1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

حبِ رسول اور اس کے عملی تقاضے

'سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏16 فروری 2018۔

  1. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,126
    موصول پسندیدگیاں:
    9,745
    ملک کا جھنڈا:
    جمع و ترتیب: اعجاز عبید
    اس جہانِ رنگ و بو میں شیطان کے حملوں سے بچتے ہوئے شریعتِ الٰہیہ کے مطابق زندگی گزارنا ایک انتہائی دشوار امر ہے- مگر اللہ ربّ العزت نے اس کو ہمارے لئے یوں آسان بنا دیا کہ ایمان کی محبت کو ہمارے دلوں میں جاگزیں کر دیا- سورۃ الحجرات میں ارشادِ خداوندی ہے:
    ﴿وَلٰکنَّ اللہ حَبَّبَ إلَیْکمُ الِایْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکمْ وَکرَّہ إِلَیْکمُ الْکفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَ، اُوْلٰئِک ہمُ الرَّاشِدُوْنَ﴾ (آیت نمبر ۷ )
    ”اور لینo اللہ تعالیٰ نے ایمان کو تمہارے لئے محبوب بنا دیا اور اس کو تمہارے دلوں میں سجا دیا اور کفر، فسق اور نا فرمانی کو تمہارے لئے ناپسندیدہ بنا دیا-یہی لوگ بھلائی پانے والے ہیں -“
    اس آیت میں ایمان کی محبت میں حبِ الٰہی اور حبِ رسول بھی شامل ہے-گویا حبِ رسول انعامِ خداوندی ہے اور حبِ رسول ہمارے ایمان کا صرف حصہ نہیں بلہ عین ایمان ہے- حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    ” تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوستای جب تک کہ وہ اپنی اولاد، اپنے والدین اور باقی تمام لوگوں سے زیادہ مجھ سے محبت نہ کرتا ہو-“ (بخاری و مسلم)
    سورۃ الاحزاب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    ﴿اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُوٴمِنِیْنَ مِنْ أنْفُسِہمْ﴾ (آیت نمبر ۶)
    ”نبی مومنوں کے لئے ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ مقدم ہیں -“
    عبداللہ بن ہشام روایت کرتے ہیں کہ
    ”حضرت عمرؓ آنحضرت سے کہنے لگے: آپ میرے لئے، میری جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں – آپ نے فرمایا ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب تک میں تمہارے نزدیک تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں تم مومن نہیں ہوستےں- سیدنا عمرؓ نے عرض کی: اللہ کی قسم! اب آپ میرے نزدیک میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں تو آپؐ نے فرمایا: اَب، اے عمر ! (یعنی اب تم صحیح مسلمان ہو) (فتح الباری: ۱/۵۹)
    سورۂ توبہ، آیت نمبر ۲۴ میں ارشادِ الٰہی ہے:
    ﴿قُلْ إنْ کانَ اٰبَاؤکمْ وَاَبْنَاءُ کم وَاِخْوَانُکمْ وَاَزْوَاجُکمْ وَعَشِیْرَتُکمْ وَاَمْوَالُنِ اقْتَرَفْتُمُوْہا وَتِجَارَۃ تَخْشَوْنَ کسَادَہا وَمَسَاکنُ تَرْضَوْنَہا اَحَبَّ إلَیْکمْ مِنَ اللہ وَرَسُوْلِہ وَجِہادٍ فِیْ سَبِیْلِہ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللہ بِاَمْرِہ ﴾
    ”(اے نبی! مسلمانوں سے)کہہ دیجئے! اگر تمہیں اپنے باپ، اپنے بیٹے، اپنے بھائی، اپنی بیویاں ، اپنے کنبے والے اور وہ اَموال جو تم نے کمائے ہیں اور تجارت جس کے مندا پڑنے سے تم ڈرتے ہو اور تمہارے مامن جو تمہیں پسند ہیں ؛ اللہ، اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حمو لے آئے-“
    اس آیت میں جن رشتوں کا ذکر کیا گیا ہے، ان سے انسان کو فطری لگاؤ ہوتا ہے-اس لئے انہی چیزوں سے مومنوں کے ایمان کا امتحان لیا گیا ہے- اللہ تعالیٰ واضح فرما رہے ہیں کہ جب اللہ اور اس کے رسول کی محبت، ماں باپ اور دیگر عزیز و اقارب سے زیادہ ہو تب ایمان کا دعویٰ صحیح ہوستاو ہے- اگر یہ رشتہ دار اور کمائے ہوئے مال اور دنیا کی زمین و جائیداد اور تجارت اور پسندیدہ ماتنات خدا اور رسول اور جہاد فی سبیل اللہ سے زیادہ محبوب و مرغوب ہیں تو خدا کے عذاب کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے-
    محبت ایک فطری کشش کا نام ہے، ایک ایسا میلانِ نفس جو ہمیشہ پسندیدہ اور مرغوب چیزوں کی جانب ہوا کرتا ہے- یہ محبت اگر قرابت داری کی بنیاد پر ہو تو ’طبعی محبت‘ کہلاتی ہے اور اگر کسی کے جمال و کمال یا احسان کی وجہ سے ہو تو ’عقلی محبت‘ کہلاتی ہے اور اگر یہ محبت مذہب کے رشتے کی بنیاد پر ہو تو ’روحانی محبت‘ یا ’ایمان کی محبت‘ کہلاتی ہے-
    رسول اللہؐ کے ساتھ ’محبتِ طبعی‘ بھی ہے جیسی اولاد کی محبت باپ سے ہوتی ہے کیونہ آنحضورؐ اُمت کے روحانی باپ ہیں اور آپ کی ازواجِ مطہراتؓ ’روحانی مائیں ‘ جیسا کہ سورۃ الاحزاب میں فرمایا گیا: ﴿وَاَزْوَاجُہ اُمَّہاتُہمْ﴾ بعض شاذ قراتوں میں ہو أبوہم کا لفظ بھی آیا ہے کہ نبی کریم تمہارے والد کی جگہ پر ہیں – تو جس طرح حقیقی باپ سے محبت طبعی ہے اسی طرح آپ سے محبت ایک مسلمان کے لئے بالل فطری امر ہے-

    نبی کریم کا ظاہری و باطنی کمال و جمال
    محبت کے اسباب میں سے ایک سبب کمال بھی ہے اور جمال بہی، خواہ ظاہری ہو یا باطنی- آپ کا کمال و جمال ظاہری بھی تھا اور باطنی بھی- شلض و صورت میں بھی آپ سب سے حسین تھے، جیسا کہ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں :
    ”کان مثل الشمس والقمر (مسنداحمد:۵/۱٠۴ )
    آپ کا چہرہ آفتاب و ماہتاب جیسا تھا-“
    ربیع بنت معوذ آپؐ کے بارے میں فرماتی ہیں :
    ”لورأیت الشمس طالعۃ (مجمع الزوائد: ۸/۲۸٠)
    اگر تم رسول اللہ کو دیکھتے توایسے سمجھتی جیسے سورج نلی رہا ہے-“
    آپ کے باطنی جمال و کمال کا کیا کہنا، آپ کو اللہ تعالیٰ نے خاتم النّبیین، سید المرسلین، امام الاوّلین و الآخرین اور رحمتہ للعالمین بنایا- آپ کے احسانات اُمت پر بے حد و حساب ہیں بلہن آپ محسن انسانیت ہیں – صاحبِ جمال و کمال کے ساتھ محبت رکھنا اور محبت کا ہونا بھی لازمی امر ہے- حضرت خدیجتہ البرِیٰ ؓآپ کے پاکیزہ اخلاق کے بارے میں فرماتی ہیں :
    (پہلی وحی کے موقعہ پر آپ کی دلجوئی کرتے ہوئے فرمایا) ”آپ قرابت داروں سے سلوک کرنے والے، درماندوں اور بے کسوں کو سواری دینے والے، ناداروں کو سرمایہ دینے والے، مہمانوں کی خدمت کرنے والے اور مصیبت زدگان کی اعانت کرنے والے ہیں -“ (بخاری :کتاب بدء الوحی حدیث، رقم:۳)
    تاریخ میں بہت سے لوگ اپنے کمالات کی وجہ سے مشہور ہوئے- حاتم طائی، اپنی سخاوت؛ نوشیرواں اپنے عدل و انصاف؛ سقراط و بقراط و افلاطون، اپنی دانائی و حمت کی بنا پر مرجع خلائق اور لائق محبت تھے- مگر آپ کے جملہ کمالات ان سب سے کئی گنا بڑھ کر تھے، حتیٰ کہ تمام انبیا میں جو جو خوبیاں تہیں ، وہ تنہا آنحضورؐ کی ذاتِ اقدس میں تہیں – بقولِ شاعر
    حسن یوسف، دم عیسیٰ، ید بیضا داری
    آنچہ خوباں ہمہ دارند، تو تنہا داری !
    رسول اللہﷺ کے ساتھ سچی محبت کے کچھ بدیہی تقاضے ہیں ، جن میں سے کچھ تو ایسے اُمور ہیں جنہیں بجا لانا ضروری ہے اور کچھ ایسے جن سے اجتناب ضروری ہے- ذیل میں ہم ان سب تقاضوں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں :

    احترام و تعظیم رسول
    ع ”ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں -“ حبِ رسول کا لازمی اور اہم تقاضا احترامِ رسول ہے- یہ تو ایسی بارگاہ ہے جہاں حما عدولی کی تو کیا گنجائش ہوتی، یہاں اونچی آواز سے بولنا بھی غارت گرِ ایمان ہے- سورۃ الحجرات کی ابتدائی چار آیات میں آنحضورؐ کے ادب و احترام کے مختلف پہلو واضح فرمائے گئے ہیں :
    ”اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے پیش قدمی نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، بلا شبہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے- اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ ہی ان کے سامنے اس طرح اونچی آواز سے بولو جیسے تم ایک دوسرے سے بولتے ہو- ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہو جائیں اور تمہیں اس کی خبر بھی نہ ہو-بلاشبہ جو لوگ رسول اللہؐ کے حضور اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں ، یہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لئے جانچ لیا ہے، ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے- اے نبی! جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پاارتے ہیں ، ان میں سے اکثر بے عقل ہیں – اگر یہ لوگ صبر کرتے تا آنہو آپ ان کی طرف خود نکلتے تو یہ ان کے حق میں بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے- “ (الحجرات : ۱تا۴)
    ان آیات کے نزول کے بعد ایک صحابی ثابت بن قیسؓ جن کی آواز قدرتی طور پر بلند تہی، ایمان ضائع ہو جانے کے ڈر سے گھر میں محصور ہو کر بیٹھ گئے- آپ نے ان کے بارے میں دریافت فرمایا اور جب آپ کو اصل صورتحال کا علم ہوا تو ان کو پیغام بھجوایا کہ ”تم اہل دوزخ سے نہیں بلہی اہل جنت سے ہو جب کہ اس سے پہلے صحابی سے اس بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے یہ جواب دیا تھا :
    ”میرا بُرا حال ہے، میری آواز ہی آنحضورؐ سے بلند ہے، میرے تو اعمال اِکارت گئے اور میں تو اہل دوزخ سے ہو جاؤں گا-“ (بخاری: کتاب التفسیر ؛۴۸۴۶)
    صلح حدیبیہ کے موقع پر جب عروہ بن مسعودؓ مہن والوں کی طرف سے سفیر بن کر آنحضورؐ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تھا تو واپس جا کر اپنا چشم دید واقعہ بیان کیا جیسا کہ صحیح بخاری شریف میں ہے-عروہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ کر گیا اور کہنے لگا کہ
    ”بھائیو! میں تو بادشاہوں کے پاس بھی پہنچ چال ہوں – خدا کی قسم! اس نے کسی بادشاہ کو ایسا نہیں دیکھا کہ لوگ اس کی ایسی تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد کی تعظیم ان کے اصحاب کرتے ہیں – خدا کی قسم! اگر وہ تھوکتے ہیں توان کا تھوک کسی نہ کسی صحابی کے ہاتھ پر گرتا ہے اور وہ اپنے منہ اور جسم پر تبرکاً اس کو مل لیتا ہے- وہ جب کوئی حما دیتے ہیں تو سب لپک کر ان کے حمن کو بجا لاتے ہیں ، وضو کرتے ہیں تو اس کا پانی ان کے لئے باعث برکت ٹھہرتا ہے اور اس کو لینے کے لئے چھینا جھپٹی کرتے ہیں – وہ بولتے ہیں تو ان کے ساتھیوں کی آوازیں پست ہو جاتی ہیں – وہ ان کی طرف گھور گھور کر، آنھض بھر کر نہیں دیکھتے- “ (بخاری؛ ۲۷۳۱،۲۷۳۲)
    دربارِ نبوت میں حاضری صحابہ کرامؓ کے لئے خاص تقریب کا موقع ہوتا، صاف ستھرے کپڑے زیب تن کرتے، بغیر طہارت کے آپ کی خدمت میں حاضر ہونا اور مصافحہ کرنا گوارا نہ ہوتا، راستے میں کبھی ساتھ ہو جاتا تو اپنی سواری کو آنحضورؐ کی سواری سے آگے نہ بڑھنے دیتے- غایتِ ادب کی بنا پر کسی بھی بات میں مسابقت گوارا نہ تھی- دستر خوان پر ہوتے تو جب آپ کھانا شروع نہ فرماتے کوئی کھانے میں ہاتھ نہ ڈالتا- اگر آپ ماان کے نچلے حصے میں قیام پذیر ہوتے تو یہ خیال کہ وہ رسول اللہؐ کے اوپر چل پھر رہے ہیں ، انہیں ایک کونے میں اپنے آپ کو قید کرنے کے لئے کافی ہوتا-
    یہ تو تھا آپ کی زندگی میں صحابہ کرامؓ کا معمول مگر آپ کی وفات کے بعد ہم لوگوں کے لئے آپ کی عزت و ترییم کا طریقہ یہ ہے کہ ہم آپ سے صدقِ دل سے محبت کریں ، آپ کے فرمودات پر عمل کریں ، اپنی زندگی میں آپ کو واقعی اپنے لئے اُسوہٴ حسنہ سمجھیں -جب حدیث پڑہی جارہی ہو یا سننے کا موقع ہو تو چلانا، شور مچانا منع ہے- حدیث کی تعظیم رسول اللہ اکی تعظیم ہے-
     
    Last edited: ‏16 فروری 2018
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,126
    موصول پسندیدگیاں:
    9,745
    ملک کا جھنڈا:
    حبِ رسول کا حقیقی معیار … اطاعتِ رسول
    حبِ رسول کا سب سے اہم تقاضا اطاعتِ رسول ہے جیسا کہ مندرجہ ذیل روایات سے ثابت ہوتا ہے :
    ایک صحابیؓ خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی :
    ” یارسول اللہ! میں آپ کو اپنی جان و مال، اہل و عیال سے زیادہ محبوب رکھتا ہوں ، جب میں اپنے گھر میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہوتا ہوں اور شوقِ زیارت بے قرار کرتا ہے تو دوڑا دوڑا آپؐ کے پاس آتا ہوں ، آپ کا دیدار کر کے سوقن حاصل کر لیتا ہوں – لینے جب میں اپنی اور آپؐ کی موت کو یاد کرتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ آپ تو انبیا کے ساتھ اعلیٰ ترین درجات میں ہوں گے، میں جنت میں گیا بھی تو آپ تک نہ پہنچ سولں گا اور آپ کے دیدار سے محروم رہوں گا- (یہ سوچ کر) بے چین ہو جاتا ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء کی یہ آیت نازل فرمائی: ﴿ وَمَنْ یُّطِعِ اللہ وَالرَّسُوْلَ فَاُؤلٰئِک مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللہ عَلَیْہمْ مِنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہدَاءِ وَالصَّالِحِیْنَ وَحَسُنَ اُوْلٰئِک رَفِیْقًا ﴾ (سورۃ النساء :۶۹) ”اور جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین، کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں -“ (المصباح المنیر فی تہذیب تفسیر ابن کثیر:ص۲۴۳)
    صحابی کے اظہارِ محبت کے جواب میں اللہ نے یہ آیت نازل کر کے واضح فرما دیا کہ اگر تم حبِ رسول میں سچے ہو اور آنحضور کی رفاقت حاصل کرنا چاہتے ہو تو رسولِ اکرمؐ کی اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرو-
    حضرت ربیعہؓ بن کعب اسلمی روایت کرتے ہیں کہ
    ”(ایک روز) نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا: مانگ لو (جو مانگنا چاہتے ہو)- میں نے عرض کیا: ”جنت میں آپ کی رفاقت کا طلب گار ہوں -“ آپ نے فرمایا ”کچھ اس کے علاوہ بھی ؟“ میں نے عرض کیا ”بس یہی مطلوب ہے-“ تو آپ نے فرمایا ”تو پہر اپنے مطلب کے حصول کیلئے کثرتِ سجود سے میری مدد کرو-“ (یعنی میرے دعا کرنے کے ساتھ تم نوافل کا بھی اہتمام کرو تو اللہ تعالیٰ میری دعا قبول فرمائے گا)-
    (صحیح ابوداود؛ ۱۱۸۲)
    گویا آپ نے واضح فرما دیا کہ اگر میری محبت میں میری رفاقت چاہتے ہو تو عمل کرو- یہی حبِ رسول ہے اور معیتِ رسول حاصل کرنے کا ذریعہ بہی-
    حضرت عبداللہ بن مغفلؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسولِ اکرمؐ کی خدمت میں عرض کیا کہ
    ”یارسول اللہ ا! مجھے آپ سے محبت ہے- آپ نے فرمایا جو کچھ کہہ رہے ہو، سوچ سمجھ کر کہو- تو اس نے تین دفعہ کہا، خدا کی قسم مجھے آپ سے محبت ہے- آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے محبوب رکھتے ہو تو پھر فقر و فاقہ کے لئے تیار ہو جاؤ (کہ میرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے) کیونہ جو مجہ سے محبت کرتا ہے فقر و فاقہ اس کی طرف اس سے زیادہ تیزی سے آتا ہے جیسی تیزی سے پانی بلندی سے نشیب کی طرف بہتا ہے-“ (ترمذی؛۲۳۵٠)
    گویا جس کے دل میں حبِ رسول ہے، اسے چاہئے کہ آنحضورؐ کی سنت کی پیروی میں اپنے اندر سادگی، صبر و تحمل، قناعت اور رضا بالقضا کی صفات پیدا کرنے کی سعی کرتا رہے-
    فرمانِ رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام ہے :
    ”من أحب سنتی فقد أحبنی ومن أحبنی کان معی فی الجۃ“
    ”جس نے میری سنت سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی، وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا-“ (تاریخ ابن عساکر:۳/۱۴۵)
    فرمانِ رسول اللہ علیہ والصلوٰۃ والسلام ہے:
    ”لا یوٴمن أحدکم حتی یکون ہواہ تبعا لما جئت بہ “
    ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوستاع جب تک کہ اپنی خواہشات کو میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ کردے-“ (مشوٰ ۃ للالبانی:۱۶۷)
    یعنی کافر اور مومن میں تمیز ہی یہی ہے کہ جو اللہ کے رسول کی تابعداری کرے گا وہ مومن ہو گا اور جو رسول اللہؐ کی اطاعت نہ کرے گا، وہ کافر ہو گا جیساکہ
    حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:
    کل أمتی یدخلون الجنۃ إلا من أبٰی قالوا یارسول اللہ ! ومن یأبی قال: من أطاعنی دخل الجنۃ ومن عصانی فقد أبٰی (بخاری؛۷۲۸٠)
    ”میری اُمت کا ہر شخص جنت میں داخل ہو گا، سوائے اس کے جس نے اناقر کیا- صحابہؓ نے پوچہا: اے اللہ کے رسول وہ کون شخص ہے جس نے (جنت میں جانے سے) انا ر کیا؟ آپ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے اناعر کیا-“
    قرآنِ مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے بار بار یہ بات ہمیں سمجھائی ہے- مثلاً
    سورۃ النساء میں فرمایا:
    ﴿وَمَا أرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللہ﴾ ( آیت نمبر ۶۴)
    ”ہم نے رسول بھیجے ہی اس لئے ہیں کہ اللہ کے حمم سے ان کی اطاعت کی جائے-“
    سورۃ النساء میں فرمایا:
    ﴿وَمَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہ﴾ (آیت نمبر ۸٠ )
    ”جس نے رسول کی اطاعت کی دراصل اس نے اللہ کی اطاعت کی -“
    سورۃ الاحزاب میں فرمایا:
    ﴿لَقَدْ کانَ لَکمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہ اُسْوَۃ حَسَنَۃ لِمَنْ کانَ یَرْجُوْ اللہ وَالْیَومَ الاٰخِرَ ﴾ (آیت نمبر۲۱)
    ”تم میں سے جو کوئی اللہ سے ملاقات اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لئے رسول اللہ کی ذات والا صفات میں اچھا نمونہ ہے-“
    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں پر نظر ڈالیں تو آنھیںن کھل جاتی ہیں کہ کیسے انہوں نے حبِ رسول کا حق ادا کیا- آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہ تھا جسے انہوں نے غور سے نہ دیکھا ہو اور پھر اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال نہ لیا ہو- قاضی عیاض اپنی کتاب ’الشفاء‘ میں فرماتے ہیں : فقال سفیان المحبۃ اتباع رسول اللہﷺ
    ”سفیان ثوری (تابعی) نے فرمایا کہ حبِ رسول کا مطلب درحقیقت اتباعِ رسول اللہﷺ ہے-“
    بے شمار آیاتِ قرآنی اور احادیثِ رسول کی روشنی میں یہ بات باللا واضح ہے کہ حب رسولؐ کا تقاضا یہ ہے کہ زندگی کے تمام معاملات میں قدم قدم پر آپ کی اطاعت کی جائے- وہ محبت جو سنت رسول اللہؐ پر عمل کرنا نہ سھا ئے محض دھوکہ اور فریب ہے- وہ محبت جو رسول اکرمﷺ کی اطاعت و پیروی نہ سھالئے محض لفاظی اور نفاق ہے- وہ محبت جو رسول اللہؐ کی غلامی کے عملی آداب نہ سھا ئے محض ریا اور دکھاوا ہے- وہ محبت جو سنتِ رسول کے علم کو سربلند نہ کرے محض بولہبی ہے-
    یہ مصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
    اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبی اوست
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,126
    موصول پسندیدگیاں:
    9,745
    ملک کا جھنڈا:
    قلبی محبت
    تمیل ایمان کے لئے رسول اللہؐ کی صرف ظاہری اطاعت ہی نہیں بلہت قلبی تسلیم و رضا بھی ضروری ہے-فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
    ﴿فَلاَ وَرَبِّک لاَ یُوٴْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکمُوْک فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہمْ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْا فِیْ أنْفُسِہمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا﴾ (النساء :۶۵)
    ”نہیں ، تمہارے ربّ کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوستےا جب تک اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں – پھر جو کچھ آپ فیصلہ کریں اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی بھی محسوس نہ کریں بلہا دل و جان سے اسے تسلیم کر لیں -“
    حضرت حارث بن عبداللہ بن اوس کہتے ہیں کہ
    ”میں عمرؓ بن خطاب کے پاس حاضر ہوا اور پوچھا کہ اگر قربانی کے دن طوافِ زیارت کرنے کے بعد عورت حائضہ ہو جائے تو کیا کرے؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا: آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہونا چاہئے- حارث نے کہا: رسول اللہؐ نے بھی مجھے یہی فتویٰ دیا تھا- اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا: تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیں تو نے مجھ سے ایسی بات پوچھی جو رسول اللہؐ سے پوچھ چار تھا، تاکہ میں رسول اللہؐ کے خلاف فیصلہ کروں -“ (صحیح ابوداود؛۱۷۶٠)
    سنت کا علم ہونے کے باوجود مسئلہ دریافت کرنے پر حضرت عمرؓ کی ناراضگی اس بنا پر تھی کہ رسول اللہؐ کے فیصلے کو دلی رضا مندی کے ساتھ کیوں نہیں تسلیم کیا- ایک اور حدیث ملاحظہ کریں – حضرت عروہ بن زبیر روایت کرتے ہیں کہ
    ”میرے باپ زبیر اور ایک انصاری میں فرہ کے مقام پر پانی پر جھگڑا ہوا- آپ نے زبیر کو کہا کہ تم اپنے درختوں کو پانی لگا لو- پھر اسے ہمسائے کے باغ میں جانے دو- یہ سن کر انصاری کہنے لگا :کیوں نہیں ، آخر زبیر آپ کے پھوپھی زاد جو ہوئے (اس لئے آپ نے ان کے حق میں فیصلہ کیا ہے)… یہ سن کر آپ کا رنگ متغیر ہو گیا اور آپ نے زبیر کو کہا: زبیر! اپنے کھیت کو پانی پلاؤ جب تک پانی منڈیروں پرنہ پہنچ جائے، اس کے لئے پانی نہ چھوڑو-“ (بخاری؛۴۵۸۵)
    یعنی جب انصاری نے آپ کے فیصلے کو تسلیم نہ کیا تو آپ کو غصہ آ گیا تو آپ نے انصاف والا حمن جاری فرمایا- جب کہ آپ کے پہلے حمن میں دونوں کی رعایت ملحوظ تھی-
    رسول اللہﷺکے حمں کی موجودگی میں اپنی مرضی یا کسی دوسرے کے حمگ پر عمل کرنے کی دین اسلام میں کوئی گنجائش نہیں -سورۃ الاحزاب میں فرمانِ خداوندی ہے:
    ﴿وَمَا کانَ لِمُوٴْمِنٍ وَّلاَ مُوْمِنَۃ إذَا قَضَی اللہ وَرَسُوْلُہٗ أمْرًا أنْ یَّکوْنَ لَہمُ الْخِیَرَۃ مِنْ أَمْرِہمْ وَمَنْ یَّعْصِ اللہ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً مُّبِیْنًا﴾
    ”کسی مومن مرد اور عورت کو یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کے رسولؐ کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو ان کے اپنے معاملے میں اختیار باقی رہ جائے اور جو کوئی اللہ ورسول کی نافرمانی کرے، وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا-“ (آیت نمبر ۳۶ )
    سورۃ الحشر، آیت نمبر ۷ میں ارشادِ الٰہی ہے :
    ﴿ وَمَا اٰتٰکمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہٗ وَمَا نَہٰکمْ عَنْہٗ فَانْتَہوْا وَاتَّقُوْا اللہ اِنَّ اللہ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴾ ”جو کچہ رسول تمہیں دیں ، وہ لے لو اور جس چیز سے تمہیں روک دیں ، اس سے رک جاؤ اور اللہ سے ڈر جاؤ، وہ شدید عذاب دینے والا ہے-“
    گویا آپ کا حمن اور عمل ہی فیصلہ کن سند قرار پائے اور اس حمؤ کو ماننے یا نہ ماننے اور اس پر ناگواری کے احساس یا عدمِ احساس پر ہی آدمی کے مومن ہونے یا نہ ہونے کا انحصار ٹھہرا ہے- یہ ممنا ہی نہیں کہ مومن اللہ اور اس کے رسول کے کئے گئے فیصلہ کے متعلق عدم اطمینان کا شائبہ تک دل میں لائے-آج کے مسلمانوں کواپنا جائزہ لینا چاہئے کہ وہ حبِ رسول کے اس تقاضے کو کس حد تک نباہتے ہیں ؟

    اتباعِ رسول
    اتباع اور اطاعت کے معنی میں یہ فرق ہے کہ اطاعت کا مطلب دیے گئے حمن کی تعمیل کرنا ہے مگر اتباع کا مطلب پیروی کرنا ہے، چاہے اس کام کابا قاعدہ حمے دیا گیا ہو یا نہ دیا گیا ہو- گویا یہ مقامِ ’خلت‘ ہے، انتہائے محبت ہے کہ محبوب کی ہر ادا پر قربان ہونے کو جی چاہے-
    آپ کے صحابہ کرامؓ کو حضور سے جو والہانہ محبت تھی اسی کا نتیجہ تھا کہ وہ ہر اس کام کو کرنے کی کوشش کرتے جو حضور نے کیا ہوتا- ان کو وہی کھانا پسند ہوتا جو آپ کو پسند ہوتا- جس مقام پر آپ تشریف فرما ہوتے یا نماز پڑھ لیتے، وہ جگہ بھی واجب الاحترام ہو جاتی اور اس مقام پر وہی عمل انجام دینا وہ اپنی سعادت جانتے، جیساکہ درج ذیل روایات سے واضح ہوتا ہے:
    موسیٰ بن عقبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ بن عمر کو دیھا کہ وہ دورانِ سفر راستے میں بعض مقامات تلاش کرتے تھے اور وہاں نماز پڑھتے تھے کیونہ انہوں نے اپنے والد عبداللہ کو اور انہوں نے اپنے والد عمر کو وہاں نماز پڑھتے دیھا تھا اور عمرؓ وہاں اس لئے نماز پڑھتے تھے کہ انہوں نے آنحضورﷺ کو وہاں نماز پڑھتے دیھا تھا- (بخاری:۴۸۳)
    حضرت علی بن ابی طالبؓ سواری پر سوار ہوئے تو دعائے مسنون پڑھنے کے بعد مسرؓانے لگے- کسی نے پوچہا: امیرالمومنین! مسررانے کی کیا و جہ ہے؟ آپؓ نے فرمایا کہ میں نے نبی اکرم کو دیکھا تھا کہ آپ نے سواری پرسوار ہو کر اسی طرح دعا پڑھی، پہر آپ مسراائے تھے- لہٰذا میں بھی حضور کی اتباع میں مسرہایا ہوں – (ابوداود؛۲۶٠۲)
    حضرت انسؓ نے دیکھا کہ آنحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کدو پسند ہیں – تو وہ بھی کدو پسند کرنے لگے- (مسنداحمد:۳/۱۷۷)
    ایک بار آپ نے سرکے کے بارے میں فرمایا کہ سرکہ تو اچھا سالن ہے تو حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ تب سے مجھے سرکے سے محبت ہو گئی ہے- (دارمی؛۲۱۸۱)
    ایک بار ایک صحابی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی آپؐ نے دیکھی تو آپ نے اس کے ہاتہ سے اُتار کر دور پھینک دی گویا آپ نے اظہارِ ناراضگی کیا- آپ کے تشریف لے جانے پر کسی نے کہا کہ اس کو اُٹھا لو اور بیچ کر فائدہ حاصل کر لو (کیونہت حضورؐ نے صرف پہننے سے منع فرمایا تھا) مگر اس نے کہا خدا کی قسم! میں اسے کبھی نہیں اٹھاؤں گا -کیونہح رسول اللہؐ نے اسے پھینک دیا ہے- (مسلم؛۲٠۹٠)
    مسجدِ نبوی میں خواتین بھی شریک جماعت ہوتیں مگر ان کے لئے کوئی دروازہ مخصوص نہ تھا-ایک روز آپ نے ایک دروازے کے بارے میں فرمایا: ”کاش ہم یہ دروازہ عورتوں کے لئے چھوڑ دیتے-“ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے اس شدت سے آپ کی اس خواہش کی پابندی کی کہ پہر تا دمِ مرگ اس دروازہ سے مسجد میں داخل نہ ہوئے-
    کچھ صحابہ سے بیعت کی شرائط میں یہ نصیحت بھی فرمائی کہ ”لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرنا-“ تو انہوں نے اس شدت سے اس کی پابندی کی کہ اگر اونٹنی پر سوار کہیں جا رہے ہوتے اور ہاتھ سے لگام گر جاتی تو اونٹنی کو بٹھا کر خود اپنے ہاتھ سے اس کو اٹھاتے تھے اور کسی آنے جانے والے سے نہیں کہتے تھے کہ اٹھا کر دے دو- (مسنداحمد:۵/۲۷۷)
    ’اتباع‘ کا مملت مفہوم سمجھنے کے لئے اس مثال پر غور کریں :
    کوئی گاڑی کسی گاڑی کے تعاقب میں ہے، اب پیچھے والی گاڑی آگے والی گاڑی پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے- جہاں وہ تیز ہو گی، یہ بھی تیز ہو گی- جدھر وہ مڑے گی یہ بھی ادھر مڑے گی- جدھر وہ آہستہ ہو گی، یہ بھی آہستہ ہو جائے گی حتیٰ کہ جہاں وہ رک جائے گی پیچھے والی گاڑی بھی رک جائے گی- یہ اتباع ہے اور حبِ رسول کا تقاضا صرف اطاعتِ رسول ہی نہیں بلہی اتباعِ رسول ہے-
    یہ ہماری انتہائی کم نصیبی ہے کہ ہم نے حبِ رسول کو محض میلاد کی محفل منعقد کرنے اور نعتِ رسول بیان کرنے کی حد تک سمجھ لیا اور اطاعت و اتباع رسول سے باللم تھی دامن ہو گئے- اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حضور پاک کی حیاتِ طیبہ کا ہر پہلو غور سے پڑہیں ، سیکھیں ، اُسوۂ حسنہ پر عمل کا وہی جذبہ تازہ کریں جو قرونِ اولیٰ میں تھا- انہوں نے سچے جذبے، پےو عزم اور خلوصِ نیت کے ساتھ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیروی اختیار کی تو قیصر وکسریٰ کے خزانے ان کے قدموں میں تھے-
    ائمہ کرام اور بزرگوں کی عقیدت میں غلو:جس طرح اللہ تعالیٰ کی توحید اور ربوبیت میں کسی کو شریک ٹھہرانا ممنوع ہے، اسی طرح نبی کی رسالت اور آپ کے واجب الاتباع ہونے میں کسی دوسرے انسان کو لانا درست نہیں – نبی کریمؐ کا ہی یہ مقام ہے کہ آپ معصوم ہیں اور غلطی سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچا کر رکھا ہے- یہ حیثیت آپ کے کسی اُمتی کو حاصل نہیں – لینا بعض لوگ ائمہ کرام کے احترام میں اس قدر غلو کرتے ہیں کہ وہ انہیں بھی نبی کی طرح معصوم سمجھنا شروع کر دیتے ہیں – نبی کریم کا صریح فرمان آنے کے باوجود وہ اپنے امام کی بات ماننے پر ہی مصر رہتے ہیں –
    ائمہ اربعہ یعنی امام مالک، ابوحنیفہ، شافعی اور احمد رحمہم اللہ عنہم کے مدوّن کردہ مسائل اور ان کے بیان کردہ احاگمِ دین و شرع درحقیقت اللہ کی کتاب اور سنتِ رسول سے ہی حاصل کردہ ہیں – اس و جہ سے ان ائمہ عظام کے بیان کردہ فقہ کے مسائل کو اپنانے اور ان پر عمل پیرا ہونے میں کوئی حرج نہیں -لینں جب انہیں کوئی صریح نص یعنی کوئی آیت یا حدیثِ صحیح نہ مل سےن تو پھر یہ قیاس واستنباط کرتے ہیں – مگر ایسی صورت میں ان سب ائمہ نے اپنے اپنے شاگردوں پر واضح کر دیا کہ ”جب حدیثِ رسول مل جائے تو ہمارے اقوال کو چھوڑ دینا-“
    بڑی مناسب بات تھی جو انہوں نے فرمائی- مگر ان کے عقیدت مندوں نے ان کی عقیدت میں ان کے اَقوال کو تو نہ چھوڑا اور احادیثِ رسول کو چھوڑ دیا- پہر اسی بنیاد پر اپنے الگ الگ مسلک بنا لئے- بے شک یہ سب فروعی مسائل ہیں جن کی بنیاد پر مسالک وجود میں آئے، مگر اُمتِ محمدیہ میں تو گروہ بندی ہو گئی جس سے قرآن و حدیث نے شدت سے منع فرمایا تھا –
    ضرورت اس امر کی ہے کہ حبِ رسول سے سرشار ہو کر اپنے نقطہ نظر میں لچک پیدا کی جائے اور حتی المقدور احادیثِ رسول کو ہی اپنی زندگی کے تمام معاملات میں بنیاد بنایا جائے-
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,126
    موصول پسندیدگیاں:
    9,745
    ملک کا جھنڈا:
    آباء پرستی سے اجتناب
    اسی طرح اَن پڑھ اور جاہل عوام کی کثیر تعداد اپنے آباء و اجداد کی تقلید کو ہی اپنے لئے کافی سمجھتی ہے- حالانہھ حبِ رسول کا تقاضا تو یہ تھا کہ آپ کے فرمان کے سامنے ہر کسی کی بات ہیچ ہو اور ہر ایسی خاندانی روایت اور معاشرتی چلن، جو کہ اسلام سے متصادم ہیں، چھوڑ دیئے جائیں اور سنتِ رسول کو جاری و ساری کیا جائے-
    سورۃ لقمان آیت نمبر۲۱ میں ارشادِ خداوندی ہے :
    ”جب انہیں کہا جائے کہ جو اللہ نے نازل کیا ہے،ا س کی اتباع کرو تو کہتے ہیں بلہڑ ہم تو اس کی اتباع کریں گے جس پرہم نے اپنے آباء کو پایا-“
    سورۃ البقرہ آیت نمبر ۱۷٠ میں فرمایا :
    ”جب انہیں کہا جائے کہ اس کی اتباع کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے، تو کہتے ہیں بلہ ہم اسی طریقے کی اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباء کو پایا- اگرچہ ان کے آباء نہ کچھ عقل رکھتے ہوں اورنہ ہدایت یافتہ ہوں -“
    نیز ایسے لوگوں کے بارے میں سورۃ البقرہ کی آیت ۱۷۱ میں فرمایا :
    ”یہ گونگے بہرے اندھے لوگ ہیں – یہ جانوروں کا ریوڑ ہیں ، ان کو کچھ عقل نہیں -“
    حبِ رسول کی صداقت و سچائی کا معیار یہ ہے کہ سنتِ رسول کے علاوہ ہر طریق کو چھوڑ دیا جائے- بعض لوگ ائمہ فقہاء کی تقلید میں غیر مسنون افعال انجام دیتے ہیں اور بعض اپنے آباء و اجداد کی لیرا کے فقیر بنے رہتے ہیں – سنت سے دوری کی کوئی بھی صورت ہو اس سے اجتناب بہر حال ضروری ہے-

    درود … صلوٰۃ و سلام
    حبِ رسول کے اظہار و اثبات کے لئے لازم ہے کہ جب آنحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام نامی پڑھنے، سننے یا بولنے میں آئے تو فوراً صلوٰۃ و سلام ورد زبان ہو جائے- خود اللہ اور اس کے فرشتے بھی آنحضور پر درود بھیجتے ہیں -سورۃ احزاب میں ارشاد ہے:
    ﴿إنَّ اللہ وَمَلٰئِکتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰاَیُّہا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ صَلُّوْا عَلَیْہ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا ﴾ (آیت نمبر ۵۶ )
    ”بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں – اے ایمان والو! تم بھی آپ پر درود و سلام بھیجو-“
    ابوالعالیہؓ نے کہا کہ
    ”اللہ کی صلوٰۃ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے آپ کی تعریف فرماتا ہے اور فرشتوں کی صلوٰۃ سے مراد ہے کہ وہ آپ کے حق میں اللہ سے دعا کرتے ہیں – ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ یصلون کا معنی یہ ہے کہ برکت کی دعا کرتے ہیں – “
    (بخاری، کتاب التفسیر: باب قولہ ان اللہ وملائکتہ یصلون علیٰ النبی)
    حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں : ”جب تک تو اپنے نبی پر درود نہ بھیجے، دعا زمین وآسمان کے درمیان معلق رہتی ہے، اوپر نہیں چڑھتی-“ (صحیح ترمذی للالبانی؛۴٠۳)
    حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:
    ”وہ شخص بڑا بخیل ہے جس کے پاس میرا ذکر ہوا اور اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا-“ (مسنداحمد:۱/۲٠۱)
    ایک بار منبر کی سیڑھیوں پر قدم رکھتے ہوئے تین بار آپ نے آمین آمین آمین کہا تو صحابہؓ کے استفسار پر آپ نے فر مایا:
    ”میرے پاس جبرائیلؑ آئے تھے- تین کاموں کے نہ کرنے والے پر انہوں نے اللہ کی لعنت بتائی تو میں نےا س پر آمین کہا-ان باتوں میں ایک بات یہ بھی تھی کہ جس مسلمان کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو- اور میں نے اس پر آمین کہا-“ (مستدرک حاکم:۴/۱۵۳ و بخاری)
    درود و سلام درحقیقت ایک دعائے رحمت و برکت ہے اور اس کی بنیاد یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمارے سب سے بڑے محسن ہیں جن کے ذریعے ایمان و اسلام کی عظیم نعمت سے ہم سرفراز ہوئے- اس احسان کا بدلہ مسلمان کبھی بھی اُتار نہیں ستےل- تاہم اتنا ضرور ہونا چاہئے کہ اس عظیم ہستی کی محبت سے سرشار ہو کر ان کے حق میں دعائے رحمت و برکت کیا کریں -مگر اللہ کی رحمت کی انتہا دیکھئے کہ اس عمل کو ہمارے لئے بھی انتہا درجہ باعث اجر و ثواب بنا دیا-
    حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    ”جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اور اس کے دس گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور دس درجے بلند کئے جائیں گے- “ (مجمع الزوائد:۱٠/۱۶۱)
    حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہؐ نے فرمایا کہ
    ”قیامت کے دن سب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہو گا جو مجھ پر زیادہ سے زیادہ درود پڑھنے والا ہو گا-“ (فتح الباری:۱۱/۱۶۷)
    درود شریف دراصل ایک مسلمان کا ترانۂ محبت ہے جو وہ اپنے محبوبﷺ کے حضور پیش کرتا ہے اور نتیجے میں اپنے لئے بھی درجات کی بلندی اور گناہوں کی بخشش کی نوید حاصل کرتا ہے-
    آپ کے حضور درود کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ کوئی محفل ہی برپا کی جائے یا کوئی خاص وقت ہی صرف کیا جائے بلہہ یہ چلتے پھرتے، اُٹھتے بیٹھتے اور خاص طور پر جب آپ کا نام کا تذکرہ ہو تو فوری ’صلی اللہ علیہ وسلم‘ کے مبارک الفاظ کے ساتھ یہ نذرانہ آپ کے حضور پیش کر دینا چاہئے کہ یہی حبِ رسول کا تقاضا ہے-
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,126
    موصول پسندیدگیاں:
    9,745
    ملک کا جھنڈا:
    صحابہ کرامؓ اور اہل بیتؓ کی محبت
    حبِ رسول کا تقاضا ہے کہ صحابہ کرامؓ اور آپ کے اہل بیت سے بھی محبت ہو- کیونہک آپؐ کو ان سے محبت تہی-
    صحابہ کرامؓ کی فضیلت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    ﴿وَالسَّابِقُوْنَ الاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہاجِرِیْنَ وَالاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہمْ بِاِحْسَانٍ رَضِیَ اللہ عَنْہمْ وَرَضُوْا عَنْہٗ﴾ (سورۃ التوبہ :۱٠٠)
    ”اور جو مہاجر اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں ، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے-“
    سورۃ الفتح میں صحابہ کرام ؓ کی فضیلت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:
    ﴿مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّاءُ عَلَی الْکفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہمْ تَرَاہمْ رُکعًا سُجًّدًا یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللہ وَرِضْوَانًا ﴾ (سورۃ الفتح :۲۹)
    ”محمد اللہ کے رسول ہیں ، اور آپ کے ساتھی کفار پر سخت اور آپس میں نرم ہیں ، آپ انہیں رکوع اور سجدے کی حالت میں دیکھیں گے- یہ اللہ کے فضل اور رضا کے متلاشی ہیں “
    رسول اللہؐ نے فرمایا:
    ”میرے ساتھیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا خو ف کرو- میرے بعد انہیں نشانہ نہ بنانا، پس جو ان سے محبت کرے گا وہ میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کرتا ہے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے، وہ میرے بغض کی وجہ سے ایسا کرتا ہے- جو انہیں ایذا دے گا اس نے مجھے ایذا دی- جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی، اللہ تعالیٰ اس کو پڑلے گا- “ (مسنداحمد:۵/۵۴)
    حضرت فاطمہ الزہراؓ کے لئے آپ نے فرمایا:
    ”فاطمہؓ جنتی عورتوں کی سردار ہیں -“ (بخاری تعلیقا فی مناقب قرابۃ رسول اللہ و مسلم؛۶۲۶۴)
    حضرت حسنؓ، حسینؓ کے بارے میں فرمایا:
    ”اللہم أحبہما، إنی أحبہما“ (بخاری؛۳۷۴۷)
    ”اے اللہ! ان سے محبت فرما! میں بھی ان سے محبت کرتا ہوں -“
    رسول اللہؐ کی ازواجِ مطہرات کی عزت و احترام بھی حبِ رسول کا لازمی تقاضا ہے بلہ۴ عین منشائے قرآنی ہے- سورۃ الاحزاب آیت نمبر ۶ میں فرمایا:
    ﴿وَاَزْوَاجُہٗ اُمَّہاتُہمْ﴾ ”آپ کی ازواج مومنوں کی مائیں ہیں -“
    صحابہ کرامؓ اور اہل بیتؓ کے ساتھ عقیدت و محبت کے حوالے سے مسلم امہ میں افراط و تفریط پائی جاتی ہے اور اسی بنیاد پر اُمت کے دو بڑے فرقے وجود میں آ گئے- اہل سنت اور اہل تشیع- اوّل الذکر اگرچہ دونوں کی محبت و احترام کے قائل ہیں ، مگر تعصب کی بنا پر اہل تشیع یہ کہتے ہیں کہ وہ اہل بیت کو ان کا جائز مقام نہیں دیتے- دوسری طرف اہل تشیع کبار صحابہ کرام پر(نعوذ باللہ) تبرا بازی کرتے ہیں -اسلامی عقائد کی رو سے صحابہ کرامؓ، اہل بیت اور ازواجِ مطہرات رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ یسااں طور پر محبت و عقیدت رکھنا لازمی ہے- اگر اس معاملے میں فریقین وسعتِ نظر اور وسعتِ قلب سے کام لیں تو حبِ رسول کے نام پر مغائرت دور ہوستیی اور اُمت متحد ہوستیا ہے-

    تابعین کرام، محدثین عظام اور فقہائے کرام کا احترام

    ہر مسلمان کے دل میں ان کی محبت ہونا بھی ضروری ہے- کیونہ یہ وہ مقدس ہستیاں ہیں جنہوں نے انتہائی مشقتیں اور تلیفیں اٹھا کر دین ہم تک پہنچایا- حبِ رسول کا تقاضا ہے کہ ان سے بھی محبت کی جائے-
    قرآنِ پاک میں ان کا تذکرہ سورۂ توبہ میں کیا گیا ہے
    (وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہمْ بِاِحْسَانٍ رَضِیَ اللہ )(آیت نمبر ۱٠٠)
    ”اور وہ لوگ جنہوں نے اخلاص کے ساتھ ان (صحابہ کرامؓ) کی پیروی کی ہے، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں -“
    رسول اللہ نے فرمایا:
    ”خیرکم قرنی ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم“
    ”سب سے بہتر میرا دور ہے- پھر ان لوگوں کا جو اس دور کے بعد ہیں پھر جو ان سے بعد ہیں -“ (بخاری ؛۳۶۵۱/ مسلم؛۶۴۱۹)
    اس حدیث میں تابعین اور تبع تابعین کی فضیلت ثابت ہے-
    علم کی دنیا میں حدیث کے حوالے سے ان کے کارنامے ایسے عظیم الشان ہیں کہ اَغیار بھی خراجِ عقیدت پیش کرنے پر مجبور ہیں – مشہور مستشرق پروفیسر مارگریتہ نے کہا:
    ”علم حدیث پر مسلمانوں کا فخر کرنا بجا ہے-“
    مستشرق گولڈزیہر نے محدثین کی خدمات کا اعتراف ان الفاظ میں کیا :
    ”محدثین نے دنیائے اسلام کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک، اندلس سے وسط ایشیا تک کی خاک چھانی اور شہر شہر اور گاؤں گاؤں پیدل سفر کیا تاکہ حدیثیں جمع کریں اور اپنے شاگردوں میں پھیلائیں – بلا شبہ رحال (بہت سفر کرنے والے) اور جوال (بہت زیادہ گھومنے والے) جیسے اَلقاب کے مستحق یہی لوگ تھے-“

    بدعات سے اجتناب
    حبِ رسول کا تقاضا ہے کہ بدعات سے بچ کر صرف اور صرف سنت رسول کے چشمہ صافی سے فیض حاصل کیا جائے-
    بدعت کی تعریف: ہر وہ عمل بدعت کہلاتا ہے جو ثواب اور نییل سمجھ کر کیا جائے لینے شریعت میں اس کی کوئی بنیاد یا ثبوت نہ ہو یعنی نہ تو رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود وہ عمل کیا اور نہ کسی کو اس کا حمگ دیا اور نہ ہی کسی کو اس کی اجازت دی ہو- ایسا عمل اللہ کے ہاں مردود ہے- جیسا کہ حدیث نبوی ہے:
    ”عن عمل عملا لیس علیہ أمرنا فہورد“ (بخاری تعلیقا: کتاب الاعتصام)
    ”جو شخص کوئی ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حما نہیں ، وہ عمل ردّ ہے-“
    ایک کام کو کرنے کے جتنے بھی طریقے ہوتے ہیں ، ان میں سے انسان جو طریقہ اپناتا ہے گویا وہ اس کو پسند کر رہا ہوتا ہے یا وہ اس کو سب سے بہتر جانتا ہے، اسی لئے ترجیح دیتا ہے- چنانچہ اگر کوئی سنت کے مقابلے میں بدعت کو اپنا لے تو گویا اس نے قولِ رسول کو چھوڑ دیا اور بدعت کو ترجیح دی- یہ حبِ رسول کے منافی ہے- حق یہ ہے کہ سب سے فائق وسربلندسنت رسول ہو اور اس پر عمل کو سعادت سمجھا جائے-
    دین کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والی چیزیں بدعات ہیں – اُمت کے اندر اختلاف کی اصل جڑ بھی یہی بدعات ہیں – اسلام کا اصل چہرہ بدعات کی دبیز تہوں میں چھپ جاتا ہے- فرمانِ نبوی ہے:
    ”جب کسی بدعت کو اپنایا جاتا ہے تو ایک سنت اُٹھ جاتی ہے-“ (احمد:۴/۱٠۵)
    قیامت کے روز بدعتی حوضِ کوثر کے آبِ حیات سے محروم رہیں گے- سہل بن سعد روایت کرتے ہیں ، رسول اللہؐ نے فرمایا :
    ”میں حوضِ کوثر پر تمہارا پیشرو ہوں گا- جو وہاں آئے گا پانی پئے گا، جو ایک بار پی لے گا اسے کبھی پیاس نہ لگے گی- بعض ایسے لوگ بھی آئیں گے جنہیں میں پہچانوں گا اور وہ بھی مجھے پہچانیں گے- مگر انہیں مجھ تک آنے سے روک دیا جائے گا- میں کہوں گا یہ تو میرے اُمتی ہیں – لین مجھے بتایا جائے گا: کہ (اے محمد! ) آپ نہیں جانتے آپ کے بعد انہوں نے کیسی کیسی بدعتیں جاری کیں – پہر میں کہوں گا: دوری ہو، دوری ہو ایسے لوگوں کیلئے، جنہوں نے میرے بعد میرے دین کو بدل ڈالا-“ (بخاری؛۷٠۵٠)
    پس وہ عبادت و ریاضت جو سنتِ رسول کے مطابق نہ ہو- صرف ضلالت اور گمراہی ہے- وہ اذکار و وظائف جو سنت رسول سے ثابت نہ ہوں بے کار اور لاحاصل ہیں – وہ محنت ومشقت جو حمن رسول کے مطابق نہیں ، وہ جہنم کا ایندھن ہے-
    حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ تین صحابہ نے حضرت عائشہؓ سے رسول اللہؐ کے اعمال و عبادت کے بارے میں پوچھا- جب انہوں نے بتایا تو صحابہ نے اپنے لئے اسے کم جانا اور آپس میں کہنے لگے ہمیں آپ سے زیادہ عبادت کرنی چاہئے- ایک نے کہا میں ہمیشہ روزے رکھوں گا اور کبھی روزہ ترک نہیں کروں گا-دوسرے نے کہا میں شادی نہیں کروں گا- تیسرے نے کہا میں ساری رات نماز پڑھوں گا- جب رسول اللہؐ کو اس بارے میں خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا:
    ”میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں – سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں ، لینی میں روزہ رکھتا ہوں ، ترک بھی کرتا ہوں ، رات کو قیام بھی کرتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے ناںح بھی کئے ہیں (یاد رکھو) جس نے میری سنت سے منہ موڑا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں – “ (بخاری:۵٠۶۳)

    خلاصہ
    آخر میں حبِ رسول کے دعویداروں سے یہ بات پھر عرض کرنا ہے کہ اتباعِ سنت اور اطاعتِ رسول صرف چند عبادات تک محدود نہیں بلہب یہ طاعتِ رسول ساری کی ساری زندگی پر محیط ہے- نماز کی ادائیگی میں جس طرح اتباع سنت مطلوب ہے اسی طرح اخلاق و کردار میں بھی اتباع سنت مطلوب ہے- جس طرح روزے اور حج کے مسائل میں اتباع سنت ہونی چاہئے- اسی طرح کاروبار اور باہمی لین دین میں بھی یہ مطلوب ہے- ایصال ثواب، زیارت قبور، شادی بیاہ، خوشی و غمی ہر موقع پر اتباع سنت ضروری ہے- منرےات کے خلاف جہاد ہو یا حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کا معاملہ ہو- سنت رسول ہر جگہ جاری ہونی چاہئے- اے اللہ! ہمیں آنحضورؐ کی سچی اور عملی محبت نصیب فرما- آمین!

    مسلم حکامِ وقت کی اطاعت

    اللہ کے فرمان اور آنحضورؐ کے احاےمات کی بنا پر ان کی اطاعت واجب ہے- ان کی اطاعت گویا اللہ و رسول کی اطاعت ہے-
    سورۃ نساء آیت نمبر ۵۹ میں فرمان الٰہی ہے:
    ﴿یٰاَیُّہا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اَطِیْعُوْا اللہ وَاَطِیْعُوْا الرَّسُوْلَ وَاُوْلِیْ الاَمْرِ مِنْکمْ﴾
    ”اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اُمرا کی بھی اطاعت کرو-“ (اُمراء کی اطاعت اللہ و رسول کی اطاعت کے ساتھ مشروط ہے)
    رسول اللہؐ نے فرمایا:
    ”سنو اور اطاعت کرو، چاہے تم پر ناک کٹا حبشی غلام امیر بن جائے- “ (مسلم؛ ۴۷۳۹)
    نیز آپ نے فرمایا:
    ”جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے امیر کی تابعداری کی، ا س نے میری تابعداری کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی کی-“ (مسلم:۴۷۲۴)
    لینہ امیر کی یہ اطاعت بھی اللہ و رسول کی اطاعت کے ساتھ مشروط ہے- کیونہ ارشادِ خداوندی ہے :﴿وَلاَ یَعْصِیْنَک فِیْ مَعْرُوْفٍ﴾ (سورۃ الممتحنہ:۱۲)
    ”اور وہ نییی میں تیری نافرمانی نہ کریں -“
    رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    ”لاطاعۃ فی معصیۃ اللہ …“ (صحیح مسلم: کتاب الامارۃ؛۳۷۴۲)
    ”اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ،مخلوق کی اطاعت صرف نییر میں ہے- “
    فرمان رسول اللہﷺ ہے:
    ”سننا اور اطاعت کرنا- پسند آئے یا نہ آئے- اس وقت تک مسلمانوں پر لازم ہے جب تک کہ گناہ کا حمل نہ دیا جائے- اگر گناہ اور نافرمانی کا حمت دیا جائے تو پہر سمع و طاعت نہیں – (مسلم؛۴۷۴)

    حکامِ وقت کے خلاف خروج و بغاوت حرام ہے

    رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
    ”جو اپنے امیر میں ناپسندیدہ بات دیکھے اس پر صبر کرے اس لئے کہ جو شخص جماعت سے بالشت بھر بھی دور نلپ جائے، وہ جاہلیت کی موت مرا-“ (مسلم :۴۷۶۷)
    فرمانِ رسول اللہﷺ ہے:
    ”سنو اور اطاعت کرو، ان کے فرائض ان کے ذمہ اور تمہارے فرائض تمہارے ذمہ ہیں-“ (یعنی تم اپنے فرض پورا کرتے رہو) (مسلم کتاب الامارۃ:۴۷۶٠)
    آپ نے فرمایا:
    ”امیر کی سنو اور اطاعت کرو- اگرچہ وہ تمہاری پیٹھ پر مارے اور تمہارا مال چھین لے پھر بھی سنو اور اطاعت کرو-“ (مسلم کتاب الامارہ:۴۷۶۲)
    دراصل امیر کے خلاف خروج و بغاوت سے اتحادِ ملت پارہ پارہ ہو جاتا ہے- اتحاد، جو مسلم اُمہ کی قوت ہے، اسے ہر حال میں قائم رہنا چاہئے- حمراانوں کی زیادتیوں پر اللہ سے اَجر کا طالب ہونا چاہئے-
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں