1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

حاضر و ناظر کو سمجھیے-2

'تعلیماتِ قرآن و حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از دیوان, ‏12 اگست 2017۔

  1. دیوان
    آف لائن

    دیوان ممبر

    شمولیت:
    ‏21 فروری 2008
    پیغامات:
    60
    موصول پسندیدگیاں:
    50
    کافروں کیلئے آپﷺ رحمت یوں ہے کہ آپ ﷺکے لائے ہوئے دین کو قبول کر کے وہ بھی اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار سکتے ہے۔
    امید ہے کہ حضرت علامہ کی تحریروں روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت ہوگئی ہوگی لیکن یہ حقیقت ہے کہ ناواقفیت کی وجہ اس مسئلے میں غلو کیا جاتا ہے اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قرآن و حدیث سے بھی اس مسئلے کی وضاحت کردی جائے۔
    اس سلسلے میں قرآنی آیات پیش خدمت ہیں:
    آیت 1
    وھو معکم اینما کنتم (الحدید: 4)
    ترجمہ: کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو
    یعنی اللہ تعالیٰ ہر جگہ تمہارے ساتھ ہے، یہ اللہ کے حاضر ہونے دلیل ہے۔
    آیت 2
    لا یعزب عنہ مثقال ذرۃ فی السمٰوات ولا فی الارض (سبا: 3)
    ترجمہ: زمین و آسمان کی کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں
    یہ اللہ کے ناظر ہونے کی دلیل ہے۔
    سورۃ القصص میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    آیت 3
    و ما کنت بجانب الغربی اذ قضینا الٰی موسٰی الامر وما کنت من الشاہدین (القصص: 44)
    ترجمہ: اور جب ہم نے موسیٰ کی طرف حکم بھیجا تو تم (طور کے) مغرب کی طرف نہیں تھے اور نہ اس واقعے کے دیکھنے والوں میں تھے۔
    اس آیت کی تفسیر میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اس لیے فرمایا کہ آپ ﷺ جبل طور کے مغرب کی طرف نہیں تھے اس کے باوجود آپ اس واقعے کی اطلاع دے رہے ہیں تو یہ یقینا وحی ہی کے ذریعے سے آپ ﷺ کو معلوم ہوا ہے۔
    اس آیت میں آپ ﷺ کا شاہد نہ ہونا مذکور ہے۔ البتہ سورۃ احزاب آیت 45میں آتا ہے:
    آیت 4
    یا ایہا النبی انا ارسلنک شاہدا ومبشرا ونذیرا
    اے نبی! ہم نے تم کو گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
    آیت 5
    فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید و جئنا بک علٰی ھٰٓولائ شھیدا (النساء: 45)
    ترجمہ: اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر ایک امت میں سے ایک گواہ کو حاضر کریں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہی دینے کے لیے حاضر کریں گے۔
    آیت 6
    و کذٰلک جعلنٰکم امۃ وسطا لتکونوا شھدآئ علٰی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا (البقرۃ: 143)
    ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے تم کو امت معتدل بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تم پر گواہ بنیں۔
    ان آیات میں آپ ﷺ کو منصب شہادت (گواہی) پر نافذ فرمایا گیا ہے۔ ان آیات کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب آپ ﷺ پچھلی امتوں کے حال پر گواہ ہیں تو لازم ہے کہ آپ ﷺ حاضر و ناظر ہوں اس لیے کہ گواہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ موقع پر حاضر ہو۔ لیکن اس طرح لازم ہوا کہ پوری امت محمدیہ بھی حاضر و ناظر ہو اس لیے کہ سورۃ بقرۃ کی آیت 143(‏آیت 6) کی رو سے وہ بھی گواہی کے منصب پر فائز ہے۔ بات یہ کہ گواہی کے لیے موقع پر حاضر ہونا شرط نہیں۔ گواہی علم کی بنیاد پر بھی دی جاسکتی ہے۔ مثلا آج کسی سے پوچھا جائے کہ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے متعلق تم کیا کہتے ہو تو وہ یہی کہے گا وہ اللہ کے بہت بڑے ولی تھے۔ اس کا یہ کہنا گواہی ہے جب کہ ظاہر ہے کہ اس نے ان کی زیارت نہیں کی۔ اس کی گواہی کی بنیاد وہ علم ہے جو نسل در نسل قابل اعتبار ذریعوں منتقل ہوا ہے۔ کسی مسلمان نے اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا اور نہ ہی صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے علاوہ کسی کو رسول اللہ ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اس کے باوجود ایک مسلمان کا یہ کہنا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں نہ صرف معتبر ہے بلکہ اس کی نجات کے لیے کافی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
    اتنا واضح رہے کہ حاضر و ناظر کا لفظ قرآن و حدیث میں نہ آپ ﷺ کے لئے بطور صفت و لقب بولا گیا ہے اور نہ ہی یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں شامل ہے۔ البتہ اوپر جو آیتیں پیش کی گئی ہیں اس سے یہ معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے علم سے ہر وقت ہر جگہ موجود ہے اور اس کے احاطہ علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں یعنی اللہ رب العزت ’’حاضر و ناظر‘‘ ہیں۔
    اس سلسلے میں دو حدیثیں بھی پیش خدمت ہیں۔
    حدیث 1
    حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا جب قریش نے (واقع معراج میں)میرا انکار کیا تو میں حطیم میں کھڑا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میری نظروں کے سامنے کر دیا اور میں دیکھ دیکھ کر بیت المقدس کی علامات قریش کو بتلانے لگا۔ (بخاری و مسلم)
    اس حدیث سے یہ بات واضح ہے کہ حیات مبارکہ میں بھی آپ ﷺ ہر جگہ اور ہر مقام پر ہر وقت موجود نہ ہوتے تھے اور نہ ہی ہر مقام ہر وقت آپ ﷺکے سامنے ہوتا تھا۔ اگر سامنے ہوتا یا آپ ﷺ ہر وقت ہر مقام پر موجود ہوتے تو قریش کے سوالات پر آپ ﷺ کو پریشانی نہ ہوتی۔ البتہ جب اللہ تعالیٰ نے پردہ ہٹا دیا تو آپ ﷺ نے قریش کے سوالات کا جواب دے دیا۔
    حدیث 2
    آپ ﷺ فرماتے ہیں آخرت میں حوض کوثر پر میرے پاس کچھ جماعتیں آئیں گی میں ان کو پہچان لو ں گا اور وہ مجھے پہچان لیں گے، پھر ان کے اور میرے درمیان پردہ حائل ہو جائے گا میں کہوں گا یہ تو میری امت کے لوگ ہیں مجھ سے کہا جائے گا آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں نئی نئی باتیں پیدا کیں پس میں کہوں گا دور ہو جائے دور ہو جائے وہ شخص جس نے میرے بعد دین کو بدل ڈالا۔ (بخاری)
    پہلی حدیث آپ صلی اللہ علیہ کی دنیاوی حیات کے ایک واقعے سے متعلق ہے۔ یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آپ ﷺ کو عالم برزخ میں رہتے ہوئے اس دنیا کے تمام واقعات کا علم نہیں ہوتا اسی عدم علم کی وجہ سے آپ ﷺ ان لوگوں کو حوض کوثر سے پانی پلانے لگے لیکن جب ان کے احوال سے آگہی ہوئی تو انہیں دھتکار دیا۔
    حاصل کلام یہ ہے کہ حاضر و ناظر کا یہ قطعی مطلب نہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر وقت ہر جگہ ، ہرمجلس، ہر محفل میں بنفس نفیس موجود ہوتے ہیں۔ یہ دراصل اہل اللہ کا حالت بیداری میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کا نام ہے۔ یہ زیارت بھی جسم اقدس کی نہیں بلکہ آپ ﷺ کے جسم مثالی کی ہوتی ہے۔ یہ زیارت بھی ہر ایک کو حاصل نہیں ہوتی بلکہ یہ خاص الخاص اہل اللہ کا مقام ہے۔ نہ ہی یہ زیارت ان اہل اللہ کا کوئی اختیار فعل ہے بلکہ یہ محض اللہ رب العزت کا ان کے ساتھ خصوصی معاملہ ہے۔ ہر جگہ ہر وقت موجود ہونا تو اللہ رب العزت کے ساتھ خاص ہے۔ کسی مخلوق کو ہرجگہ ہر وقت موجود سمجھنا شرک ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نہ صرف اپنی ذات میں بھی وحدہ لاشریک ہے بلکہ اس کی صفات میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں توحید کا یہی پہلو ہے جس میں انسان خطا کرجاتا ہے۔ اللہ کو اپنی ذات میں یکتا تو پکے مشرک بھی مانتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

اس صفحے کو مشتہر کریں