ میرے پاس کیا لینے آ گئے ؟ اللہ تعالی کی ذات سننے والی، بلکہ وہ دلوں کا بھید جاننے والا اور غفورالرحیم ہے۔ سیدھا اسی سے بخشش طلب کرو۔ اور خود اللہ تعالی نے بھی اس موقع پر وحی نہیں فرمائی کہ اے میرے نبی یعقوب (علیہ السلام) ! انہیں کہو کہ نبی سے دعا کی التماس کرنے کی بجائے اور نبی کو درمیاں میں واسطہ اور وسیلہ بنانے کی بجائے سیدھا مجھ ہی سے مانگ لو۔
    اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی بابت بھی اللہ تعالی نے خود حضور نبی اکرم :saw: کو اپنی ذات کے وسیلے سے بخشش کی دعا کرنے کا حکم فرمایا۔

    فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَھُمْ
    پس آپ ان سے درگذر فرمایا کریں اور ان کی بخشش مانگا کریں (آل عمران:159)

    اسی طرح سورۃ النساء کی آیت 64 میں بھی ایسا ہی حکم واستغفر لھم الرسول فرما کر مومنین کو بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے توسل اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    یہاں بھی وہی نکتہ سامنے آتا ہے کہ اللہ تعالی خود غفورالرحیم ہے۔ لیکن وہ اپنے پیارے محبوب بندوں کے اٹھے ہوئے ہاتھوں کو دیکھتا اور لاج رکھتا ہے۔ ان آیاتِ مقدسہ کے مطالعہ سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ وسیلہ بنفسہِ قطعاً شرک نہیں ہے۔ البتہ اس بات پر کامل ایمان ہو مانگنا فقط اللہ رب العزت سے ہے جو خالق و مالک اور قادرِ مطلق ہے۔ مقربینِ بارگاہ الہی کا توسل اپنانا حق ہے ۔ حتی کہ قمیض والے واقعے سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ مقبولانِ الہیہ کے اجسام مقدسہ سے مس ہونے والے چیزیں بھی متبرک ہوجاتی ہیں اور فائدہ دیتی ہیں۔ اور وسیلہ اختیار کرنا اور تبرکات سے فائدہ حاصل کرنا سنتِ انبیاء ہے۔

    اس لڑی کے آغاز میں بیان کی گئی حدیث مبارکہ کی تائید میں اور بھی کئی احادیث مقدسہ ہیں ۔ مثلاً عمرو بن شعیب :rda: روایت کرتے ہیں۔ آپ نے اپنے والد سے اور انہوں نے دادا سے سنا ۔ آپکے دادا فرماتے ہیں کہ ہم حضور نبی اکرم :saw: کی خدمت میں حاضر تھے جب قبیلہ بنو ھوازن کے ایلچی آئے اور کہا : اے محمد :saw: ہم سب ایک ہی اصل اور قبیلہ سے ہیں اور جو مصیبت ہم پر ٹوٹی ہے وہ آپ سے پوشیدہ نہیں، لہذا نظرِ کرم فرمائیے۔ آپ :saw: نے فرمایا دو چیزوں میں سے ایک اختیار کرلو۔ یا اپنا مال ودولت لے جاؤ یا اپنی عورتیں آزاد کروالو۔ انہوں نے عورتوں اور بچوں والی پیشکش اختیار کی۔ پھر رسول اللہ :saw: نے فرمایا ۔ جس قدر میرا اور حضرت عبدالمطلب کی اولاد کا (مالِ غنیمت سے) حصہ ہے میں وہ تم کو دے چکا ۔ لیکن جب میں ظہر کی نماز پڑھ لوں تو تم سب کھڑے ہو کر یوں کہو :
    انا نستعین برسول اللہ علی المومنین او المسلمین فی نساءنا و اموالنا۔
    ہم اللہ کے رسول ( :saw: ) کے وسیلہ سے مومنوں یا مسلمانوں سے اپنی عورتوں اور مالوں میں مدد چاہتے ہیں۔ (النسائی 2: 136)

    راوی بیان کرتے ہیں جب لوگ نماز سے فارغ ہوگئے تو انہوں نے ایسے ہی کہا۔
    اب یہ الفاظ خود زبانِ نبوت :saw: سے جاری ہوئے ہیں۔ لڑی کے آغاز میں بیان کی گئی حدیث پاک کی طرح یہ حدیث بھی جوازِ توسّل کی بہت بڑی دلیل ہے۔ جس میں نہ صرف رسول اللہ :saw: بلکہ مومنین سے بھی مدد طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
    اسی طرح ایک اور طویل حدیث پاک میں حضور نبی اکرم :saw: نے خود اپنے اور گذشتہ انبیائے کرام علیھم السلام کے وسیلے سے بھی دعا فرما کر اسے اپنی سنت بنایا۔
    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ جب حضرت علی بن ابی طالب کی والدہ فاطمہ بنتِ اسدبن ہاشم فوت ہو گئیں تو حضور نبی اکرم :saw: تشریف لائے۔ آپ کے سرہانے بیٹھ گئے اور فرمایا: اے امی جان! اللہ تعالی آپ پر رحم فرمائے۔ میری والدہ ماجدہ کے بعد آپ ہی میری ماں تھیں۔ آپ مجھے بھوک میں سیر ہو کر کھلاتی اور خود بھوکی رہتی تھیں۔ آپ مجھے پہناتی تھیں اور اچھی چیزیں خود کھانے کی بجائے مجھے کھلاتیں۔ آپ یہ سب کچھ اللہ کی رضااور روزِ آخرت کے لیے کرتی تھیں۔ پھر حضور نبی اکرم :saw: نے فرمایا کہ ان کو تین مرتبہ غسل دیا جائے۔ پھر جب کافورملا پانی لایا گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی انڈیل کر اپنے ہاتھوں میں لیا پھر اپنی قمیض اتاری اور انہیں (فاطمہ بنتِ اسد) کو پہنا دی اور اپنی چادر سے انہیں کفن پہنایا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ بن زید، حضرت ابوایوب انصاری اور حضرت عمر بن خطاب رضوان اللہ علیھم اور حبشی غلام کو بلایا کہ وہ قبر کھودیں۔ پس انہوں نے قبر کھودی اور حضور نبی اکرم :saw: نے اپنے ہاتھوں سے مٹی نکالی۔ فارغ وکر حضور :saw: اس میں لیٹ گئے۔ پھر فرمایا۔

    ثم قال: اللہ الذی یُحیی ویُمیت وھو حَیّی لا یموت، اغفرلامیّ فاطمۃ بنتِ اسد ولِقّنھا حُجّتھا، ووَسِع علیھا مُدخَلھا بحق نبیک و الانبیاء الذین مِن قبلی۔ فانک ارحم الراحمین۔ وکبّرعلیھا اربعا و ادخلوھا اللحدھو والعباس و ابوبکر الصدیق۔
    آپ :saw: نے فرمایا : اے اللہ ! جو زندگی اور موت دیتا ہے اور خود ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے، اسے موت نہیں ۔ (اے اللہ) ! تو میری ماں فاطمہ بنتِ اسد کی مغفرت فرما اور ان کو سوالات کو موقع جوابات کی تلقین فرما دے اور اپنے نبی (محمد :saw: ) اور ان انبیائے علیھم السلام کے وسیلہ سے جو مجھ سے پہلے تھے، ان کی قبر کو وسیع فرما دے۔ بیشک تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم والا ہے۔ (پھر آپ :saw: ) نے چارمرتبہ تکبیر (نمازجنازہ) کہی۔ اور پھر آپ :saw: نے حضرت عباس اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنھما نے انہیں لحد میں اتار دیا۔
    (المعجم الکبیر للطبرانی 2:24- 351، رقم871۔ المعجم الاوسط للطبرانی، 3:1-152، رقم:191، حلیۃ الاولیاء لابی نعیم، 121:3، مجمع الزوائد 7:9۔256)
    امام ابنِ حبان اور امام حاکم نے راوی کو ثقہ قرار دیا ہے۔ محمود سعید ممدوح بھی اس حدیث کو حسن قرار دیتے ہیں۔

    اس حدیث پاک میں حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیض کی طرح خود حضور نبی اکرم :saw: کی قمیض مبارکہ کی برکت کی خبر ملتی ہے۔

    آئیے کچھ احادیث مبارکہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا عقیدہ بھی دیکھیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تبرکات مقدسہ سے کیسے فیضیاب ہوتے تھے۔

    جبہء رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے توسل سے حصولِ شفاء :

    حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کسروانی طلیلسان کا جبہ نکالا جس کے گریبان اور چاکوں پر ریشم کا کپڑا لگا تھا۔ کہنے لگیں : یہ حضرت عائشہ کے پاس تھا جب وہ فوت ہوئیں تو میں نے لے لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسکو پہنتے تھے۔ ہم بیماروں کیلیئے اسکو دھوتے اور اسکے ساتھ بیماروں کے لیے شفاء طلب کرتے ہیں۔“ (صحیح مسلم 2: 190، سنن ابو داؤد 2:206، سنن ابن ماجہ 265، مسند احمد بن حنبل 6: 347-8 الطبقات الکبری 1: 454)
    امام نووی نے اس حدیث کی شرح پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا
    اس حدیث میں صالحین کے آثار اور ان کے کپڑوں سے برکت حاصل کرنے کا استحباب پر دلیل ہے۔ (شرح الصیح مسلم 2: 191)

    نعلینِ مصطفیٰ سے حصولِ برکت :

    صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عیسی بن طہمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت انس:rda: نے ہمیں دو پرانے نعلین مبارک نکال کر دکھائے ان میں سے ایک ایک کے دوتسمے تھے پھر ثابت بنانی نے اسکے بعد حضرت انس :rda: سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ یہ دونوں حضور اکرم :saw: کے نعلین مبارک ہیں۔
    (البخاری 1: 438، شمائل ترمذی 7)
    امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ نعلین پاک کی فضیلت پر لکھتے ہیں۔ کہ نعلین پاک کی فضیلت، منفعت اور برکت میں سے ایک وہ ہے جو صالح شیخ ابوجعفر بن عبدالمجید نے بیان کی ۔ وہ کہتے ہیں میں نے نعلین پاک کا نمونہ اپنے ایک طالب علم کو دیا۔ ایک دن وہ میرے پاس آ کر کہنے لگا کہ کل میں نے نعلین پاک کی عجیب برکت دیکھی۔ میری بیوی شدید درد کی وجہ سے قریب المرگ تھی میں نے نعلین پاک کو درد کی جگہ پر رکھا اور کہا: اے اللہ ! مجھے اس نعلین کے مالک :saw: کی کرامت دکھا۔ اللہ تعالی نے کرم فرمایا اور میری بیوی فوراً صحت یاب ہو گئی ۔ (امام قسطلانی، المواہب اللدنیۃ، 2: 466۔7)

    موئے مبارک سے محبت، توسل اور عملِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین

    حضرت انس راوی ہیں کہ جب حضور :saw: حج کے موقع پر قربانی سے فارغ ہوئے تو آپ نے حجام کے سامنے اپنے سرمبارک کا دایاں حصہ کیا، اس نے بال مونڈھ دیے، پھر آپ نے حضرت طلحہ :rda: کو بلایا اور وہ بال ان کو دے دئے، پھر اسکے بعد حجام کے سامنے دوسری طرف (بائیں) فرمائی۔ اس نے ادھر کے بال بھی مونڈھ دیے۔ آپ :saw: نے وہ بال بھی حضرت ابوطلحہ :rda: کو دیے اور فرمایا :

    فقال: اقسمہ بین الناس ۔ (یہ بال) لوگوں‌میں‌بانٹ دو۔
    (صحیح مسلم 1: 421، سنن ابوداؤد 1: 279، جامع الترمذی 1: 111، مسند احمد بن حنبل 3: 214، 208)
    ابنِ سیریں رح بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبیدہ سے کہا کہ ہمارے پاس نبی اکرم :saw: کے بال مبارک ہیں جن کو میں حضرت انس یا انکے گھر والوں سے حاصل کیا ہے۔ عبیدہ رض نے کہا اگر ان میں سے ایک بال میرے پاس ہو تو وہ بال مجھے ساری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے زیادہ محبوب ہے۔ (السنن اکبریٰ للبیہقی 7: 8-67)

    حافظ ابن حجر رح فرماتے ہیں “اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک سے برکت کے حصول کا بیان ہے۔ (فتح الباری 1: 474)

    حضرت عثمان بن عبداللہ بن موہب بیان کرتے ہیں۔
    مجھے میرے گھر والوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پانی کا ایک پیالہ دے کر بھیجا اسرائیل نے تین انگلیاں پکڑ کر اس پیالے کی طرح بنائیں جس میں نبی اکرم :saw: کا موئے مبارک تھا، جب کبھی کسی کو نظر لگ جاتی یا کوئی تکلیف پہنچتی تو وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کےپاس کوئی برتن بھیج دیتا۔ پس میں نے برتن میں جھانک کر دیکھا تو میں نے چند سرخ بال دیکھے۔ (صحیح بخاری 2: 875، البدایۃ والنہایہ 4: 390)

    علامہ بدالدین عنی رح فرماتے ہیں
    حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس حضور :saw: کے موئے مبارک چاندی کی بوتل میں‌تھے۔ جب لوگ بیمار ہوتے تو وہ ان بالوں سے برکت حاصل کرتے اور انکی برکت سے شفا پاتے۔ اگر کسی کو نظر لگ جاتی یا کوئی بیمار ہو جاتا تو وہ اپنی بیوی کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس برتن دے کر بھیجتے جس میں پانی ہوتا اور اس پانی میں سے بال مبارک گذار دیتیں اور بیمار وہ پانی پی کر شفایات ہوجاتا اور اسکے بعد موئے مبارک جلجل میں رکھ دیا جاتا۔ (عمدۃ القاری 22: 49)

    حضرت صفیہ بنت نجدہ سے مروی ہے کہ حضرت خالد بن ولید :rda: کی ٹوپی میں حضور :saw: کے چند موئے مبارک تھے۔ جب وہ ٹوپی کسی جہاد میں گر پڑی تو اسکے لینے کے لیے تیزی سے دوڑے اور اس جہاد میں بکثرت صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم شہید ہوئے تو لوگوں نے آپ پر اعتراض کیا ۔ تو آپ نے فرمایا : میں نے صرف ٹوپی کے حصول کے لیے اتنی تگ ودو نہیں کی بلکہ :
    بل لما تضمنتہ من شعرہ (صل اللہ علیہ وسلم) لئلا اسلب برکتہا و تقع فی ایدی المشرکین“
    اس ٹوپی مبارک میں حضور :saw: کے موئے مبارک تھے۔ مجھے خوف ہوا کہ کہیں اسکی برکت سے محروم نہ ہوجاؤں اگر وہ مشرکین کے ہاتھ لگ گئی۔ “ (قاضی عیاض الشفاء 2: 219)

    شہرِ نبی :saw: کی مٹی، لعاب دہن سے شفایابی

    حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم :saw: فرمایا کرتے تھے
    بسم اللہ، تربۃ ارضِنا، و ریقۃ بعضنا یُشفی سقیمنا، باِذن ربنا“
    اللہ کے نام سے، ہماری زمین کی مٹی،اور ہم میں سے کسی کے لعاب دہن سے، ہمارا بیمار، اللہ کے حکم سے شفا پائے گا۔ (متفق علیہ)
    (صحیح البخاری 2: 855، المسلم 2: 223، مسند احمد بن حنبل 6: 93)

    قرآنی آیات اور مندرجہ بالا احادیث پاک کی معتبر کتب سے واضح ہوجاتا ہے کہ مقرّبین الہی سے منسوب آثار و تبرکات فیض رساں اور پر تاثیر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی کی بارگاہ میں ان سےتبرکات سے توسل حاصل کر کے فیضیاب ہونا عملِ صحابہ و اسلاف سے ثابت ہے۔

    آخر میں عرض کرتا ہوں کہ اس تحریر کی چھان بین کے بعد اگر کوئی آگے بیان کرنا چاہے تو علمِ نافع کے فروغ کی نیت سے بصد شوق کر لیں۔ شکریہ ۔
     
  14. آبی ٹوکول
    آف لائن

    آبی ٹوکول ممبر

    شمولیت:
    ‏15 دسمبر 2007
    پیغامات:
    4,163
    موصول پسندیدگیاں:
    50
    ملک کا جھنڈا:
    حضور آپ کی بات بالکل بجا اورآپ کا دیا ہو ا اصول سر آنکھوں پر کہ دعا صرف زندہ اور فضیلت والے سے کروائی جاسکتی ہے لیکن کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ جب ساری امت کا یہ عقیدہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ افضل یعنی فضیلت والے چاروں خلفائے راشدین ہیں بالترتیب تو پھر حضرت عمر کی موجودگی میں حضرت عباس سے دعا کروانا چہ معنی دارد ؟ آپ کے اصول کے مطابق تو پھر یہ دعا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خود کرنی چاہیے تھی لیکن انھوں نے نہیں کی بلکہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو آگے کیا کیوں ؟آخر کیوں کاش کہ آپ کی بصیرت یہ راز سمجھ سکتی کہ حضرت عباس کو دعا کے لیے آگے کرنا صرف فضیلت کے لیے نہیں تھا کیوں کہ امت کے نزدیک حضرت عمر کی ان پر فضیلت قائم تھی لیکن حضرت عباس کو جو خاندان نبوت سے نسبت تھی یعنی کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے بس اسی ایک نسبت کی وجہ سے ان کو دعا کے لیے آگے کیا گیا تھا یہاں بھی جو دعا کر وائی گئی وہ اصل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ہی سے تھی اور آپ ہی کے وسیلے سے تھی کیوں کہ حضرت عباس آپ کے چچا تھے اور اس چچا والی نسبت کی فضیلت کو بطور وسیلہ یہاں پر پیش کیا گیا ہے بلکہ بعض احادیث میں اس امر کی وضاحت خود حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے اقوال سے بخوبی ہوجاتی ہے کہ انھیں بطور وسیلہ پیش کرنا صرف اور صرف نسبت خاندان نبوت کی وجہ سے تھا وگرنہ اگر بات بقول آپ کے صرف فضیلت کی ہوتی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان پر فائق تھے۔

    آپکی اس بات کے جواب میں بھی یہ عرض کر وں گا زخیرہ احادیث میں ایسی بے شمار احادیث ہیں کہ جن میں صریحا صحابہ کرام کا آ کو آپ کے ظاہری وصال مبارک کے بعد بطور وسیلہ اللہ کی بارگاہ میں پیش کرنا ثابت ہے اور ایسی احادیث محتاج بیان ہر گز نہیں ہیں۔
     
  15. برادر
    آف لائن

    برادر ممبر

    شمولیت:
    ‏21 اپریل 2007
    پیغامات:
    1,227
    موصول پسندیدگیاں:
    78
    نعیم بھائی آپ کی تحقیقی تحریر اور آبی بھائی آپ کی ایمان افروز دلیل کے نتیجے میں بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی بے شک سمیع و بصیر ہے ۔ وہ ہر بندے کی سنتا ہے لیکن اللہ تعالی کو پسند یہ ہے اور اسکے پیارے نبی :saw: کے تربیت یافتہ پیارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کا طریقہ اور اعتقاد یہ ہے کہ جب اللہ تعالی کو اسکے مقربین کا وسیلہ دے کر مانگاجائے تو قبولیت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

    جزاک اللہ الخیر
     
  16. آبی ٹوکول
    آف لائن

    آبی ٹوکول ممبر

    شمولیت:
    ‏15 دسمبر 2007
    پیغامات:
    4,163
    موصول پسندیدگیاں:
    50
    ملک کا جھنڈا:
    اسلام علیکم بھائی آپ نے بالکل بجا فرمایا اللہ ہم سب کو ایمان کی معرفت نصیب فرمائے ۔آمین ۔ اسی موضوع پر چند مزید دلائل پیش خدمت ہیں جو کہ میں نے ان پیج پر ترتیب دیئے ہیں۔

    [​IMG]
     
  17. آبی ٹوکول
    آف لائن

    آبی ٹوکول ممبر

    شمولیت:
    ‏15 دسمبر 2007
    پیغامات:
    4,163
    موصول پسندیدگیاں:
    50
    ملک کا جھنڈا:
  18. آبی ٹوکول
    آف لائن

    آبی ٹوکول ممبر

    شمولیت:
    ‏15 دسمبر 2007
    پیغامات:
    4,163
    موصول پسندیدگیاں:
    50
    ملک کا جھنڈا:
  19. نوید
    آف لائن

    نوید ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مئی 2006
    پیغامات:
    969
    موصول پسندیدگیاں:
    42
    ملک کا جھنڈا:
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    امید ہے کہ سب خیریت سے ہونگے

    میں اپنے اس اقتباس شدہ پیغام کو دوبارہ دہرا دیتا ہوں
    امید ہے کہ ساتھی بحث کی بجائے کچھ علم حاصل کرنے کی بھی کوشش کریں گے

    خوش رہیں
     
  20. عباس حسینی
    آف لائن

    عباس حسینی ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2009
    پیغامات:
    392
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    ملک کا جھنڈا:
    بنیادی سوال ان لوگوں‌سے ہے جو توسل کو نہیں مانتے؟
    ان کے پا س کیا دلیل ہے؟؟

    جب تک کسی کام کے بارے میں‌یہ معلوم نہ ہو کہ وہ حرام ہے اس وقت تک وہ کام جائز ہوتا ہے۔

    کیا ہم لوگ اپنی عملی زندگی میں‌وسیلہ سے کام نہیں‌لیتے؟؟وسیلہ کے بغیر تو کوئ کام ہوتا ہی نہں ہے۔۔

    قرآن نے نہیں‌کہا۔۔۔۔۔
    یا ایھا الذین آمنو ا و ابتغوا الیہ الوسیلہ۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  21. نور
    آف لائن

    نور ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جون 2007
    پیغامات:
    4,021
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    جزاک اللہ ۔
    ایمان افروز تحریر و تحقیق۔
    جزاک اللہ
     
  22. نور
    آف لائن

    نور ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جون 2007
    پیغامات:
    4,021
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    جزاک اللہ ۔ ایمان افروز تحریر۔
    جزاک اللہ۔
     
  23. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    36
    جزاک اللہ
     
  24. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    السلام علیکم محترم سید عباس حسینی بھائی ۔
    آپ نے درست فرمایا۔ بدقسمتی سے بعض اوقات اور بعض مسلمان اسلام کو اپنے من پسند تصورات و عقائد کے مطابق ڈھالنے کی سعی کرتے ہیں۔ اور قرآن و حدیث کی واضح دلیل کے باوجود بھی اپنے ذہنی فلسفے پر نہ صرف قائم رہتے ہیں بلکہ اصرار بھی کرتے ہیں۔

    اللہ کریم ہمیں اپنے دین مبین کی صحیح سمجھ اور اس پر عمل کی توفیق دے۔ آمین
     
  25. محمداکرم
    آف لائن

    محمداکرم ممبر

    شمولیت:
    ‏11 مئی 2011
    پیغامات:
    575
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: حضور نبی اکرم(ص) اور اہل اللہ سے وسیلہ حاصل کرنا

    [​IMG]

    اس لڑی کے بغور مطالعہ سے یہ بات بہت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ مستعانِ حقیقی تو بے شک اللہ تعالیٰ عز و جل ہی ہے، مگر خود اُسی نے فقط اپنے فضل و کرم کی بارش سے لوگوں کو مزید مستفید کرنے کیلئے توسل کا نظام قائم فرمایا جو کہ قرآنِ کریم اور حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ جن جن چیزوں سے توسل کیا جانا ثابت ہے ان میں اعمال صالحہ سے توسل، انبیاء و صالحین کی ذواتِ مقدسہ سے توسل (خواہ انکی حیات دنیوی میں یا حیات برزخی میں ہو) اور انکے تبرکات سے توسل شامل ہے۔اس موضوع پر نعیم بھائی، آبی بھائی اور نوید بھائی کی تحریریں ماشاءاللہ بہت ہی ایمان افروز ہیں۔ اتنی صریح آیات و احادیث کی تواتر کے ساتھ موجودگی کے باوجود ایک طبقے کا اسکو تسلیم نہ کرنا اور اپنے خود ساختہ تصورِ اسلام پر اصرار کرنا سوائے ہٹ دھرمی کے اور کچھ نہیں ہے، اور ہٹ دھرمی کا علاج دنیا میں موجود نہیں کہ یہ علاج تو آخرت میں ہی ہوگا جب سب اُمتیں ملکر انبیائے کرام علیہم السلام سے توسل کی گزارش کریں گی مگر ، ہرطرف سے "اذہبوا الیٰ غیری" کا جواب سننے کے بعد بالآخر یک زبان ہوکرہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ بےکس پناہ میں حاضر ہونگی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ جواب نہیں دیں گے کہ میرے پاس کیا لینے آئے ہو، سیدھا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جاکر اسی سے بخشش مانگو، بلکہ فرمائیں گے "انا لہا" لوگو تم بالکل ٹھیک مقام پر آئے ہو، یہ شرف تو اللہ نے مجھے ہی عطا فرمایا ہے۔ ذرا سوچئے کہ جو لوگ توسل کے منکر ہیں ، اُس دن جب آنکھیں کھلیں گی تو انکا کیا حال ہوگا؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو شعور عطا فرمائے۔ آمین!
     

اس صفحے کو مشتہر کریں