1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

حضرت ابوبکر صدیق مدبر اورحاکم

'تاریخِ اسلام : ماضی ، حال اور مستقبل' میں موضوعات آغاز کردہ از شہباز حسین رضوی, ‏21 مارچ 2017۔

  1. شہباز حسین رضوی
    آف لائن

    شہباز حسین رضوی ممبر

    شمولیت:
    ‏1 اپریل 2013
    پیغامات:
    839
    موصول پسندیدگیاں:
    1,318
    ملک کا جھنڈا:
    kalam_e_alahazrat___islamic_wallpaper_by_shahbazrazvi-db2tlul.jpg
    رسول محتشم‘ سرور عالم‘ پیغمبر اعظم و اکرمﷺ کے فیضان صحبت اور تاثیر تربیت نے انسانی دنیا کو وہ ہیرے اور جواہر عطا فرمائے ہیں جوآپ سے پہلے اور آپ کے بعد کوئی بھی نہ دے سکا۔ آپﷺ نے علم و عمل‘ صدیق و صفا‘ امانت و دیانت‘ فہم و فراست اور تدبر و حکمت جیسے فضائل و کمالات سے انسانی دنیا کو بھر دیا۔ عرب کے بادیہ نشین اور صحراء نورد حکومت و سیاست کاکبھی تصور بھی نہ رکھتے تھے‘ حکمران اور جہانبانی کے میدان میں پوری دنیا کے پیشرو بن گئے۔

    پیغمبر اسلام‘ معلم کائنات (علیہ اطیب الصلواۃ و التحیات) کی تعلیمات کے نتیجہ میں انہوں نے ایشیا سے افریقہ تک کامیاب اور نتیجہ خیز سیاسی نظام حکومت قائم کردیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کا دور حکومت حسن انتظام‘ نظم وضبط‘ عدل و انصاف‘ کمال تدبر اور متعدل آزادی و جمہوریت کی بہترین مثال ہے۔ خلفائے راشدین سے بہتر کوئی دور حکومت نہیں ہوسکتا۔ یہ ہمارے لئے ایک آئیڈیل ہیں‘ جس کی اتباع قیامت تک کے لئے لازم کردی گئی ہے۔

    محمد عربی فداہ ابی وامیﷺکے وصال فرماجانے کے بعد امت محمدیہﷺ پر جو آفات و بلیات نازل ہوئیں اور مصائب و آلام کے جو طوفان اٹھے‘ فتنوں اور آزمائشوں کی جو آندھیاں چلیں قریب تھا کہ اس امت کابیڑہ بیچ بھنور میں کہیں ڈوب جاتا اور ہمیشہ کے لئے غرق دریا ہوجاتا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایک محافظ و پاسبان اٹھتا ہے‘ ایک کشتی بانی پشتی بانی کھڑا ہوتا ہے اور علم و حکمت‘ دانائی و تدبر اور عزم و استقلال سے کام لے کر اس ڈوبتی‘ سسکتی اور کراہتی امت کوسہارا دیتا ہے۔ وہ اعدائے دین سے بھرپور مقابلہ کرتا ہے اور اپنے عزم و ہمت سے اندرونی اور بیرونی سطح پر دشمنوں کے دانت کھٹے کردیتا ہے۔ دشمن کے حوصلے پست کرکے اہل اسلام کی ہمت بڑھا دیتا ہے۔ وہ دشمنوں سے ہر محاذ پر مقابلہ کرتا ہے اور ان کے باطل عزائم کی پیوند خاک کرکے رکھ دیتا ہے۔ تشکیک‘ انکار ارتداد اور ادعا کے تمام فتنوں کا سر کچل دیتا ہے۔ وہ بڑے بڑے بحرانوں کے سامنے پہاڑ بن کر کھڑا ہوجاتا ہے‘ لیکن دین اسلام پر کوئی آنچ نہیں آنے دیتا۔ ہماری مراد جناب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے ہے۔ بلاشبہ آپ ہی کی ذات وہ ذات ہے جس کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا تھا کہ اگر آپ کا دو سالہ دور حکومت نہ ہوتا تو روئے زمین پر کوئی اﷲ کا نام لینے والا نہ ہوتا اور حضرت عمر رضی اﷲ عنہ جیسے مدبرو رہنما فرمایا کرتے تھے کہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ ہمارے سید یعنی سردار ہیں۔

    hazrat_abu_bakr_al_siddique_islamic_wallapaper_by_shahbazrazvi-db2tlai.jpg انسانی سیادت و قیادت کا جوہر مشکلات اور بحرانوں میں ہی کھلتا ہے اور انسان کے عزم و استقلال اور فہم و تدبر کا پتہ چلتا ہے دنیا میں یہی ایک کسوٹی ہے جو کھرے اور کھوٹے کا فرق ہم پر نمایاں کردیتی ہے۔ تاریخ انسانی اور مسلمانوں کے موجودہ حالات گواہ ہیں کہ قیادت و سیاست کے بڑے بڑے دعویدار جب حالات کے مدوجزر کا شکار ہوئے تو ان کے قدم اکھڑ گئے اور وہ اپنے دعوئوں اور وعدوں کے علمی الرغم حالات کے تابعدار اور حوارث کے فرماں بردار بن کر رہ گئے۔

    یاد رہے کہ مدبرانہ قیادت وہ نہیں جو وقت کے دھارے کے ساتھ بہہ جائے تو دریا کے ساتھ بہہ جانے والے خس و خاشاک کا حال ہوتا ہے بلکہ مدبرانہ قیادت صرف اس کو کہا جاسکتا ہے جو وقت کے دھاروں کو بدل دے‘ دریائوں کا رخ موڑ دے‘ حالات کا تابع بننے کے بجائے حالات و واقعات کو اپنے تابع کرلے‘ قافلہ سالار اعظم‘ رہبر امت‘ رہنمائے ملت حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی ذات مبارکہ ہمیں قیادت رہنمائی کے اسی مقام پر نظر آتی ہے۔

    قلیل ترین مدت میں تمام بحرانوں پر قابو پالینا… سمیت مخالف سے اٹھنے والے تمام طوفان کا رخ موڑ دینا… ہر قسم کے خلفشار اور انتشار کو مکمل امن و سکون سے تبدیل کردینا اور ہر طرف چھائی ہوئی افسردگی اور پژمردگی کو زندگی اور بلند حوصلگی سے بدل دینا آپ ہی کی عالی ہمت اور مدبرانہ قیادت کا نتیجہ تھا۔ اکابر صحابہ بھی ابتداً آپ کے فہم و تدبر اور فیصلوں کی حکمت کو نہ پاسکے‘ لیکن آپ کی چشمان بصیرت آج و کل کو یکساں دیکھتی تھی اور جب لوگوں پر آپ کی حکمت و دانائی کا راز کھلتا تو تصویب و تائید کے سوا کوئی راہ سجائی نہ دیتی تھی۔

    زکی تظنیہ طلیعتہ عینتہ
    یری قلبہ فی یومہ ماتری غدا
    ترجمہ’’ وہ ایسے صاحب زکاوت ہیں کہ ان کی چشماں کا دیدبان ہے (اور حال یہ ہے کہ) ان کا دل آج ہی اس کو دیکھ لیتا ہے‘ جس کا ان کی آنکھ کل دیکھے گی۔‘‘

    لشکر اسامہ کی روانگی‘ جنگ یمامہ‘ فتنہ انکار زکواۃ اور تحریک ردہ کی سرکوبی نیز جمع قرآن اور اپنے بعد سیدنا حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ (بطور خلیفہ ثانی) انتخاب ایسی واضح مثالیں ہیں کہ جن سے آپ کی عبقریت‘ بلند حوصلگی‘ اصابت رائے‘ تدبر و حکمت اور قوت فیصلہ کا بخوبی پتہ چلتا ہے۔
     
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,224
    ملک کا جھنڈا:
    جزاک اللہ جناب
     

اس صفحے کو مشتہر کریں