1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ

'عظیم بندگانِ الہی' میں موضوعات آغاز کردہ از صدیقی, ‏30 جون 2012۔

  1. صدیقی
    آف لائن

    صدیقی مدیر جریدہ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏29 جولائی 2011
    پیغامات:
    3,476
    موصول پسندیدگیاں:
    190
    ملک کا جھنڈا:
    حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ
    خالد محمد خالد

    مدینہ منورہ ایک روز پُرسکون خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا کہ اچانک اس کی گھاٹیوں کے پیچھے سے گہری گھٹا اٹھنا شروع ہوئی اور پھیلتے پھیلتے یہاں تک پہنچ گئی کہ قریب تھا کہ آسمان کو ڈھانپ لیتی۔ اُدھر ہوانے صحرا کی نرم وملائم ریت سے اٹھنے والی اس پیلی گرد کی موجوں کو تھپیڑے لگائے اور یہ مدینے کے دروازوں تک پہنچ گئی اور اس کے گلی کوچوں میں بُری طرح پھیل گئی۔لوگوں نے سمجھا کہ کوئی طوفان آگیا ہے جو ریت کو ہر جگہ بکھیررہا ہے لیکن جلد ہی اس گرد کے پیچھے ایک بہت بڑا شور سنائی دیا جو ایک لمبے چوڑے قافلے کے آنے کی خبر دے رہا تھا۔ کچھ وقت گزرا تو سامان سے لدی ہوئی سات سو سواریاں مدینہ کی شاہراہوں کو روند رہی تھیں۔ لوگ ایک دوسرے کو یہ منظر دکھانے کے لیے بلانے لگے تاکہ اس رزق و دولت کو دیکھیں اور خوش ہوں۔
    ٭٭
    اس بہت بڑے قافلے کی آوازیں کان میں پڑیں تو اُم المومنین سیدہ عائشہؓ نے استفسار کیا کہ یہ مدینہ میں کیا ہوگیا ہے؟ آپؓ کو جواب دیا گیا کہ یہ عبدالرحمنؓ بن عوف کا قافلہ ہے جو شام سے ان کا مالِ تجارت لے کر آیا ہے! اُم المومنین سیدہ عائشہؓ نے حیرت سے کہا: ’’قافلہ اتنا بڑا ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا: ’’ہاں اُم المومنین! یہ بہت بڑا قافلہ ہے، یہ ۷۰۰؍ سواریوں پر مشتمل ہے!‘‘اُم المومنین سیدہ عائشہؓ نے نفی میں سر ہلایا اور معاملے کی تحقیق کی خاطر خود قافلے کا جائزہ لینے کے لیے دور تک اپنی نظریں دوڑائیں۔ گویا آپؓ اس منظر کی یادیں تازہ کر رہی تھیں جو آپؓ دیکھ چکی تھیں یا اس حدیث کو ذہن میں لا رہی تھیں جو آپؓ نے سُن رکھی تھی۔ پھر آپؓ نے فرمایا: ’’میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ عبدالرحمنؓ بن عوف سست روی سے جنت میں داخل ہو رہے ہیں۔‘‘
    ٭٭

    جناب عبدالرحمنؓ بن عوف سست روی سے جنت میں داخل ہوں گے۔ آپؓ اپنے ساتھیوں کے ساتھ چھلانگیں لگاتے اور دوڑتے ہوئے کیوں داخل نہ ہوں گے؟ کسی نے جناب عائشہؓ کے یہ الفاظ جناب عبدالرحمنؓ تک پہنچا دیے تو آپؓ کو یاد آگیا کہ میں نے نبیﷺ سے یہ حدیث کئی بار اور کئی انداز میں سنی ہے۔
    پھر آپؓ نے فرمایا: ’’میں اس بات پر آپ کو گواہ بنا تا ہوں کہ یہ قافلہ اپنے سامان، کجاووں اور کجاووں سے نیچے ڈالے گئے کپڑوں سمیت راہِ خدا میں وقف ہے۔ میں ان ۷۰۰ سواریوں کا سامان ایک بہت بڑی تقریب میں مدینہ اور گردوپیشِ مدینہ کے لوگوں میںتقسیم کردوں گا!‘‘قارئین کرام! صرف یہی ایک واقعہ صحابی رسول جناب عبدالرحمنؓ بن عوف کی زندگی کی پوری پوری تصویر کھینچ دیتا ہے۔
    آپؓ اس قدر کامیاب تاجر تھے جس قدر کامیابی کا تصور کیا جا سکتا ہے اور اس قدر مالدار تھے جس قدر دولت و ثروت کی فراوانی کا خیال کیا جا سکتا ہے۔
    آپؓ ایسے عقلمند و دانش مند مومن تھے جو دین کا نقصان کرکے دنیا حاصل کرنے سے قطعی طور پر انکار کر دیتا ہے اور ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ اس کی دولت اسے قافلۂ ایمان سے دور اور جنت سے محروم رکھنے کا باعث بنے۔ آپؓ سخاوتوں، عطائوں اور ضمیر کی خوشی کے لیے دولت کو خوب بہاتے تھے۔
    ٭٭

    آئیے دیکھیں کہ یہ عظیم شخص اسلام میں کس طرح داخل ہوا؟ آپؓ اسلام کے ابتدائی ایام میں اسلام لے آئے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ دعوت کے ابتدائی لمحوں میں مسلمان ہوئے جبکہ ابھی رسول اللہﷺ دارِارقم میں داخل نہیں ہوئے تھے اور اس کو اپنے صحابہؓ سے ملاقات کا مرکز نہیں بنایا تھا۔ آپؓ ان 8 افراد میں سے ایک ہیں جنھیں قبولِ اسلام میں سبقت کا شرف حاصل ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے آپؓ، حضرت عثمان بن عفانؓ، حضرت زبیر بن عوامؓ، حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ پر اسلام پیش کیا تو معاملے کی حقیقت ان حضرات کی نظروں سے اوجھل ہوئی نہ شک ان کے قریب سے گزرا بلکہ یہ حضرات جلدی سے جناب صدیقؓ کی ہمراہی میں خدمت رسولﷺ میں حاضری کے لیے چل پڑے تاکہ آپؐ کے دست مبارک پر بیعت کرکے آپ ﷺ کا پرچم اٹھالیں۔اسلام لانے کے روز سے لے کر زندگی کے ۷۵ برس پورے کرکے اپنے رب سے جا ملنے تک آپؓ ایک عظیم مومن کا بہترین نمونہ رہے۔ یہی وجہ تھی کہ رسول اللہؐ نے آپؓ کو ان ۱۰ صحابہ میں شامل کیا جن کو جنت کی خوشخبری دی گئی اور جناب عمرؓ نے آپ کو ان 6 آدمیوں کی شوریٰ میں شامل کیا جن کے اوپر اپنے بعد خلافت کا معاملہ یہ کہتے ہوئے چھوڑا تھا کہ رسول اللہﷺ نے وفات پائی تو آپؐ ان سے راضی تھے۔ جناب عبدالرحمنؓ بن عوف کے قبولِ اسلام نے بھی قریش کے ظلم و ستم اور گالم گلوچ سے اپنا حصہ وصول کیا۔ جب بنیﷺ نے اپنے صحابہ کو حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کا حکم دیا تو جناب ابن عوفؓ حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ پھر اس کے بعد مکہ واپس لوٹ آئے اور بعدازاں ہجرت حبشہ ثانیہ کے موقع پر دوبارہ حبشہ چلے گئے اور پھر مدینے کی طرف بھی ہجرت فرمائی۔ بدر، احد اور دیگر تمام غزوات میں شریک ہوئے۔
    ٭٭

    آپؓ کو تجارت میں اس حد تک منافع ہوتا تھا کہ آپؓ خود اس سے حیران اور دہشت زدہ ہوگئے تھے۔ آپؓ کہا کرتے تھے ’’میرا اپنے بارے میں خیال ہے کہ میں اگر پتھر اٹھاتا ہوں تو اس کے نیچے سونا اور چاندی پاتا ہوں۔‘‘ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف کے نزدیک تجارت دولت کی حرص پوری کرنے اور اسے سینت سینت کر رکھنے کا ذریعہ نہ تھی بلکہ مال کو جمع کرنے اور دولت سے دل لگانے کی تو آپؓ کو قطعاً کوئی طمع نہ تھی، آپؓ تو اسے ایک فرض اور ذمے داری سمجھتے تھے۔
    جناب ابن عوفؓ بھرپور طبیعت کے مالک تھے اور آپؓ کی اس طبیعت کو ہر اچھے عمل میں سکون و راحت ملتی تھی خواہ وہ کہیں بھی ہو۔ آپؓ اگر مسجد میں نماز نہ پڑھ رہے ہوتے یا میدان میں جہاد نہ کررہے ہوتے تو اپنی اس تجارت میں مشغول ہوتے جو حیران کن حد تک نشوونما پا رہی تھی۔ یہاں تک کہ آپؓ کے تجارتی قافلے مصر و شام سے کپڑا اور اناج میں سے ہر وہ چیز لے کر مدینہ آ رہے تھے جس کی جزیرۂ عرب کو ضرورت ہوتی۔آپؓ کی اس بھرپور طبیعت کی نشاندہی ہمیں اسی روز ہو جاتی ہے جب مسلمان مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تھے اور رسول اللہؐ نے مہاجرین و انصار کے درمیان مؤاخات قائم کی تھی اوریہ مؤاخات بھی ایسے حیران کن طریقے سے اِتمام کو پہنچتی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ مدینے کا انصاری اٹھتا اور اپنی ہر چیز کو اپنے مہاجر بھائی کے لیے تقسیم کردیتا ہے یہاں تک کہ اپنے بستر کی تقسیم کی پیشکش بھی کرتا ہے۔ یعنی اگر وہ 2 بیویوں کا شوہر ہے تو ایک کو طلاق دے دینے کا ارادہ ظاہر کرتا ہے تاکہ اس کا بھائی اس عورت سے شادی کرلے۔ رسول اللہﷺ نے جناب عبدالرحمنؓ بن عوف کا بھائی جناب سعدؓ بن ربیع کو بنایا۔ ہم اس واقعہ کا بیان مشہور صحابی جناب انس بن مالکؓ سے سنتے ہیں۔ آپؓ فرماتے ہیں:’’سعدؓ نے عبدالرحمنؓ سے کہا ’’بھائی! میں مدینے میں سب سے مالدار ہوں، میرا آدھا مال لے لو اور میری 2 بیویاں ہیں جو تمھیں پسند آئے ، میں اسے طلاق دے دیتا ہوں اور تم اس سے شادی کرلو۔‘‘ عبدالرحمنؓ بن عوف نے ان سے کہا ’’اللہ تعالیٰ تمہارے اہل و مال میں برکت فرمائے! مجھے تم بازار کی راہ دکھا دو!‘‘ پھر آپ بازار گئے، کچھ مال خرید کر فروخت کیا اور نفع کما لیا۔‘‘
    ٭٭

    یہ تھا مدینہ میں عہدِرسولﷺ اور عہدِرسولﷺ کے بعد جناب عبدالرحمنؓ کا طرزِ زندگی! یعنی دین کے حق اور دنیا کے عمل کی پوری پوری ادائی اور کامیاب و نفع بخش تجارت، کہ اس تجارت کا مالک اگر پتھر بھی اٹھاتا ہے تو اس کے نیچے سے اسے سونا چاندی ملتا ہے۔ حلال کی تلاش اور حرام سے شدید ترین تنفر بلکہ شبہات تک سے دور رہنے کا عمل ایسا سبب تھا جس نے آپؓ کی تجارت کو کامیاب و مبارک بنا دیا تھا۔ ان چیزوں میں ایک اور چیز کا اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے، وہ یہ کہ یہ مال و دولت صرف اکیلے حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے لیے نہ تھا بلکہ اس میں اللہ کا بھی پورا پورا حصہ ہوتا تھا۔ آپؓ اس میں اپنے اہل و اخوان کو شامل کرتے اور جیوشِ اسلام کو اسلحہ و سامان فراہم کرتے تھے۔عموماً تجارت اور اموالِ تجارت کا حساب کتاب تو رسیدوں اور منافع سے شمار کیا اور گنا جاتا ہے لیکن جناب عبدالرحمن بن عوفؓ کی دولت و ثروت ان تخمینوں اور اعدادوشمار سے گنی جاتی تھی جو اللہ رب العالمین کی راہ میں خرچ ہوتا تھا۔ آپؓ نے ایک روز اپنے بارے میں رسول اللہﷺ کو فرماتے سُنا:
    ’’یَاابْنَ عَوْفٍ اِنَّکَ مِنَ الا َغْنِیَائِ وَ اِنَّکَ سَتَدْخُلُ الْجَنَّۃَ حَبْواً، فَأقْرِضِ اللہ یُطْلَقْ لَکَ قَدَمَیْکَ‘‘
    ’’اے ابن عوف تم غنی لوگوں میں سے ہو، اور تم سست روی سے جنت میں داخل ہو گے۔ لہٰذا اللہ کو قرض دو، تمھارے قدم کھول دیے جائیں گے!‘‘ جب سے آپؓ نے رسول اللہﷺ کی زبان مبارک سے یہ نصیحت بھرے کلمات سنے تھے، آپؓ اپنے رب کو قرض حسنہ دیتے رہے اور اللہ بھی اس کو کئی گنا بڑھاتا رہا۔جب رسول اللہؐ نے غزوۂ تبوک کا ارادہ فرمایا تو اس موقع پر مال کی ضرورت افراد کی ضرورت سے کم نہیں تھی، کیونکہ آگے تعداد و تیاری کے اعتبار سے روم کا بہت بڑا لشکر تھا۔ ادھر مدینہ میں خشک سالی تھی اُدھر سفر طویل اور زادِسفر قلیل تھا۔ سواریاں اس قدر کم تھیں کہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد تھی جو رسول اللہ سے بار بار اصرار کر رہی تھی کہ رسول اللہؐ انھیں ساتھ لے چلیں مگر آپؐ کے پاس اتنی سواریاں نہیں تھیں کہ ان لوگوں کو بھی فراہم کر دی جاتیں۔ لہٰذا یہ لوگ واپس ہوئے تو ان کی آنکھیں اشک بار اور دل فگار تھے کہ ان کے پاس کچھ نہیں جو وہ خرچ کرسکیں۔ اسی سخت صورتحال کی بنا پر اس لشکر کو ’’جیش العسرۃ‘‘ کہا جاتا ہے۔اس موقع پر رسول اللہؐ نے صحابہ کو انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا تو مسلمانوں نے بھاگ کر آپؐ کی پکار پر لبیک کہا۔

    حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ صدقہ و انفاق کرنے والے اس اوّلین گروہ میں شامل تھے۔ آپؐ نے ’’۲؍ سو اُوقیہ سونا‘‘ اللہ کی راہ میں نچھاور کیا۔ حضرت عمرؓ نے اس بہت بڑے مال کو دیکھ کر نبیؐ سے عرض کیا میرا خیال ہے عبدالرحمن گناہ کا مرتکب ہوگیا ہے، اس نے اہل خانہ کے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔‘‘ رسول اللہؐ نے جناب عبدالرحمنؓ سے پوچھا ’’عبدالرحمن! کیا اہل خانہ کے لیے بھی کچھ چھوڑا ہے؟‘‘ جناب عبدالرحمن نے جواب دیا’’ ہاں… میں نے جو خرچ کیا اس سے زیادہ اور بہتر مال اُن کے لیے چھوڑا ہے۔‘‘ رسول اللہؐ نے پوچھاؒ ’’کتنا؟‘‘ آپؓ نے جواب دیا ’’جس رزق، خیر اور اجر کا اللہ اور اس کے رسولؐ نے وعدہ فرمایا ہے۔‘‘ایک بار آپؓ نے ۴۰ ہزار دینار کی ایک زمین خریدی اور ساری کی ساری بنی زہرہ میں سے اپنے اہل، اُمہات المومنین اور فقرائے مسلمین میں تقسیم کردی۔ ایک بار لشکر اسلام کے لیے ۵۰۰ گھوڑے فراہم کیے اور ایک روز ۱۵۰۰ سواریاں پیش کیں۔ اپنی موت کے وقت آپؓ نے ۵۰ ہزار دینار فی سبیل اللہ تقسیم کرنے کی وصیت کی اور غزوۂ بدر میں شرکت کرنے والے زندہ اصحاب میں سے ہر ایک کو ۴ ہزار دینار دینے کی وصیت کی۔ حتیٰ کہ حضرت عثمان بن عفانؓ یعنی عثمان غنیؓ نے اپنی دولت و ثروت کے باوجود اپنا حصہ یہ کہتے ہوئے وصول کیا ’’عبدالرحمن کا مال حلال اور صاف ہے اور اس کا ایک لقمہ بھی باعث برکت و عافیت ہے۔‘‘اس قدر صدقہ و خیرات، عطا و بخشش اور جود وسخا کے باوجود بوقت وفات جناب عبدالرحمن بن عوفؓ اپنے ورثا کے لیے ایک ہزار اونٹ، ۲۰۰ گھوڑے اور ۳۰۰۰ بکریاں ترکے میں چھوڑ گئے اور جو سونا چاندی چھوڑا، اس کو کلہاڑیوں سے ٹکڑے کرکے آپؓ کے ورثا میں تقسیم کیا گیا۔آپ کی ۴ بیویاں تھیں۔ صرف انھی ۴ خواتین کا آٹھواں حصہ ۸۰ ہزار بنا تھا۔ حضرت ابن عوفؓ اپنے مال کے مالک تھے نہ کہ غلام! اور اس کی نشانی یہ تھی کہ آپ ؓ اس کو جمع کرنے اور ذخیرہ کرنے میں ہی نہ لگے رہتے تھے بلکہ بڑے سکون سے اور حلال ذرائع سے جمع کرتے تھے اور پھر اس سے تنہا خود ہی لطف اندوز نہیں ہوتے بلکہ آپؓ کے ساتھ آپؓ کے اہل و رشتے دار ور بھائی بند اور معاشرے کے تمام لوگ بھی مستفید ہوتے تھے۔آپؓ فقرا اور حاجت مندوں کی امداد اور اپنی عطا کی فراخی و کشادگی کی اس حد کو پہنچ چکے تھے کہ آپؓ کے بارے میں کہا جانے لگا تھا ’’سارے کے سارے اہل مدینہ ابن عوف کے مال میں شریک ہیں۔ ایک تہائی مال آپؓ انھیں قرض دیتے، ایک تہائی مال سے ان کے قرض ادا کرتے اور ایک تہائی سے صلہ رحمی کا کام لیتے اور عطیات دیتے ہیں۔‘‘ آپؓ اگر اس دولت سے اپنے دین کی مناصرت اور بھائی بندوں کی معاونت نہ کرتے تو دولت کبھی آپ کے لیے اطمینانِ قلب اور فرحتِ نفس کا باعث نہ بنتی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آپؓ ہمیشہ اس دولت سے خائف رہتے تھے۔ ایک روز آپؓ کے سامنے افطاری کا کھانا رکھا گیا، کھانے پر آپؓ کی نظر پڑی تو آپؓ رو پڑے اور کہا:
    ’’مصعب بن عمیرؓ شہید ہوئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے۔ انھیں ایک چادر میں کفنایا گیا، اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا تو پائوں ننگے ہوجاتے اور اگر پائوں ڈھانپے جاتے تو سر ننگا ہوجاتا۔

    حمزہؓ شہید ہوئے اور وہ بھی مجھ سے بہتر تھے۔ ان کے کفن کے لیے بھی ایک چادر کے سوا کچھ نہ ملا۔پھر دنیا ہمارے سامنے خوب پھیلا دی گئی اور ہمیں اس سے بہت کچھ عطا ہوا۔اور مجھے خدشہ ہے کہ کہیں ہماری حسنات کا بدلہ ہمیں دنیا میں ہی نہ دے دیا جائے۔‘‘ایک روز آپؓ کے کسی دوست نے آپؓ کو کھانے پر بلایا، جونہی کھانا آپؓ کے سامنے رکھا گیا تو آپؓ رو پڑے۔ لوگوں نے رونے کا سبب دریافت کیا تو فرمایا: ’’رسول اللہﷺ کا وصال ہوا تو آپؐ اور آپؐ کے اہل خانہ نے جَو کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی تھی اور اب دکھائی دے رہا ہے کہ ہمیں اس چیز سے دور کردیا گیا ہے جو ہمارے لیے بہتر ہے!‘‘آپؓ کے بارے میں ایک بات یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اس وسیع و عریض دولت نے آپؓ کے اندر تکبروغرور کا ایک ذرہ تک پیدا نہیں کیا تھا۔ یہاں تک کہ آپؓ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی اجنبی آپؓ کو دیکھ لیتا اور آپؓ اپنے نوکر چاکروں کے درمیان بیٹھے ہوتے تو وہ آپؓ کو پہچان نہ سکتا۔ لیکن یہی اجنبی جب آپؓ کی جہادی زندگی کے پہلو پر نگاہ ڈالتا ہے اور آپؓ کی شجاعت و بسالت کے جوہر دیکھتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ آپؓ کو غزوۂ احد کے روز ۲۰زخم لگے تھے۔ ان زخموں میں سے ایک زخم اتنا شدید تھا کہ آپؓ کی ایک ٹانگ کو ہمیشہ کے لیے لنگڑا کرگیا، اس روز آپؓ کے کچھ دانت بھی ٹوٹ گئے تھے۔
    ٭٭٭

    انسانی طبیعتوں سے یہ بات ہمارے سامنے آئی ہے کہ دولت و ثروت تسلط کو پسند کرتی ہے۔ یعنی ثروت مند ہمیشہ یہ پسند کرتے ہیں کہ ان کو ایسا اثرورسوخ حاصل ہونا اور رہنا چاہیے جو ان کی دولت کی حفاظت کرسکے، اس کی ترقی کا باعث بن سکے اور ان کی شہوتِ غرور و تکبر اور انانیت کی تسکین کا سامان بہم پہنچا سکے۔ لیکن جب ہم جناب عبدالرحمنؓ بن عوف کو، ان کی وسیع و عریض دولت کو دیکھتے ہیں تو ایک عجیب انسان کے روپ اور کردار میں دیکھتے ہیں، ایسا انسان جو اس میدان میں انسانی طبائع پر جبر کرتا نظر آتا ہے اور اسے منفرد بلندی کی طرف لے جاتا دکھائی دیتا ہے۔حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کی یہ انفرادی صفت اس وقت مبرہن ہو کر سامنے آتی ہے جب دوسرے خلیفۂ راشد جناب عمرفاروقؓ کی پاکیزہ روح پرواز کر رہی تھی اور خلیفہ نے رسول اللہﷺ کے صحابہ میں سے چھ آدمیوں کو منتخب کیا تھا کہ وہ اپنے میں سے نئے خلیفہ کا انتخاب کرلیں تو انگلیاں جناب ابن عوفؓ کی طرف اشارے کر رہی تھیں اور بعض صحابہ نے تو ان اشاروں کو کھول دیا تھا یعنی یہ کہ چھ آدمیوں میں سے خلافت کے سب سے زیادہ حق دار جناب ابن عوفؓ ہیں۔ اس موقع پر حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے جواب دیا ’’اللہ کی قسم! اگر چھری لے کر میرے حلق پر رکھ دی جائے اور پھر اس کو ایک طرف سے دوسری طرف پھیر دیا جائے تو یہ چیز مجھے خلافت سے زیادہ پسند ہے۔‘‘
    جناب عمرفاروقؓ کے بعد خلیفہ کا انتخاب کرنے کے لیے ان ۶ آدمیوں کا اجلاس ابھی منعقد نہیں ہو پایا تھا کہ جناب عبدالرحمن بن عوفؓ نے اپنے ان ۵ ساتھیوں کو خبر دی کہ میں اس حق سے دستبردار ہوتا ہوں جو چھے آدمیوں میں شامل کرکے عمرؓ نے مجھے دیا ہے۔ لہٰذا آپ ۵ افراد کی ذمے داری ہے کہ آپ اپنے میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کرنے کا عمل انجام دیں۔ منصب خلافت سے کنارہ کشی نے آپؓ کو ان ۵ جلیل القدر افراد کا حاکم بنا دیا اور وہ اس بات پر راضی اور تیار ہو گئے کہ آپؓ ہی ان میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کر دیں۔ اس موقع پر جناب علیؓ نے کہا ’’میں نے رسول اللہﷺ کو آپؓ کی تعریف کرتے ہوئے سنا ہے کہ آپؓ اہل آسمان اور اہل زمین کے امین ہیں۔‘‘جناب عبدالرحمن بن عوفؓ نے اس موقع پر جناب عثمان بن عفانؓ کو خلیفہ چنا اور باقی لوگوں نے بھی آپؓ کے انتخاب کی تصدیق کی۔
    ٭٭

    یہ اسلام کے ایک مالدار اور دولت مند شخص کی حقیقت ہے۔ آپ نے دیکھا کہ دولت کی تمام تر رعنائیوں اور بہکاووں کے باوجود اسلام نے آپؓ کو کس بلند مقام پر فائز کردیا تھا اور کس احسن تقویم میں آپؓ کو ڈھال دیا تھا! یہ ۳۲؍ہجری ہے جب آپؓ کی روح اس دنیا سے کوچ کر رہی تھی۔ اُم المومنین جناب عائشہ صدیقہؓ چاہتی ہیں کہ آپؓ کو ایسا شرف اور اعزاز بخشیں جو آپؓ کے علاوہ کسی اور کو نصیب نہیں ہوا۔ جناب عائشہؓ آپؓ کے پاس جاتی ہیں جبکہ آپؓ بسترِمرگ پر پڑے ہیں۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ آپؓ کو رسول اللہﷺ اور حضرت ابوبکر و عمرؓ کے جوار میں میرے حجرے کے اندر دفن کیا جائے۔مگر یہ مسلمان جس کی اسلام نے بہترین تربیت کی تھی اس بات سے حیا محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جناب رسول اللہﷺ اور ابوبکر و عمرؓ کے برابر لے جائے۔
    پھر آپؓ کا جناب عثمان بن مظعونؓ کے ساتھ ایک عہد بھی ہوا تھا کہ ان میں سے جو بھی بعد میں فوت ہوگا، وہ اپنے دوست کے پہلو میں دفن کیا جائے گا۔ لہٰذا آپؓ کو جناب عثمان بن مظعونؓ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ جب آپؓ کی روح نئے سفر کی تیاری میں تھی تو آپؓ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور آپؓ کی زبان پر یہ کلمات جاری تھے: ’’میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ مجھے میری دولت کی وجہ سے میرے دوستوں سے دور نہ کردیا جائے۔‘‘لیکن جلد ہی آپ کے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکنیت و اطمینان کا باریک غلاف آراستہ ہوگیا اور آپؓ کے کان کچھ سننے کے لیے یوں قریب ہوئے گویا وہاں کوئی شیریں آواز ہے۔ شاید اس وقت آپؓ رسول اللہﷺ کے اس قول کو سن رہے تھے جو ایک مدت قبل آپؐ نے ان کے بارے میں فرمایا تھا: عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوفٍ فِی الجَنَّۃِ۔ ’’عبدالرحمن بن عوف جنتی ہیں!‘‘اور شاید آپؓ اللہ تعالیٰ کا قرآن مجید میں درج یہ وعدہ بھی سن رہے ہوں:
    اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَرَبِّھِمْ وَلَا خَوْفُ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ(البقرہ: ۲۶۲)
    ’’جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور خرچ کرکے پھر احسان نہیں جتاتے، نہ دکھ دیتے ہیں، ان کا اجر اُن کے رب کے پاس ہے اور ان کے لیے کسی رنج اور خوف کا موقع نہیں
     

اس صفحے کو مشتہر کریں